تعلیم ادھوری چھوڑنے والے نوجوانوں کو موٹر میکینک اور الیکٹریشن بنا رہا ہےسی آئی ٹی حیدرآباد

0


ضرورت مند بچوں کو ہنر سکھا کر بنایا جا رہا ہے روزگار کے قابل

ڈاکٹر عبدالروف نے  امیریکی تجربات سے متاثر ہو کر کی تھی شروعات

اب تک 300 سے زائد طلباء ہوئے ہیں فارغ

روزگار آج کے دور کآ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بنیادی طور پر دو باتیں کافی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہنر مندی اور بازار کی ضرورت ۔۔۔ اس معمالے میں حکومت کا جو کام ہے، وہ اپنی سطح پر جس رفتار سے چل سکتا ہے، چلے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ معاشرہ کیا کر رہا ہے؟ اسی سوال کے جواب کے طور پر وجود میں آیا ہے، حیدرآباد کے میر عالم ٹینک میں واقع کمیونٹی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، جہاں 120 سے زائد طالب علم موٹروں کے پارٹز کوجوڑنے اور موڈنے میں مصروف ہیں۔ یہ سب ادارے کی طرف سے دستیاب کرائی جا رہی مفت تربیت کے مستفید ہو رہے ہیں، جو یہاں سے ایک سال کا ڈپلوما لے کر براہ راست روزگار کے میدان میں داخل ہو جائیں گے۔

غریب اور اقتصادی طور پر پسماندہ طبقے کے بچوں کو مناسب روزگار سے منسلک کرنے کے لئے کمیونٹی سینٹر آف ٹیکنالوجی کا آغاز ہوا تھا۔ آج یہاں موٹر میكانک اور موٹر الیكٹرشين دو قسم کے تربیتی پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ عام طور پر جہاں تعلیمی قابلیت کی وجہ سے نوجوان اس طرح کے تربیتی کورس میں حصہ لینے سے محروم رہ جاتے ہیں، وہ نوجوان بھی یہاں نہ صرف تربیت حاصل کر رہے ہیں، بلکہ انگریزی زبان بھی سیکھ رہے ہیں۔

میر عالم ٹینک کے قریب واقع بي این كے کالونی میں داخل ہونے کے بعد ہم بالکل سامنے والی گلی کے آخری سرے پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں ایک عمارت میں سے سی ئی ٹی چل رہا ہے۔ کچھ پرانی کاریں پارکنگ میں کھڑی ہیں۔ اندر جانے پر ہم پاتے ہیں کہ یہاں گاڑیوں کے کٹینگ اور لائیو دونوں قسم کے ماڈل رکھے ہوئے ہیں، اور نوجوان انٹرن اس کو دیکھ کر سیکھ رہے ہیں۔ کچھ طالب علم گاڑیوں کے انجن کھول رہے ہیں، تو کچھ اسے فٹ کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل ہیون آف عملی ایجوکیشن (ائی هوپ) کی طرف سے کمیونٹی ٹیکنیکل ایجوکیشن (سی ٹي ائی ٹی) کے بینر تلے CIT قائم کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد ضرورت مند نوجوانوں کو آٹوموبائل اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں تربیت فراہم کرنا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مجاہد علی محمود بتاتے ہیں کہ امریکہ کے نیو جرسی میں رہنے والے حیدرآبادی ڈاکٹر عبد الرؤف تقریبا 6 سال پہلے اس تجویز کے ساتھ حیدرآباد آئے کہ معاشرے کے ضرورت مند نوجوانوں کو مہارت کی بنیاد پر تربیت فراہم کرنے کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ کھولا جائے۔

وہ کہتے ہیں،

''مجھے امریکہ سے واپس آکر 10 سال ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر رؤف کی یہ تجویز بہت دلچسپ تھی۔ وہ سلیس میں پڑھ چکے تھے۔ امریکہ میں کئی سارے اداروں کو دیکھ چکے تھے، وہاں کام کر چکے تھے۔ کئی سروے رپورٹ ان کے پاس تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ ایسے بچوں کے لئے کچھ کیا جائے جن کی اسکول اور کالج کی تعلیم ادھوری چھوٹ جاتی ہے ۔''

