چار طلباء نے کالج پروجیکٹ کو بنایا تجارت کا ماڈل

0

رائے پور میں کام کر رہا ہے foodinger.in ...

ویب سائٹ اور اپلیکیشن کے ذریعے کھانے اور ڈلیوری کی سہولت ...

150 سے زیادہ ریستوراں کے ساتھ بنے تعالقات..

جب این آئی ٹی رائے پور میں پڑھنے والے چار دوستوں نے ریستوران اور گھرتک ڈلیوری کے میدان میں قدم رکھا تھا تو انہوں نے اس کام کو اپنے کالج کے ایک پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا. انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے ان طلباء کو یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ آنے والے وقت میں ایک اسٹارَٹپ 'نئے کاروبا' ر کی شکل بھی لے سکتا ہے. آج چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں foodinger.in کی بڑی ڈیمانڈ ہے.

این آئی ٹی، رائے پور میں پڑھنے والے آخری سال کے طالب علم امن، انكیت، اپوروا اور یش نے اس سال کی شروعات میں اس پروجیکٹ پر قسمت ازمانے کا فیصلہ کیا. اپنی سوچ کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے انہوں نے پہلے ایک ویب سائٹ بنایا اور اس کے بعد شہر کے مختلف ریستوراں اور ہوٹلوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی. foodinger.in کے شریک بانی امن کا کہنا ہے کہ "ہم نے اسے کالج کے ایک پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا تھا، اس پر ہمارے کالج کے پروفیسر بھی کافی پرجوش تھے اور انہوں نے بھی ہماری مدد کی۔"

امن بتاتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے اس کام کا آغاز اسی سال اپریل میں کی. تب ان لوگوں نے گاہکوں کو صرف کھانے کی سہولت دی. اس دوران کوئی بھی کسٹمر ان کی ویب سائٹ کے ذریعے شہر کے مختلف ریستوران یا ہوٹل میں بکنگ کرا سکتا تھا بدلے میں اس کو 10 سے 15 فیصد تک چھوٹ ملتی تھی۔

امن بتاتے ہیں کہ رائے پور شہر کے لئے یہ بالکل نئی چیز تھی یہی وجہ ہے کہ جس دن ان لوگوں نے مل کر اپنے اس کام کا آغاز اسی دن ان کو 50 سے زائد آرڈر مل گئے۔ پہلے ہی دن اتنے آرڈر کا ملنا ان کے لئے کسی لاٹری سے کم نہیں تھا۔ لوگوں سے ملی حوصلہ افزائی کے بعد ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے اس پروجیکٹ کو اسٹارٹپ کی شکل دے سکتے ہیں۔ اس وقت انہونے مختلف ریستوراں اور ہوٹلوں سے گھر کو ڈلیوری کی سروس شروع کرنے کے بارے میں سوچا۔ کیونکہ شہر میں اس طرح کا کام کوئی نہیں کر رہا تھا اور جو لوگ اس طرح کی خدمات دے بھی رہے تھے وہ اس کے بدلے ذیادہ فیس وصول کر رہے تھے۔ امن بتاتے ہیں کہ "شہر کے کسی ریستوراں سے کھانہ گھرتک پہنچانے کی خدمات دے تو رہے تھے لیکن ان کی شرط ہوتی تھی کہ کھانے کے آرڈر کا بل کم از کم ہزار روپے ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ اوپر سے 150 روپے تک الگ فیس لیا کرتے تھے. "

امن کے متابق "رائے پور میں میرے جیسے بہت سے اور بھی طالب علم تھے جو دوسرے شہروں سے یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے تھے اور ان کا بجٹ اتنا نہیں ہوتا تھا کہ وہ گھر بیٹھ کر کھانے کے لئے کچھ منگا سکیں۔ ایسے وقت ان کے دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس شعبے میں قدم رکھیں گے اور گھر تک کھانہ پہنچانے کے نظام کو نہ صرف آسان بنائیں گے بلکہ سستا بھی بنائیں گے۔

ان کی کوششوں کا نتیجہ ہی سمجھا جائے گا کہ آج کوئی بھی شخص foodinger.in یا ان کے اپلیکیشن کے ذریعے ان کی فہرست میں موجود ہوٹل سے کھانا آرڈر کر سکتا ہے اور یہ لوگ اس کھانے پہچانے کا کام خود کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر آرڈر ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ ہونا چاہئے جس کے بدلے یہ لوگ کوئی فیس نہیں لیتے، لیکن اگر آرڈر اس سے کم ہوتا ہے تو یہ لوگ اس شخص سے تیس روپے فیس کے طور پر لیتے ہیں۔

بقول امن، "جب ہم نے اس سال جولائی میں اس کام کو شروع کیا تو ابتدائی ماہ میں میں اور انكیت خود ہی گھر گھر کھانا پہنچانے کا کام کرتے تھے۔"

آج ان لوگوں کے پاس 9 افراد کی مضبوط ٹیم ہے جس میں 5 لوگ کھانا کی ترسیل کا کام کرتے ہیں۔ ا پہلے مہینے ان کو صرف 36 آرڈر ملے، لیکن اس کے بعد اس کام نے ایسی رفتار پکڑی کہ آج یہ لوگ ہر ماہ 800 سے 1000 آرڈر پورے کر رہے ہیں. ان کو امید ہے کہ جلد ہی یہ تعداد 2000 سے تجاوز کر جائے گی۔

آج foodinger.in کے ساتھ رائے پور شہر کے 150 سے زیادہ ریستوراں کا نیٹورک ہے۔ امن کا کہنا ہے کہ "شہر میں کل 200 سے 250 ریستوراں ہیں اور ہمارا منصوبہ تمام کو ساتھ لینے کا ہے۔ تو ہم لوگ ہر روز اوسطاً 5 ریستوران کو اپنے ساتھ شامل کر رہے ہیں۔"

اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اب بھلے ہی وہ بی 2 بی ماڈل پر کام کر رہے ہوں، لیکن اگلے تین ماہ کے دوران ان کا منصوبہ بی 2 سی'تاجربنام گاہک' کے شعنے میں اترنے کی ہے. اس کے علاوہ بی 2 بی ماڈل ٹائیر 2 شہروں میں بھی لے جانے کا ان کی منصوبہ ہے. فی الحال وہ اپنی ویب سائٹ foodinger.in اور اپلیکیشن کے اینروائڈ ورژن کے ذریعے کام کر رہے ہیں لیکن اگلے چند ماہ کے دوران ان کیا مقصد اپلیکیشن کا iOS ورژن بھی مارکیٹ میں اتارنا ہے۔