دیسی کرافٹ کو عالمی وسعت دے رہی ہیں ماں بیٹی

2


فیشن کے بارے میں ہندوستانی اکثر مغربی ممالک کے معیار کی پیروی کرتے ہیں۔ ایک دور تھا، جب یورپ کا فیشن ملک کے شہروں اورقصبوں تک پہنچتا تھا۔ جبکہ اس وقت یورپ میں فیشن کا دوسرا دور شروع ہو چکا ہوتا تھا۔ اور آج گلوبلائزیشن کے دور میں فیشن بھی گلوبل ہو چلا ہے اور اس سے ہم ہندوستانی بھی اچھوتے نہیں ہیں۔ فیشن کی دنیا کا کافی تجربہ رکھنے والی دویا واجپئی کے مطابق، "دہلی اور بھوپال جیسے شہروں میں ساٹھ اور ستر کی ابتدائی دہائی میں نہ تو کوئی برانڈ اور نہ ہی سامان دیکھنے کو ملتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب درزی بچوں کے کپڑے سلنے اور ان کا ناپ لینے کے لئے گھر آتا تھا۔ مجھے اپنے بچپن کے دنوں کی بات اچھی طرح یاد ہے جب میں اپنی ماں کے پاس ہوتی تھی وہ درزی کو سلام بولتی تھی اور وہ برآمدے میں بیٹھ کر میرے کپڑے اور لهنگے سیتا تھا۔ "

دویا اور آدتی دونوں نے کاروبار یا ڈیزائن کی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل نہیں کی تھی۔ پھر بھی ٹیکسٹائل کی صنعت کا لگاو اور ہندوستانی ٹیکنالوجی سے محبت کرنے والی ماں بیٹی ادتی اور دویا واجپئی کے لئے 'الميرا' ایک خاص طرح کا خزانہ ہے، جہاں پر ہندوستانی ٹیکنالوجی سے بنی بنائی، ہاتھ کی کڑھائی اور پرنٹنگ سے مزئن سمان مہیا کرایا جاتا تھا۔ یہاں پر سادہ اور مختلف طرح کے لباس کے ڈیزائن کے علاوہ 12 سال تک کے بچوں کے بستر مل جائیں گے۔ ان مصنوعات میں ایسے خصوصی کپڑے جو، ہاتھ سے تیار کیے جاتے ہیں، ہندوستنانی منڈیوں میں کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ' الیمرا' ان قائم کردہ ایسی برانڈ ہے جو دن بدن کامیابی کی نئی منزلوں کر جانب گامزن ہے۔

دویا تقریباً تین دہائیوں سے ڈیزائن کے شعبے میں کاروباری رہی ہیں۔ اس کی ابتدا انہوں رذائی سے لے ہندوستانی دستکاری سے سجی سنوری چیزوں کی فروخت سے کی تھی۔ آج ان کی مصنوعات انگلینڈ اور امریکہ جیسے ممالک میں فروخت ہو رہی ہیں۔ جہاں پر ان کی کافی ڈیمانڈ ہے۔ اس کے بعد سال 2011 میں آدتی بھی اپنی ماں کے اس کاروبار کے ساتھ جڑ گئی۔ تاہم ان کی تعلیم اس کام سے بالکل الگ تھی، جو کسی ڈیزائنر کے پاس ہونی چاہیے۔ آدتی نے دہلی یونیورسٹی سے سیاسیات سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ سال 2009 میں جب انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی تو شمالی ہندوستان کے دورے پر نکل گئیں۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے دیکھا کہ جدید ہندوستان میں حالات کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ کس طرح کاریگروں اور دستکاروں کی ایک پوری نسل صنعت کاری کی آندھی اور دن بدن کم ہوتے جا رہے مواقع کی وجہ سے اپنے روایتی مہارت کو چھوڑ رہے ہیں۔

آدتی نے دیکھا تھا کہ کس طرح سال 2009 کے کساد بازاری کی وجہ سے ان کی ماں کے لباس کے ایکسپورٹ کے کاروبار کو نقصان ہوا تھا اس وجہ سے ان کے ساتھ منسلک دستکاروں کو اپنی ملازمتیں گوانی پڑی تھی۔ ان میں سے کئی تو ایسے تھے، جن کو وہ بچپن سے جانتی تھی۔ یہ سب جانتے ہوئے ادتی نے ڈیزائن مینجمنٹ پروگرام میں حصہ لیا۔ اس طرح کاروبار اور ڈیزائن کی تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے مشکل تھا کیونکہ وہ سیاسیات کی طالب علم تھی اور دونوں میں تضاد تھا۔ باوجود اس کے آج یہ دونوں موضوع ان کے لئے کسی مضبوط پل کی طرح کام کر رہے ہیں۔ ادتی بتاتی ہیں،

"مجھے امید ہے کہ میں الميرا کے ذریعہ پائیدار فیشن اور دستکاری کے شعبے کی سیاست کے درمیان فرق کو پاٹ سکوں۔"

گزشتہ کئی سالوں کا کپڑوں کا کلیکشن ہماری یادیں ہیں۔ آدتی کے مطابق "ہمارے تیار کئے گئے کچھ مصنوعات کے نمونے نہ صرف ہندوستان کی پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے ہندوستان کی جھلک بھی دکھاتے ہیں۔ ہم اپنی مصنوعات کے ذریعے بچوں کی معصومیت بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ "

اس درمیان دویا نے 'الميرا' میں پیچ ورك اور ری سائیکلنگ سے منسلک کچھ مصنوعات رکھنے شروع کیے ان میں کپڑوں سے بنے کھلونے، كاتھا کمبل، اور بالوں سے منسلک سامان شامل تھا۔ ان مصنوعات کو مقامی سطح پر تیار کیا جاتا۔ اس کے علاوہ درزيوں اور کاریگروں کی ان کی اپنی ٹیم ہے۔ جو ان کے ساتھ کام کرتی ہے۔ تیار مال کو خوردہ اور ذاتی طور پر گاہکوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے کپڑوں کو زیادہ توجہ دیتے ہیں جو آرگینک کپاس سے بنے ہوتے ہیں۔ اس طرح تمام سٹیك ہولڈر کسان سے لے کر گاہک تک سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ دویا کا کہنا ہے،

"ہمارا درزی اور کاریگروں سے کافی قریب کا تعلق ہوتا ہے، جو ان خاص طرح کے لباس کو تیار کرتے ہیں۔ ایسے میں جب لوگوں کو ہمارے کام کے بارے میں پتہ چل جاتا ہے تو وہ مصنوعات کے صحیح دام ادا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ "

ہندوستانیوں کو نئے سے پرانے کی طرف لوٹانا ٹھیک اسی طرح کا چیلنج ہے جیسے اپنے اسٹاف کو میٹھی باتیں کرکے منانا۔ اسی طرح 200 سے زیادہ کاٹیج انڈسٹری کے دستکاروں کو شامل کرنا ان کو پرانے سے پھر نئے کی طرف لوٹانا ایک مشکل کام ہے۔ خاص طور سے ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی بہتر رہنمائی کرنا ضروری ہے۔ وہ اب تک پرانے دھڑے پرکام کر رہے تھے ساتھ ہی ان کو یہ بتانا کی آج کی مارکیٹ کی ضرورت پہلے کے مقابلے بدل گئی ہے۔ ایسے میں ان کی فکر تبھی دور ہو سکتی ہیں جب وہ اپنا فائدہ دیکھنے کے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کریں کہ سب کچھ ڈیجیٹل ہونے کے بعد بھی ان کو مناسب دام مل رہے ہیں۔

آدتی بتاتی ہیں،

"ہم 30 لوگوں کا ایک خاندان ہیں، جو ملک کے تین شہروں میں رہتے ہیں۔ ہمارے اس خاندان میں درزی، پرنٹر، سیلز کے لوگ، کاروباری ڈویلپرز، کنسلٹنٹس، مینیجر اور ڈیزائنر شامل ہیں۔ 27 سال کی ہونے کے باوجود میں اس خاندان کی سربراہ ہوں۔ میں اپنی ٹیم کی باقاعدہ طور پر حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔ ان کے ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ان کے کام کس نظم کو بھی دیکھتی ہوں۔ ہمارے کام کا ماحول باہمی تعاون کے ساتھ، کھلا اور شفاف ہے۔ یہاں پر لوگوں کو اپنے کام کہ ذمہ داری لینے کے لئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ "

'الميرا' کا قیام سال 2011 میں ہوا تھا تب دہلی کے مہر چند مارکیٹ میں اس کی صرف ایک خوردہ دکان تھی۔ اس دوران ان لوگوں کو گاہکوں سے کافی اچھی رائے ملی تھی۔ سال 2014 تک اپنی ساخت اور بھروسے کی طاقت پر انہوں نے بنگلور اور ممبئی جیسے شہروں میں اپنی شاخیں کھولی۔ اب ان کا بین الاقوامی سطح پر کاروبار بھی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ یہ سال 2012 سے امریکہ کے بوٹكس میں اپنا سمان فروخت کر رہے ہیں۔ اس سال ان کا مصنوعات موسم بہار موسم گرما میں امریکہ کے 20 شہروں کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی خوب بکے ہیں۔ ان کے تیار کئے گئے مصنوعات وہاں کے بڑے بڑے سٹور میں آسانی سے مل جائیں گے۔ سال 2013 میں بچوں کے لباس کی مارکیٹ میں اضافے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سال کی شروعات میں انہوں نے اپنی ایک ویب سائٹ بھی لانچ کی ہے۔ آدتی کے مطابق "یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ سنگاپور، روس، تھائی لینڈ، دبئی، کینیڈا، امریکہ، اور لندن میں ہماری مصنوعات کو پسند کیا گیا۔ ہم مہرچند جیسے اسٹور میں ہر ماہ 600 مصنوعات کو فروخت کر رہے ہیں اور ہم کو امید ہے کہ دوسرے اسٹوروں میں بھی ہمیں اس طرح کی حوصلہ افزائی مل سکتی ہے۔ "

ان کے ممبئی اور بنگلور کے دونوں اسٹور آن لائن کے میدان میں فی الحال نئے ہیں اس لئے یہاں کی فروخت فی الحال کم ہے۔ آدتی کا کہنا ہے کہ "ہمیں امید ہے کہ اس سال کے آخر تک ممبئی اور بنگلور میں موجود اسٹور بہترین مظاہرہ کریں گے۔"

ہندوستانی ملبوسات کے شعبے میں فیب انڈيا آج لیڈر بنا ہوا ہے۔ جو ایک ہزار کروڑ کی سیلز کے ذریعے ملک کی منتخب برانڈ میں سے ایک بن گیا ہے۔ دویا کہتی ہیں، "آج خواتین کے فیشن میں اور کاروبار کے میدان میں نظر آنا عام بات ہے، لیکن بات جب 1970 اور 1980 کے پہلے کی ہوتی ہے تو تب یہ کافی مشکل لگتا تھا۔ باوجود اس کے آج بھی خوردہ بازار کے میدان میں زیادہ تر مردوں کا ہی غلبہ ہے اور ہم 'الميرا' کے ذریعے اسے تھوڑا تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ "فی الحال ان کا مقصد درزی، کاریگر اور مینیجر کی ایک مضبوط ٹیم تیار کرنا ہے۔ جبکہ آنے والے وقت میں یہ 'الميرا' کو بین الاقوامی برانڈ کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ '

دویا بتاتی ہیں "ہمیں امید ہے کہ ڈیزائنراور کاریگروں کے درمیان تعاون کو ہم نان ٹیكسٹائل کے میدان میں بھی لے جانے میں کامیاب ہوں گے۔ ہم مل کر ترقی کے ماڈل پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں پر ہم اقتصادی ترقی اور تخلیقی صلاحیتوں کے احساس کو فروغ دے سکیں۔

تحریر-بنجل شاہ

ترجمہ- ایف ایم سلیم

Related Stories