رؤف صاحب کو ڈراپ آوٹس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی بھی فکر تھی جو مدرسوں سے اچھی تعلیم حاصل کرکے نکلتے ہیں، لیکن مہارت اور عملی علم کے فقدان میں اچھے روزگار سے محروم رہتے ہیں۔ انہوں نے حفاظ کے خصوصاً توجہ دہانی کی۔ مجاہد علی محمود کہتے ہیں کہ بہت سارے بچوں کے پاس اسکول چھوڑتے ہوئے جو مسائل ہوتے ہیں، اس وقت ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوتا اور متبادل کے بارے میں بیداری بھی کم ہوتی ہے۔ ایسے میں ہم ان بچوں کے لئے مہارت کی ترقی والے کورسز کو پیش کیا ہے۔

عام طور پر جہاں بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے کام ہوتے ہیں، وہاں سب کچھ صحیح طور پر چلایا جائے، اتنا آسان نہیں ہوتا، بلکہ جہاں سماج کی مفت میں خدمت کی جائے، وہاں سوالیہ نگاہیں زیادہ اٹھنے لگتی ہیں۔ ادارے چلانے والوں کے لئے یہ بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں پوچھے جانے پر مجاہد علی کہتے ہیں۔

''سوشل ورک کرنا ہے تو هوشمندی سے کام کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی ادارہ شروع کیا جائے تو اس سے نااہل اور غلط لوگ جڑنے نہ پائیں۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ لوگ ادارے اپنائیں جو سماج کو دینے کا جذبہ رکھتے ہیں، لینے کا نہیں۔''

سے CIT کی آبتدائی کامیابی کے بارے میں مجاہد علی بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال آر ٹی سی نے سے CIT کے طلباء کو اپل ڈپو کے ورکشاپ میں کچھ دن کام کرنے کا موقع دیا اور وہ مظاہرہ اتنا اچھا تھا کہ اس بیچ کے تمام لوگوں کو نوکریاں مل گئیں۔

پرنسپل میر راشد علی نے بتایا کہ تربیت شروع کرنے سے پہلے ان کی ریمڈيل کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ کچھ ہی دنوں میں نہ انہیں کام کے لائق زبان سکھائی جاتی ہے، بلکہ آلات کے نام لکھنا، موٹر کے حصے کا ڈیزائن اتارنا وغیرہ کئی ساری باتیں انہیں سکھائی جاتی ہیں۔ اس سال سے CIT نے اپنے طلباء کو 500 روپے ماهنا اسکالرشپ بھی دینی شروع کی ہے۔ تاکہ وہ مکمل توجہ لگا کر تربیت میں حصہ لیں اور ان کا جیب خرچ بھی نکل جائے۔

راشد علی کے مطابق،

CIT کی قومی پیشہ ورانہ تربیت کونسل سے منظوری کا عمل جاری ہے۔ یہاں سے تربیت یافتہ طالب علم جب بڑی موٹر کمپنیوں میں میكانک کے طور پر کام حاصل کرنے جاتے ہیں تو ان کے سامنے کم از کم تعلیمی قابلیت مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے CIT انہیں قومی تعلیمی ادارےنشنل اوپن اسکول کے دسویں کا امتحان کی تیاری کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

'آئی ہوپ' نے اسی طرز پر لڑکیوں کے لئے سلائی اور فیشن ڈذائننگ کا کورس بھی چلا رہا ہے، جہاں 70 سے زائد لڑکیاں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

---------------------------------

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

'نوکری سے نکالانہیں جاتا، تو آج نہ ہو تے 4000 کروڑ کی کمپنی کے مالک

ویلڈر کے بیٹے کا بڑا کمال ، مائیکروسافٹ نے دیا 1.20 کروڑ کا پیکج

----------------------------------------------


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories