بہن کی شہادت کے بعد ملازمت چھوڑکر خودکو سماج کے لئے وقف کرنے والے شرد کُمرے

0

2001میں شردکمرے کی بہن بندوکُمرے جنگجوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئی تھیں...

بہن کی موت کے بعد انھوں نے عہد کیاکہ وہ اپنی پوری زندگی وطن کی خدمت میں لگائیں گے...

شرد نے بدعنوانی کے خلاف طویل جنگ لڑی...

کئی گاؤں کو گودلے کر شرد نے وہاں شجرکاری پروگرام چلایا...

400سے زائد عطیہ خون کیمپ بھی لگواچکے ہیں شرد...

حب الوطنی اور سماجی بہبود کا جذبہ بعض لوگوں کے خون میں ہوتاہے۔وہ سب کچھ چھوڑکر ملکی خدمات کو ہی اپنی زندگی کا نصب العین بنالیتے ہیں اور اپنے ہر کام کو بے لوث جذبے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شردکمرے ایک ایسے ہی شخص ہیں جن کے ڈی این اے میں حب الوطنی ہے اور جنھوں نے ایک اچھی سرکاری ملازمت چھوڑکر اپنی زندگی کو سماجی بہبود میں لگادیا۔ آج وہ دیش کی ترقی و خوش حالی کے لئے کوشاں ہیں۔

شردکمرے کی بہن بندوکمرے 2001میں کشمیر میں جنگجوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئی تھیں ۔موت سے پہلے انھوں نے چارجنگجوؤں کو مارگرایاتھا۔اس واقعہ کے بعد شردنے عہد کیاکہ وہ اب اپنی زندگی ملک کے نام وقف کریں گے اور دیش کی ترقی کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے۔ شرد مدھیہ پردیش کے رہنے والے ہیں ۔انھوں نے یہاں تعلیم حاصل کی اور ملازمت بھی کی۔وہ سرکاری ملازمت میں بڑے عہدے پر فائز تھے، لیکن انھوں نے سوچاکہ ملازمت کے ساتھ وہ ملک اور معاشرے کے لئے بہت کچھ نہیں کرپائیں گے۔ اس لئے انھوں نے ایک اچھی نوکری چھوڑکر ’پراکرم جن سیوی سنستھان‘ کی بنیاد رکھی۔اس ادارے کے ذریعے انھوں نے بدعنوانی کے خلاف مہم چلائی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کئی آرٹی آئی دائر کی اور متعدد بدعنوان افسران کو جیل بھجوایا۔اس دوران شرد کو کافی پریشان بھی کیاگیا۔وہ جن کے خلاف لڑرہے تھے وہ کافی اثر ورسوخ والے تھے ، لیکن شردکسی سے نہیں ڈرے اور اپنے کام میں لگے رہے۔

بدعنوانی کے علاوہ انہوں نے ماحولیات کے لئے بھی کام شروع کیا ۔ شرد نے کئی گاؤں (جاور کاٹھی ،نکاٹولہ ، آمہ ٹولہ گاؤں ضلع سونی ، ڈونڈیا گھاٹ ضلع ہوشنگ آباد ، مدھیہ پردیش ) کوگودلیااور وہاں زمینی سطح پر کام شروع کیا۔ ان مواضعات میں انھوں نے ایک لاکھ سے زائد پودے لگوائے۔شردکے اچھے کاموں کے لئے انھیں ’گرین آئڈل ایوارڈ‘ سے بھی سرفرازکیاگیا۔

شردکا ایک پٹرول پمپ ہے جو پوری طرح شمسی توانائی پر منحصر ہے۔ یہ ایک ایکو فرینڈلی پٹرول پمپ ہے۔ یہاں ناریل اور کیلے کے درخت ہیں۔اس کے علاوہ یہاں کئی طرح کی سبزیاں بھی اگائی جاتی ہیں ۔بچوں کے لئے جھولے لگائے گئے ہیں۔اس پمپ کو گذشتہ دوبرسوں سے مسلسل گرین ایوارڈ مل رہاہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اسکول کالجوں میں پودے بطورتحفہ دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ وہ کہیں بھی جاتے ہیں وہاں لوگوں کو پھولوں کی مالا یا پھول گفٹ کرنے کے بجائے پودے بطور تحائف دیتے ہیں۔

شردبتاتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت صلاحیت ہے لیکن خراب سیاست نے ملک کو بہت نقصان پہنچایاہے۔ سیاست کے سبب ہی ملک میں فسادات ہوتے ہیں۔ہمیشہ ساتھ ساتھ رہنے والے لوگ چند شرپسند عناصر کی باتوں میں آکر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہانے لگتے ہیں۔ شردکو یہ باتیں بہت تکلیف پہنچاتی ہیں۔ وہ لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں اور بھائی چارے سے رہیں۔ وہ سبھی مذاہب اور طبقات سے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور عطیہ خون کو سب سے بڑاعطیہ مانتے ہیں۔شردکہتے ہیں کہ سب کا خون ایک جیساہے ۔انسانوں نے ذات پات کا نظام قائم کیاہے۔ اللہ نے ہمیں ایک جیسابنایاہے ۔ وہ خود 70سے زائد بار خون کا عطیہ کرچکے ہیں۔وہ 1993سے مسلسل عطیہ خون کیمپ لگارہے ہیں۔اب تک شرد 400سے زائد بلڈ ڈونیشن کیمپ منعقد کرچکے ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں یہ کام کرتے ہیں۔

شردبتاتے ہیں کہ عام لوگوں کا اس کام میں انھیں پوراتعاون ملتاہے۔ لوگ بڑھ چڑھ کر عطیہ خون کیمپ میں حصہ لیتے ہیں اور خون عطیہ کرتے ہیں۔ اس کام کے لئے وہ مختلف اسپتالوں سے رابطہ کرتے ہیں جہاں وہ جمع شدہ بلڈ کو بھیج دیتے ہیں۔

شرد نے’ یوراسٹوری‘ کو بتایا:

’’بچے ہمارامستقبل ہیں ، لیکن آج کل کی بھاگ دوڑ والی زندگی میں ہم بچوں کو اخلاقی اقدارکی تعلیم نہیں دے پاتےجو صحیح نہیں ہے۔ بچوں کو اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں کی تعلیم دینابھی بے حد ضروری ہے۔ان کے اندر اخلاقیات کا فقدان نہیں ہوناچاہئے۔ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ ہوناچاہئے۔حب الوطنی کا جذبہ بھی ان کے اندر ہوناچاہئے۔کتابی علم کے علاوہ انھیں یہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ کیا صحیح ہے اور کیاغلط۔‘‘

اس سلسلے میں بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے، ان کو خود انحصاری کا عادی بنانے اوران کے اندر اخلاقی قدروں کو فروغ دینے کے لئے شرد نے ’آکاش ٹیم ‘ کی بنیادرکھی۔اس ٹیم کے ذریعے وہ بچوں سے تخلیقی کام کراتے ہیں۔بچوں کو ملک ومعاشرے کے تئیں بیدارکیاجاتاہے۔ان سے شجرکاری کرائی جاتی ہے۔عطیہ خون کیمپ میں ان سے مدد لی جاتی ہے۔ بچوں کے لئے مختلف کھیل بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔

شرد بتاتے ہیں کہ عوام کی خدمت کرنااب ان کے روزمرہ کا حصہ بن گیاہے اور ان کو اس کام میں لطف آتاہے۔ان کی اہلیہ ڈاکٹر لکشمی کمرے ان کاموں میں ہمیشہ ان کا پوراساتھ دیتی ہیں اور ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں ۔ شرد بدعنوانی سے پاک ہندوستان کا خواب دیکھتے ہیں اور ہندوستان کو دنیاکے سب سے ترقی یافتہ ممالک کی قطار میں دیکھناچاہتے ہیں۔

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini