اردوکی بدولت ایک گاؤں کی بدل گئی تقدیر

جے پورکے ٹونک ضلع میں ایک گاؤں کی اردونے بدلیقسمت ...  100لوگوں کو اب تک مل چکی ہے سرکاری نوکری ... سرکاری ملازمت 30فیصدلڑکیوں کو ملی ہے ... گاؤں میں صرف مینا سماج کے لوگ رہتے ہیں

0

کہتے ہیں ایک ایمان دار کوشش اکثرکئی زندگیوں کے لئے کچھ ایساکرجاتی ہے جس کا اندازہ کسی کو نہیں ہوتا۔ اس کے لئےضروری ہے پہلا قدم بڑھانے کی ۔ ایسا ہی ایک پہلا قدم بڑھایاجے پورسے 100کلو میٹر دورٹونک ضلع کے سیندڑاگاؤں کے مینا سماج کے لوگوں نے۔ اور آج حالت یہ ہے کہ گاؤں کے سوسے زائد لوگ سرکاری ملازمت میں ہیں ۔

ٹونک ضلع کے سیندڑا گاؤں کے سرکاری اسکول میں گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے بچوں کو بیٹھنے کے لئے بنچ تک نہیں ہے ۔ پینے کے لئے پانی کا بندوبست تک نہیں ہے،لیکن اسکول میں بچوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ اس کی وجہ ہے یہاں کے اردوٹیچر۔ حکومت نے اس سرکاری اسکول میں اردوٹیچر کا انتظام کیاہے۔ بچوں کی بھیڑہوبھی کیوں نا۔ اردوپڑھناروزگارکی ضمانت بن چکاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دوردورتک کوئی اقلیتی آبادی نہیں ہے۔ لیکن پوراگاؤں اردوکی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ 2000کی آبادی والے گاؤں کے ہر گھر میں اردوکی بدولت کوئی نہ کوئی نوکری کررہاہے۔

اردوپڑھنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد بھی حوصلہ افزاہے۔ گاؤں کی ایک لڑکی سیمانے یوراسٹوری کو بتایا:

ہمارے گاؤں میں اردوپڑھ کر بہت سےلوگوں کو نوکری ملی ہے۔ اس لئے ہم نے سوچاکہ ہم بھی اردوپڑھیں تاکہ ہماری بھی نوکری لگ جائے۔ اس تبدیلی کےپس ِپشت گاؤں کے کچھ لوگ ہیں جن کی نظر اردوکے ذریعے درج فہرست ذات اور قبائل کو ملنے والی نوکری کے اشتہارپر گئی۔ پھر کیاتھا۔ پھر کیاتھالوگوں نے اپنے گاؤں کے اسکول میں اردو ٹیچر کے لئے سرکارسے گذارش کرنی شروع کی۔

 لوگوں کی درخواست پر حکومت نے توجہ دی اور شروع میں گیارہویں سے اردو کی تعلیم کے لئے ٹیچر کی عارضی تقرری کردی گئی۔ اس سرکاری اسکول میں سنسکرت کی پڑھائی ہوتی تھی۔ لیکن اردوٹیچر کے آنے کے بعد اب گاؤں کے سبھی بچوں نے متبادل مضمون کے طور پر سنسکرت کی جگہ اردوکو منتخب کیا۔ اردوکے ٹیچر روزآنہ 60کلو میٹر دورسے پڑھانے آتے ہیں ۔ بچوں کو اردو پڑھنے کا ایساشوق ہے کہ انھیں ایکسٹرا کلاسز کرناپڑتی ہیں ۔ چوں کہ اردوکی تعلیم گیارہویں وبارہویں میں ہی ہوتی ہے اس لئے ٹیچرکو بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔


یاردوپڑھانے والے استاذ محمود نے یوراسٹوری کو بتایا:

ہاں تو لکچرر کی پوسٹ ہے،لیکن اردو کا کوئی لکچرر نہیں ملا توہمیں جونیئر ٹیچر کو ہی لگادیاہے۔ لیکن بچوں کا اردو پڑھنے کاجذبہ دیکھ کر ہم ٹونک سے ایکسٹر اکلاسز لینے کے لئے جلدی آجاتے ہیں ۔

اسکول کے پرنسپل ناتھولال مینا کو اس بات کی خوشی ہے کہ بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہناہے:

’’اسکول میں کوئی سہولت نہیں ہے،لیکن یہاں اردو پڑھنے کا شوق ایساہے کہ اردو کی بھرتی میں گاؤں کے سارے بچے پاس ہوجاتے ہیں ۔ یہ بچے اردوکی کلاس کبھی نہیں چھوڑتے ۔ تین سال پہلے گاؤں والوں کی درخواست پر یہاں سنسکرت ہٹاکر اردوپرھایاجانے لگاہے۔ اس کی وجہ بھی خاص ہے ۔ محض 2000کی آبادی والے اس سیندڑاگاؤں کی تقدیر اردونے بدل دی ہے۔ اردو پڑھناروزگارکی گارنٹی بن گیاہے۔ گاؤں میں تقریباًًہر گھر میں ایک شخص کو اردوکی بدولت سرکاری نوکری ملی ہے۔ بچوں کو دیکھئے کس طرح کلاس میں اردوپڑھ رہے ہیں ۔ آنکھوں کو سکون دینے والی بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں ۔ ‘‘

اردوکی بدولت نوکری پاکر لکچرر بننے والے گوپال مینا بتاتے ہیں :

اپنےگاؤں سے ایک شہر جاکر اردوپڑھ کر سرکاری نوکری پائی تب ہم نے بھی سوچاکہ اردو میں روزگارکاامکان زیادہ ہے توہم نے اردوکی تعلیم شروع کی اور مجھےاس سال راجستھان سرکارمیں اردوکے لکچرر کی ملازمت مل گئی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ گاؤں کے 14لوگوں کو لکچرر کی نوکری ملی ہے۔

حالاں کہ کئی بچے اردوپڑھنے کے دوران ہونے والی دقتوں سے پریشان رہتے ہیں ۔ ان بچوں کا کہنا ہے کہ اردوپڑھنے میں انھیں کوئی دقت نہیں ہوتی ہے ۔ مگر وہ گیارہویں درجے سے پڑھتے ہیں اس لئے تھوڑی پریشانی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سرکار پہلی کلاس سے اردو تعلیم کا انتظام کرادے تو بہت اچھاہوگا۔ لیکن کئی بچوں کا یہ بھی خیال ہے کہ تھوڑی مشکل ضرور ہوتی ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد نوکری مل جاتی ہے۔

جس گاؤں میں اقلیتی فرقے کا ایک فرد بھی نہیں ہے وہاں بڑے شوق سے بچے اردوپڑھ رہے ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ زبان کا نہ تو کوئی مذہب ہوتاہے اور نہ ہی اس پر کسی کی جاگیر داری ہے۔ صرف اردو کی بدولت گاؤں میں اب تک 100سے زائد لوگوں کو میڈیکل ،زبان،تعلیم اور سماجی بہبود کے محکموں میں ملازمت مل چکی ہے۔ گاؤں کے بچوں کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں کے لوگ اکیلے اردوکے سبھی خالی عہدوں پر ملازمت پائیں گے۔ ایک ایساگاؤں جہاں پہلے بے حد غریبی تھی،سرکاری ملازمت دور کی کوڑی لگتی تھی،آج اسی گاؤں میں ایک جوش اور خوش حالی ہے ۔ اور اس جوش وخوش حالی کی وجہ صرف اردوہے۔

قلمکار : روبی سنگھ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ruby Singh

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini