ایک ماں کو اپنی بیٹی پر بیٹوں سے زیادہ فخر، ’مایا‘ ' نے بدل دی ’ 'پرینکا‘ ' کی زندگی

0

’’میری ماں کو مجھ پر بہت فخر ہے۔ ساری زندگی وہ یہی سنتی رہی کہ اُسے بیٹی نہیں، بیٹا پیدا کرنا چاہئے تھا، جو بڑھاپے میں اُس کا سہارا بنتا ۔ آج وہ معاشرے کے سامنے فخر کے ساتھ سر اُٹھا کر کہتی ہے کہ اُس کی بیٹی ہی، بیٹے جیسی ہے!‘‘

سولہ سال کی پرینکا پونے کے ’ایپیفنی‘ Epiphany انگلش میڈیم اسکول میں پڑھتی ہے ، جوکم آمدنی والے طبقے کا اسکول ہے۔ اِس سال موسمِ گرما میں وہ تعلیم کے سلسلے میں اٹلی جا رہی ہے، جہاں وہ  ’ایڈریاٹِک‘ Adriatic (اٹلی) کے یونائیٹڈ ورلڈ کالج (UWC) میں دو سال تعلیم حاصل کرے گی وہ بتاتی ہے، ’’وہاں میں نے تاریخ، فلسفہ ،ہائیر انگلش، حیاتیات، ریاضی اور اٹالین سبجیکٹس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔‘‘

زندگی میں اُس کے سامنے بہت سے چیلنجز تھے مگر وہ پیچھے ہٹ جانے والوں میں سے نہیں تھی ۔ اُس کا باپ جیل میں ہے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ اکیلی رہتی ہے ۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں اکیلی ماؤں کو، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کی اکیلی ماؤں کو اچھّی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے، زندگی گزارنا واقعی انتہائی مشکل کام تھا ۔

’’ماں کو دیکھ دیکھ کر میَں نے سیکھا کہ ایسے حالات کا سامنا کس طرح کیا جائے ۔ اُس نے پیدائش کے بعد سے ہی مجھے باپ کی کمی محسوس ہونے نہیں دی یا اِس تعلق سے فکر مند نہیں ہونے دیا کہ گھر کے ایک سربراہ کے طور پر میرا باپ ہمارے ساتھ گھر پر نہیں ہوتا۔ تمام ذمّہ داریاں وہ ایک ساتھ ادا کرتی رہی ہے ۔ جو مرد اُسے پریشان کرنے کی کوشش کرتے، اُن سے وہ مقابلہ کرتی، لڑتی،جھگڑتي ۔ بغیر کسی سہارے کے وہ ڈٹ کر کھڑی رہی اور مجھے بھی سکھایا کہ مخالف حالات درپیش ہوں تو معاشرے میں کس طرح اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور مقابلہ کرنا چاہئے ۔''

’کنیکٹنگ دی ڈاٹس‘ مایا اور پرینکا

سال 2013 میں’ 'ٹيچ فار انڈیا‘ ' نے ’ہالِسٹِک ایجوکیشن‘ Holistic education کی ضرورت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا اور تب ’مایا‘ کا جنم ہوا۔ ’ہالِسٹِک ایجوکیشن‘ ایک طریقۂ تعلیم ہے جس میں اسٹوڈنٹس کو حصولِ تعلیم اور عملی زندگی میں درپیش مسائل اورچیلنج کا سامنا کرنا سکھایا جاتا ہے۔ مایا ’ ٹيچ فار انڈیا ‘کے طالب علموں اور براڈوےآرٹسٹوں کے اشتراک سے تیار کردہ ایک میوزیکل اوپیراہے۔ براڈوے کی تیار کردہ موسیقی کے ساتھ یہ ا سکرپٹ شہزادی مایا کی کہانی بیان کرتی ہے، جسے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنی ریاست میں روشنی واپس لے کر آئے ۔ تب مایا اپنے پانچ دوستوں، جنوبی ہندکی ڈریگن ’کُٹّی‘، بولنے والا مور انڈیگو، اپنے محور پر گھومنے والی طلسمی ’زارا‘ اور 9 منہ والے سانپ ’ اِسکا‘، کو لے کر روشنی واپس لانے کی مہم پر نکل گئی اور سب نے جرأت، ہمّت، ہمدردی اور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو تین بڑی بد دعاؤں کی نحوست سے نجات دلائی ۔

براڈوے اداکار نِک ڈالٹن کے ساتھ مل کرموسیقی کی ہدایت دینے والی سانيا بھروچا بتاتی ہیں،

’’مایا پروجیکٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قلیل آمدنی والےطبقے کے بچّے، جنہیں اِس فن کو دیکھنے، سیکھنے اورپیش کرنے کا پہلے کوئی موقع نہیں ملا، کتنی خوش اسلوبی سے یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ یہ محض ایک اشارہ ہے کہ اِن بچّوں کو کس طرح کی تعلیم فراہم کی جانی چاہئے ، ایسی تعلیم جو تدریس کو، اخلاقی اقدار اور ذہنیت کو، کارکردگی کے مواقع اور وسائل کویکجا کر سکے ۔ گویا’ مایا‘ کی طرح یہ 30 بچّے بھی خود شناسی کی مہم پر نکل پڑے ہوں اور اپنی اقدارکے ساتھ ساتھ روشنی کوڈھونڈ نکالا ہو ۔‘‘

جس اسکول میں پرینکا پڑھ رہی ہے،وہاں 2009 سے ’ 'ٹيچ فار انڈیا‘ کے کارکن کچھ جماعتوں میں جاتے رہے ہیں ۔ پرینکا ان میں سے کسی بھی کلاس میں نہیں رہی تھی ۔ اس لئے سوال یہ ہے کہ 9 منہ والے سانپ ’ اِسکا‘ کا کردار پرینکا کو کس طرح مل گیا اور کس طرح اس کی زندگی کی راہ بدل گئی؟

حوصلہ افزائی

’ٹيچ فار انڈیا‘ کی ایک کارکن،’اہونا کرشنا‘نے پرینکا کو اسکول میں اداکاری کرتے دیکھا تھا اور انہوں نے اسکول والوں سے درخواست کی کہ پرینکا کو’آڈیشن‘ کی اجازت دی جائے ۔’’اهونا دیدی (وہاں اساتذہ کو بہن یا بھیّا 'کہنے کا رواج ہے) نے مجھ سے رات 11 بجے پوچھا کہ کیا میں دوسرے دن اُن کے ساتھ ’آڈیشن‘ کے لئے چل سکتی ہوں؟ میری ماں ہمیشہ سے چاہتی تھی کہ میں اداکاری کروں اور میں نے سوچا کہ یہ شاید ایکٹنگ کا ’آڈیشن‘ ہوگا اِس لئے میَں نے ہاں کہہ دیا! بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ’مایا‘ کیا بلا ہے اور ہمیں اس کے لئے کافی وقت دینا ہو گا جبکہ یہ پروگرام اسکول چھوٹنے کے بعد ہوتا ہے ۔‘‘ ’آڈیشن‘ کے لئے آئے کُل 320 بچّوں میں سے 30 بچوں کو منتخب کیا گیا ۔ پرینکا کی ماں کے خدشات کو پرینکا کے صلاح کاروں نے دُور کیا اور ساتھ ہی انہوں نے تمام والدین پر اچھّی طرح واضح کردیا کہ ’مایا‘ کے اِس افسانوی سفر کے ذریعہ وہ چاہتے ہیں کہ بچّے کوئی بڑی کامیابی حاصل کریں ۔

