شہری انتظامیہ اور عوام کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوشش ہے  جنتا چوپال

0

ایک انسان معاشرے کا ایک ذمہ فرد بھی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس پر کچھ معاشرتی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت کم لوگ اپنے اندر اس بات کا احساس رکھتے ہیں۔ آج کل کی مادیت پرست دنیا میں انسان اپنے آپ، اپنی ذات کو ہی سب کچھ سمجھنے لگا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام لوگ ایسے ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تعداد میں کم ہیں، لیکن ان کی کوششیں معاشرہ کی فلاح اور بہبود کے لئے بہت اہم ہیں۔

بی۔ای سالِ آخر کے طالبِ علم ہرش تومر اندور میں رہتے ہیں۔ گھر میں جب کوئی طالبِ علم مطالعہ کر رہا ہوتا ہے تو وہ نل کے پانی کے مسئلے جیسی الجھن سے دور ہی رہنا چاہتا ہے، کیونکہ پہلے ہی اس طالبِ علم کا ذہن تعلیمی مسائل سے پُر ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ ایک نئی مصیبت کھڑی ہوجاتی ہے۔ ہرش تومر کو بھی اسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جس کا حل انہوں نے ایک نئی تکنک کا استعمال کرتے ہوئے ڈھونڈ نکالا۔

وہ مقامی شہری انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے لئے 'جنتا چوپال' نامی اپلیکیشن کا استعمال کرتے ہیں۔

ہرش کہتے ہیں،' میں اس وقت حیران رہ گیا جب میں نے اپنے علاقے میں پانی کے مسئلے کے بارے میں اس اپلی کیشن پر پوسٹ کیا اور اگلے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں متعلقہ افسر نے اس کے بارے میں مجھ تک اپنا ردِ عمل پہنچایا۔'

جنتا چوپال ، اندور شہر میں تیار کی گئی سوشل میڈیا پر مبنی ایک موبائل اپلی کیشن ہے جو ہندوستان میں ای۔گورننس کی سمت اُٹھائے جانے والے اقدامات کو سریع بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایڈ ورلڈ ٹیک نامی ایک اسٹارٹ اَپ کے ذریعے تیار کی گئی 'جنتا چوپال ' نامی اپلیکیشن نہ صرف عوام کو وزراء کے ساتھ جوڑتی ہے بکہ عوام کے ذریعے سامنے لائے جانے والے مسائل کی کیفیت کو تین درجات یعنی 'اوپن' ، اِن پروگریس' اور 'رِزولوڈ' میں ظاہر کرتی ہے۔

ابھی تک فیس بک جیسے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 'ناپسندیدہ' کا اختیار موجود نہیں ہے، لیکن جنتا چوپال نامی یہ اپلیکیشن اپنے استعمال کنندگان کو 'اَن ووٹ' کا اختیار فراہم کرتی ہے۔ اور اس اختیار کو چننے والوں کی تعداد کچھ کم نہیں ہے۔

اندور میں فروری 2015 میں لانچ اور فعال کی گئی اس اپلیکیشن کے تقریباً 800 فعال ممبرس ہیں۔ اندور کے کل 85 کارپوریٹرس میں سے کم سے کم 45 کارپوریٹرس خود کو اس اپلیکیشن پر رجسٹر کرواچکےہیں اور انہوں نے اپنے اپنے علاقوں کے انتظامی مسائل کو حل کرنا شروع بھی کردیا ہے۔

جنتا چوپال کے ایک استعمال کنندہ راجندر تھیرگاؤکر اندور کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے چھاؤنی میں ایک چھاپ خانے کے مالک ہیں۔ وہ کہتے ہیں،' چھاؤنی علاقے میں کوڑا کرکٹ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ میں ہمشہ اس مسئلہ کو لے کر آواز بلند کرتا رہا ہوں لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکل پاتا تھا۔ اس لئے جب میں نے 'جنتا چوپال' کے بارے میں سنا تو مجھے لگا کہ مجھے اپنے مسئلے کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے ایک ذریعہ دستیاب ہوگیا ہے ۔ اس طرح کے پلیکیشن مجھ جیسے مصروف لوگوں کے اپنے وقت ضائع کئے بغیر سماجی مسائل کو پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم مل گیاہے۔

جنتا چوپال کا طریقہء کار :

جنتا چوپال نامی اس اپلیکیشن کو استعمال کنندگان گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں ایک مصدقہ موبائل نمبر اور ای ۔ میل آئی ڈی کے ساتھ خود کو اس اپلیکیشن پر رجسٹر کروانا ہوتا ہے جس کے بعد انہیں اس کوڈ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بعد انہیں اپنی ریاست ، لوک سبھا حلقہء انتخاب، اسمبلی حلقہء انتخاب اور وارڈ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ استعمال کنندگان اپنی پروفائل میں کسی بھی وقت ترمیم کرسکتے ہیں۔ ایک مرتبہ رجسٹر ہونے کے بعد استعمال کنندگان اس اپلیکیشن کے ذریعے اسے درپیش کسی مسئلہ کو درج کرتا ہے تو وہ مشینی طور پر خود کار طریقے سے اس کے متعلقہ منتخبہ رکن تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ منتخبہ رکن اپنے حلقہء انتخاب میں رہنے والے اپنے اس رائے دہندے کو اس مسئلے کی موجودہ کیفیت سے آگاہ کرتا ہے یعنی اگر وہ مسئلہ سرِ دست زیرِ غور ہے تو 'اِن پروسس؛ اور اگر اس مسئلہ کو حل کر لیا گیا ہے تو 'رِزولوڈ' کا اختیار استعال کرتے ہوئے جواب دیتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی منتخبہ رکن بھی اپنے کاموں کو اس اپلیکیشن کے ذریعے اپنے رائے دہندوں کے ساتھ شیئر کرسکتا ہے یا پھر انتظامیہ کے کاموں کو بہتر بنانے کے لئے اپنے رائے دہندوں اور مقامی شہریوں سے ان کی رائے بھی طلب کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس اپلیکیشن کےذریعے اسی علاقے کے لوگ جو آپس میں ایک دوسرے کو نہیں جانتے ، وہ دوست بن جاتے ہیں۔ فوٹو اور ویڈیو شیئر کرنے کی سہولت بھی اس اپلیکیشن کو ایک موثر سوشل میڈیا کا حصہ بنادیتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 'جنتا چوپال' ایک واٹس اپ گروپ چیٹ یا پھر فیس بک پیج سے بہتر کیسے ہوسکتا ہے؟ اس سے متعلق وارڈ نمبر 71 کے کارپوریٹر بھرت پاریکھ کہتے ہیں،'واٹس اپ چیٹ گروپ یا فیس بک پیج کے ذریعے میں صرف اپنے اپنے ہی وارڈ کے مسائل جان پاتا تھا۔ جب اس وارڈ کا کوئی مسئلہ سُلجھالیا جاتا تو محض اسی گروپ کے ممبران یا استعمال کنندگان اس کے بارے میں جان پاتے تھے۔ لیکن اب 'جنتا چوپال' کے ذریعے اندور شہر کے تمام شہریوں کو علم ہوجاتا ہے کہ فلاں علاقے یا فلاں وارڈ کے مسئلے کو حل کرلیا گیا ہے۔ اس طرح یہ اپلیکیشن ہمیں بہتر کام کرنے کا حوصلہ عطا کرنے کے علاوہ ترقی کے معاملے میں بھی دوسرے وارڈوں سے مسابقت اور مقابلہ آرائی کی تحریک دیتا ہے۔'

حالانکہ یہ سہولت کئی مرتبہ متخبہ کارپوریتروں پر بہت زیادہ دباؤ بھی بنادیتی ہے۔اس بارے میں وارڈ نمبر 65 کی کارپوریٹر محترمہ سریتا منگوانی کہتی ہیں،' میں جنتا چوپال' کو مسائل کو لے کر 24 گھنٹے کے اندر ردِ عمل کا اظہار کرنے والی ایک سہولت کی شکل میں دیکھتی ہوں۔ یہ سہولت لوگوں کےدرمیاں ہماری اعتباریت کو بڑھاتی ہے اور ہم ان کے مسائل کو سلجھانے کے لئے مزید فعال ہوجاتے ہیں۔'

6 اراکین پر مشتمل نہ تھکنے والی ٹیم:

'جنتا چوپال' ایڈورلڈٹیک کے دو معاون بانیان یعنی سابق بنک افسر اور آئی ٹی بزنس تجزیہ نگار پربھاکر سنگھ اور ایک بی بی اے ڈگری کے حامل اجیت کرواڑے کے دماغ کی اُپج ہے۔ انہوں نے محض ایک برس قبل اپنے چار ساتھیوں اویناش مہاجن (سی ٹی او) منصوبہ منتظم، اشوک مہتا ( سافٹ وئر ماہر) اور جتیندر شرما (سافٹ وئر ماہر) وغیرہ کو اپنے ساتھ ملاکر اس کی بنیاد رکھی۔ بربھاکر بتاتے ہیں، 'میرا ماننا ہے کہ ہمارے ملک میں رشوت ستانی کی اصل وجہ ہماری بے خبری ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ TIN ٹِن نمبر لینے کے لئے محض ایک آن لائن فارم بھرنا ہوتا ہے اور اس کی کوئی فیس نہیں دینی پڑتی جبکہ ایجنٹ لوگ اس کام کے لئے دس ہزار روپئے تک وصول کر لیتے ہیں۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے ای۔گورننس اور ڈجِٹل انڈیا کے بارے میں سنتا آرہا تھا لیکن اسے ممکن کر دکھانے کے لئے آلات اور سہولیات کہاں دستیاب تھے؟ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے سلسلے میں میرا خواب ایک ایسے اپلیکیشن کی تیاری کا تھا جو لوگوں کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرے۔'

ایڈ ورلڈ ٹیک کی ٹیم اب تک 5 بین الاقوامی کاروباری منصوبہ مقابلوں میں حصہ لے چکی ہے جن میں سے تین مقابلوں میں یہ ٹیم کامیابی حاصل کرچکی ہے اور اپنے اسٹار ٹ اپ کو جاری رکھنے کے لئے ضروری سرمایہ کی فراہمی میں بھی یہ ٹیم کامیاب رہی ہے۔ نتیجتاً اب تک یہ ٹیم 'بغیر نفع یا نقصآن' کے اصول پر کاروبار کرنے میں کامران رہے ہیں۔ انہوں نے لگاتار کام کرکے پندرہ ہزار سے بھی زیادہ خاندانوں کا سروے مکمل کیا جس نے انہیں اپنی اپلیکیشن کو شروع کرنے سے پہلے بازار کی جانکاری لینے اور گنجائش تلاش کرنے میں مدد کی۔ اس تحقیقی سروے کے ذریعے انہیں پتا چلا کہ 90 فی صد مقامی شہریوں کو اپنے کارپوریٹرس کے بارے میں کوئی واقفیت نہیں ہوتی؛ 85 فیصد لوگ کسی بھی طریقے سے اپنے منتخب کردہ کارپوریٹر سے جُڑے ہوئے نہیں ہیں اور ان میں سے 70 فی صد اینڈرائیڈ فونس کا استعمال کرتے ہیں۔

اجیتیش کہتے ہیں،' ہم جلد ہی پیسہ کمانے میں کامیاب ہوں گے اور ہم اس بات کو لے کر بالکل بھی فکرمند نہیں ہیں۔ ہم کچھ بہترین کمرشیل اپلیکیشنس تیار کرنے کے عمل میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم اگلے لوک سبھا انتخابات کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس ہر حلقہء انتخاب سے متعلق مطلوبہ ڈاٹا موجود ہے جو مستقبل میں سرکار اور انتظامی اداروں کے لئے بہت فائدہ مند ہوسکتا ہے۔'

یہ بے حد تعجب کی بات ہے کہ جب سوشل میڈیا اور موبائل اپلیکیشن کے شعبہ میں کڑی مسابقت کا دور چل رہا ہے، ایسی صورت میں اس اسٹارٹ اپ کا اب تک کوئی مقابل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے بانیان کا ماننا ہے کہ ' جنتا چوپال' ایک الگ نوعیت کی اور عالمی سطح کی اولین سیاسی اپلیکیشن ہے۔ اس کے بانیان اب اس میں سرمایہ کاری کے لئے سرمایہ کاروں سے گفت و شنید کرنے کے علاوہ اسے پیٹنٹ کروانے کے عمل سے بھی گزر رہے ہیں۔

اس درمیان پیش آنے والی تاخیر ان کے ارادوں کو ڈگمگا نے میں ناکام رہی ہے۔ یہ لوگ تا حال اپنے دم پر بغیر کسی سرمائے اور رہنمائی کے تحقیق کر تے رہے ہیں۔ بربھاکر کہتے ہیں،' میرا ماننا ہے کہ ہمارے ملک میں رشوت ستانی سے پاک نظامِ حکومت کسی خصوصی سرکار کے ذریعے نہیں بلکہ تکنک کے زور پر لایا جاسکتا ہے۔ آنے والا وقت ٹکنالوجی کا دور ہے اور لوگ اپنی آغوش وا کرکے اس دور کا استقبال کر رہے ہیں۔'

جیسے جیسے اس اپلیکیشن کا چرچا اندور کی مصروف سڑکوں سے نکل کر دیگر شہروں تک پھیلتا جارہاہے، اس سے امید بندھ رہی ہے کہ 'جنتا چوپال' کو ملک کے دیگر حصوں سے بھی مداحین اور استعمال کنندگان دستیاب ہوسکیں گے۔