پُرانے جوتے جمع کرنے سے اولمپک مشعل تک... دُنیا بدلنے کے عزائم رکھنے والی 17سالہ لڑکی 

1

ایک 17 سال کی لڑکی ضرورت مندوں کے لئے جوتے جمع کرنے جیسے، اپنی عمر سے بڑے کام، آخر کیوں کر رہی ہے جن کی اِس کم عمری میں توقع ہی نہیں کی جا سکتی؟

انتہائی پرسکون آواز اور اپنی عمر سے کہیں زیادہ پختہ انداز میں’ سمرن ویدوياس‘ مجھے دبئی سے فون پر بتاتی ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر رہی ہیں وہ آخرکیوں کر رہی ہیں۔

پڑھائی لکھائی میں اوّل رہ کر ہمیشہ ہی امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ خدمتِ خلق کے اپنے عزائم کےلئے ’ہارٹ آف گولڈ‘ اور ’پرنسیس ڈائنا انٹرنیشنل ایوارڈ ‘سے نوازی جاچکی یہ نوجوان ترک دوشیزہ ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) نوجوان گروپ ’سینرجی‘ (SynergY) کی بانی اور صدر ہیں ۔ اپنی اس این جی او کے ذریعے یہ استحکام، انسانی حقوق، غربت اور بھوک کے خاتمے، پینے کے لئے صاف پانی کی دستیابی، تعلیم، صحت مند زندگی اور سب کے لئے بنیادی صحت مندی جیسی خدمات کو عملی اور یقینی بنانے کی پیروی کرتی ہیں ۔ اِن سب کے علاوہ صحت، امن، ماحولیات، نوجوانوں کے حقوق و اختیارات ، صنفی مساوات اور سب کے لئے تعلیم جیسے معاملات انہیں ہر دل عزیز ہیں۔

’يوراسٹوري‘ نے ’ سمرن‘ سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیا عوامل ہیں جو انہیں اِن مقاصد کو اپنانے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے سوچنے کی تحریک دیتے ہیں۔

ابتدائی برتری

’سمرن‘ نے بہت چھوٹی عمر میں ہی اپنے قدم آگے بڑھا دئیےتھے ۔ صرف 7 سال کی عمر میں ہی وہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں واقع ’مشنريزآف چیریٹی ‘کے مرکز میں آنے جانے لگی تھیں ۔ حالانکہ اس عمر میں وہ مریضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہتی تھیں ۔ اُس وقت اُن کی دادی انہیں اپنے ساتھ اس مرکز میں لے کر جاتیں اور’سمرن‘ کو اُن تمام باتوں سے آگاہ كرواتيں۔

’’ میَں اب تک جتنے بھی لوگوں کو جانتی ہوں ، اُن میں میری دادی سب سے زیادہ مضبوط شخصیت کی مالک ہیں اور انہوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ہے ۔ انہوں نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد کی کہ یہ لوگ ہم سے ا س قدر مختلف کیوں ہیں ۔ اور اِس سے بھی زیادہ اُن لوگوں کی حالت کے بارے میں دادی نے مجھے سمجھایا کہ میَں اُن کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور انہوں نےمجھ میں رحمدلی اور ہمدردی کے جذبات بیدار کرنے میں ایک اہم کردار نبھایا ۔ اس کے اگلے سال میرے خاندان نے فیصلہ کیا کہ میں دوبارہ اس مرکز میں جاؤں اور اِس بار میں پہلے کی بہ نسبت زیادہ پُر اعتماد تھی ۔ گزشتہ آٹھ برسوں سے میَں مسلسل اس مرکز کا دورہ کر رہی ہوں اور اب تو کئی بچّے مجھے پہچاننے بھی لگے ہیں اور میں خود بھی بڑی بے صبری سے وہاں جانے کا انتظار کرتی ہوں ۔ آج میَں جو کچھ بھی ہوں اِن ہی دوروں کی بدولت ہوں،یہاں حاصل ہونے والے تجربوں اور تربیت نے میری شخصیت اور میری زندگی کے اہم فیصلوں کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے ۔‘‘

تقریباً اسی دوران ’سمرن ‘کا ماحولیات کے تئیں رجحان اور ذہن سازی اُن کے دادی دادا کے فارم ہاؤس پر ہوئی۔ وہ بچپن سے ہی پیڑ پودوں کی طرف متوجہ رہتی تھیں اور انہیں بڑھتے ہوئے دیکھ کر بے حد خوش ہوتی تھیں ۔’’ گھر کے باہر فطری ماحول میں رہنامجھے ہمیشہ سے ہی پُرسکون اورفرحت بخش احساس فراہم کرتا رہا ہے اور آج بھی حالات اُس سے مختلف نہیں ہیں ۔ میَں نے گھر پر ہی کاغذ، پرانے ڈبّوں اور دیگر اشیاء کو’ ری سائیکل‘ کرنا شروع کیا اور اُس کے بعد میَں اس سامان کو مختلف تنظیموں کے حوالے کر دیتی ۔‘‘

گزرتے وقت کے ساتھ اس بابت ’سمرن ‘ کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا گیا ۔ انہوں نے اب تک سماج اور ماحولیات کے فائدےکے لئے انتہائی کامیابی کےساتھ 60 سے بھی زیادہ منظم مہمات کی قیادت کی ہے، اور ہر مہم میں نوجوانوں نے بڑھ چڑھ كر حصّہ لیا ہے ۔ اُن کی اِن مہمات میں سب سے زیادہ غیر معمولی مہم کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مختلف اسکولوں اور اداروں میں زیر تعلیم 300 سے بھی زیادہ طالب علموں کے تعاون سے یو اے ای کے مختلف مقامات پر 2 ہزار سے بھی زیادہ درختوں کے پودے لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔

’ سینرجی‘ (SynergY)

سرکاری طور پر سال 2012 میں شروع ہونے کے بعد سے ’سینرجی‘ کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علم صحت، ماحولیات، تعلیم اور فلاح و بہبود کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سماجی ترقی اور ماحولیاتی شعبے میں کام کر رہے ہیں ۔ ’سینرجی‘ ہندوستان میں واقع’ كاسمو فاؤنڈیشن‘ کے تحت چلتی ہے اور اس کا میدانِ عمل ہندوستان اور متحدہ عرب امارات پر محیط ہے۔

پرانے جوتے جمع کرنا

’سمرن‘ 30 دنوں سے بھی کم وقت میں 3 ہزار جوڑی سے بھی زائد جُوتے جمع کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں ۔ بعد میں اِن جُوتوں کو امریکی ا مدادکے ماتحت تنظیم AMPATH کے تعاون سے افریقہ کے یوگنڈا اور کینیا میں ضرورت مندوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔

’ایباٹ ڈائی بیٹیز کیئر کانفرنس‘ (Abott Diabetes Care Conference) کے دوران’ سمرن‘ کے والد کی ملاقات افریقہ کے ذیابیطس کے مریضوں کے لئے جوتے جمع کرنے والی ’ لُو‘ (Lu) نامی ایک خاتون سے ہوئی ۔ ’سمرن‘ کے والد نے انہیں’ لُو‘ کی اِس کوشش سے آگاہ کیا ۔ بدقسمتی سے اس کانفرنس کے صرف دو دن بعد اپنے گھر واپس جاتے وقت’ لُو‘ کی اچانک موت واقع ہو گئی کیونکہ وہ ٹائپ 2 ذیابیطس سے متاثر تھیں ۔ حالانکہ ’ سمرن‘ کبھی بھی ’لُو‘ سے نہیں ملی تھیں لیکن انہوں نے اُن کے اس منصوبے کو اپنے ذمّے لینے کا فیصلہ کیا اور جُوتے جمع کرنا شروع کر دیا ۔’ سمرن‘ نے اپنی اس مہم میں سوشل میڈیا کا بھی تعاون لیا ۔ اسی دوران ’گلف نیوز‘ نے اُن کی اِس مہم کو آگے بڑھایا اور انہوں نے ’سمرن‘ کی ای میل بھی شیئر کی ۔’ سمرن‘ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ اُن کا ای میل باکس تعاون پر آمادہ متحدہ عرب امارات کے لوگوں کے پیغامات سے بھر گیا تھا ۔ بہت ہی کم وقت میں جُوتوں کو جمع کرکے افریقہ بھجوا دیا گیا۔

نوجوان نسل اور تبدیلی کی طاقت

’’ جی ہاں، مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ آج کے نوجوانوں کے پاس طاقت، تحریک وحوصلہ اور دنیا کو بدل دینے کا مادّہ ہے۔‘‘
نوجوان، باصلاحیت ، خیر اندیش اور فعال ’ سمرن ‘ کے لئے کامیابی کا صرف ایک سیدھا سا مطلب ہے، ’’صرف یہ یقین کہ آخر کار، دن کے اختتام پر میرے کام کی وجہ سے دنیا میں کم از کم ایک شخص پر تو مثبت اثر پڑا ہے ۔‘‘ '

اب تک اپنے اِن کاموں کے لئے ملی شناخت اور ایوارڈز کے درمیان سال 2012 میں لندن اولمپکس کی مشعل لے کر چلنے کے لئے اپنے منتخب ہونے کو ’سمرن‘ سب سے اہم مانتی ہیں۔

ہندوستانی نژاد ہونے کے باوجود’ سمرن‘ کی پیدائش اور پرورش دبئی میں ہوئی۔ وہ ہر سال ہندوستان کا دورہ کرتی ہیں اور اپنی جڑوں سے وابستہ رہنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ اِس نوجوان خاتون کے مطابق،  ’’عالمی امن میں سب سے بڑی رُکاوٹ مفکرین کی کمی اور لا تعلقی ہے ، سچّی محبت اور اعتماد کی کمی کے علاوہ مساوات کی سوچ میں اعتبار کی کمی ہے ۔ ہمیں گزرے ہوئے کل سے سیکھنے کے علاوہ آج کے لئے جینے اور آنے والے کل کے لئے پُر امیدرہنے کی ضرورت ہے ۔ ‘‘

بہر حال، اگر ایک 17 سال کی نوجوان لڑکی عالمی امن کا تصور کر سکتی ہے تو اِس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی بہتر مستقبل کے خواب دیکھ سکتے ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے اور’ مال‘ گھومنے جانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دوستوں کو بھی اپنی اِن کوششوں اور مہمات میں موثر کارکردگی کے لئے شامل کر لیتی ہیں ۔’’ ہمارے ذریعے کیا جا نے والا یہ کام اس قدر متاثر کن ہے کہ اپنے دوستوں کے ساتھ اس پر توجہ مرکوز رکھتےہوئے ’ویک اینڈ‘ گزارنا واقعی بہت خوشگوار تجربہ ہوتا ہے ۔ ‘‘

مستقبل کے منصوبے

’سمرن ‘کو آس پاس کے لوگوں اور اُن کی مشکلات کی گہری سمجھ ہے اور یہ خوبی اُن کی انقلابی ذہنیت اورصلاحیت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ پانچ سال بعد وہ میڈیکل اور سرجیکل سائنس کےمطالعہ کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ میری دلچسپی ہمیشہ سے ہی ہیلتھ سائنس میں رہی ہے اور میں آنے والے وقت میں اسی کا مطالعہ کرنا چاہتی ہوں ۔ طبی شعبےمیں روزانہ کچھ نیا ہو رہا ہے اور میں اس انقلاب کی ایک شریک کار ہونا چاہتی ہوں ۔‘‘

وہ’ امارات ینگ اچیورس ایوارڈ‘ (Emirates Young Achiever’s award) کے تعلق سے کافی پُرجوش ہیں جس کے لئے انہیں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں اس بات کی توقع ہے کہ کثیرعوامی حمایت اور اُن کی ساکھ انہیں فاتح کی شکل میں منظرِ عام پر آنے میں مدد کرے گی۔

قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza