بے سہارا بچوں کا سہارا بننے والے رفیع الدین

0

حسرت جئے پوری نے فلم اناڑی کے لیے کیا خوب گیت لکھا تھا ’’کسی کی مسکراہٹوں پہ ہونثار،کسی کا درد مل سکے تو لے ادھار‘‘۔ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو کسی کا درد دور کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ خدمت خلق کے شعبہ میں اہم خدمات انجام دینے والے رفیع الدین نے ان بچوں کی مدد کی جن کے سر پر چھت نہیں تھا۔ جو راتوں کو سڑکوں پر سوتے اور دن کو کچھ بھی کام کرلیتے تھے۔ پڑھنے کی عمر میں غیرسماجی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہوجانے کا خدشہ تھا۔

رفیع الدین نے بچپن سے ہی خدمت خلق کے شعبہ میں کام کرنے کی ٹھانی تھی۔ وہ ڈاکٹر بن کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے تھی۔ انھوں نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا ، ’’آل سینٹس ہائی اسکول گن فائونڈری عابڈس حیدراباد سے اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انٹرسائنس میں داخلہ لیا۔ کیوں کہ میرے ذہن میں میڈیسن کے شعبہ کے ذریعہ خدمت خلق کرنا تھا۔ گورنمنٹ رینک حاصل نہ ہونے کی وجہ سے میں یہ نہیں کرسکا۔ ‘‘

دل میں خواہش ہو تو راستے خودبخود بن جاتے ہیں۔ خدمت خلق کرنے کی چاہ نے راہ پائی اور ایک دن رفیع الدین کے پھوپی زاد بھائی نے انھیں ایک اور راستہ دکھایا۔ انھوں نے اس تعلق سے بتایا ، ’’میرے پھوپی زاد بھائی سید وقار نوید نے مجھے بتایا کہ سوشل ورک کے شعبہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے خدمت خلق کا کام کیا جا سکتا ہے۔ BSW تین سالہ کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ اس وقت ریڈہلز پر کالج آف سوشل ورک تھا۔‘‘

سوشل ورک کورس میں داخلہ لیتے وقت بھی ایک مشکل پیش آئی تھی ، لیکن اگر کسی کے ارادے مضبوط ہوں تو کامیابی یقینی ہوتی ہی۔ ہوا یہ کہ یہاں پر انٹرنس امتحان کے ذریعہ داخلہ ہوتا ہے اور رفیع الدین کو انٹرنس ٹسٹ کا لیٹر نہیں ملا۔ جب ان کے بھائی کو پتہ چلا کہ انٹرنس امتحان ہوچکا ہے ۔ رفیع الدین نے بتایا ، ’’میرے پھوپی زاد بھائی کو جب پتہ چلا کہ مجھے لیٹر نہیں ملا اور میں نے انٹرنس ٹسٹ نہیں لکھ سکا تو انھوں نے مجھے کالج لے جاکر انتظامیہ سے کہا کہ ان کا بھی انٹرنس امتحان لینا چاہئے۔ انتظامیہ نے ٹائم وغیرہ مقرر کیا اور میرے اکیلے کے لیے اسپیشل انٹرنس امتحان مقرر کیا گیا۔ ایک گھنٹے تک انتظار کرنے کے لیے کہا گیا اور بعد میں آکر کہا گیا کہ آپ انٹرنس امتحان میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس طرح میں نے سوشل ورک کے شعبہ میں داخلہ حاصل کرلیا‘‘۔

گریجویشن کے دوران انھیں پتہ چلا کہ خدمت خلق کے شعبہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فیلڈ پر بھی کام کیا جاتاہے۔ یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ان لوگوں کے لیے ہے، جو مجبوروں اور بے سہاروں کے لیے کچھ کرناچاہتے ہیں۔ اس کورس کے دوران فیلڈ پر پریکٹس بھی کرائی جاتی ہی۔ اپنی پسند کے شعبہ میں تعلیم حاصل کرنا ہو تو دل بھی لگ جاتاہے۔ انھوں نے اس شعبہ میں بہت ہی نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ وہ گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں گولڈمیڈلسٹ ہیں۔

سوئزرلینڈ کی گورنمنٹ کا ایک پراجکٹ تھا جو یونیورسٹی کی جانب سے رفیع الدین اور ان کے ساتھیوں کو ملا۔ یہ پراجکٹ دو مہینے کا تھا۔ یہ پراجکٹ سڑکوں پر رہنے والے بچوں سے متعلق تھا۔ اس پراجکٹ کے دوران انھوں نے ان بچوں کو سمجھا اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ پراجکٹ کی کامیاب تکمیل کے بعد انھوں نے سوچا کہ کوئی منظم کام کیا جائے ۔ اس کے لیے انھوںنے اپنے ساتھیوں سے مشاورت کی۔ انھوںنے بتایا کہ ’’ہم نے یہ طے کیا کہ ایک تنظیم بناکر ہم قانونی طور پر یہ کام کرسکتے ہیں۔ ’حیدرآباد کونسل آف ہیومن ویلفیر‘ کے نام سے ایک تنظیم 12 نومبر990ء کو رجسٹرڈ کی گئی۔ اس طرح خدمت خلق کے شعبہ میں ہمارا کام شروع ہوا۔ ‘‘

سڑک پر رہنے والوں بچوں کو اسکول پہنچانے کے لیے رفیع الدین نے کوششوں کا آغاز کیا۔ اسکول کے آغاز کے وقت تو ان کا استقبال کیاجاتا تھا لیکن سال تمام بچوں کی کیفیت سے آگاہ نہیں کیاجاتاتھا۔ بچہ اسکول کے باہر ہوتا ہے یا پابندی سے اسکول آتا ہے اس کی اطلاع نہیں ملتی تھی۔ بچوںکے مستقبل کے تعلق سے فکر مند رفیع الدین نے یہ طے کیا کہ اب وہ خود اسکول کھولیں گی۔ اس طرح DMRانٹرنیشنل اسکول کے آغاز کی راہ ہموار ہوئی۔ انھوں نے بتایا ، ’’اسٹریٹ چلڈرنس کو ہم نے اسکولس میں داخل کروائے تھی، لیکن ہمیں ان اسکولس سے خاطر خواہ نتائج نہیں مل رہے تھی، لہٰذاہم نے یہ طے کیا کہ ہم ایک اسکول کھولیں گی۔ 20 جولائی 2013کوہم نے DMRانٹرنیشنل اسکول کے نام سے ایک اسکول کا آغاز کیا‘‘۔

رفیع الدین نے بتایا کہ ابتداء میں یہ ابتدائی کوشش تھی لیکن ہوتے ہوتے پہلے سال 80 بچوں سے اسکول شروع ہوا۔ جو کے جی سے فرسٹ کلاس تک تھی۔ اس سال یعنی 2015 تک اسکول میں 300 بچے شامل ہیں اور یہ اسکول ایودھیانگر کالونی ، حیدرآباد میں کام کررہاہی۔

بعض دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ہم پوری کوشش کرنے کے باوجود بھی کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کبھی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی صرف تصور کی بنیاد پر کچھ فیصلے ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ حیدرآباد کونسل آف ہیومن ویلفر کے ساتھ بھی ہوا۔ رفیع الدین بتاتے ہیں ’’ہم نے جندال ٹرسٹ بنگلور سے ایک پراجکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک اہم پراجکٹ تھا جس سے بچوں کو فائدہ ہوسکتا تھا۔ ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے تمام چیزوں کا اچھی طرح معائنہ کیا اور کہا کہ آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں لیکن آپ کو یہ پراجکٹ نہیں ملے گا ۔ کیوں کہ آپ کی تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں لگتا کہ آپ اس کام کو جاری رکھ سکیں گے اس لیے میں آپ کی سفارش نہیں کروںگا‘‘۔

رفیع الدین نے اپنی تنظیم کے ذریعے کئی بچوں کی زندگی میں روشنی لائی ہے۔ ایک جذباتی واقعہ انھوں نے بتایا کہ ’’ایک بچہ جو گھر سے فرار ہوکر حیدرآباد آیا تھا ۔ گھر سے نکلتے وقت گھر کے مندرسے پیسے نکالااور بھاگ گیا تھا۔ بعد میں اسے پتہ چلا کہ اسی رات ماں کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔ مہیش راجو ،نام کے اس لڑکے نے کئی سال بعد مجھے فون کرکے بتایا کہ میں یہاں نیلوفرہاسپٹل کے پاس سے بول رہا ہے اور مجھے لڑکا ہوا ہے اور میں نے سب سے پہلے آپ کو یہ خبر دی ہے۔ ‘‘

انھوں نے سڑک پر رہنے والے بچوں کا مستقبل سنوارمیں کوئی کسر نہ رہنے دی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی خوشی اس وقت انتہا نہ رہی جب ان کی تنظیم کے بچوں میں سے ایک بچہ سوشل ورک کے شعبہ میں خدمت کرے کے لیے BSW میں داخلہ لیا۔ اس کے علاوہ بھی ان کی تنظیم سے فارغ بچے سوشل ورک کے شعبہ میں بھی کام کررہے ہیں اور ایک بچہ IIT کرناٹک میں لکچرر بھی ہے۔

رفیع الدین نے اپنے تجربات کو تحریر میں بھی لا یا ہی۔ انھوں نے فقراء پر ایک کتاب بھی لکھی ہی۔ جسے BOOk For change نے شائع کیا۔ بے سہارائوں کا سہارا بننے والے رفیع الدین کا سفر جاری ہے اور مستقبل میں وہ اس کام کو مزید توسیع دینا چاہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں