طلباء خود کریں اپنی پسند اور ترجیحات کا فیصلہ اورسنواریں اپنا مستقبل’ 'کیریئر کھوج‘ کی مدد سے

0

نومبر 2013 میں رکھی گئی’کیرئیر کھوج‘ careerkhojj.com کی بنیاد ...

اسیسمینٹ ٹیسٹ سے بچّے اور والدین جان سکتے ہیں ذہنی رجحان اور صلاحیت


حال ہی میں کمپنی کو ملی ہے 60 لاکھ کی فنڈنگ ...

مُلک میں ہی نہیں، بیرونی ممالک میں بھی ہیں کئی رجسٹرڈ یوزرس ...


خودی کو کر بُلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خُدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے


خواب اُنہی کے پورے ہوتے ہیں جنہیں اپنے خوابوں پر اور خود پر یقین ہوتا ہے۔ جو شخص خود پر یقین نہیں کرتا اور سب کچھ وقت، حالات اور دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے، وہ ترقّی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ جس کام کو آپ کریں اُسے پوری ایمانداري کے ساتھ کریں، خود پراعتماد رکھیں اورتمام تر توجّہ کے ساتھ خود کو اُس کام کیلئے وقف کر دیں۔ عموما ًدیکھا گیا ہے کہ بیشتر افراد اپنے پیشے اور کام سے مطمئن نہیں ہوتے، ایسے خوش نصیبوں کی تعداد بہت کم ہےجنہیں یہ اطمینان اور خوشی ہے کہ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ اُن کی پسند کے عین مطابق ہے۔ اگر آپ کا شوق یا پسند ہی آپ کے ذریعۂ معاش میں تبدیل ہو جائے تو اِس میں کوئی شک نہیں کہ آپ دِل لگا کر اپنا کام کریں گے اور نسبتاًبہترین کام کر پائیں گے۔ لیکن ایسے خوش نصیب بہت کم ہوتے ہیں جن کاشوق ہی اُن کا پیشہ بنتا ہے اور اِس کی اہم وجہ ہے ہمارے اطراف موجود لوگوں کی ذہنیت۔ ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سب سے ذہین بچّہ 10 ویں کے بعد سائنس کا سبجیکٹ لے گا، اُس سے کم نمبر حاصل کرنے والے بچّے کے لئے کامرس، اور اُس سے بھی کم نمبرلانے والے طالب علم کے لئے آرٹس ہوتا ہے۔ معاملہ یہیں نہیں رُکتا اور یہ سلسلہ آگے تک چلتا رہتا ہے۔ ہر جگہ تو نہیں لیکن بیشتر شہروں میں یہی ٹرینڈ(رجحان) ہے۔پسندیدہ سبجیکٹ کا انتخاب کرنے کے معاملے میں بچّے کی ذاتی دلچسپی سے زیادہ اُس کے حاصل کردہ نمبرات بچّے کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ طالب علموں کو مختلف متبادل کی معلومات بھی نہیں ہوتی اور وہ روایتی طور پر مروّج موضوعات کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ طالب علموں کو اُن کی صلاحیت و قابلیت کا احساس دِلانے کے لئے اور سبجیکٹ کے معاملے میں اُن کی ذاتی دلچسپی سے انہیں متعارف کروانے کے لئے’کیریئر کھوج ڈاٹ کوم‘ careerkhojj.com نے ایک منفرد شروعات کی اور بہت جلد ہی اُن کو شناخت بھی ملی۔

