عابدہ انعامدار...جنہوں نےآعظم کیمپس پونے کے لئےاپنی زندگی وقف کر دی

0

آج ساری دنیا یوم خواتین منا رہی ہے۔ یہ بات صحیح ہےکہ مختلف شعبوں میں خواتین کی حصہ داری بڑھی ہے اور وہ مردوں کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کام کر رہی ہیں، لیکن کئی ایسے شعبے ہیں۔ جہاں آج بھی بہت کم خواتین نے اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ ان میں سے ایک تعلیمی ادارے بھی ہیں۔ خصوصاً انہیں قائم کرنے اور پوری شدت کے ساتھ انہیں چلانے میں اپنے دن رات سرف کرنے والوں کی فہرست میں خواتین کے نام بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں بہت کم ناموں میں سے ایک پونے شہر کے مشہور کیمپس کی محرک خاتون عابدہ انعامدار کا نام سرفہرست ہے۔ وہ مہاراشٹر كاسموپولٹن ایجوکیشن سوسائٹی کی نائب صدر ہیں۔ گزشتہ تیس سالوں سے اپنے ہم سفر پی اے انعامدار کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔انہوں نے قدم بہ قدم کاندھے سے كاندھا ملاکر کام کیا ہے۔ ایک کیمپس کو پودھے سے پیڑ بنانے میں کبھی انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی لگا دی تھی، بلکہ اپنے زیورات بھی فروخت کر دئے تھے۔ آج تعلیم کا یہ باغ نہ صرف ہرا بھرا ہے۔بلکہ دور دور تک علم کی خوشبو پھیلا رہا ہے۔

اتنا بڑا ادارہ کھڑا کرنا آسان نہیں رہا۔ اپنے ان ابتدائی دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے عابدہ انعامدار نے 'یور اسٹوری' کو بتایا،

'' ایک مینجمنٹ رکن کے طور پر سب سے پہلے میں نے انعامدار سینئر کالج کی شروعات کی۔ اینگلو اردو اسکول کو 'نو گرینڈ' گرینڈ کی بنیاد پر سینئر کالج چلانے کی منظوری تو ملی، لیکن ادارے کے پاس اسے قائم کرنے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ ہم نے ایک اپیل دی، لیکن مدد کے لئے کوئی سامنے نہیں آیا۔ تاہم ہم نے یہ بھی کہا کہ عطیہ دہندگان کا نام  فہرست میں لکھ دیا جائے گا، لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔ یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ خود کو ہی کچھ کرنا ہوگا اور اللہ نے مجھے جو کچھ دیا تھا وہ اس ادارے کا لگا دیا۔ کچھ زیورات تھے، کچھ ڈپازٹ تھے اور ایک زمین کا ٹکڑا تھا۔ سب کچھ اس کالج کو چلانے کے لئے فروخت کردیا۔''

اعظم کیمپس میں 1988 میں نئے ادارےقائم کرنے کی شروعات کی تو پھر سلسلہ تھما نہیں۔ دو سال کے بعد جونیر کالج شروع کیا۔ جونير کالج کو 6 سال تک نو گرینڈ بنیاد پر چلایا گیا۔ پھرایک اور عابدہ انعامدار سینئر کالج کی شروعات کی۔ آج وہ خوش ہیں کہ جو کچھ انہوں نے دیا تھا، اس سے بہت ساری خوشیاں انہیں اور سماج کو ملیں۔ آج اس کالج میں 3500 لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ لیکن انہیں ایک لمبے صبر آزما دور سے گزنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں،

''1982 سے 1987 تک کا بڑا صبر آزما دور تھا۔ لوگوں نے ہم پر 150 کریمنل کیسیس لگائے۔ اس زمین پر بہت سارے غیر سماجی عناصر کی نظر تھی۔ لوگ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے ان سب کا مقابلہ کیا۔ پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم بلڈر تھے تو ہم نے اپنے ذہن سے كیپمس کے کناروں پر کمرشل كامپلیكس بنانے کا ارادہ کیا۔ اس سے کیمپس کی آمدنی بڑھ سکتی تھی اور پھر کئی سارے اسکول اور کالج آسانی سے چلائے جا سکتے تھے۔ یہ دیکھ کر لوگوں کو لگا کہ ہم بھی زمین ہڑپنا چاہتے ہیں۔ لازمی تھا کہ لوگ ایسا سوچیں گے۔ پراپرٹی وقف کی تھی، كامپلیكس کی تعمیر کے لئے بھی لوگ سامنے نہیں آیا، چونکہ عدالت میں کیس چل رہے تھے۔ اس کے لئے بھی انعامدار صاحب نے اپنی ذاتی  جمع پونجی لگا دی۔ تب لوگوں کو لگا کہ اب کیمپس کی تعمیر ہو گی اور لوگ اس وقت سامنے آنے لگے۔ لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے ہمیں کافی جدوجہد کے دور سے گزرنا پڑا اور صبر بھی کرنا پڑا۔ جب ہم نے اپنا سب کچھ اس پر لگا دیا تو لوگوں میں یقین بڑھا کہ ہم زمین ہڑپ کر جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔''

آج آعظم کیمپس ایک ماڈل ایجوکیشن سینٹر ہے۔ ٰعابدہ انعامدارنے اس ادارے کو ایسی شکل دینے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔ انہیں یہ جذبہ اپنے والدین سے وراست میں ملا ہے۔گھرمیں تعلیم کو کافی اہمیت دی جاتی تھی۔

وہ کہتی ہیں،

'' ماں باپ نے باقی کچھ تو نہیں دیا، لیکن تعلیم کی دولت سے تمام بچوں کومالامال کیا۔ امّی اور ابّا دونوں پڑھے لکھے تھے۔ ہم سب بچوں کے لئے بھی ان کی پہلی ترجیح تعلیم ہی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ عراق میں تھے۔ وہ بیجاپور کے تھے، لیکن جب واپس لوٹے تو انہوں نے پونا میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ بچّیوں کی تعلیم کے لئے وہ اس شہر کا زیادہ پسند کرتے تھے۔''

اعظم کیمپس کی کہانی بتاتی ہے کہ سب کچھ آسانی سے نہیں ملتا۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ کیا صرف باتیں کر رہے ہیں یا کام بھی ہو رہا ہے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ کام ہو رہا ہے، تب کہیں جا کر ان کا اعتماد بڑھا اور وہ انہیں سمجھ پائے۔ ہر سال ایک ادارے کا اضافہ ہوتا گئے۔ آج تیس کالج ہیں۔

الّٰنا اور رنگون والا جیسی دو بڑی شخصیتیں اس کی مدد کے لئے سامنے آئیں۔ لوگ آتے گئے اور کارواں بڑھتا گیا۔ خواتین کی سماجی کاموں میں حصہ داری پر زور دیتے ہوئے عابدہ انعامدار کہتی ہیں،

''عورتوں کو خاص طور پر یہ لگتا ہے کہ میں میرے بچّے میرا گھر ۔۔۔ یہی میری ذمہ داری ہے۔ یہی وجه ہے کہ عورتیں سوشل ورک کے میدان میں سامنے آنا نہیں چاہتی۔ انہیں  اس سے سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ بچوں کی تعلیم میں ماؤں کی زیادہ حصہ داری ہوتی ہے۔ جو کام وہ گھر میں کرتی ہیں، وہ معاشرے کے لئے بھی کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے سے تعاون کا رویہ ہونا چاہئے۔ مسائل تو ہر جگہ آتے ہیں۔ اس کو چیلنج سمجھ کر اس کا سامنا کرنا ہوگا۔''

ابتدائی دنوں میں انہیں گھر گھر جا کر بچیوں کو اسکول لانا پڑتا تھا۔ آج داخلے کے لئے میرٹ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر اپنے بچوں کا داخلہ کراتے ہیں۔ غریب اور ضرورتمند بچوں کواسکالرشپ بھی دی جاتی ہے۔ لیکن ایک دور ایسا بھی تھا جب ان کے سامنے لڑکیوں کی تعلیم ایک اہم مسئلہ تھا۔ وہ بتاتی ہیں،

''پونے میں دسویں کےبعد لوگ اپنی بیٹیوں کو 'کو ایڈ' میں بھیجنے کو تیار نہیں تھے۔ یہی وجه تھی کہ لڑکیوں کے لئے کالج کھولے گئے اور آج لڑكيو کے لئے تعلیمی ماحول پہلے سے بالکل بر عکس ہے۔ آج ہاسٹیل میں ہی 700 سے زیادہ لڑکیاں ہیں۔''

اس کیمپس نے روایتی تیلیم کے بعد فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف خاص توجہ دی۔ میڈکل کالج کھولے۔ انجنئرنگ کالج کھولے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی کام کے لئے مسلسل جددوجلد ضروری ہے۔ صرف سوچ کر گھر میں بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوتا حرکت کرنا پڑتا ہے اور حرکت میں برکت ہوتی ہے۔ لاء کالج کھولنا ان کے لئے کافی ایک بڑی جنگ کے برابر تھا۔ ایک قانونی جنگ۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے۔ عابدہ انعامدار کہتی ہیں،

''جب ہم نے لاء کالج کھولنے کا منصوبہ بنایا تو حکومت اس کی منظوری نہیں دے رہی تھی۔ ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم دونوں نے(عابدہ انعام دار پی اے انعام دار) آرٹیکل 30 (1) کا کئی دن تک مطالعہ کیا اور خود عدالت میں لڑنے کی تیاری کی۔ سپریم كورٹ کے جتنے مقدمے تھے ان سب کا مطالعہ کیا۔ آج ہم اس موضوع پر تفصلی گفتگو کر سکتے ہیں۔ جب کوئی آپ کا حق دینے سے انکار کرتا ہے تو اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے حکومت سے صاف کہا کہ مائناریٹی ادارے کے طور پر ہم لاء کالج کھول سکتے ہیں۔ 'پی اے انعام دار ورسیس مہاراشٹر گورنمینٹ' کافی مشہور کیس بن گیا۔ لوگ آج اس کی مثالیں دیتے ہیں۔''

عابدہ انعادار نے ادارے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا بھی ایک ذمہ دار خانہ دار خاتون کی طرح سنبھالہ ان کےتین بیٹے ہیں تینوں ماسٹر ہیں۔ وہ بتاتی ہیں۔

''میرے پاس بھی چوبیس گھنٹے ہیں آپ کے پاس بھی چوبیس گھنٹے ہیں۔ بچے چھوٹے تھے تو میں صبح 3.30 بجے اٹھتے تھی۔ سب سے بڑے بچے انجینئرنگ اور مینجمنٹ میں ماسٹر ہیں۔ دوسرےآرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ ہسپتال چلاتے ہیں۔ تیسرے نے قانون میں ایل ایل ایم کیا ہے اور ان کی پریکٹس کافی اچھی ہیں۔''

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں  ضرور پڑھیئے گا۔۔۔۔

کبھی خود اپنی تعلیم کے لئےاپنے بیل فروخت کرنے پر مجبور شخص آج 200 بچوں کی تعلیم کا ذمہ دار

مستحکم اور جامع اداروں کے حامی... منور پیر بھائی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem