کبھی خود اپنی تعلیم کے لئےاپنے بیل فروخت کرنے پر مجبور شخص آج 200 بچوں کی تعلیم کا ذمہ دار

 

0

ہمارے ملک میں لگاتار 'پڑھے گا انڈیا تبھی بڑھے گا انڈیا' جیسے نعرے لگائے جاتے رہے ہیں۔ لیکن نعرے دینے والے، سلوگن لکھنے والے اکثر حقیقی صورتِ حال کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔ جو نا موافق حالات میں تعلیم حاسل کررہا ہے، اس کے لئے کیا کِیا جائے، اس بات کی فکر صرف اس کے گھر کے افراد ہی کرتے ہیں۔ ایسے میں تعلیم کو زندگی کا اہم حصہ ماننے والے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے سب کچھ داؤ پر لگادیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ والدین نہیں چاہتے کہ ان کے بچے کا حشر بھی ان جیسا ہی ہو۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وہ بچے بھی اپنے والدین کے ایثار اور قربانی کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں اور زندگی میں کچھ کر دکھاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے مہاراشٹر کے جالنہ ضلع کے شیام واڈیکر کی۔

ایک کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے شیام واڈیکر آج بھلے ہی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہوں لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کی کالج کی فیس ادا کرنے کے لئے ان کے والدین کو اپنے بیل فروخت کرنے پڑے۔ آج وہی شیام واڈیکر مہاراشٹر کے دو سو 200 ان غریب بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں جن کے والدین ان کی تعلیم کا بوجھ نہیں اُٹھاسکتے۔ 'کرتویہ فاؤنڈیشن' نامی ان کی تنظیم آج مہاراشٹر کے 8 اضلاع میں کام کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف تعلیم اور صحتِ عامہ کے شعبوں میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں بلکہ ایسے کسان خاندانوں کی بھی دیکھ بھال کر رہے ہیں جن کے گھر کے کسی فرد نے قرض کی وجہ سے خودکشی کرلی تھی۔


شیام واڈیکر مہاراشٹر کے جالنہ ضلع کے دولارا گاؤں کے رہائشی ہیں۔ شیام کے والد بھلے ہی کسان تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ تعلیم سے زندگی بدلی جاسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج شیام جہاں ٹی۔ سی۔ ایس کی پونہ شاخ میں سافٹ وئر انجینیر ہے، وہیں ان کی بڑی بہن ڈاکٹر اور ان کے بھائی میکانیکل انجینئر ہیں۔ شیام واڈیکر ، اپنے کام کے سلسلے میں سنگاپور، لندن اور دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کی سیاحت کرچکے ہیں۔

شیام واڈیکر نے 'یور اسٹوری' کو بتایا،

"میں گاؤں میں پلا بڑھا اس لئے مجھے وہاں کی شہر اچھی اور بُری بات کا علم تھا۔ میری زندگی میں بھی کافی اُتار چڑھاؤ آئے۔ میں جب انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اس دوران میرے والد کے پاس کالج کی فیس جمع کرنے کے لئے دس ہزار روپئے نہیں تھے۔ تب میرے والد نے اپنے بیلوں کی جوڑی فروخت کردی جو کھیت میں ہل چلانے کے کام آتی تھی۔ میرے والد نے مجھے اس بات کی خبر تک نہ ہونے دی کہ انہوں نے اپنے کھیت کے بیل فروخت کردئے ہیں تاکہ وہ میری فیس ادا کرسکیں۔ ان کے اس ایثار کا علم مجھے بہت بعد میں ہوا۔ "

اس واقعے نے شیام کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔

شیام واڈیکر نے دیکھا کہ یہ کہانی صرف تنہا ان کی کہانی نہیں ہے بلکہ سماج میں کئی ایسے بچے ہیں جن کے والدین ان کی ضروریات کی تکمیل نہیں کرپاتے اور بچوں کو چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے ترسنا پڑتا ہے۔ شیام کا کہنا ہے کہ،

"بچوں کے اسکول کی فیس ہو یا یونیفارم یا پھر کتابوں کی ضرورت ، کئی ایسے والدین ہیں جن کے پاس اپنے کھیت کے لئے کھاد اور بیج جیسے چیزوں کے لئے پیسے نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہ اپنے بچوں کی ضروریات کیسے پوری کرسکتے ہیں؟ اس وجہ سے بچوں کو تعلیم سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور کچھ وقت بعد بچوں کو مجبوری میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑدینی پڑتی ہے۔ "

انہی مسائل کے مدِ نظر شیام واڈیکر نے اپنی تعلیم کے دوران اپنے دوست سندیپ، وِشواس اور وِنیتا سے اس بارے میں بات کی اور ان کے حل کے لئے تجاویز پر غور و خوص کرنے لگے۔ تب ان لوگوں نے سوچا کہ جب بھی انہیں ملازمت مل جائے گی، وہ ایسے بچوں کی مدد کرنے کا کام شروع کریں گے جو ان مسائل سے نبرد آزما ہورہے ہوں۔ پھر بھلے ہیں یہ کام دو بچوں سے کیوں نہ شروع کرنا پڑے۔

یوں سال 2007 میں شیام واڈیکر اور ان کے دوستوں نے 'کرتویہ فاؤنڈیشن' نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کے ذریعے ان لوگوں نے 4 گاؤوں کے 12 بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے شروع کئے۔ دھیرے دھیرے شیام اور ان کے ساتھیوں کی سمجھ میں یہ بات آنے لگی کہ بچوں کو پین، پنسل اور کتابوں ہی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کے مسائل اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسکالرشپ کے لئے بچوں کو کتابیں دینے کا کام شروع کیا تاکہ بچوں کی تعلییم بغیر کسی رُکاوٹ کے جاری رہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے بچوں کی تعداد 12 سے بڑھ کر 50 ہوئی اور اس کے بعد 150 تک جاپہنچی۔ آج یہ تنظیم مہاراشٹر کے 8 اضلاع کے تقریباً 200 بچوں کو پڑھانے کا کام کر رہی ہے۔

بچوں کے لئے ہی نہیں بلکہ شیام اور ان کی ٹیم ایسے کسان خاندانوں سے بھی ملتی رہتی ہے جن کے گھر کا کوئی فرد قرض کی وجہ سے خودکشی کرچکا ہے۔ اس کے لئے شیام واڈیکر نے 'مشن سیو فارمر' یعنی کسان بچاؤ مشن کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت وہ اب تک 8 اضلاع کے تقریباً 60 خاندانوں سے مل چکے ہیں جن کے کسی فرد نے قحط یا سوکھے یا قرض کی وجہ سے خودکشی کرلی تھی۔ یہ ایسے کسان خاندانوں کی نہ صرف معاشی امداد کرتے ہیں بلکہ ان کی ضروریات کا دھیان رکھتے ہوئے ان کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شیام واڈیکر کے مطابق،"کوئی بھی کسان اپنی زندگی میں اپنے کھیت سے جُڑے کام مثلاً بیجوں کا انتظام کرنا، کھیت تک کھاد لانے کا کام کرنا وغیرہ خود کرتا ہے لیکن اس کی خود کشی کے بعد یہ ذمہ داری اس کی بیوی پر آجاتی ہے جس کو اس کام کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسی خواتین کو ایسی باتوں سے واقف کروایا جائے، انہیں اس بارے میں تعلیم دی جائے اور انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھاسکیں جو ان کے شوہر چھوڑ گئے ہیں۔" اتنا ہی نہیں، شیام اور ان کی ٹیم ایسے کسان خاندان کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں تاکہ ان بچوں کی تعلیم ادھوری نہ رہ جائے۔


شیام واڈیکر کے مطابق،

"آج لوگ ہمیں امید کے طور پر دیکھتے ہیں، وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کے سارے مسائل کا حل ہمارے پاس ہے۔ لیکن ہم ان لوگوں کی اتنی ہی مدد کرتے ہیں جتنی ان کو واقعی ضرورت ہوتی ہے۔"

ابتداء میں ان لوگوں کو اپنے کام کی شروعات تعلیم اور صحتِ عامہ سے کی تھی لیکن دھیرے دھیرے انہیں محسوس ہونے لگا کہ اگر کوئی ان کے پاس کسی امید کے ساتھ آرہا ہو تو انہیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ضرورت مند کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ آج یہ لوگ جماعت اول میں زیرِ تعلیم بچوں سے لے کر ایم۔ بی۔ اے ارو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ تک کا تعلیمی خرچ برداشت کر رہے ہیں۔ آج 'کرتویہ فاؤنڈیشن' مہاراشٹر کے جالنہ، پربھنی، ناندیڑ، بیڑ، عثمان آباد،اورنگ آباد اور دیگر شہروں میں کام کر رہا ہے۔


بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان لوگوں نے 'اسٹڈی سینٹر' بھی شروع کیا ہے جہاں بچے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرسکتے ہیں۔ اس کےلئے یہاں نہ صرف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے کتابیں مفت فراہم کرتے ہیں بلکہ تیاری کے تعلق سے مکمل رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔ شیام اور ان کی تنظیم کی مدد سے تعلیم پانے والے بچوں سے شیام ایک ہی بات کہتے ہیں،

" تم تعلیم کے بدلے ہمیں کچھ مت دو، اگر دینا ہی ہے تو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لئے وہ کام کرو جو تم کر سکتے ہو۔"

تحریر: ہریش

مترجم: خان حسنین عاقبؔ