کافی کے شائقین کے لئے نئی لذتوں کا سفر  'دی فلائنگ اسكویرل'

تازہ اور خوشبودار کافی کےلئے شروع کی آن لائن فروخت۔ كرگ کے اپنے باغات کی پیداوارکافی کو پہنچاتے ہیں صارفین تک۔ بچپن کے کافی کے لگاو کو دی آن لائن کاروبار کی شکل۔ کافی کے حقیقی شائقین تک تازہ کافی پہنچانا ہے مقصد۔

0


كرگ میں واقع 'دی فلائنگ اسكویرل' کے باغات میں کافی کے جھاڈيوں کی قطار کے درمیان سے جھانکتی ڈالیوں پر لٹکتے چٹخ سرخ رنگ کے بیج ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی طرف مبزول کرتے ہیں۔ بانی آشیش ڈابرےاو اپنی اس کھیتی کو 'سائنس اور آرٹ کا مرکب' مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان باغات میں بڑے پیمانے پر اگائے گئے ونیلا، نیبو، کیلے، الائچی اور دیگر مصالحے کافی میں اپنی مہک ملا کر اسے اور مزیدار بنا دیتے ہیں۔ بڑی بڑی مشینوں میں ان کافی کے بیجوں کو دھوکر الگ الگ طریقہ کار سے گزارنے کے بعد مختلف رنگ اور ذائقہ میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کروڑوں بیجوں کو کئی ادوار میں خشک کرنے کےلئے مٹی کی بھٹی میں جھونکا جاتا ہے۔

اپنے مصنوعات کے ساتھ نت نئے تجرنے کرنا، اعلی معیار کی کافی کی پیداوار اور فروخت کرنے والی اس کمپنی کے کے کام جادوئی طرز کے لگتے ہیں۔ منگلور میں گزارے بچپن کے دن کافی کے شوق اور اس کمپنی کے قیام اور کامیابی کے محرک ہیں، جہاں دوست اور رشتہ دار اپنے یہاں اگائے گئے کافی کے بیجوں کو آپس میں تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔ کافی کے تئیں اپنی دیوانگی کے بارے میں آشیش کہتے ہیں، '' بچپن میں ہم لوگ چھٹیاں گزارنے کافی کے باغات میں جاتے تھے اور وہیں سے کافی کے بارے میں جاننے اور نئے نئے تجربے کے شوق کی ابتداء ہوئی۔ ''

کافی پینے کا شوق آشیش کو ہندوستان میں جب معیار والی کافی پینے کے لئے نہیں ملی تو انہوں نے 2011 میں اپنی کمپنی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ آشیش کا کہنا ہے، '' جب ہم نے کافی کی کاشت اور مرکب کی سمت میں تحقیق اور ترقی کا کام شروع کیا تھا تب اس شعبے میں تازہ اور مزیدار بھونی ہوئی کافی دستیاب کروانے کے لئے ایک مکمل آن لائن مارکیٹ موجود نہیں تھا۔ ساتھ ہی ہمیں کوئی مسابقت نہ ہونے کا بھی بہت فائدہ ملا۔ '' ابتداء سے ہی یہ ٹیم اپنے صارفین کے انتخاب کو لے کر کافی سنجیدہ رہی ہے اور اس کی نظر کافی کا حقیقی ذائقہ چاہنے والوں اور ماہرین پر ہے نہ کہ ان لوگوں پر جو کافی کو صرف 'صبح کے جھٹکے' یا 'کیفین کی خوراک' کے طور پر دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ دو سال کے انتظار اور تحقیق اور ترقی کے بعد، 'دی فلائنگ اسكویرل' کافی کی پہلی کھیپ کے ساتھ مارکیٹ میں اترا۔آشیش تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ، '' دو سالوں کے وقفے میں کافی مارکیٹ میں بہت تبدیلی آئی اور اس دوران کچھ کافی کے شائقین اس کی آن لائن فروخت شروع کر چکے تھے۔ اگر ہم گزشتہ 6 ماہ کا مطالعہ کریں تو آن لائن کافی برانڈز کے مارکیٹ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور صارفین کے سامنے اب بہت سے متبادل موجود ہیں۔

 ''آشیش آگے بتاتے ہیں، '' اپنے حریف کے برعکس ہم صرف اپنے باغات میں پیدا کی ہوئی کافی ہی صارفین کو فراہم کرتے ہیں اور ہمارے باپ دادا بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ ''آشیش کے کالج کے دوست تیج ، اب ایک کسان کے طور پر ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، كرگ میں ہی رہ کر باغات میں کافی بیجوں کے اگنے سے لے کر ان کے خشک ہونے تک دیکھ بھال کا کام سنبھالتے ہیں اور پھر آگے خشک ہوئے بیجوں کو بنگلور روانہ کر دیتے ہیں۔آشیش کہتے ہیں، '' تیج باغات کام سنبھالتے ہیں اور انہوں نے ان کے جیسا کافی کی پیداوار کے تئیں پوری طرح وقف شخص نہیں دیکھا ہے۔ انہیں کافی کی کاشت کے بارے میں بہت معلومات ہے اور وہ اس میں ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے سے بھی نہیں چوکتے ہیں۔ اس طرح ہم کافی کی پیداوار کے پرانے طریقوں کو ٹیکنالوجی کی ملاوٹ کے ساتھ بدل کر بہت سے نئے ذائقوں اور مہک والی کافی کے بیجوں کی پیداوار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔'' اس کے علاوہ ان کی پوری ٹیم کو برانڈنگ، ڈیزائن، اشتہارات وغیرہ میں مہارت حاصل ہے جو ان کی مہارت اور کاروبار کی ترقی کے اہم عوامل ہیں۔

'' کافی کے شائقین کی بدلتی ہوئی پسند اور ان کے مطالبات کو دیکھتے ہوئے اس کاروبار میں ترقی کے لامتناہی امکانات ہیں۔ جلد ہی کافی لاکھوں افراد کی زندگی کے معمول میں شامل ہوتی جا رہی ہے اور 'دی فلائنگ اسكویرل' اس تبدیلی میں ان کی مدد کرنے کے لئے موجود ہے۔ ہم ایک اچھی اور خراب کافی کے درمیان سے باریک فرق کو بخوبی جانتے ہیں اور ہم اس کا فائدہ ان لاکھوں حقیقی کافی شئقین تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ''آشیش بتاتے ہیں کہ کمپنی کی زیادہ تر فروخت آن لائن ہوتی ہے، '' کیونکہ یہی واحد ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ تازہ روسٹ اور حقیقی ذائقہ والی کافی جلد از جلد صارفین تک پہنچا سکتے ہیں۔''

آشیش کا کہنا ہیں۔ '' ہم بڑے نام والے سوپربازاروں اور مالس میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی بجائے مصنوعات کے ماہر چھوٹے دکانداروں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دفاتر، ایئرپورٹ لاؤنج، ہوٹل وغیرہ بھی ہماری آمدنی کو بڑھانے والے اہم صارفین ہیں جو اپنے گاہکوں کو بہترین مصنوعات پروسنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ''

اس ٹیم کا خیال ہے کہ اب تک کے سفر میں انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور یہ لامحدود عمل اب بھی جاری ہے۔ '' ہم لوگ تقریباً روز ہی کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ چاہے وہ صارفین کے رویہ ہو، مارکیٹ کی حقائق یا فصلوں پر موسم کے اثرات، گوگل اینالیٹك کی تشریح ہو یا کافی کے بیجوں کو مٹی کی بھٹی میں پکانے اور اونچے تختںو پر خشک کرنے کے درمیان ٹھیک ٹھیک فرق کو جاننا ہو یا سوشل میڈیا کا استعمال کے ساتھ ای کامرس کو اپنے کاروبار میں شامل کرنا، ہم لوگ ہر وقت کچھ نیا سیکھ رہے ہیں اور پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں۔ ''آشیش آگے بتاتے ہیں، '' یہ فہرست واقعی لامتناہی ہے صبر کے فن نے زندگی اور کاروبار کے تئیں ہمارے نظریہ کو تبدیل کرنے میں کافی مدد کی ہے۔''

'دی فلائنگ اسكویرل' کے سامنے اب دو سب سے بڑے چیلنجز ہیں، جن میں سے پہلی تو بڑھتے ہوئے مقابلہ کا سامنا کرنا ہے، لیکن آشیش اس چیلنج کو بھی ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ '' مقابلہ ہمیں مسلسل کچھ نئے اور بہتر کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ہمیں اپنے کاروبار کی توسیع میں اس سے بہت مدد ملتی ہے۔ '' دوسرا سب سے بڑا چیلنج ہے اپنے آپ کو اپنے حریف سے آگے رکھ کر مارکیٹ میں پہلے نمبر پر بنے رہنا ۔ '' چونکہ ہمارے پاس اشتہارات وغیرہ کے لئے بڑا بجٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا ارادہ مستقبل میں ایسا کرنے کا ہے اس لئے اپنے گاہکوں کو بنیاد بنا کر ان میں مسلسل اضافہ کرنا اپنے آپ میں ایک مشکل چیلنج ہے۔ ''آشیش کا خیال ہے کہ اصل میں سب سے بڑی پبلسٹی ہوتی ہے زبانی تعریف۔ ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے اور اسی طرح کارواں بنتا ہے اور کافی کے شائقین ان کے ساتھ جڑتے چلے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر اگر اچھی نیت کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔ گاہکوں کی توجہ اور ان تک بہترین چیزیں پہنچانا ہی 'دی فلائنگ اسكویرل' کا مقصد ہے۔

تحریر- فرانسسکا فریریو

ترجمہ ایف ایم سلیم

Related Stories