ناخواندہ گھر میں پیدا ہونے والے شخص نے لکھی بغیر نقطے کی کتاب

صادق بستوی کے غیرمنقوط شاہنامہ اسلام ’داعی اسلام ‘ سے دنیا حیران 

1

اگر ایک آدمی غریب اورناخواندہ گھر میں پیدا ہونے کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کر ے تو یہ کو ئی بہت بڑی بات نہیں ہے ۔ اس طرح کی مثالیں آپ کو ہر جگہ مل جا ئیں گی ، لیکن ایسا آدمی اپنی علمیت ، قابلیت اور صلا حیت کا سکہ پوری دنیا پر بٹھا دے تو یقینا اسے کمال کہیں گے ۔ وہی آدمی مزید آگے بڑھ کر اردو میں ایک ایسی کتاب لکھ دے جس میں ایک بھی نقطہ نہ ہو تو بلا شبہ اسے عجوبہ ہی کہیں گے۔ اور وہ کتاب منظوم بھی ہو تو یقینا اسے جادو ہی کہا جا ئے گا ۔ جب آپ اردو زبان وادب کے اس جادو گر کو تلاش کریں گے تو پوری دنیا میںا یک ہی شخص ملے گا جس کانام ہے صادق بستوی ۔ افسانوی شخصیت کا حامل یہ شخص ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپر دیش کے ضلع سنت کبیرنگر  (سابق بستی) کے ایک چھوٹے سے قصبے لہرولی بازارمیں ملے گا ۔

صادق بستوی کا پورا نام صادق علی انصاری قاسمی دریابادی بستوی ہے ۔ یہ 15اپریل1936کو اترپر دیش کے ضلع بستی کے موضع دریاباد کے ایک غریب کنبے میں پیدا ہو ئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی ۔ان کے مکتب کے اساتذہ ماسٹر شہرت علی دریابادی ، ماسٹر وکیل احمد اور ماسٹر عبدالحمید نے ان کو نکھارنے میں اہم رول اداکیا ۔ فارسی وابتدائی عربی تعلیم مدرسہ دینیہ مونڈا ڈیہہ بیگ بستی میں حاصل کی ۔یہاں انھوںنے مفتی مرتضی حسین اور مولانا عبدالوہاب سے کسب فیض کیا ۔ پھر متوسطات کی تعلیم کے لئے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ ، یوپی کا رخ کیا اور وہاں کے ماہر اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں سے1955 میں فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعد انھوں نے وہیں سے دورہ تفسیر کیا ۔ دارالعلوم دیوبند میں انھوں نے مولانا حسین احمد مدنی ، علامہ ابراہیم بلیا ور اور ملا بہاری وغیرہ جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اتنے سے ان کی علمی تشنگی نہیں بجھی تو انھوں نے پنجاب پونیورسٹی سے مولوی فاضل ، پوپی بورڈ الہ آ باد سے فاضل معقولات ، لکھنؤ یونیور سٹی سے فاضل تفسیر اور جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا صادق علی قاسمی بستوی نے میدان عمل میں قدم رکھا۔ چوں کہ شروع سے انھوں نے دینی درس گاہوں میں تعلیم حاصل کی تھی اس وجہ سے درس وتدریس کا پیشہ اختیار کیا۔

مولانا صادق کی پوری زندگی حوادث سے گھری نظر آتی ہے۔ دوران تعلیم والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی چھوٹے بھائی کا انتقال ہوگیا۔ صادق بستوی کسی خوشحال گھر انے کے چشم وچراغ توتھے نہیں اس وجہ سے گھر کی ساری ذمہ داری ان کے دوش ناتواں پر پڑگئی۔ انھوں نے جامعہ خادم الا سلام ہاپوڑ ، یوپی ،مدرسہ اطہر العلوم امرڈوبھا، بستی ، یوپی اور مدرسہ ہدایت العلوم کرہی، بستی میں تدریسی خدمات انجام دیں ،مگر اس سے بات نہ بن سکی۔ پھر ایک دواخانہ کھولا مگر پیسے کی کمی کی وجہ سے یہ بھی درد کاد رماں نہ بن سکا۔

1966 میں صادق بستوی نے دریاباد چھوڑ کر لہرولی میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ لہر ولی بازار میں آباد ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ قصبہ ہونے کے ساتھ بستی ۔ مہنداول روڈ پر واقع تھا۔ یہاں سے نقل وحمل کی بہت آسانیاں تھیں لہر ولی میں انھوں نے خالد کمال اشاعت گھر کی بنیاد رکھی اور تصنیف وتالیف کا کام شروع کیا۔ یہاں صادق بستوی نے اپنا مجموعہ کلام م’ نقوش زندگی‘ بچوں کی نظموں کا مجموعہ ’گلدستہ‘ ’صنف نازک کے لئے دعوت فکر ‘ ’ نماز کیاہے‘؟ ’رمضان کی باتیں ‘ دوسرا مجموعہ کلام’ تب وتاب ‘ کہانی’ مظلوم شہزادہ‘ ’قبر پر اذان ‘ عربی کتاب’مرقات‘ کی شرح ’تشریحات علیٰ المرقات‘ عربی کتاب ’تعریف الا شیاء‘ کی شرح’ تسہیل الآلہ‘ ’ ریاض الصرف ‘ ’ریاض النحو‘’ میزان منشعب ‘منظوم’ عبد اللہ بن سلام بحضور سید خیرالا نام‘ یعنی کل چودہ کتابیں لکھیں اوراپنے اشاعتی ادارے ’خالد کمال اشاعت گھر‘ سے شائع کیں۔ یہ کتابیں کافی مقبول ہوئیں اور کئی کتابوں کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ چار کتابیں ’خیر المفہوم‘ شرح سلم العلوم ’ چار ستارے ‘ ’ چاند کی شرعی حیثیت‘ اور’ داعئی اسلام‘ غیر منقوط (نثر )زیر طبع ہیں۔

مذکورہ بالا تصنیفی کام کرتے ہوئے صادق بستوی نے صحافت کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا۔ انھوں نے روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی، روزنامہ مشرقی آواز گور کھپور ، روز نامہ قومی آواز، لکھنؤ کے نامہ نگار کی حیثیت سے صحافتی خدمات انجام دیں۔ گورکھپور سے روزنامہ’ راپتی‘ نکلا تو اس کے ایڈیٹر بنائے گئے۔

انھوں نے اپناایک رسالہ’ نقوش حیات‘ کے نام سے نکالا جو عوام میں کافی مقبول ہوا۔ ان سب کاموں سے کئی حد تک معاشی مسئلہ حل ہوا' لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی شہرت خالص علمی حلقوں کے علاوہ دیگر عوامی حلقوں میں بھی بڑھنے لگی۔ اس شہرت کی وجہ سے ان کو بہت سے اداروں کا سرپرست اور رکن بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ان کو آل انڈیا ریڈیوگورکھپور سے بھی پروگرام ملنے لگے۔ریڈیو پران کے پروگرام مولانا آزاد اور سیکولرازم، ادب وصحافت کا رشتہ ، مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب (مباحثے) کفایت شعاری کا میاب زندگی ، بہادر شاہ ظفر : نغمہ خواں اجالوں کے ،جنگ آزادی میں علماء کا حصہ ، مجاہد آزادی مولانا رحم اللہ دریابادی ، اردو رسائل کا مستقبل، فلسفۂ صدقۂ فطر ، اردو مجلات اور ان کے مدیر ، قرآن امن عالم کا داعی (مقالات ) اور میرا پیارچمن: خلیل آباد (فیچر) کافی مقبول ہوئے۔

اس کے علاوہ وہ صادق بستوی سماجی وملی اعتبارسے بھی سرگرم رہے۔ ان کی ایمان داری اور فعالیت کو دیکھتے ہوئے انھیں جمعیۃ علما ہند ضلع بستی کا جنرل سکریٹری اور جمعیۃ علماہند اتر پردیش کا سکر یڑی منتخب کیا گیا۔

1977 میں ملک وملت بچاؤ تحریک کے تحت مرکز ی جنتا پارٹی کی حکومت میں ایک ہفتہ تہاڑ جیل میں سزا بھی کاٹی ۔ ان کی کار کردگی سے متاثر ہو کر ان کو شمال مشرقی ریلوے کا زیڈ آریوسی سی ممبر ، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ ، آل انڈیا اردو ریڈ یٹرس کانفرنس نئی دہلی کارکن منتخب کیا گیا۔ علاقے کے مشہور کالج نیشنل انٹر کالج مونڈاڈیہہ بیگ ، بستی کے منیجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

مذکورہ تمام کاموں سے صادق بستوی کو بڑی شہرت ملی، لیکن جس کام نے ان کو شہرت کے بام عروج پر پہنچایا وہ بغیرنقطے والی کتاب ہے۔ ان کی جادوئی کتاب ’داعی اسلام ‘ منظر عام پر آتے ہی چہار جانب اس کی دھوم مچ گئی اور گوشۂ گمنامی میں خاموشی سے کام کرنے والے صادق بستوی راتوں رات پوری اردو دنیا میں مشہور ہوگئے۔ اس کتاب کو ہندوستان سے زیادہ پاکستان میں مقبولیت حاصل ہوئی اور وہاں متعددجعلی ایڈیشن شائع ہوئے۔ یہ کتاب دراصل حفیظ جالندھری کی شاہنامہ اسلام کی طرز پر غیر منقوط کلام ہے۔

 اس سلسلے میں صادق بستوی نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’ سیرت طیبہ ایسا موضوع ہے جس پر الگ الگ انداز میں کثرت سے کتابیں لکھی گئیں۔ میں بھی اس موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا خواہش مند تھا لیکن ایسا کوئی پہلو نظر نہیں آرہا تھا جس میں کچھ جدت ہو۔ اسی دوران دارلعلوم دیوبند جانا ہوا۔ وہاں دارا لعلوم کے ممتاز استاذ مولانا عبد الرحیم بستوی کے یہاں قیام ہوا۔ ان کے پاس ولی رازی کی نثر میں غیر منقوط کتاب ’ہادی عالم ‘ رکھی ہوئی تھی۔ مولانا عبد الرحیم بستوی مجھ سے کہا کہ تم اس کو منظوم کردو۔ میں وہاں سے آکر اس کام میں لگ گیا اور آج آپ کے سامنے ’داعئی اسلام ‘ کے نام سے غیر منقوط شاہنا مہ اسلام موجود ہے‘‘۔

اگرچہ صادق بستوی نے ولی رازی کی کتاب دیکھ کرداعی اسلام لکھنے کی ترغیب حاصل کی ،لیکن ان کا کارنامہ ولی رازی سے بڑا ہے۔کیوں کہ اہلِ علم و دانش اور نکتہ سنجانِ فکر و نظر بخوبی واقف ہیں کہ صنعت غیر منقوطہ میں نثر کے مقابلے میں منظوم کتاب لکھنا اور وہ بھی سیرتِ پاک ایسے نازک موضوع پر کس قدر مشکل ہے۔جہاں اس صنعت کے ساتھ ساتھ اوزان وبحور اور قوافی کی پابندیاں ایک طرف،اسلام کی عائد کردہ پابندیاں بھی قدم قدم پر پا بہ زنجیر بنتی ہیں۔ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ؎

سلام اس کو کہ اس کا ہر عمل وحی الٰہی ہے

سلام اس کو کہ اس کا کلمہ گو ہر مور و ماہی ہے

سلام اس کو کہ اک امی مگر اک ہادیٔ کامل

مطہر اور طاہر اک رسولؐ اک حاکم عادل

داعی اسلام عوام وخواص میں کافی پسندکی گئی۔یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے لئے صادق بستوی کو اتر پردیش اردو اکادمی کے ادبی انعام اور حمدو نعت اکیڈمی نئی دہلی کی طرف سے حسان بن ثابت ایوارڈ سے نوازاگیاہے۔صادق بستوی کا علمی وادبی سفر ضعیفی کے باوجود ہنوز جاری ہے۔

.............

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

ایک سائٹ انجینئر سے ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد کے چیف تک دلچسپ سفر... وی بی گاڈگل

اینٹ بھٹے پرمزدوری کرنے والے وجے کمار بنے ’مسٹردلی‘

...........

Related Stories