80 سال بعد کھلا فلکنما کا کورونیشن ہال ..گرل ریستوراں میں تبدیل

0

شاندار فن تعمیر، ہنڈی کرافٹ اور لکڑی میں کاریگری کے بہترین نمونے کے لئے دنیا بھر میں مشہور فلكنما پیالیس کا کورونیشن ہال آخر کار 80 برس بعد عام لوگوں کے لئے کھل گیا ہے۔ ہوٹل تاج فلكنما پیالیس نے اسے ایک گرل ریستوران میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاج گروپ کو فلكنما پیالیس کی ذمہ داری سنبھالے پانچ سال پورے ہو گئے ہیں۔ اپنی سالگرہ کے طور پر کورونیشن ہال کی تزئین فلكنما کے لئے بڑی کامیابی ہے۔

تاج فلكنما پیالیس کے جنرل منیجر گریش سہگل نے بتایا کہ دو سال کی انتھک کوششوں سے کورونیشن ہال اپ گریڈ کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمارت میں تاج گروپ کے ہوٹل کا ایک مقصد تاریخی وراثت کو سنبھالنا بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت كورونیشن ہال کی تجدید و تزئین کی گئی ہے، اس میں كورونیشن گرل ریستوران قائم کی گئی ہے۔ یہ آپ کی طرح خوبصورت ریستوران ہے جہاں سے دور دور تک حیدرآباد کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ گریش سہگل نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتہ کی شام یہ ریستوران کھلا رہے گا۔ اس میں دنیا بھر کی مشہور بھنی ہوئی ڈشیں دستیاب ہوں گے۔

كورونیشن حال کی اپنی الگ تاریخ ہے۔ 122 سال کی عمر اس عمارت میں چھٹے نظام میر محبوب علی خان نے 1903 میں جب ایڈورڈ ہشتم اور ملکہ الیگزینڈرا کوہندوستان کی بادشاہت اعلان کرنے کے لئے دہلی دربار سجایا گیا تھا، تو حیدرآباد کے نظام نے وہاں سے لوٹتے ہوئے ملک بھر سے آئے لکڑی کے کاریگروں کی مہنگی فنکارانہ چیزیں خریدی تھیں، جسے ملک کے کسی پرنس یا مہاراجہ نہیں خرید سکے تھے۔

نظام نے ان نمونوں سے فلكنما پیالیس کا کورونیشن ہال سجایا تھا۔ تاج کے ساتھ منسلک مؤرخ پربھاکر نے بتایا کہ ان فنپاروں میں مغل، ہندو، بدھ مت اور تھائی ثقافت کی حیرت انگیز جھلک موجود ہے۔ شاہ جہاں نے تاج محل میں اور اورنگ زیب نے بی بی کے مخبرے میں جو جالیدار کام سنگ مرمر میں کیا ہے، وہی کام ای ہال کی دیواروں پر لگی لکڑی میں کیا گیا ہے۔ بلکہ رام نے جنگل میں سیتا کے لئے جو پرنكٹی بنائی تھی، اس کا بہت خوبصورت نظارہ ان فنپاروں میں کیا جا سکتا ہے۔

قابل زکر ہے کہ نظام کی وراثت کے تاریخی محلات میں فلکنما اور خلوت'چومحلہ' پیالیس کی کو محفوظ کرکے اس کی تزئین نو میں پرنسیس ایسرا کا اہم رول رہا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem