غربت کے خلاف جنگ میں تعلیم کو ہتھیار بنا کر جیت حاصل کرنے والے سماجی جہتکار'اچيوت سامنت'

قبائلیوں میں تعلیم کی مشعل جلاكر بھوک، غربت اور پسماندگی کو ہمیشہ کے لئے مٹانے کی باہمت کوشش کا نام ہے اچيوت سامنت ... دنیا کو 'دینے کا فن' بھی سکھا رہے ہیں نئے تعلیمی اور سماجی انقلاب کے بانی ...  پیٹ کی آگ نے اچيوت کے ذہن میں پیدا کیا تھا ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا جذبہ...بچپن میں غربت کا عالم یہ تھا کہ کئی دنوں تک مٹھی بھر اناج بھی نہیں ملتا تھا... ماں کے پاس پہننے کو صرف ایک ساڑی تھی، پھر بھی، ماں نے دن رات محنت کر اپنے ساتوں بچوں کو پالا- ماں کا دکھ کم کرنے کے مقصد سے اچيوت نے سات سال کی عمر سے ہی روپے کمانا شروع کر دیا تھا اور کمائی کے ساتھ ہی شروع کی تھی 'سوشل سروس'...  پڑھنے کے لئے ننگے پاؤں چل کر آٹھ کلومیٹر دور اسکول جاتے تھے اچيوت ... ڈگری کالج میں پڑھتے وقت ہی جونیئرز کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا تھا ....  پوسٹ گریجویشن کے بعد لیکچرر کی نوکری کی اور پھر ایک انقلابی خیال نے انہیں بنا دیا نئے تعلیمی اور سماجی انقلاب کا ہیرو۔

0

اوڑیشا کے اچيوتاند سامنت ملک کے مشہورماہر تعلیم، سماجی جہتکاراور سوشل سائنٹسٹ ہیں۔ انہوں نے ملک میں ایک نئے تعلیمی اور سماجی انقلاب کی شروعات کی ہے۔ اس نئے انقلاب سے اچيوت سامنت نے ایک ایسا عظیم کارنامہ جنجام دیاہے۔ جسے دنیا کا کوئی سرکاری اور غیر سرکاری ادارہ ابھی تک نہیں کر پایا ہے۔ اچيوت کے بنائے اور بسائے كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز میں پچیس ہزار قبائلی بچوں کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان پچیس ہزار بچوں کے رہنے، کھانے پینے اور دوسری خصوصیات کا انتظام بھی كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز میں ہی کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی قدیم 'گروکل تعلیم کے طریقہ کار' سے كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز میں قبائلی بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھے افکار بھی دیے جا رہے ہیں۔ اچيوت سامنت کے ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے یہ سارے بچے ایسے غریب خاندانوں سے ہیں، جن کے لئے دو جون کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہے۔ کئی بچے ایسے ہیں جو اپنے خاندان میں تعلیم حاصل کرنے والے پہلے فرد ہیں۔ بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جن کے والدین ماؤنواز- نکسلی ہیں۔اس طرح سے ہزاروں غریب قبائلی بچوں کی زندگی سواری جا رہی ہے۔ ایک جگہ پر سب سے زیادہ قبائلی بچوں کو تعلیم دینے والی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز ہی ہے۔ اسی ادارے کی وجہ سے اچيوت سامنت کی شہرت اور مقبولیت دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔

قبائلی بچوں کے لئے دنیا کا سب سے بڑا رہائشی اسکول اور کالج شروع کرنا اچيوت سامنت کے لئے کوئی آسان کام نہیں تھا۔ وہ ایسے شخص ہیں جنہوں نے بچپن میں غربت کے تھپیڑے کھائے ہیں۔ انہیں کئی دنوں تک بھوکے رہنا پڑا تھا۔ جب وہ چار سال کے تھے تبھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔ بیوہ ماں کی مدد کرنے کے مقصد سے بہت ہی چھوٹی عمر میں اچيوت نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ غربت سے انکا بہت ہی قریبی رشتہ رہا ہے۔ وہ بھوکے پیٹ کی آگ میں کئ دن تک جلے ہیں۔ بچپن میں ہی انہیں احساس ہو گیا تھا کہ تعلیم ہی غربت کو دور کر سکتی ہے۔ خود تعلیم یافتہ ہونے کے بعد انہوں نے غریب بچوں کو تعلیم دینے کے محاذ پر نکل پڑے۔ یہ تحریک کامیاب بھی رہی۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز دنیا کے سامنے اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال بن کر کھڑا ہے کہ اگر نیک نیتی سے کام کیا جائے تو بڑے سے بڑا خواب بھی شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے، ہار نہ ماننے کا جزبہ ہو تو ناممکن کہے جانے والے کام کو بھی ممکن کیا جا سکتا ہے۔

اچيوت کے پاس نہ کوئی گرو تھا، نہ راہنماء اور نہ ہی گاڈ فادر، لیکن لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ ایسا تھا کہ انہوں نے ایک کے بعد ایک کئی تعلیمی ادارے کھڑے کئے۔ انہی تعلیم اداروں نے یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔ انہی تعلیم اداروں کے ذریعہ اچيوت سامنت نے کامیابی کی ایک غیر معمولی کہانی لکھی۔ اسی کہانی کی وجہ سے اوڑیشا ریاست نے تعلیم کے میدان میں دنیا کے نقشے پر اپنی خاص شناخت بنائی۔ غربت، بھوک، پسماندگی کے لئے جانی جانے والی اوڑیشا ریاست اب اچيوت کی تعلیم اداروں سے شروع ہوئے نئے تعلیمی انقلاب کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں اپنی شناخت بنانے لگی ہے۔

نئی تعلیمی اور سماجی انقلاب کے ہیرو اچيوت سامنت کی کہانی میں غربت کی مار ہے، بھوکے پیٹ کی آگ ہے، مشکلات کے کئی سارے دور ہیں، دکھ ہے، پریشانی ہے، جدوجہد ہے اور ان سب کے درمیان ہار نہ ماننے کا جزبہ ہے ، دوسروں کی مدد کرنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کا جنون ہے۔ اچيوت سامنت کی کہانی میں سبق حاصل کرنے والے کئی اسباق ہیں، کامیابی کے منتر ہے اور 'دنیا کو کچھ دینے کا فن' کے بھی۔

قبائلی بچوں کے ساتھ اچيوت سامنت
قبائلی بچوں کے ساتھ اچيوت سامنت

اس کہانی کے شروعات ایک بہت ہی پسماندہ اور سہولتوں سے محرومی کا شکار اوڑیشا کے کٹک ضلع کے ایک گاوں كلاربنكا سے ہوتی ہے، جہاں اچيوت سامنت کی پیدائش 20 جنوری، 1965 کو ہوئی۔ والد انادچرن سامنت جمشید پور میں ٹاٹا کمپنی میں ملازم تھے۔ ماں کا نام نيلما رانی تھا۔ انادچرن اور نيلما رانی کی کل سات اولادیں تھیں۔ اچيوت کا نمبر چھٹا تھا۔ اچيوت کے 2 بڑے بھائی اور تین بڑی بہنیں تھیں۔ ان کی ایک چھوٹی بہن بھی ہے جن کا نام اِتی ہے۔

اچيوت جب چار سال کے تھے تب ان کے والد کی ایک ریل-حادثے میں موت ہو گئی۔ انادچرن جب جمشید پور سے اپنے گاؤں آ رہے تھے تب یہ ریل حادثہ ہوا تھا۔ یہ حادثہ کیا ہوا، خاندان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حادثے نے سارے خاندان کی خوشی ایک جھٹکے میں چھین لیں۔ انادچر کی موت سے سات بچے یتیم ہو گئے اور ان کی پرورش کی ساری ذمہ داری ماں پر آ گئی۔ انادچرن کی تنخواہ ہی سے گھر چلتا تھا، ان کے گزر جانے کے بعد روزی روٹی کا ذریعہ بھی بند ہو گیا۔

شوہر کی موت کے بعد نيلما رانی جمشید پور اپنی سب سے چھوٹی بیٹی، جو اس وقت صرف ایک ماہ کی تھیں، اور باقی 6 بچوں کے ساتھ اپنے گاؤں لوٹ آئیں۔ انادچرن اپنے پیچھے کوئی دولت اور جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔ اسی وجہ سے بچوں کی پرورش کرنے میں نيلما رانی کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جو لوگ اچيوت کو بچپن سے جانتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد انادچرن بہت ہی مہربان آدمی تھے۔ گر کوئی ان سے مدد مانگتا، وہ کبھی بھی نہ نہیں کہتے تھے۔ گاؤں کے غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا انادچرن کی عادت تھی۔ گاؤں میں بہت زیادہ غربت تھی اور چونکہ انادچرن نوکری کرتے تھے ان کی اقتصادی حالت دوسرے گاؤں والوں سے کافی بہتر تھی۔ بڑے دل والے تھے، اسی وجہ سے ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے۔ انادچرن جو بھی کماتے تھے اسی سے گھر چلتا تھا اور جو بچتا تھا وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیتے تھے، اسی وجہ سے جب ان کی موت ہوئی تب ان گھر والوں کے پاس کچھ نہیں تھا۔

اپنی ماں نيلما ملکہ کے ساتھ اچيوت سامنت
اپنی ماں نيلما ملکہ کے ساتھ اچيوت سامنت

اچيوت کی ماں نيلما رانی خوشحال خاندان سے تھیں۔ بڑی خوددار عورت تھیں۔ شوہر کی موت کے بعد انہوں نے کسی سے مدد نہیں مانگی اور خود محنت، مزدوری کرتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش کی۔ لیکن، سات بچوں کی پرورش اور تعلیم کا انتظام کرنا آسان نہیں تھا۔ بچوں کی پرورش کے لئے ماں نے دوسروں کے گھر جا کر برتن بھی مانجے۔ اپنے جھونپڑی نما گھر کے سامنے والے باغ میں سبزیاں اگائی اور انہیں فروخت کیا۔ چونکہ ان دنوں چاول کی ملیں نہیں تھیں، اچيوت کی ماں نے گاؤں والوں کے پاس سے دھان لاکر اس سے چاول بنانے کا بھی کام کیا۔ بڑی محنت والے اس کام میں اچيوت اپنی ماں کی مدد کیا کرتے تھے۔ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ بچوں کو بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا۔ سخت محنت کے باوجود ماں تمام بچوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں کھلا پاتی تھیں۔ کئی بار تو اچيوت اور ان کے بھائی بہنوں کو دو تین دن تک بھوکا ہی رہنا پڑتا تھا۔ جب کبھی کمائی ہوتی اور گھر میں چاول اور سبزیاوں پکتیں تب ماں پہلے بچوں کو ہی کھلاتی۔ سات بچوں کو کھانا مل جانے کے بعد اگر کچھ بچتا تو وہ ماں کے حصے میں آتا۔

چونکہ ہر دن تمام بچوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنا بھی مشکل تھا، ماں نے منفرد اصول بنایا تھا۔ جب بھی گھر میں کھانا بنتا تو پہلے گھر کے بڑے بچوں کو کھانے کا موقع ملتا۔ جو سب سے بڑا ہوتا وہ پہلے اور جو سب سے چھوٹا وہ آخر میں کھانا پاتا۔ کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ کھانا تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہی ختم ہو جاتا اور چھٹے نمبر والے اچيوت کو بھوکا رہنا پڑتا۔ تمام بچوں کے کھا پی لینے کے بعد اگر کچھ بچتا تو وہ ماں کھا لیتیں۔ اس اصول کو بنانے کے پیچھے ایک وجہ تھی۔ ماں مانتی تھی کہ جو عمر میں بڑے ہیں وہ کھا پی کر جلدی بڑے ہو جائیں گے اور گھر خاندان چلانے میں ان کی مدد کریں گے۔ ماں مانتی تھی کہ چھوٹے بچوں کو بڑا ہونے میں وقت لگے گا اور بڑے جب کمانے لگیں گے تب وہ چھوٹوں کی دیکھ بھال کر لیں گے۔ اس اصول کی وجہ سے ہمیشہ چھوٹے بچے اپنے بڑے بھائی بہنوں سے یہ امید لگائے بیٹھے رہتے کہ وہ ان کے لئے ضرور کچھ چھوڑیں گے۔

اسی اصول کو توڑنے کی وجہ سے ایک بار اچيوت پر ان کی ماں بہت غصہ ہو گئیں اور اچيوت کو لکڑی سے مارا بھی۔ ماں کی اس مار میں اچيوت کی ایک آنکھ پر بری طرح سے چوٹ لگی تھی، وہ خوش نصيب تھے کہ ان کی آنکھ کی روشنی جانے سے بچ گئی۔ ہوا یوں تھا کہ ایک دن اچيوت کو جم کر بھوک لگی تھی۔ اچيوت سے بھوک برداشت نہیں ہو رہی تھیی، ان سے رہا نہیں گیا۔ اچيوت نے اپنے ایک بڑے بھائی کے لئے بنا کر رکھا گیا 'چوڑا' کھانا شروع کر دیا۔ ماں کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ چراغ پا ہو گئیں۔ غصہ میں انہوں نے ایک موٹی لکڑی سے اچيوت پر وار کیا۔ وار کرنے کے بعد ماں وہاں سے چلی گئیں اور یہ نہیں دیکھا کہ ان کی مار کا کیا اثر ہوا ہے۔ لکڑی کی مار سے اچيوت کی آنکھ پر گہری چوٹ لگی، خون نکلنے لگا۔ چھوٹی بہن نے جب دیکھا کہ اچيوت کے چہرے سے خون نکل رہا ہے اور آنکھ پر بھی بری طرح زخم ہوا ہے تب اس نے ماں کو بلایا۔ ماں بھی اچيوت کی حالت دیکھ کر گھبرا گئیں۔ زخم دیکھ کر ماں کو بہت افسوس ہوا۔ اچيوت کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ اچيوت اپنے آپ کو بہت خوش قسمت مانتے ہیں کہ اس دن ان آنکھ بچ گئی، انہیں اس وقت ڈر لگا تھا کہ ان کی آنکھ کی روشنی چلی جائے گی۔

غربت نے اچيوت کے خاندان کو کئی دنوں تک بری طرح جکڑ کر رکھا تھا۔ غربت کی وجہ سے خاندان کے تمام آٹھوں لوگ ماں اور سات بچوں نے بہت تکلیفیں جھیلیں۔ بہت تکلیفوں کا سامنا کیا۔ بھوکے پیٹ رکھ کر ہی کئی دن گزارے۔ خوب محنت کی، پسینہ بہایا۔ ایک ایک روپیہ جمع کرنے کے لئے دن رات ایک کئے۔ باوجود اس کے غربت نہیں گئی۔ اچيوت نے بتاتے ہیں، "غربت اتنی زیادہ تھی کہ میں الفاظ میں آپ کو سنا نہیں سکتا۔ دو باتیں کہوں گا آپ سمجھ جائیں گے کہ ہماری غربت کیسی تھی - ہم اتنے غریب تھے کہ خاندان کے آٹھ افراد کے لئے دو دن میں ایک بار کے لئے بھی کھانا بڑی مشکل سے ملتا تھا۔ ماں کے پاس صرف ایک ہی ساڑی تھی۔ ان کے پاس تبدیل کرنے کے لئے دوسری ساڑی نہیں تھی۔ بچپن بچپن ہی ہوتا ہے۔ ہر بچے کا بچپن میں ایک خواب ہوتا ہے۔ تمام بچے چاہتے ہیں کہ بچپن میں تعلیم حاصل کریں، کھیلیں، وہ سب کام جو بچپن میں کئے جاتے ہیں۔ کچھ بچوں کی قسمت میں یہ سب نہیں ہوتا۔ میری قسمت میں بھی یہ نہیں تھا۔ "

غربت کی وجہ سے ماں اچيوت کو اسکول بھی نہیں بھیج پائی تھیں۔ انکا اسکول میں داخلے کا بڑا دلچسپ واقعہ ہے ان کا نام 'اچيوت' بھی اسکول میں ہی رکھا گیا تھا۔ اسکول کے ماسٹر نے ہی ان کا نام رکھا۔ اسکول جانے سے پہلے تک تمام انہیں سُكُٹا 'نام سے بلاتے تھے۔ والد اپنی چھٹی اور ساتویں اولاد کی نام رکھائی سے پہلے ہی گزر گئے تھے۔

اچيوت بچپن میں اپنے گاؤں کے ان غریب بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے جو اسکول نہیں جاتے تھے۔ ایک دن کھیل-کھیل میں ہی یہ غریب بچے گاؤں کے سرکاری اسکول کے احاطے میں پہنچ گئے۔ بچوں کو احساس ہوا کہ وہ اسکول میں آ گئے ہیں اور شور کرنے کی وجہ سے اسکول کے ماسٹر ان کی پٹائی کریں گے۔ خوف سے دوسرے سارے بچے وہاں سے بھاگ گئے۔ لیکن، اچيوت وہیں رہ گئے۔ اسکول کے ماسٹر نے اچيوت کو پکڑ لیا اور پوچھا - آپ اسکول کیوں نہیں آتے؟ کیوں نہیں پڑھتے؟ بچے اچيوت نے جواب دیا-پڑھنا کیا ہوتا ہے؟ پھر ماسٹر نے کہا - تم کل سے یہاں اسکول میں آکر پڑھائی کرو۔ اس پر اچيوت نے کہا - کون پڑھائے گا؟ ماسٹر نے جواب دیا - میں پڑھاونگا اور تمہیں لکھنے کے لئے سلیٹ بھی دوں گا۔ اچيوت کو یہ تجویز اچھی لگی اور انہوں نے حامی بھر دی۔ اس کے بعد اسکول کے ماسٹر اچيوت کو کلاس روم میں لے گئے اور اسکول کے رجسٹر میں نام درج کرنے کے لئے ماسٹر نے اچيوت سے ان کا نام پوچھا۔ اچيوت نے بتایا کہ ان کا کوئی نام نہیں ہے اور سارے انہیں سكٹا 'كه كر بلاتے ہیں، یہ بات سن کر ماسٹر حیران رہ گئے۔ ماسٹر نے اچيوت سے ان کے گھر خاندان والوں کے بارے میں پوچھا۔ سب کے نام جانے۔ اس کے بعد ماسٹر نے خود ہی بچے کا نام رکھ دیا 'اچيوتانند'۔ چونکہ لڑکے کے خاندان کا لقب سامنت تھا، لڑکے کا نام پڑ گیا اچيوتانند سامنت۔ اچيوت نے بتایا، "میں نے ماسٹر کو بتایا تھا کہ میرے بڑے بھائی کا نام انتريامی ہے اور دوسرے بھائی کا کام انیرودھ ہے۔ ماسٹر نے کہا تھا کہ دونوں بھائیوں کے نام خدا کے نام ہیں، اس لئے میں تمہارا نام بھی خدا کے نام پر ہی رکھوں گا اور انہوں نے میرا نام اچيوتانند رکھ دیا تھا۔ "گھر لوٹ کر اچيوت نے ماں کو جب اسکول والا واقعہ بتایا تو وہ بہت خوش ہوئیں۔ ان کی آنکھ سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ ایک تو بچے کا اسکول میں داخلہ ہو گیا تھا، وہ بھی بغیر کسی خرچ کے اور دوسرا، ماسٹر نے خود بچے کو نام دے دیا تھا۔

داخلے کے بعد اچيوت ہر دن اسکول جانے لگے۔ لیکن، وہ اپنی ماں کے دکھ درد کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے چھوٹی سی عمر میں ہی اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اچيوت دھان سےچاول بنانے کے کام میں ماں کی مدد کرتے تھے۔ وہ اپنے باغ میں اگی سبزی کو بازار میں فروخت بھی کرنے لگے۔ بچپن میں ہی اچيوت نے ناریل اور کیلے بیچ کر بھی روپے کمانے شروع کر دیے تھے۔ ماں ہمیشہ اپنے بچوں سے کہتی تھیں کہ کسی پر انحصار مت کرو، اپنا کام خود کرو، خود کماؤ اور کھاؤ۔ انہی باتوں سے متاثر ہوکر اچيوت نے چھوٹی عمر سے ہی الگ الگ کام کر روپے کمانا شروع کر دیا تھا۔

اپنی کمائی کا بڑا حصہ اچيوت اپنی ماں کو دیتے تھے۔ کمائی سے ہی کچھ بچا کر وہ اپنی چھوٹی بہن اِتی کو بھی دیتے تھے۔ ماں اور بہن کو دینے کے بعد بھی وہ کچھ روپے بچا لیتے تھے، جس سے وہ اپنے دوستوں کو چائے پلاتے تھے اور ناشتہ بھی کرواتے تھے۔ جیسے جیسے آمدنی بڑھی اچيوت نے غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا بھی شروع کر دیا۔ وہ پڑوس کی خواتین کے لئے بازار سے کھانے پینے کا سامان اور بھی دوسری چیزیں لا کر دیتے تھے۔ اچيوت سائیکل پر بازار جاتے اور ان عورتوں کوضروری سامان لا کر دیتے۔ اس کام کے بدلے میں خواتین ان کو انعام دیتیں۔ لوگوں کی مدد کرنے کی یہ خصوصیت انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی تھا۔ اپنے والد کی ہی طرح اچيوت بھی ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں دوسروں سے آگے رہتے تھے۔ اچيوت نے کہا، "بچپن میں میں سب کی مدد کرتا تھا۔ تمام مجھے 'اچھا بچہ' کہتے تھے۔ اسی وقت میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں زندگی بھر اسی طرح لوگوں کی مدد کروں گا اور 'اچھا انسان' كہلاونگا۔ "

سوشل سروس کا کام اچيوت نے سات سال کی چھوٹی سی عمر میں ہی شروع کر دیا تھا۔ چھوٹے بڑے کام کرتے ہوئے ان کی کمائی ہوتی رہی ساتھ ہی تعلیم بھی چلتی رہی۔ گھر میں بجلی نہیں تھی جھونپڑی جیسے مکان میں اچيوت لالٹین کی روشنی میں پڑھائی لکھائی کرتے تھے۔

اچيوت بہت جلد سمجھ گئے تھے کہ تعلیم کے ذریعہ ہی ان کی غربت دور ہوگی۔ اسی وجہ سے انہوں نے خوب دل لگا کر تعلیم حاصل کی۔ گاؤں کے سرکاری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچيوت نے رگھوناتھ پور کے سرکاری ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ اسکول گاؤں سے آٹھ کلومیٹر دور تھا اور اچيوت ہر دن پیدل چل کر ہی اسکول جاتے اور پیدل ہی گھر لوٹتے تھے۔ دسویں پاس کرنے کے بعد اچيوت کا داخلہ جگت سنگه پور کے انٹر کالج میں ہوا۔ انہوں نے ریاضی، طبیعیات اور کیمسٹری کو اپنا اہم موضوع منتخب کیا۔ گیارہویں اور بارہویں پاس کرنے کے بعد اچيوت نے پوری کے ایس سي ایس کالج میں بی ایس سی کی تعلیم حاصل کی۔ بی ایس سی کی ڈگری لینے کے بعد اچيوت نے اتكل یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ مختلف کالجوں کی تعلیم کے دوران بھی اچيوت کچھ نہ کچھ کام کرتے ہوئی اپنے گھر کے خاندان کی مدد کرتے رہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے گھر خاندان کی ضروریات کو پورا کیا بلکہ ضرورت مند اور غریب لوگوں خاص طور پر طلباء کی بھی ہر ممکن مدد کی۔

ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرتے ہی اچيوت کو ایک مقامی فارمیسی کالج میں لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ دن کے وقت کالج میں طلباء کو پڑھانے کے بعد اچيوت شام کو دوسرے بچوں کو ٹيوشن بھی پڑھانے لگے۔ کچھ دنوں کے لئے اچيوت نے بطور لیب اسسٹنٹ بھی کام کیا تھا۔ لیکچرر کی نوکری ملنے سے اچيوت کو بہت فائدہ ہوا۔ ان کی اقتصادی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ اچيوت بتاتے ہیں، " گھر کے تعلیم پوری ہونے اور پھر نوکری ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی مجھے نوکری ملی میرے دونوں بڑے بھائیوں کی شادی ہوئی۔ پانچ ماہ کے وقفے میں دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ قریب ڈیڑھ سال بعد ایک اور بہن کی شادی ہو گئی۔ تمام بڑے بھائی بہنوں کی شادی ہونے کے بعد تمام اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ ماں، چھوٹی بہن اور میں ایک ساتھ رہنے لگے۔ "بڑے بھائیوں اور بڑی بہنوں کے گھر بسانے میں اچيوت کی اہم رول تھا۔

فارمیسی کالج میں پڑھاتے وقت اچيوت کے ذہن میں ایک انقلابی خیال ایا۔ انہوں نے سب سے غریب اور ضرورت مند بچوں کو تعلیم دینے کی ٹھان لی۔ اچيوت کو لگا کہ اوڑشا کے قبائلی بچے سب پسماندہ ہیں اور ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اچيوت نے 125 قبائلی غریب بچوں کو منتخب کیا اور ان کے اپنے خرچ پر انہیں تعلیم دینی شروع کی۔ یہی وہ وقت تھا جب اچيوت نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ جو کچھ كمائیںگے وہ سارا غریب اور ضرورت مند بچوں کو تعلیم دینے اور انہیں خود مکتفی بنانے میں لگا دیں گے۔ اچيوت اپنے اسی ارادے پر ہمیشہ قائم بھی رہے۔

اچيوت کی زندگی نے اس وقت بڑا موڑ لیا جب انہوں نے اپنے سے خود کا ایک آئی ٹی آئی یعنی انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کھولنے کا فیصلہ لیا۔ 1992 میں اچيوت نے اس کی شروعات کی۔ اس وقت اچيوت کے پاس صرف 5000 روپے تھے اور ادارے کو چلانے کے لئے ان کے پاس کوئی اپنا مکان یا عمارت نہیں تھی، پھر بھی ان کا ارادہ اتنا بلند تھا کہ انہوں نے دو تعلیمی ادارے کھولے۔ یہ دونوں تعلیمی ادارے صرف 5000 روپے کی لاگت سے کرائے کے مکان میں کھولے گئے تھے۔ 12 شاگردوں اور 2 ساتھی ملازمین سے اچيوت نے ان دو تعلیم اداروں کی شروعات کی۔

یہ آغاز کوئی معمولی آغاز نہیں تھی۔ یہ ایک تاریخی آغاز تھا۔ اچيوت نے دن رات محنت کی اور اپنے تعلیم اداروں کی توسیع کی۔ یہ توسیع بھی کوئی معمولی توسیع نہیں تھی۔ اچيوت کے تعلیم اداروں کی توسیع کی کہانی بھی تاریخی ہے۔ یہ کہانی اچيوت کی کامیابی کی کہانی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔

اچيوت نےانجینئرنگ کالج کھولنے کا ارادہ کیا تھا، وہ بھی جب ان کے پاس نہ کوئی زمین تھی نہ جائداد، کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کا نہ کوئی مشیر تھا نہ کوئی راہنماء یا گرو۔ اچيوت نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے تعلیمی ادارے شروع کئے تھے۔ ابتدائی دنوں میں كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی اور كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز کو چلانے میں اچيوت کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان اداروں کو توسیع دینے کے لئے اچيوت نے قرض لیا تھا اور یہ قرض سال 1995 میں بڑھ کر تقریبا 15 لاکھ روپے ہو گیا۔ اس وقت یہ بہت بڑی رقم تھی۔ قرض کے بوجھ تلے اچيوت دبتے جا رہے تھے۔ وہ اتنا پریشان ہو گئے کہ انہوں نے خودكھشی کرنے کی بھی سوچی۔ لیکن، اسی درمیان ان کوششوں کا نتیجہ نکلا اور ایک بینک نے 25 لاکھ روپے کا قرض دے دیا۔ اس رقم سے اچيوت کی نہ صرف پریشانیاں دور ہوئیں بلکہ انہوں نے ترقی کی راہ پکڑی اور اس پر بہت ہی تیزی سے آگے بڑھے۔

1997 میں اچيوت کو انجینئرنگ کالج شروع کرنے کی اجازت مل گئی، جس سے كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی ایک انجینئرنگ کالج میں تبدیل ہو گیا۔ اچيوت نے اوڑشا جیسی پسماندہ ریاست کے دارالحکومت بھونیشور میں كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی کے نام سے عالمی معیار کی سہولیات والا انجینئرنگ کالج بنا دیا۔ 2004 میں كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی، جو کہ 'کیٹ' كےآئی آئی ٹی کے نام سے مشہور ہے، کو یونیورسٹی کا درجہ بھی مل گیا۔ 'کیٹ' یونیورسٹی کا دائرہ 25 مربع کلومیٹر ہے اور اس میں 22 کیمپس ہیں۔ یونیورسٹی کی تمام عمارتیں خوبصورت، دلکش ہیں۔ اس یونیورسٹی میں 100 سے زیادہ مختلف انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے کورسیز والی کلاس رومز اور کالجوں میں 25 ہزار بچے پڑھ رہے ہیں۔ اسی یونیورسٹی کے چانسلر بن کر اچيوت نے دنیا میں کسی بھی یونیورسٹی کا سب سے نوجوان چانسلر ہونے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔ 38 سال کی عمر میں ہی اچيوت 'چانسلر' بن گئے تھے۔

اچيوت نے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے مقصد نے ایک سوپر اسپیشیالیٹی اسپتال بھی شروع کیا۔ وہ اپنے یونیورسٹی کیمپس میں میڈیکل کالج، ڈینٹل کالج اور نرسنگ کالج بھی چلا رہے ہیں۔ اچيوت نے غریبوں کو طبی-سہولت مہیا کرانے کے مقصد سے گاؤں میں دواخانے بھی کھولے ہیں۔ آرٹ، ثقافت اور صحافت کے میدان میں بھی اچيوت نے کافی کام کیا ہے اور خوب نام کمایا ہے۔ اچيوت کے ادارہ كلنگا میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اوڈيا زبان میں ایک نیوز چینل بھی چلا رہا ہے۔ وہ 'كادمبنی' نام سے ایک میگزین بھی اوڈيا زبان میں نکال رہے ہیں۔ بچوں کے لئے انہوں نے 'كنكتھا' کے نام سے میگزین بھی شائع کرنی شروع کی ہے۔

دنیا بھر میں اچيوت کی شہرت ان کے سوشل سروس ادارے كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز یعنی 'کِس' کی وجہ سے ہے۔ اس ادارے کے کام کاج اور اس سے نکلے نتائج کی وجہ سے اچيوت کو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں خوب نام ملا ہے اور مسلسل مل بھی رہا ہے۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز وہ کام کر رہا ہے جو دنیا میں کوئی بھی ادارہ یا حکومت نہیں کر رہی ہے۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی وجہ سے 25000 قبائلی طلباء کی زندگی سج سنور رہی ہے۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز میں ضرورت مند اور غریب قبائلی بچوں کو پہلی کلاس سے ماسٹرز تک کی مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان پچیس ہزار بچوں کے رہنے، کھانے پینے اور دوسری خصوصیات کا انتظام بھی كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز میں ہی کیا گیا ہے

كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ایک جگہ پر سب سے زیادہ قبائلی بچوں کو تعلیم دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس ادارے میں قبائلی بچوں کو صرف اسکول اور کالج کے کورسز کی تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ بچوں کو الگ الگ کھیل سیکھنے کے مواقع بھی دیے جاتے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد الگ الگ جگہ اچھی ملازمتیں دلوانے کا کام بھی ہوتا ہے۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی میں كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے طلباء کے لئے پانچ فیصد نشستیں مخصوص ہیں۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی میں داخلہ لینے والے كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز کے طالب علم دوسرے بچوں کی طرح کی پڑھائی میں کافی تیز ہوتے ہیں اور سارے مقابلہ-امتحان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان قبائلی طلباء کو بڑی بڑی نامور کمپنیوں میں بڑے عہدوں پر تگڑی رقم والی ملازمتیں بھی مل رہی ہیں۔

ان سب بڑی بڑی باتوں کے درمیان یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ قبائلی بچوں اور ان کے والدین سے ایک روپیہ بھی لئے بغیر ان کو اعلی درجے کی تعلیمی سہولیات دینا کس طرح سے ممکن ہے۔ اس سوال کا جواب اچيوت سامنت کے تیز دماغ میں بہت پہلے ہی آ گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے دو تعلیمی ادارے کھولے تھے۔ ایک ادارے سے ہونے والی آمدنی کا استعمال دوسرے ادارے کی سوشل سروس سے منسلک کاموں میں کیا جا سکے۔

شروع سے ہی اچيوت کا مقصد صاف تھا۔ راستہ طے تھا۔ ارادہ نیک اور پکا تھا۔ انہوں نے طے کر لیا تھا كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی سے جو کمائی ہوگی وہ سارا كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز میں لگا کر وہ غریب بچوں کو تعلیم دینگے۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی کے طلباء سے لی جانے والی فیس کا 10 فیصد حصہ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز کے 25000 طالب علموں کی پڑھائی میں خرچ کیا جاتا ہے۔ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی کے تمام استاد، ملازم اپنی تنخواہ کا تین فیصد حصہ كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو دیتے ہیں۔

 كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز کو چلانے میں ایک دن کا خرچ تقریبا 50 لاکھ روپے ہوتا ہے۔ اسی طرح كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی اور بھی بہت ساری باتیں بہت ہی دلچسپ ہیں۔ اس تعلیمی ادارے میں بچوں کے لئے جس باورچی خانے میں کھانا بنایا جاتا ہے وہ بھی دنیا میں اپنی قسم کا سب سے بڑا باورچی خانہ ہے۔ 5000 بچوں کے دوپہر اور رات کے کھانے کے لئے اس باورچی خانے میں ہر دن اوسطاً 7500 کلو چاول، 2200 کلو دال، 7200 کلو سبزی، 25000 انڈے، 2800 کلو چکن، 600 کلو مچھلی کا استعمال ہوتا ہے۔ بچوں کو صبح کے ناشتے میں چاول، كورن فلیكس، دہی اور دودھ دیا جاتا ہے۔ بچوں کے کھانے کا تناسب، متوازن، مزیدار اور صحت کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔

اچيوت سامنت نے جس مقصد سے كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو کھڑا کیا اور جس کارکردگی کے ساتھ وہ اس چلا رہے ہیں وہ ملک اور دنیا کے سامنے سوشل سروس اور ملک کی تعمیر کے لئے کسی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لئے ایک شاندار مثال ہے ۔ قبائلیوں کو سماج اور ملک کی مین اسٹریم سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کی غربت اور پسماندگی کو بھی دور کر رہے ہیں۔

كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے طور پر دنیا کے سامنے ایک مثالی تعلیمی ادارہ کھڑا کرنے والے اچيوت سامنت کی زندگی میں کئی باتیں انوکھی ہیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں۔ اچيوت کہتے ہیں، "میں نے زندگی میں ہمیشہ جدوجہد ہی کی ہے۔ میری زندگی میں خوشیوں کے لئے وقت ہی نہیں ملا۔ آدمی شادی کرنے کی اسی وقت سوچتا ہے جب وہ خوش ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ لڑتا رہا اور شادی کرنے کی سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ سنگھرشوں بھری زندگی میں شادی کرتا تو وہ غلط فیصلہ ہوتا۔"

اچيوت سامنت بھونیشور میں دو کمروں والے کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ زیادہ تر وقت سفید کپڑوں میں ہی رہتے ہیں۔ جوتے نہیں پہنتے، چپل ہی پہنتے ہیں۔ ہر دن 16 سے 18 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ان کا سارا وقت تعلیم اداروں میں ہی گزرتا ہے۔ اچيوت کے نام پر کوئی زمین یا جائیداد بھی نہیں ہے۔ ان کے بینک اکاؤنٹس میں بھی زیادہ رقم نہیں ہے۔ نہ بڑی لگژری کار ہے نہ عالیشان بنگلہ۔

ان کی جو ساری ضرورتیں ہیں انہیں ان کا بنائی ہوئی یونیورسٹی پورا کرتی ہے۔ اکثر انہیں اپنے تعلیمی اداروں میں پیدل چلتے پھرتے اور گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر دور جانا ہو تو وہ سائیکل کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ گاڑی کا استعمال نہیں کرتے، ضرورت محسوس ہونے پر وہ کار سے بھی سفر کرتے ہیں۔ اکثر انہیں سڑک کنارے والے ٹھیلوں پر ناشتہ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اچيوت نے کہا، "مجھے خود تعجب ہوتا ہے کہ مجھ میں اتنی طاقت کہاں سے آتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ مجھے خدا سے بخشش ملی ہے، کچھ اچھا کرنے کی۔ سب کچھ خدا ہی کر رہا ہے میں تو صرف ایک ذریعہ ہوں۔"

اچيوت سامنت كلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے احاطے میں ایک درخت کے نیچے میز لگا کر اپنا دفتری کام کاج کرتے ہیں۔

سوشل سروس اور تعلیم کے میدان میں انمول شراکت کے لئے اچيوت سامنت کو ملک و بیرون ملک بہت سے انعامات اور اکرامات سے نوازا گیا ہے۔ 25 یونیورسٹیوں نے انہیں 'ڈی لٹ 'کی ڈگری سے نوازا ہے۔ ملک و بیرون ملک کی جانی مانی شخصیات اچيوت کے تعلیم و اداروں کا دورہ کر یہاں کے سماجی اور تعلیمی انقلاب کو جاننے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جو کوئی یہاں آتا ہے وہ ان کی تعلیم اداروں کی کامیابی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں لوٹتا۔

ایک سوال کے جواب میں اچيوت سامنت نے کہا، "لوگ مجھے الگ الگ وجہ سے جانتے ہیں۔ کوئی مجھے یونیورسٹی کے بانی کے طور پر جانتا ہے تو کو 'کس' کو چلانے والے کے طور پر۔ کوئی مجھے سماجی سائنٹسٹ کے طور پر جانتا ہے۔ لیکن، جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ اچيوت سامنت ایک 'اچھا آدمی' ہے، تب مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی مانتا ہوں کہ میں ہمیشہ ایک اچھا آدمی ہی رہا۔ میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا ہے، جھوٹ نہیں بولا ہے، چوری نہیں کی ہے، کبھی کسی کا برا نہیں کیا ہے۔ "

یہ پوچھے جانے پر کہ وہ زندگی میں اور کیا کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اچيوت سامنت نے کہا، "میں جب تک زندہ ہوں، تب تک غربت دور کرنے کے لئے کام کرتا رہوں گا۔ اوڑشا میں اتنی زیادہ غربت ہے کہ اچيوت سامنت جیسے ایک ہزار آدمی بھی جنم لیں گے تب بھی یہ غربت دور نہیں ہوگی۔ لیکن میری کوشش رہیں گی کہ میں غربت کو دور کروں، بھوک کو دور کروں۔ غریب قبائلی لوگوں کو زندگی کے مرکزی دھارے میں لاؤں۔ نیچتا مٹاوں۔ "

اوڑشا میں غربت کا عالم بتانے کے لئے اچيوت سامنت نے دو واقعات سنائے۔ انہوں نے کہا، "1984 میں اوڑشا کے کالا ہانڈی میں غربت کی وجہ سے ایک عورت نے اپنے ایک بچے کو پانچ سو روپے میں فروخت کیا تھا۔ تب وزیر اعظم خود حالات کا جائزہ لینے کے لئے کالا ہانڈی آئے تھے۔ تب دنیا جان گئی تھی کہ اوڑشا میں کتنی غربت ہے۔ اس واقعہ کے 32 سال بعد بھی غربت دور نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک آدمی کو اپنی بیوی کی لاش گھر لے لانے کے لئے ایمبولینس نہیں ملی اور اس نے بیوی کی لاش کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھر لےجانا پڑا۔ اس واقعہ سے دنیا بھر کے لوگوں کس پتہ چل گیا کہ اوڑشا سےغربت کم نہیں ہوئی ہے۔ "

گزشتہ چند سالوں سے اچيوت ایک نئے اصول اور نئے خیال کو لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے اس نئے اصول کا نام دیا ہے - 'دینے کا فن'۔ اچيوت کا کہنا ہے کہ جب تک ضرورت مند لوگوں کو ان کی ضرورت کی چیزیں نہیں دیں گے تب تک غربت دور نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، دینے سے بھی خوشی ملتی ہے۔ اچيوت کہتے ہیں، "میں نے بچپن سے ہی دکھ سہا ہے پھر بھی لوگوں کی مدد کی ہے۔ اب بھی ایسے ہی کر رہا ہوں۔ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش میں ہی لگا ہوں۔ خود دکھ جھیل کر دوسروں کو خوش کرنا آسان نہیں ہے، لیکن جو ایسا کرتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے اور اس کے آخر میں اس ہی بہت زیادہ خوشی ملتی ہے۔ "

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اچيوت سامنت بچپن کی اپنی غربت کو نعمت مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "میں غریب تھا۔ میں نے غریب کی زندگی کس طرح ہوتی ہے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ غربت کو تجربہ کیا۔ میں جانتا ہوں کہ غریب کیا سوچتا ہے اور کیا چاہتا ہے۔ میں نے غربت کو دیکھا اور سمجھا اسی وجہ سے میں غریبوں کی صحیح طرح سے مدد کر پا رہا ہوں۔ اگر میں بچپن میں امیر ہوتا تو بڑا ہو کر غریبوں کو شاید روٹی دے دیتا۔ غریبوں کو جانتا ہوں اس لئے انہیں تعلیم دے رہا ہوں۔ "

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories