ماں نے دیا بیٹے کو زندگی کا مقصد ... اورایک ڈاکٹر بن گیا کینسر کے غریب مریضوں کا مسیحا...

0

اب تک 600 مریضوں کا کرچکے ہیں علاج ...
20 ہزار سے زیادہ مریضوں کا کرا چکے ہیں میڈیکل چیک اپ ...


ماں نے اُن کو زندگی کا ایک مقصد دیا، جس کے بعد اُنہوں نے ٹھان لی ڈاکٹر بننے کی، جوش و جذبہ تھا غریبوں کی مدد کرنے کا۔ اسی جوش و جذبے اور ضدّ کا نتیجہ ہے کہ آج مہاراشٹر کے احمدنگر ضلع میں رہنے والے ڈاکٹر’ سو پنیل مانے‘(Swapnil Mane) کو لوگ کسی مسیحا سے کم نہیں مانتے ۔ اقتصادی طور پر پسماندہ اِس علاقے میں رہائش پذیر ڈاکٹر مانے کینسر جیسی مہلک اور عوام کی نظر میں مہنگی بیماری کا علاج غریب مریضوں کے لئے بالکل مُفت کرتے ہیں ۔ مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں کینسر کی تشخیص کے لئے وہ کیمپس لگاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی غریب مریض کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے ۔ مہاراشٹر کے احمدنگر ضلع سے تقریباً 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ’ راہوری‘(Rahuri)شہر۔ عام لوگ بھلے ہی اس جگہ سے نا واقف ہوں لیکن مالی اعتبار سے غریب کینسر کے مریضوں کے لئے یہ جگہ اُمید کی آخری کِرن ہے ۔

ڈاکٹر سو پنیل مانے کی پیدائش مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی ۔ اِن کے والد بینک میں کلرک تھے اور ماں ’ آنگن واڑی‘ ٹیچر تھیں ۔ جب یہ آٹھ سال کے تھے تو انہوں نے اپنے پڑوس میں رہنے والے ایک کینسر کے مریض کو دیکھا۔ اُس مریض کو پھیپھڑوں کا کینسر تھا اور وہ روزانہ اُجرت پر کام کرتا تھا ۔ مانے بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ بمشکل 50 سے 60 روپے ہی کما پاتا تھا، لیکن دن بہ دن اُس کی بگڑتی حالت کی وجہ سے مقامی ڈاکٹروں نے اُسے کسی بڑے اسپتال میں علاج کرانے کے لئے کہا۔ اور جب وہ ایک بڑے اسپتال میں گیا تو وہاں پر اُس کے علاج کے لئے 50-60 ہزار روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ جبکہ اتنے پیسے اُس کے پاس نہیں تھے ۔ مانے کا کہنا ہے کہ ’’ تب میَں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ ڈاکٹر اس کا علاج کیوں نہیں کر رہے ہیں، تو میری ماں نے کہا کہ ڈاکٹر صرف اُنہیں لوگوں کا علاج کرتے ہیں جو اُنہیں پیسہ دے سکتے ہیں۔‘‘ یہ بات مانے کے دماغ میں گھر کر گئی اور انہوں نے اپنی ماں سے کہا کہ ’میَں بڑا ہو کر ڈاکٹر بنوں گا اور غریبوں کا مُفت علاج کروں گا ۔‘‘ اس واقعہ کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا یہی مقصد بنا لیا کہ وہ ڈاکٹر بن کر اپنی زندگی کی آخری سانس تک غریب لوگوں کا علاج کریں گے ۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر روز 1300 اموات صرف کینسر کی وجہ سے ہو رہی ہیں جبکہ سال 2012 سے لے کر 2014 کے درمیان ملک میں 6 فیصد کی شرح سے کینسرکے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ سال 2014 میں صرف کینسر کی وجہ سے 5 لاکھ لوگوں کی موت ہوئی ۔ ہر سال 50 ہزار خواتین سروائیكل کینسر کا شکار ہوتی ہیں ۔ اِسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈاکٹر سوپنیل مانے نے اپنے شہر ’ راہوری‘ میں آج سے پانچ سال قبل ’ڈاکٹر مانے میڈیکل فاؤنڈیشن اینڈ ریسرچ سینٹر‘ قائم کیا۔ آج جس جگہ پر یہ اسپتال ہے، وہ کرایہ پر لی گئی ایک جگہ ہے ۔ 16 بستروں والے اس اسپتال میں ڈاکٹر سو پنیل مانے کے علاوہ 12 ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ہے اور اِن کی مدد کے لئے 6 پیرا میڈیکل(Paramedical) اسٹاف بھی ہے ۔ مذکورہ بالا اپنے سینٹر کے ذریعے یہ لوگ اب تک 600 سے زیادہ مریضوں کا علاج کر چکے ہیں ۔

ڈاکٹر مانے کا کہنا ہے کہ ’’ہم دو پروجیکٹ پر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں ، جس میں سے ایک ہے کمیونٹی بیس سروائیكل کینسر پروجیکٹ ۔ اِس کے تحت ہم گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو کینسر کے متعلق آگاہ کرتے ہیں اور اُن کو مناسب مشورہ دیتے ہیں ۔ ضرورت پڑنے پر ہم کینسر کے مریضوں کو  ’راهوري ‘ میں اپنے اسپتال میں آنے کے لئے کہتے ہیں تاکہ اُن کا بہتر طریقے سے علاج ہو سکے ۔‘‘ ڈاکٹر مانے تسلیم کرتے ہیں کہ کینسر کا علاج کافی مہنگا ہے اور ملک میں ایسی بہت کم جگہیں ہیں جہاں پر اس کا علاج ہو سکے ۔ اِس وجہ سے کینسر کے کئی مریض وقت پر علاج نہ ہونے کے سبب دم توڑ دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر سوپنیل مانے نے ریاست مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں ٹاٹا میموریل اسپتال میں فیلوشپ کی تھی ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس اسپتال میں گنجائش سے زیادہ مریض آتے ہیں ۔ ایسے میں جن لوگوں کی جیب میں محض 100یا200 روپے ہوتے ہیں اُن کا وہاں پرعلاج ہونا ممكن نہیں۔ اتنا ہی نہیں اسپتال میں گنجائش سے زیادہ مریض ہونے کے سبب نئے مریضوں کو داخلے کے لئے دو، تین ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے، ایسے میں کینسر جسم میں سنگین اور مہلک بیماری کی شکل لیتا ہے ۔

غریب لوگوں کی انہی مشکلات و مسائل کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر مانے اور اُن کی ٹیم مسلسل مہاراشٹر کے مختلف حصّوں میں ہیلتھ کیمپس لگاتی ہے ۔ ’’گزشتہ پانچ سال کے دوران ہم لوگ اِن ہیلتھ کیمپس کے ذریعے تقریباً 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کامیڈیکل چیک اپ کر چکے ہیں ۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ احمدنگر اور اس کے آس پاس کے اضلاع کی خواتین میں سروائیكل کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہاں پر ہر100 خواتین میں سے 1 عورت اس بیماری میں مبتلا ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’مغربی ممالک میں کینسر کے تعلق سے کافی بیداری اور آگاہی ہے، اس وجہ سے وہاں پر کینسر کی ہلاکت خیزیاں اس پیمانے پر نہیں ہیں جتنی کہ ہمارے ملک میں ہیں۔‘‘ ہمارے ملک کے گاؤوں میں آج بھی لوگوں کو کینسر کے بارے میں ٹھیک سے کچھ پتہ نہیں ہوتا اور وہ اسے بھی ایک عام بیماری ہی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا جب وہ علاج کے لئے اطراف کے کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، تو اُس ڈاکٹر کو بھی بہت زیادہ معلومات نہیں ہوتی اور مریض کے جسم میں کینسر آہستہ آہستہ سنگین صورت اختیار کرنے لگتا ہے ۔

اس کے علاوہ بیشتر گھر یلو خواتین کوئی تکلیف یا شکایت ہونے پر اپنی شرمیلی طبیعت کے سبب بیماری کو چھپاتی ہیں اور گھر کے تجربہ کار بزرگوں یا سرپرستوں تک بیماری کی بات نہیں پہنچنے دیتیں ۔ اِس سے بیماری کی نوعیت سنگین ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر مانے کا خیال ہے کہ ’’ 60 فیصد کینسرکے مریض اُس وقت سامنے آتے ہیں جب یہ ایڈوانس اسٹیج میں پہنچ چکا ہوتا ہے ۔ تب ڈاکٹر زیادہ کچھ نہیں کر سکتا، اُس وقت صرف ’کیمو تھیراپی‘ اور ’ریڈیو تھیراپي ‘ ہی مریض کو دی جا سکتی ہے ۔ ‘‘ اُن کا کہنا ہے کہ ناخواندگی اور لا علمی کی وجہ سے لوگوں میں کینسر کے تعلق سے زیادہ معلومات اور بیداری نہیں ہے ۔ ملک میں لوگ اِس بات کی اہمیت سے قطعی بے خبر ہیں کہ سال بھر میں ایک بار اُن کو اپنے جسم کا مکمل چیک اپ ضرور کرا لینا چاہئے ۔

آج ڈاکٹر مانے کینسر متاثرین کا علاج ایک مِشن، ایک مقصد کے تحت کر رہے ہیں ۔ ’ راہوری ‘ میں  ’ڈاکٹر مانے میڈیکل فاؤنڈیشن اینڈ ریسرچ سینٹر‘ میں آنے والے غریب کینسر مریضوں کے علاج کا خرچہ صرف 12 ہزار روپے آتا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ جو مریض یہ قلیل رقم دینے کے بھی اہل نہیں ہوتے ہیں اُن کا علاج یہ لوگ بالکل مُفت کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر مانے بتاتے ہیں کہ اِس سبب اُنہیں اکثرمالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن مخیّر اور ہمدرد حضرات سے ملنے والی امدادی رقوم سے یہ مسئلہ حل بھی ہو جاتا ہے ۔ ڈاکٹر سوپنیل مانے کا کہنا ہے کہ سال 2011 میں جب انہوں نے اِس سینٹر کو شروع کیا تھا تو مشینیں خریدنے کے لئے انہوں نے اپنی بچت کا سارا پیسہ لگا دیا تھا جبکہ باقی رقم چندے سے جمع کی تھی ۔ اِس بات سے انہیں سخت ذہنی کوفت ہوتی ہے کہ جب بھی اُن کے سینٹر کی کوئی مشین خراب ہو جاتی ہے تو اُسے ٹھیک کرنے کے لئے ممبئی یا دہلی جیسے دُور دراز کے شہروں میں لے جانا پڑتا ہے ، جس میں نہ صرف پیسہ بلکہ وقت بھی ضائع ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر مانے کا کہنا ہے کہ’’ہم لوگ 6 ہزار مربع میٹر میں ایک نئے اسپتال کی تعمیر کر رہے ہیں ۔ ’سائی دھام کینسر اسپتال ‘ تقریباً 35 بستروں پر مشتمل ہوگا ، جہاں مریضوں کو تمام طرح کی ’الٹرا ماڈرن‘( انتہائی جدید) سہولیات ملیں گی ۔‘‘ فی الحال اُنہیں تلاش ہے ایسے مخیّر اور ہمدرد لوگوں کی جو اُن کے اِس کارِ خیر میں مالی تعاون دینے پر بخوشی آمادہ ہوں ، تاکہ ہندوستان کوکینسر جیسے موذی مرض سے نجات دلائی جا سکے ۔

ویب سائٹ: www.manemedicalfoundation.com

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza