انڈیا کا ’پاور کپَل‘ : اِندور کی شوہر۔ بیوی جوڑی جس نے شاید دنیا کا سب سے موثر ایئر کنڈیشنر بنالیا ہے

اختراعی سوچ اور اس سے محصلہ کامیابی کی اثرپذیر کہانی جو کسی کو بھی متاثر کرسکتی ہے

0

اس سے زیادہ دھوم کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ کولر اور ایئر کنڈیشنر کی مخلوط الاصل مشین تیار ہوجائے جس کیلئے اے سی چلانے کی لاگت کا دسواں حصہ خرچ ہو۔اس کا مطلب برقی کی کھپت صرف 250 واٹس فی گھنٹہ ہے، جس کے برخلاف ایئر کنڈیشنر کیلئے 2,400 واٹس فی گھنٹہ کی کھپت ہوتی ہے۔ لہٰذا ، اگر آپ ماہانہ 5,000 روپئے کی ادائیگی (ایئر کنڈیشنر کیلئے) کرتے ہیں تو اب آپ لگ بھگ 500 روپئے ادا کریں گے۔ اتنا ہی نہیں، یہ ماحولیات دوست بھی ہے، کیونکہ یہ ممکنہ طور پر دنیا کا واحد کولنگ پراڈکٹ ہے جو ریفریجریشن سائیکل بروئے کار لاتا ہے مگر ماحول میں حرارت نہیں چھوڑتا ہے۔

بانیانِ Vaayu پرانوو اور ڈاکٹر پرینکا موکشمار۔
بانیانِ Vaayu پرانوو اور ڈاکٹر پرینکا موکشمار۔

ٹھنڈک پیدا کرنے والی اس کرشماتی تکنیک کو Vaayu کہتے ہیں، جسے اندور کے پرانوو موکشمار نے تیار کیا اور جسے چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان اور چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے سندھیا کی سرپرستی حاصل ہوئی ہے۔ لگ بھگ پانچ سالہ آزمائشوں و تجربات، حصولِ پیٹنٹ کے عمل اور فنڈز جٹانے کی کوششوں کے بعد ”وایو“ کے عملی استعمالات اکٹوبر 2014ءمیں شروع ہوئے۔

پیٹنٹ کی حامل ٹکنالوجی Vaayu Hybrid Chillers کو مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومت کی غیرضمانتی CGTMSE اسکیم کے تحت 1 کروڑ روپئے کی فنڈنگ کارپوریشن بینک، اندور کے ذریعے حاصل ہوئی۔ اس اسٹارٹپ کا اپنا مینوفیکچرنگ یونٹ اندور کے سانور روڈ پر دو پلانٹس پر مشتمل ہے۔ اس پراڈکٹ کی آزمائشی جانچ زائد از 100 یونٹس میں ہوچکی ہے اور کمپنی کو ایسی کمپنیوں سے بھاری آرڈرز مل رہے ہیں جو ماحولیات اور لاگت میں بچت سے متعلق سوچتے ہیں۔

یہ کمپنی اپنے مقررہ ڈیلروں اور ڈسٹری بیوٹرز کی وساطت سے چھ ریاستوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا، دہلی، ہریانہ اور اترکھنڈ تک پھیل چکی ہے۔ یہ ڈیلرز Vaayu کو عام گاہکوں کو فروخت کررہے ہیں۔

پرانوو بتاتے ہیں: ”چونکہ یہ پراڈکٹ نئی چیز ہے، اس لئے ہم کسٹمرز کیلئے ’Vaayu Experience Zones‘ بھی کھول رہے ہیں تاکہ ’وایو کولنگ‘ کا اثر معلوم ہوسکے۔ ہم نے صنعتی اور تجارتی گاہکوں کی ضروریات کی تکمیل کیلئے سیلز اینڈ سرویس ڈیلرز بھی مقرر کئے ہیں۔“

وایو ہائبرڈ چیلر
وایو ہائبرڈ چیلر

اتنا اچھا کہ صحیح معلوم نہ ہو ؟

اس کے بانیان پرانوو اور پرینکا نے جب کبھی ’وایو‘ سے متعلق کوئی پریزنٹیشن دیا تو انھیں عام طور پر یقین سے انکار کا ردعمل حاصل ہوا۔ پرینکا نے اس ضمن میں برجستگی سے بتایا: ”ایک مرتبہ ہم ہماری تکنیک کا مظاہرہ سائنسدانوں اور سائنس کے پروفیسرز کی ٹیم کے روبرو کررہے تھے اور اُن کی اکثریت نے کہا کہ ہمارا پراڈکٹ تھرموڈائنامکس (حرحرکیات) کے تمام قوانین کو جھٹلاتا ہے۔“

بہرحال، Vaayu کا تکنیکی کام کاج کیسے ہوتا ہے؟ پرانوو بتاتے ہیں: ”جیسے ہی Vaayu chiller کا سوئچ آن کیا جائے، کمپریسر کا کام شروع ہوجاتا ہے اور ریفریجریٹر عملاً مشغول ہوکر کولنگ کوائل کے ذریعے پانی کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ یہ پانی پمپس کے ذریعے مشین کے پیاڈز تک پہنچتا ہے۔ باہر کی گرم ہوا کا ربط ٹھنڈے پانی سے ہوتا ہے اور گرم ہوا میں موجود سالمات (molecules) کا درجہ حرارت گھٹتا ہے۔ آلہ thermostat پانی کے مطلوبہ درجہ حرارت کی ضرورت کے مطابق کمپریسرز کو چالو اور بند کرنے اور حد سے زائد تپش کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ کنڈنسر ، مبرد (refrigerant) کو ٹھنڈا کرتا اور اضافی RH کی خشک سازی میں مدد دیتا ہے تاکہ رطوبت کی سطح قابو میں رکھی جاسکے۔ آخرکار ٹھنڈی ہوا اس گوشے میں پہنچائی جاتی ہے جہاں یہ یونٹ اس مشین کے فیان کے ذریعے نصب ہوتی ہے۔“

مختصر یہ کہ وایو آپ میں کپکپاہٹ پیدا نہیں کرتا جیسے اے سی کرتا ہے بلکہ درجہ حرارت کو معقول سطح پر لاتا ہے اور رطوبت پر کنٹرول کرتا ہے تاکہ ماحول خوشگوار بن جائے۔

’وایو چیلرز‘ دیکھنے میں کولرز اور اے سیز کی مانند ہیں تاکہ انھیں تنصیب کے معاملے کارکرد اور کسٹمر کی ضرورتوں کی تکمیل کے قابل بنایا جاسکے۔ پرانوو کا کہنا ہے : ”ہم نے حال میں انقلابی پراڈکٹ VAAYU MIG24 کو پیش کیا، جو 1,000 مربع فیٹ جگہ کو ٹھنڈک پہنچانے کی اہلیت کا حامل ہے اور محض 800 واٹس برقی کی کھپت ہوتی ہے۔“

وایو MIG24 ماڈل
وایو MIG24 ماڈل

یہ کمپنی مالی سال 17-2016  میں مزید دس ریاستوں تک وسعت کا ارادہ رکھتی ہے۔ پرانوو کے مطابق ”اگلے پانچ سال میں ہم سارے ہند میں کام کرنے اور برآمدات کی بھی شروعات کا منصوبہ رکھتے ہیں، کیونکہ میکسیکو، یو اے ای، افریقا وغیرہ سے معلومات طلبی ہوئی ہے۔ اس توسیع کیلئے ہمارا منصوبہ فروختوں کی آمدنی کے ذریعے آگے بڑھنے کا ہے ، جس کے ساتھ ساتھ ہم کو VCs کے ذریعے کچھ فنڈنگ حاصل ہونے کی توقع بھی ہے۔“

’پاور ‘ والا جوڑا

پرانوو کی شریک ِ حیات پرینکا نے پوسٹ گرائجویشن کی اپنی زیادہ تر تعلیم مابعد شادی حاصل کی۔ کامرس گرائجویٹ اور HVAC (ہیٹنگ، ونٹنگ اینڈ ایئر کنڈیشننگ) میں ڈپلوما کے حامل پرانوو نے پراڈکٹ منیجر کی حیثیت سے ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے Carrier، Samsung اور LG کیلئے لگ بھگ 14 سال کام کیا۔ ٹکنالوجی کے معاملے متجسس ہونے کے ناطے پرانوو نے کمرشیل اے سی سیلز اینڈ سرویس کا اپنا ذاتی ونچر 2008ءمیں شروع کیا، اور کئی نمایاں پراجکٹس مدھیہ پردیش میں شروع کئے۔ اس دوران، پرینکا نے مارکیٹنگ میں ایم بی اے (پرسٹیج انسٹی ٹیوٹ ، اندور) اور مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی (دیوی اہلیا یونیورسٹی) کی تکمیل کے علاوہ ریسرچ پیپرز تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اندور کے مختلف اداروں میں لکچرز دینا شروع کردیا تھا۔

پرینکا کا کہنا ہے: ”ابتداءمیں پرانوو کا آفس گھر میں ہوا کرتا تھا، 2010ءکے موسم گرما میں اُن کے والد نے بھاری برقی بلوں کی نشاندہی کی کیونکہ اُن کی ٹیم اے سیز استعمال کرتی تھی۔ لہٰذا، ایک دن اُس نے AC کے چند اجزاءاکٹھا کئے اور اُن سب نے مل کر کولرز پر کام شروع کیا۔ جب میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں آیا کوئی کمپریسر کسی کولر میں لگایا جاسکتا ہے؟ میں نے واقعتا یہی باور کیا کہ یہ محض اُن کی خوش فہمی ہونا چاہئے کیونکہ وہ الکٹرانک اشیاءاور مشینوں کے ساتھ تجربے کرنے کے دلدادہ ہیں۔ تب مجھے شاید ہی اندازہ رہا کہ وہ ایسی ٹکنالوجی کی ایجاد کرلیں گے جسے ہم کو پیٹنٹ کرانا پڑے گا۔“

ٹیم وایو
ٹیم وایو

پرانوو نے پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ ”دو مرتبہ ہمیں سرمایہ کاروں سے اور پیٹنٹ کی فروختگی کے ذریعے خطیر رقم کے حصول کے درمیان فیصلہ کرنا پڑا۔ تاہم، اس طرح سے ارب پتی بن جانا فی الواقعی ہمارا مقصد نہیں رہا۔“

بعض اوقات اس جوڑے کو یہ حقیقت سے ہم آہنگ ہونے میں دِقت پیش آتی ہے کہ وہ اتنی دور تک آچکے ہیں۔ پرینکا کا کہنا ہے: ”ایسے موقع پر ہم خود کو یاد دلاتے ہیں جو کچھ آنجہانی دھیروبھائی امبانی نے کہا تھا کہ بڑی سوچ رکھو، تیز سوچ رکھو اور مستقبل کی سوچ رکھو۔ تصورات یا خیالات کسی کی جاگیر نہیں ہوتے ہیں۔“

حال میں Vaayu نے Mega Launchpad جیتا، جو YourStory Media کی مشترک سرپرستی والا ایونٹ رہا۔ اور اُن کا تازہ ترین اعزاز Skoch Order of Merit and Skoch Best SME of India Award ہے جو ممبئی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں عطا کیا گیا۔ علاوہ ازیں، وہ ٹاپ پانچ اسٹارٹپس میں شامل ہیں جن کو حکومت مدھیہ پردیش نے وزیراعظم کے ڈریم پراجکٹ 'Start up India Stand Up India' کیلئے منتخب کیا ہے۔

ویب سائٹ

................................................................

اس طرح کی مزید دلچسپ کہانیوں کیلئے یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ دیکھئے اور لائک کیجئے :    facebook

یہ بھی پڑھئے :

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

غریب مریضوں کے لئے امید کی کِرن... امید ہاسپٹل

رُک جانا نہیں تو کہیں ہار کے.... عبدالحکیم کی کامیابی کا راز!

................................................................

قلمکار : مُکتی مسیح .... مترجم : عرفان جابری .... Writer: Mukti Masih .... Translator: Irfan Jabri

Related Stories