آغاز

’کیریئر کھوج‘ کا قیام نومبر 2013 میں ہوا اور اِس کے فاؤنڈرس(بانیان) ہیں رچِت دوے، رِتویج ووہرہ، راج کوٹھاری اور سندیپ سونی۔ اِن سبھی کا تعلق متوسط طبقے کے خاندانوں سے ہے جنہوں نے اِن مشکلات کا بذاتِ خود سامنا کیا ہے۔ گجرات کے ’کچّھ‘ ضلع سے انہوں نےتعلیم حاصل کی اور پھر انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ راج بتاتے ہیں کہ 12 ویں تک رچِت اور رِتویج نے گجراتی میڈیم میں ہی تعلیم حاصل کی۔ ’کیریئر کھوج‘ کاآئیڈيا 2013 میں آیا اور سال کے آخر تک انہوں نےاپنی ویب سائٹ شروع کر دی۔ اس دوران راج کوٹھاری انجینئرنگ مکمل کر چکے تھے اور کارپوریٹ جاب میں تھے۔ وہیں رچِت دوے انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے لگے اور رِتویج ووہرہ اُس وقت انجینئرنگ کے فائنل سال میں تھے۔ یہ تمام دوست آپس میں مل کر ہمیشہ سوچا کرتے تھے کہ انہیں اپنے ملک کے اسٹوڈنٹس کے لئے کام کرنا ہے۔ یہاں بچّے اکثر اپنے والدین کے کہنے پر ہی سبجیکٹ کا انتخاب کر لیتے ہیں اور بعد میں تاعمر پچھتاتے رہتے ہیں۔ والدین بھی اِس بابت توجّہ نہیں دیتے کہ اُن کا بچّہ اصل میں کِس شعبے، کِس سبجیکٹ میں بہتر کام کر سکتا ہے، نیز اُس کی ذاتی دلچسپی اور ترجیحات کیا ہیں۔ کافی غور و فکر اور ریسرچ کے بعد اِن چاروں دوستوں نے نومبر 2013 میں ’کیریئر کھوج‘ کی شروعات کی۔

کیا کرتا ہے ’کیریئر کھوج‘

’کیریئر کھوج‘ بچّوں کی صلاحیت و قابلیت کا مطالعہ کرتا ہے اوراپنے اسیسمینٹ ٹیسٹ Assessment test کے ذریعے بچّوں اور اُن کے والدین یا سرپرستوں کو اُن کے بچّے کی ذاتی دلچسپی اور صلاحیت کی بنیاد پرآگاہ کرتا ہے کہ اُن کا بچّہ کس سبجیکٹ میں بہترین کارکردگی کر سکتا ہے۔ مذکورہ اسیسمینٹ ٹیسٹ کو مختلف سبجیکٹس کےماہرین کے مشترکہ تعاون سے تیار کیا گیا ہے اور اِس میں ہر سبجیکٹ کے سوالات ہیں جو بچّے کے رجحان اور صلاحیت کا صحیح تجزیہ کرتا ہے۔

راج بتاتے ہیں، ’’ضروری نہیں کہ جو طالب علم اچھّے نمبر لاتا ہے وہی طالب علم زندگی میں کامیاب ہوگا اور کم نمبر لانے والا طالب علم پیچھے رہ جائے گا۔ اگر ہر طالب علم اپنی پسند اور اپنےٹیلینٹ کے مطابق سبجیکٹس کا اور کیریئر کا انتخاب کرے گا تو کوئی بھی اسٹوڈنٹ پیچھے نہیں رہے گا۔ اِس لئے ضروری ہے کہ طالب علم پہلے خود اپنا تجزیہ کرے، خود کو پہچانے اور پھر کوئی فیصلہ کرے۔’کیریئر کھوج‘ نویں، دسویں، گيارہويں اور بارہویں کے طالب علموں کے لئے ٹیسٹ آرگنائز کرتا ہے۔‘‘

اِس کے علاوہ انہوں نے طالباء کے لئے کئی ویڈیو بھی بنائے ہیں جس میں مختلف كورسیز کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں ۔اِن ویڈیو زمیں ماہرین کے ساتھ ساتھ اُن طالب علموں کے خیالات بھی پیش کئے گئے ہیں جو متعلقہ شعبے سے منسلک ہیں اور ماہرینِ شعبہ طالب علموں کو تفصیل سے کسی مخصوص سبجیکٹ اور فیلڈ سے متعارف کروا رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُن کی ٹیم گجرات کے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں سے براہ راست رابطہ کرتی ہے اور انہیں سمجھاتي ہے کہ اُن کا اسیسمینٹ ٹیسٹ طالب علموں کے لئے کتنا مفید ہے۔ وہ اساتذہ کوٹیسٹ کی باریکیوں سے آگاہ کرتے ہیں اور یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اُن کا ٹیسٹ طالب علموں کے بهتر مستقبل کی بنیاد رکھنے میں کارگر ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی طالب علموں، اُن کے والدین یا سرپرستوں، اور اُن کے اساتذہ کے لئے بھی یہ جاننا کتنا ضروری ہے کہ طالب علم کس سبجیکٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ راج بتاتے ہیں کہ اِس کام میں شروع میں انہیں کافی مشکلات پیش آئیں لیکن اب کئی اسکول ’کیریئر کھوج‘ میں شامل ہو رہے ہیں۔

’کیریئر کھوج‘ ایپApp کے ذریعے مُلک کے کونے کونے سے طالب علم اپنے کیریئر سے متعلق ضروری سوالات پوچھ رہے ہیں، وہ مختلف معاملات کو ڈِسكس کر رہے ہیں اور طالب علموں کو اِس ایپApp کی مدد سے صحیح کیریئر منتخب کرنے میں کافی مدد بھی مل رہی ہے۔

دسمبر 2014 میں گجرات ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ذریعے منعقد ایک’ كراؤڈ فنڈنگ‘ پروگرام’ا 'سٹارٹ 51' ‘میں کمپنی نے مجموعی طور پر 2 لاکھ 81 ہزار روپے کا فنڈ حاصل کیا جس نے اِس کمپنی کو استحکام بخشا۔ ابھی حال ہی میں وہ گجرات کے شہر’بھُج‘ میں ایک سیمینار کرنے کے لئے گئے جہاں انہیں 60 لاکھ کی فنڈنگ ملی، اِس فنڈ سے کمپنی کو صحیح معنوں میں فروغ ملا۔ اِس فنڈنگ کے بعد کمپنی نے احمد آباد میں ایک آفس لیا اور اپنے کام میں مزید نکھار لانے کی قواعد شروع کی تاکہ مُلک بھر کے طالب علم ٹیکنالوجی کی سطح پر اُن سے منسلک ہو سکیں۔ ’کیریئر کھوج‘ ایپ کیلئے وہ کئی ایڈوانس ٹولزAdvance tools پر کام کر رہے ہیں جو طالب علموں کیلئے مزیدکارآمد ثابت ہوں گے۔ کمپنی کا مقصد اگلے ایک سال میں ایک ہزار اسکول اور اتنے ہی کالجوں تک پہنچنا ہے جس سے وہ لاکھوں طالب علموں تک پہنچ پائے اور اسٹوڈنٹس اُن کے پلیٹ فارم ’کیریئر کھوج‘ کا فائدہ اٹھا پائیں۔

کمپنی جلد ہی ڈیجیٹل کلاس روم شروع کرے گی جس میں آپ بھلے ہی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، براہ ِراست اِس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اِس سے کسی بھی امتحان کی تیاری کرنے والے طالب علموں کو بھی کافی فائدہ ملے گا۔ ابھی ’کیریئر کھوج‘ کے پاس 200 رجسٹرڈ یوزرس دنیا کے 20 ممالک سے ہیں اور ’کیریئر کھوج‘ کےبانیوں کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل کلاس روم شروع ہونے کے بعد یہ اعداد و شمار یقیناً بڑھ جائیں گے، اِس کے علاوہ مُلک بھر میں ’کیریئر کھوج‘ کی دستیابی قابلِ رشک ہو جائے گی۔