سلم میں رہنے والے بچے بھی بنا سکیں فلمیں او ر لے سکیں آگے بڑھنے کی’ ترغیب

جب میں 5 سال کی تھی تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ بڑی ہوکر فلم میکر ہی بنو ں گی

0

فلم ایک ایسی صنف ہے جس کے تئیں ہر کسی کوعا م طورپر تھوڑی بہت دلچسپی ہوتی ہی ہے۔ خواہ عالی شان گھروں میں رہنے والے ہوں یا پھر جھگی میں رہنے والے لوگ۔ بس مماثلت یہ ہے کہ ہر کسی کے لئے فلمیں عموماً ایک خواب کی دنیاجیسی نظر آتی ہیں ۔ ایسا خواب جہاں سب کچھ ہے مگر ہم سے ماوراء ۔ اگر دوسروں کے ایسے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے کوئی کو کوشش کررہا ہو تو آپ کیاکہیں گے ۔ وہ بھی ان بچوں کے خواب سچ ثابت کرنے کی کوشش ہے جو سلم جھگی بستیوں میں رہتے ہوں ۔ دہلی کی رہنے والی پر یرنا سدھار تو کچھ ایسا ہی کررہی ہیں ۔ وہ دارالحکومت دہلی کے سلم علاقوں  میں رہنے والے بچوں کو نہ صرف سپنے دکھا رہی ہیں بلکہ ان سپنوں کو حقیقت میں کیسے پورا کیا جاتاہے یہ بھی بتارہی ہیں ۔ اتناہی نہیں پریرنا ایسے بچوں کے لئے واقعی پریرنا ہیں جواپنی زندگی میں آگے بڑھ کر کچھ ایسا کرنا چاہتی ہیں جن کے بارے میں زیادہ ترلوگ صرف سوچ ہی پاتےہیں ۔ پریرنا دہلی کے سلم علاقوں میں رہنے والے بچوں کو مفت میں فوٹو گرافی اور فلم سازی کی ٹریننگ دیتی ہیں ۔ اب تک وہ 60سے زیادہ بچوں کو فلمیں بنانا سکھا چکی ہیں ۔

پر یرنا سدھار تھ کے مطابق :

’’ جب میں 5 سال کی تھی تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ بڑی ہوکر فلم میکر ہی بنو ں گی۔ 11 سال کی عمر تک میں نے کیمرہ چلانا اور اسکرپٹ رائٹنگ کاکام سیکھ لیا تھا۔ اس دوران میں نے اپنی اسکولی پڑھائی بھی جاری رکھی ۔

پریر نا کے والد سبکدوش آئی پی ایس افسر ہیں اور ان کے والد کوسماجی کاموں سے کافی لگاؤتھا۔

اس لئے وہ بھی اپنے والد کے ساتھ ان کاموں کے لئے وقت دیتی تھیں ۔ پریرنا جب 16سال کی تھیں تب انھوں نے اپنے والد کے ساتھ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بچوں کے لئے 40دن کا ایجو کیشنل کیمپ لگایا۔

اس میں انھوں نے بچوں کو شارٹ فلم کے ذریعے پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ پریرنا کا خیال تھا کہ اگر اس طرح وہ بچوں کو پڑھائیں گی تو ان کی بات جلد سمجھ میں آئے گی کیوں کہ مناظر کو دیکھ کر بچے جلد سمجھتے ہیں ۔

پریر نا نے اسکولی پڑھائی کے بعد فلم میکنگ کاکورس کیا۔ فلم میکنگ کاکورس ختم کرنےکے بعد انھوں نے مختلف سماجی امور پر متعدد فلمیں بنائیں ۔ اس دوران دور درشن کے لئےکام کرتے ہوئے انھوں نے جھار کنڈ، اتراکھنڈ ، چھتیس گڑھ کے اندرونی علاقوں میں جاکر کیا۔ اس کے بعد پریرنا ’ کڈپاور میڈیا ‘ نامی ایک ادارے سے وابستہ ہوئیں ۔ یہاں پر کسی خاص موضوع کے تئیں بچوں کو بیدار کیا جاتا تھا۔ اس کے لئے وہ متعدد سلم علاقوں میں گئیں اوربچوں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس موضوع پر فلمیں بنانا چاہتے ہیں ۔ اس دوران ان کے سامنے ایسے کئی موضوعات آئے جن کو سن کر وہ چونک جاتی تھیں ۔ سلم میں رہنے والے بچے الکوحل جیسے سنگین موضوعات کے ساتھ گھر یلو معاملوں جیسے کہ اطفال شادی ، گھریلوتشدد پر فلم بنانے کے لئے کہتے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ فلم بنانے تک کے سارے کام میں ان بچوں کو شامل کیا جاتاتھا۔ حالاں کہ کچھ بچے ایسے بھی تھے جو اس دوران بالکل چپ چاپ رہتے تھے۔ اس لئے پریرنا نے ایسے بچوں کی شخصی ترقی پر توجہ دینا شروع کیا۔

پریرنا نے یورا سٹوری کو بتایا:

’’ اگر ہمیں اطفال شادی پر کوئی فلم بنانی ہوتی ہے تو سب سے پہلے ہم اس پر ریسرچ کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ بچہ شادی کے دوران اور اس کے بعد بچوں کے ساتھ کیا ہوتاہے۔ لوگ کیوں بچہ شادی کرتےہیں ؟ اگر کسی کی بچہ شادی ہوجائے تو اس سے کیسے بچاجاسکتاہے ‘‘ ۔

پریر نانے ان ساری معلومات کو اکٹھا کرنے کے لئے سلم میں رہنے والے بچوں کو شامل کیا جو زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ان کے لئے یہ سب چیز یں عام تھیں ۔ پریرنا کے مطابق سلم میں رہنے والے کئی بچے بےنظیر ہوتے ہیں ۔ جن میں فلم سازی کے اوصاف پیدائشی ہوتے ہیں ۔ فلم سازی کے دوران بچوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کہاں پر کون ساشاٹ لینا ہے۔ کہانی میں کیسے ٹوئیسٹ لانا ہے۔

کیمرے کا اینگل کیسا ہوگا وغیرہ ۔ یہ سب چیز یں  بچے اپنے آپ کرتے ہیں ۔

پریر نا سماج کے لئے کچھ کرنے کی چاہت میں سال2012میں  دہلی کے سلم میں رہنے والے بچوں کو فلم میکنگ کا کام سکھانا شروع کیا۔ شروعات میں سلم میں رہنے والے بچوں کے والدین کو اس کام کے لئے کافی سمجھا نا پڑا ۔ یہ بچے ایسے کنبوں سے آتے تھے جو کہ پیسہ کمانے میں  اپنے والدین کی مدد کرتے تھے۔ پریرنا نے تب فیصلہ کیا کہ وہ سنیچر اور اتوار کے دن ان بچوں کو فلم سازی کاکام سکھا ئیں گی۔

کیوں کہ اس دن ان بچوں  کی چھٹی ہوتی تھی۔ انھوں نے اس کام کو اپنے دوست کیون کے ساتھ شروع کیا۔ اس کے لئے انھوں نے دہلی کے ایسٹ آف کیلاش میں اپنا ایک اسکول کھولا۔ جہاں وہ ان بچوں کو فلم میکنگ سے متعلق ہر معلومات فراہم کرتی ہیں ۔ وہ سلم میں رہنے والے بچوں کو ایڈیٹنگ، اسکرپٹ رائٹنگ اور دوسری چیز یں سکھاتی ہیں ۔ پریرنا کاخیال ہے کہ فلم میکنگ ایک آرٹ ہے جب تک کسی بچے میں وہ آرٹ نہیں ہوگا وہ اسے نہیں  سیکھ سکتا ، لیکن سلم میں  رہنے والے کافی بچوں میں یہ خصوصیت پیدا ئشی ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جن بچوں نے پہلے کبھی کیمرہ تک نہیں  دیکھا تھا وہ جب پہلی بار کیمرہ پکڑتے ہیں  تو کچھ کرنے اور سیکھنے کی چاہت ان میں کافی زیادہ نظر آتی ہے۔ ان بچوں کو جب بھی فوٹو کھینچنے کا موقع ملتاہے تو وہ بہترین فوٹو کھینچتے ہیں ۔

پریر نا اب تک دہلی کے مختلف سلم علاقوں میں رہنے والے تقریباً 60 بچوں  کو فلم میکنگ کا کام سکھا چکی ہیں ۔ وہ ایک وقت میں 8 بچوں کو اس کی تعلیم دیتی ہیں ۔ وہ انہیں بچوں کا انتخاب کرتی ہیں  جن میں انھیں  اس کام کے تئیں دلچسپی نظر آتی ہے اور انھیں لگتا ہے کہ یہ بچہ آگے چل کر اس میدان میں کچھ اچھا کام کرے گا ۔ دہلی میں اس کام کو سیلم پور ، مالویہ نگر، تغلق آباد ،اوکھلا ، اتم نگر جیسے سلم ایریا میں کر رہی ہیں ۔

فنڈنگ کے بارے میں پریرنا کا کہنا ہے کہ انھیں کہیں  سے بھی کوئی فنڈ نگ نہیں  مل رہی ہے۔ وہ او ر کیون ہفتے میں 5 دن نوکری کر کے اور اپنی بنائی فلموں کو کار پور یٹ یا دوسرے لوگوں کو فلم دکھا کر جو کماتے ہیں اسی بچت سے وہ ان بچوں  کو سکھاتے ہیں  ۔ اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کو فنڈنگ ملتی ہے تویہ کام کی توسیع کرکے زیادہ سے زیادہ بچوں کو فلم میکنگ کاکام سکھا نا چاہتی ہیں ۔

............

قلمکار : گیتا بشٹ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Geeta Bisht

Translation By : Mohd.Wasiullah Husaini

..........

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں ۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں ۔

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

حیدرآباد سے شروع ہوا تھا جانی لیور کی کامیڈی کا اصلی سفر

20لاکھ سے زائد پنچانگ میگزین بیچنے والا ’کال نرنے‘