ملٹی نیشنل کمپنی کی ملازمت چھوڑ کراکیلی لڑکی نے بدل دی گاؤں اور پنچایت کی تقدیر

0

ممبئی میں ملٹی نیشنل کمپنی کی قابلِ رشک تنخواہ والی ملازمت چھوڑ کر، راجستھان کے ٹونک ضلع کے ’سوڑھا ‘پنچایت کی سرپنچ بننے والی خاتون ’چھوی راجاوت‘ نےپوری پنچایت کو مثالی پنچایت میں تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ گاؤں کی ترقی کے لئے سرکاری پیسے پر انحصار نہیں کرتی ہیں، بلکہ پرائیویٹ سیکٹر سے بھی سرمایہ لے کر آئی ہیں ۔’ سوڑھا ‘میں پانی، بجلی اور سڑک کی بہتر سہولیات کی باتیں تو پرانی ہو چکی ہیں، اب تو یہاں بحث ہوتی ہے گاؤں میں بینک، اے ٹی ایم، شمسی توانائی، ویسٹ مینجمنٹ ،واٹر مینجمنٹ کے سسٹم کے علاوہ جانوروں کے لئے علیحدہ گھاس کے میدان کی ۔گاؤں کی عورتیں اور لڑکیاں، دہلی کے کالجوں سے آئی لڑکیوں سےماہواری اور زچگی سے متعلق اب تک کے ’ممنوعہ‘ پہلوؤں پر بحث کرتی ہیں ۔

اعتمادسے لبریز ’چھوی ‘ ’ يوراسٹوری‘ سے کہتی ہیں

’’میرا اب ایک ہی خواب ہے کہ گاؤں کی ہر لڑکی شہر کی لڑکیوں کی طرح ہر فن مولا بنے ۔ آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی ہم پانی، بجلی اور سڑک جیسے مسائل میں الجھے رہیں تو یہ ہمارے لئے شرمناک ہے ۔ اب ہم ترقی کے معنوں کو اس سے آگے لے جانا چاہتے ہیں۔‘‘

6 سال قبل ’چھوی ‘ جب پہلی بار سرپنچ بنی تھیں، تب وہ بھی یہی سوچتی تھیں کہ گاؤں میں کم سے کم پینے کا پانی تو ہونا چاہئے ۔ ’چھوی‘ ایم بی اے کر کے ممبئی کی ملٹی نیشنل کمپنی میں لاکھوں کے پیکیج پرزیرِ ملازمت تھیں۔ ایک بار چھٹیوں میں گاؤں آئیں تو گاؤں کے لوگوں نے کہا، اِس بار سرپنچ تم ہی بن جاؤ ۔ شہر کی زندگی جينےوالی اور گھُڑسواری جیسے شوق رکھنے والی ’چھوی ‘ کے لئے یہ ایک مذاق کی طرح تھا ۔ لیکن جب گھر والے ضد کرنے لگے تو بے دِلی سے ہی سہی ، ’چھوی ‘ نے سرپنچ کا الیکشن لڑا اور جیت گئیں ۔’چھوی ‘ نے بھی گاؤں کی بُری حالت دیکھ کر گاؤں کے لئے کچھ کرنے کی سوچی۔ اُس وقت ’چھوی ‘ سرپنچ تو بن گئیں لیکن سرکاری نظام میں گاؤں کی ترقی کرنا آسان نہیں تھا ۔ سب سے بڑا مسئلہ تھا گاؤں میں پانی کا۔ خواتین دُور دُور سے پانی لاتی تھیں، تب ’چھوی ‘ نے واٹر مینجمنٹ کے ایکسپرٹ کو اپنے گاؤں میں بلایا ۔ انہوں نے گاؤں کا سروے کرکے ایک رپورٹ بنائی کہ اگر گاؤں میں تالاب کو 100 ایکڑ کے طول و ارض میں تبدیل کر دیا جائے تو گاؤں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ لیکن اس کا کم از کم بجٹ نکلا 2 کروڑ۔’چھوی ‘ نے جب سرکاری دفتروں کےچکر لگانا شروع کیا تو پتہ چلا کہ ایسی کوئی اسکیم نہیں جس میں 20 لاکھ سے زیادہ روپیہ کسی گاؤں میں تالاب بنانےکے لئے دیا جا سکے ۔ اس کے علاوہ آج بھی حکومت گاؤں میں مشین سے کام کرنے کے لئے رقم نہیں دیتی ۔ پھر پورے گاؤں کے ساتھ مل کر محنت و مشقت شروع کی ۔ لیکن ایکسپرٹ نے کہا کہ اس طرح توتالاب کی کھدائی میں 20 سال لگ جائیں گے ۔’چھوی ‘ کہتی ہیں :

’’تب میں انتہائی اُداس رہنے لگی تھی ۔ لگتا تھا کہ کچھ کر ہی نہیں پا رہی ہوں، کیوں سرپنچ بن گئی ۔ تب میرے ماں باپ اور چاچانے کہا کہ ہم اپنے پیسے دیں گے تمہاری خوشی کے لئے ۔‘‘

’چھوی ‘ نے ہمت نہیں ہاری، دوستوں سے، خاندان والوں سے پیسے لے کر کام شروع کر دیا ۔ کچھ لوگوں نے ​​تو اخبارات میں یہ خبرپڑھ کر یا محض سُن کر چیک بھیج دئے اور آج ’ سوڑھا‘ کا یہ تالاب گاؤں کی ’لائف لائن‘ ہے۔اب تو تالاب کنارے لگے ہینڈپمپ بھی پانی دینے لگے ہیں۔’ سوڑھا‘ کی’ گیتا دیوی‘ کہتی ہیں :

’’ بیٹی نے پانی کے لئےبھٹکنا چھڑوا دیا ۔ تالاب بن جانے سے گاؤں کے کنوؤں اور ٹیوب ویلوں میں خوب پانی آتا ہے ۔ اب پانی کے لئے کہیں جانا نہیں پڑتا ہے ۔‘‘

بس یہیں سے گاؤں کی سیاست بھی شروع ہو گئی ۔’چھوی ‘ کے مقابلے شکست کا منہ دیکھنے والے سرپنچ کو ’چھوی ‘ کی کامیابی ہضم نہیں ہوئی اور گاؤں میں ذات پات کی بنیاد پر دو گروپ بن گئے ۔ مار پیٹ تک ہوئی۔ ’چھوی ‘ کہتی ہیں کہ چراگاہ کا راستہ نکالنے کے معاملے میں لوگوں نے ہم پر حملہ بول دیا، انہیں اور اُن کے بزرگ والد کو شدید چوٹیں آئیں اوراسپتال میں بھرتی تک ہونا پڑا۔ مگر ان مخالفتوں سے وہ اور زیادہ مضبوط بن گئیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اُس وقت کے حملہ کرنے والے بھی اب ’چھوی ‘ کے ساتھ ہیں ۔ ہفتے میں ایک دن ’چھوی ‘ پنچایت بھون میں بیٹھتی ہیں، جہاں اب پنشن سے لے کر پیدائش اور وفات کے سرٹیفکیٹ بنوانے تک سارا کام آن لائن ہوتا ہے ۔ لیکن ’ سوڑھا‘ اب بنیادی ترقی کے ان تصورات سے آگے نکل گیاہے ۔’چھوی ‘ نے اب گاؤں میں پانی کا ٹینک بنوا دیا ہے جس سے ٹیپ واٹر نل سے ہر گھر میں پهنچے گا ۔ گاؤں کی سڑک ہو یا پھر بجلی ، ہر ضروری چیز کا انتظام خود کرواتی ہیں ۔ اب گاؤں میں تقریباً 24 گھنٹے بجلی آتی ہے جبکہ پہلے 6 گھنٹے بھی بجلی نہیں آتی تھی ۔ پنچایت میں دُور دراز کے جن گھروں میں بجلی محکمہ نے فنڈ نہ ہونے کی بات کہہ کر بجلی کے تار نہیں ڈالے، وہاں دہلی کی ایک نجی کمپنی کی مدد سے شمسی توانائی کا بندوبست کر دیاہے ۔ ایسے شمسی توانائی والے گھروں میں 150 روپے مین ٹیننس چارج دینے پڑتے ہیں اور گھر روشن رہتا ہے ۔ آزادی کے بعد پہلی بار اپنا گھر روشن دیکھ کر یہاں کے لوگ بھی انتہائی خوش ہیں ۔ 60 سال کے’ راجی رام ‘نے زندگی میں پہلی بار بجلی تب دیکھی جب شمسی توانائی سے اُن کا گھر روشن ہوا ۔ ’رام جی‘ کہتے ہیں،

’’پوتے پوتياں اب رات کو بھی پڑھتے ہیں ۔ وہ بھی روشنی میں کھانا کھاتے ہیں ۔‘‘

یہی نہیں ’چھوی ‘نے گاؤں میں اسٹیٹ بینک کی شاخ اور اے ٹی ایم بھی كھلوائے ہیں، جو کسی گاؤں میں سب سے پہلاقدم ہے۔ اِس کے علاوہ گاؤں میں ہر ہفتے صاف صفائی ہوتی ہے اور پنچایت سطح پر صفائی ملازم بھی رکھے گئے ہیں ۔ اس گاؤں میں ہر گھر میں ٹوائلٹ ہے ۔ ٹوائلٹ بنوانے کے لئے حکومت سے ہر گھر کو 12000 روپے دلوائے ہیں ۔ گاؤں کی عورتیں خود صبح اٹھ کر یہ دیکھنے جاتی ہیں کہ کوئی خاتون رفع حاجت کے لئے کھلے میں تو نہیں جاتی ہے ۔آنگن باڑي کارکن’ اوشا پاريكھ‘ کہتی ہیں کہ ہر صبح ہم چار بجے پورے گاؤں میں گھومتے ہیں کہ کوئی خاتون کھلے میں رفع حاجت کے لئے نہ جائے کیونکہ انہیں سمجھا کر اُن کی عادت بدلنی ہے ۔ اب گاؤں میں بہت تبدیلی آئی ہے ۔

صاف صفائی کے معاملے میں ایک نجی کمپنی کی مدد سے یہ ویسٹ مینجمنٹ کا سسٹم بھی بنا رہی ہیں جہاں پر بایو ڈیگرڈیبل مٹیرئيل سے توانائی بنائی جائے گی ۔ یہ کسی گاؤں میں اپنی نوعیت کا منفردتجربہ ہے ۔’چھوی ‘ کہتی ہیں کہ یہ میرا ڈریم پروجیکٹ ہے جس کے لئے میَں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتراک سے فنڈ لا رہی ہوں ۔

لیکن پورے گاؤں میں سب سے زیادہ پُر کشش اور بہترین منصوبہ ہے گاؤں کے لئے ایک مصنوعی جنگل یا سبزہ زار تیار کروانا ۔ اِس میں 35 ہزار درخت تو لگائے گئے ہیں، ساتھ ہی کئی اقسام کی گھاس یہاں کی آب و ہوا اور مٹّی کے مزاج کے مطابق لگائی گئی ہے، جو کہ گاؤں والے کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلاتے ہیں ۔ یہیں پر لوگ اپنےمویشی بھی چھوڑ جاتے ہیں جو کہ خاردارباڑیں ہونے کی وجہ سے چارہ بھی کھا لیتے ہیں اور محفوظ بھی رہتے ہیں ۔

ایک چرواہے’گوپال پرجاپتی‘کہتے ہیں،

’’پہلے جانوروں کے چارے کا بڑا مسئلہ تھا لیکن اب چراگاہ بننے کے بعد کسان اپنےجانوروں کو وہاں چھوڑ کرآرام سے اپنا کام کرنے چلےجاتے ہیں۔ اِس سے گاؤں کے جھگڑے بھی ختم ہوگئے ہیں ۔‘‘

’چھوی ‘کے’ سوڑھا‘ گاؤں کی ترقی کی شہرت دہلی تک ہے۔ وہاں سے کالج کے لڑکے لڑکیاں’ سوڑھا ‘گاؤں میں آتے ہیں جو کہ گاؤں والوں کو ملک و معاشرے کے متعلق آگاہ کرتے ہیں، انہیں نئی ​​نئی باتیں سمجھاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خواتین کوماہواری جیسے مسائل پربھی بات چیت کے لئےآمادہ کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ یہ کوئی بری چیز نہیں بلکہ زندگی کا معمول ہے ۔ دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ’ شر يانسي‘ کہتی ہیں :

’’پہلے لڑکیاں ماہواری جیسے مسئلہ پر بات نہیں کرتی تھیں لیکن اب وہ کھل کر اپنے مسائل بتاتی ہیں اور ہم انہیں اس کی مناسب تدابیرسمجھاتے ہیں ۔‘‘

اِس کے علاوہ ’چھوی ‘نے گاؤں میں خود اپنے پیسے سے بی ایڈ کالج اور’ اِسکل‘ سینٹر بھی کھلوایا ہے جس میں ٹریننگ دی جائے گی ۔

ایک گاؤں میں اس طرح کی تبدیلی اور ترقی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر پڑھے لکھے لوگ گاؤں کی سیاست میں آئیں، زمینی سطح پر کام کریں تو تبدیلی یقیناً آ سکتی ہے ۔

قلمکار : رِمپی کماری ؍ مترجم : انور مِرزا

Writer : Rimpi Kumari / Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

’بھوک مٹاؤ‘ مہم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہزاروں غریب بچّے

’راشی آنند ‘ کے ’لکشیم‘ کا مقصد تعلیم اور ترقیّ سے سماجی بُرائیوں کا خاتمہ