80 فیصد بہتر نتائج

سانيا شروع سے ہی اِن ساری سرگرمیوں کے درمیان رہیں اوروہ مسلسل سب کچھ دیکھ رہی تھیں ۔ سانيا کا کہنا ہے،’’اگرچہ '’مایا‘ کا فوکس براہِ راست تعلیم پر نہیں تھا لیکن مجموعی طور پر یہ سبق آموز تو تھا ہی۔ جیسے، اگر ’مایا‘ میں موسیقی سکھائی جا رہی ہے تو سکھانے کے لئے دوسرے سبجیکٹس کو جزوی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِسی طرح اگر رقص سکھایا جا رہا ہے تو ٹیچرز اُس میں تاریخ اور روایت کے اسباق بھی پڑھاتے ہیں ۔ یا کسی ميوزیكل کا کوئی نغمہ ’آگ ‘کے بارے میں ہے تومتعلقہ کردار کلاس میں حقیقی شکل میں آگ لے کر آئے گا، آگ کے شعلے کو قریب سے دیکھے گا اور اُس کی فطرت و نوعیت کے تعلق سےبہتر طورپر آگاہ ہو سکے گا ۔’مایا‘ کے طالب علم ہندوستان کے دوسرے  ’ٹيچ فار انڈیا‘ (TFI) طالب علموں کی بہ نسبت 80 فیصد بہتر نتائج دے رہے ہیں ۔‘‘

بچّوں کے رویّے میں تبدیلی

انگریزی میں مہارت حاصل کرنے اور کوئی نہ کوئی فن سیکھنے کے علاوہ بچّوں میں اخلاقی اقدارکا شعور آرہا ہے۔ ایک مثال کے طور پر’مایا‘ ' کے ہی ایک دیگر طالب علم، موہت کا ذکر کرتے ہوئے سانيا بتاتی ہیں،’’چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اُسے مشتعل کردیتی تھی اور وہ تشدد پر اتر آتا تھا ۔ اُس کی برادری کے زیادہ تر لوگ اُسے محلّے کا دادا یا غنڈہ کہنے لگے تھے لیکن ’مایا‘ سے منسلک ہونے کے بعد اِس فن نے اسے ایک سوچنے سمجھنے والا انسان بننے میں بڑی مدد کی ۔‘‘

پرینکا میں آئی تبدیلیوں کے بارے میں وہ بتاتی ہیں،
’’جب میَں پہلے پہل پرینکا سے ملی تب وہ بہت شرمیلی لڑکی تھی اور دِل کی بات کہہ نہیں پاتی تھی یا اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر پاتی تھی، خاص طور پرایسے خیالات و احساسات، جو اس کے لئے اہم ہوتے تھے۔  پرینکا بہت ذمّے دار، سیکھنے کو ہر وقت تیار اور بہت خاص لڑکی تھی ۔ گزشتہ دو سال میں میَں نے اُسے غیر محفوظ محسوس کرنے والی لڑکی سے مہربان، بہادر اور سمجھدار لڑکی میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے ۔’مایا‘ ' کے ذریعہ پرینکا کو مختلف تہذیب و ثقافتوں کا، مختلف علاقوں کے مختلف خیالات کا اورعملی طور پر اِس دنیا سے متعارف ہونے کا موقع ملا ۔ وہ ایک خود مختار، پُر اعتماد، خوش مزاج اور باشعور شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی ہے اور مجھے واقعی لگتا ہے کہ وہ دنیا بدل سکتی ہے!‘‘

مثلث کے تین گوشے

اُس کی اسکول کی پڑھائی ، میوزیکل شو اور بیرون ملک تعلیم کے مواقع، یہ سب ایک دوسرے سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟ کیونکہ ’ مایا ‘میں ہی UWC کے’ 'پرنسپل آف انڈیا‘ کیمپس نے ’مایا‘ سے منسلک تمام لڑکیوں کو دیکھا اور’ ٹيچ فار انڈیا‘ (TFI) سے گزارش کی کہ اِن بچیوں کو UWC، ایڈریاٹِک کے پروگرام کے لئے درخواست دینی چاہئے ۔ شروع میں پرینکا تھوڑا جھجھک رہی تھی مگرصلاح کاروں کے سمجھانے پر وہ تمام انتخابی عمل سے گزرتے ہوئے بالآخر کامیاب ہوئی ۔ اُس نے اس پروگرام کے لئے درخواست دی۔ پورے ہندوستان کے بچّوں میں سے انتخابی عمل میں کامیاب ہونے والے 120 بچّوں کی ایک مختصر فہرست بنائی گئی اور پرینکا آخری مرحلے میں بھی کامیاب رہی۔

لامحدود امکانات

’’میں نے خود پر انحصار کرنا سیکھ لیا ہے۔ آج بھی جب کبھی پریشان کُن حالات سے میرا سامنا ہوتا ہے اور میرا یقین ڈانواڈول ہونے لگتا ہے، تو میَں سوچنے لگتی ہوں کہ ایسے کئی لوگ ہیں جو مجھ پر اُس سے کہیں زیادہ یقین رکھتے ہیں، جتنا میَں خود اپنے آپ پر کرتی ہوں اور یہ بات مجھے اپنی صلاحیتوں کی حدود کو اور زیادہ وسعت دینے کی تحریک دیتی ہے ۔ ‘‘

اِس سوال پر کہ ُاس کے دوست اُس کی اِس کامیابی پر کیا ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہیں؟ وہ کہتی ہے:’ 'وہ مجھے چِڑھاتے اورستاتے ہیں! وہ کہتے ہیں، میں انہیں بھول جاؤں گی لیکن انہیں مجھ پر فخر بھی بہت ہوتا ہے ۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ میَں دنیا کے سامنے اُن کی نمائندہ ہوں، اور میَں ایک مثال ہوں اس سچائی کی، کہ بھلے ہی آپ کسی بھی طبقے یا ماحول سے تعلق رکھتے ہوں، آپ چاہیں تو وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘

تعجب اِس بات کا ہے کہ پرینکا کی ماں چاہتی تھی کہ 12 ویں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اُس کی شادی کر دے ۔ کیا پرینکا اپنی ماں کو سمجھانے میں کامیاب ہو سکی؟ وہ کھل کھلا کر ہنس پڑتی ہے اور کہتی ہے،’’ایمانداری کی بات تو یہی ہے کہ میَں انپی ماں کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکی! لیکن ’مایا‘ نے مجھے سکھایا ہے کہ اس بات کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹنا چاہئے کہ آپ کیا سوچتے ہیں، بلکہ کرکے دکھانا چاہیئے۔’مایا‘ کے ذریعے میَں ماں کو یہ دِکھانے میں کامیاب رہی کہ شادی واحد راستہ نہیں ہے ۔ خود میری ماں کی کم عمر میں شادی ہو جانے کی وجہ سے اُسے بڑے مصائب برداشت کرنے پڑے لیکن وہ میری شادی بھی کم عمر میں ہی کر دینا چاہتی تھی کیونکہ اُسے لگتا تھا کہ اُس کے بعد میری دیکھ بھال کرنے والا یا مجھے سہارا دینے والا کوئی نہیں ہو گا ۔ لیکن یہ دیکھنے کے بعد کہ موقع ملے تو میَں کیا کچھ کر سکتی ہوں، آہستہ آہستہ ماں کو یقین ہونے لگا کہ میَں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں اور پھر میرے فیصلے پر اُس کی رضامندی مل گئی ۔‘‘

ابھی پرینکا نے قطعی طور پر فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ بالآخر زندگی میں کیا کرنا چاہتی ہے لیکن وہ جانتی ہے کہ اُسے کس راہ پر چلنا ہے ۔

’’اب میَں صرف اپنی ترجیحات کے بارے میں ہی نہیں سوچتی بلکہ یہ بھی سوچتی ہوں کہ میَں معاشرے کو کیا دے سکتی ہوں ۔ اب میں سوچتی ہوں کہ ابھی، اِس وقت میَں کیا کر سکتی ہوں، یہ نہیں کہ صحیح وقت کا انتظار کرتی رہوں ۔ ایک ایک لمحہ اہم ہے ۔ فی الحال میں ایک ماہرِ نفسیات بنانا چاہتی ہوں ۔ لیکن جیسے جیسے میں آگے بڑھوں گي، میں چاہوں گی کہ جسم فروشی پر مجبور لڑکیوں کے لئے کام کروں، کچھ ایسا کروں، جس سےاس معاشرے کے بچّےبھی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں،جس طرح کہ میَں کر سکی ۔‘‘