چپس کی لذت اور بے روزگاری کا تڑکا ... برانڈ بازار میں نام کمانے کی محمد عبدالجلیل کی خواہش

1

مشکل حالات سے نکل کر شروع کیا کامیابی کا سفر

زندگی میں مصیبت کے ساتھ راحت بھی ہوتی ہے۔ مشکل حالات سے مقابلہ کرنے سے کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ عملی زندگی میں اس بات کو محمدعبدالجلیل نے ثابت کردیا ہے۔ ایک وقت میں وہ بالکل بے روزگار تھے اور آج وہ 6 لوگوں کو روزگار فراہم کررہے ہیں۔

عبدالجلیل کے والد صاحب ہائی کورٹ میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔ وہ گھر کے سب سے چھوٹے تھے۔ ان سے بڑے 7 بھائی ہیں۔ انھوں نے اپنی محنت سے غربت کو دور کیا۔

محمدعبدالجلیل کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ انھوں نے ثابت کردیاکہ محنت کرنے سے کسی بھی شعبہ میں نام کمایاجاسکتاہے۔ انھوں نے آلوچپس بنانے کا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جس کے ذریعے انھوں نے دوسروں کو بھی روزگار مہیا کیا۔

آغاز کے بارے میں وہ بتاتے ہیں،'' ایک مرتبہ میں آلوچپس کھارہا تھا۔ میں نے دکاندار سے پوچھا یہ کہاں سے آتے ہیں۔ اس پر دکاندار نے کہاکہ بنجارہ ہلز پر تیار ملتی ہے۔ میں نے وہاں پر جاکر کارخانہ کا معائنہ کیا۔ وہاں پر گجرات کے لوگ کام کررہے تھے۔ ان سے مل کر میرے دل میں بات آئی کہ بیرون ریاست سے آکر لوگ اس کام کو کررہے ہیں تو میں یہاں پر رہ کر یہ کام کیوں نہیں کرسکتا۔ بس پھر کیاتھا میں نے ارادہ کرلیا کہ وہ اس کام کو ضرور کروں۔''

ایک بے روزگار نوجوان کے لیے کوئی کاروبار شروع کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ عبدالجلیل کے پاس پیسے بالکل نہیں تھے۔ اس کام کےلیے 50ہزار روپیوں کی ضرورت تھی۔ انھوں نے اپنے رشتہ داروں سے 50 ہزار روپے کا قرض لے کر 2012ءمیں کارخانہ کا آغاز کیا۔

کارخانہ کے آغاز کے ساتھ ہی مشکلوں کا خاتمہ نہیں ہوا۔ بلکہ اصل مرحلہ تو اب تھا۔ عبدالجلیل نے اپنی جدوجہد کے تعلق سے بتایا،”کاروبار کے آغاز کے بعد مارکٹنگ کا مرحلہ بہت مشکل تھا۔ جب ہم کسی بیکری یا دکاندار کے پاس جاتے تو وہ ہمیں سڑک سے ہی منع کردیتے تھے۔ ہمیں اس سے بہت دل شکنی ہوتی تھی۔ لیکن ہم نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ ہم نے اپنے ذائقہ دار چپس چکھنے کے لیے کہا۔ اس کے بعد دریافت کیا کہ آپ اس قدر جلد منع کیوں کردیتے ہیں تو دکاندار نے بتایا کہ لوگ چپس لے کر آتے ہیں، لیکن دوچار دن بعد پھر غائب ہوجاتے ہیں اس لیے ہم نئے لوگوں کو ترجیح نہیں دیتے۔ ہم نے اپنی خدمات کا تعارف کروایا اور کہا کہ آپ کو ہمیشہ ہم یہ چپس فراہم کریں گے ۔ کئی دن بعد تک جدوجہد کے بعد آہستہ آہستہ کاروبار جمنے لگا“۔

مارکٹنگ کے دوران پیش آئی مشکلات سے مقابلہ کے بعد انھوں نے راحت حاصل کی۔ کئی اسکولس، کالج، دواخانوں کی کینٹن میں اپنے چپس کو پہنچایا۔ پرانے شہر کی تقریباً دکانوں میں انھیں کے چپس سپلائی ہوتے ہیں۔

عبدالجلیل نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک روزگار تلاش کرنے کی کوشش کی۔ وہ خلیج ممالک میں چار سال رہے۔ وہ بتاتے ہیں،" میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد میں نے باہر روزگار کو تلاش کیا۔ لیکن میرا دل وطن کی طرف لگا رہتا تھا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ اب وطن جاکر ہی کچھ کروں گا۔ اس طرح چارسال بعد میں وطن واپس آیا۔ ''

آج ایک بائیک اور ایک بجاج چیتک کے علاوہ ان کے پاس ایک ویان بھی ہے۔ جس کے ذریعہ وہ کاروبار کرتے ہیں۔

بےروزگاری دور کرنے والے ادارہ ”صنعت و تجارت“ پر انھوں نے متعدد مرتبہ بے روزگارنوجوانوں سے خطاب بھی کیا ہے۔ جس میں انھوں نے بے روزگاروں کو ترغیب دی کہ وہ کس طرح اپنی بے روزگاری دور کرسکتے ہیں۔ اس تعلق سے پوچھنے پر عبدالجلیل نے بتایا ، ”صنعت و تجارت ادارہ پر میں نے بے روزگاروں کے لئے خطاب بھی کیا ہوں۔ جس میں چپس کے کاروبار کو تعارف کروایا۔ نوجوانوں کو بتایا کہ وہ اپنی بیروزگار دور کرنے کے لےے خود کا کاروبار کرسکتے ہیں یا پھر میرے پاس سے تیار چپس لے کر اس کی مارکٹنگ کرسکتے ہیں۔ کئی لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور چپس کے کاروبار میں لگ گئے۔ اس کاروبارمیں وہ ثابت قدم بھی نہ رہ سکے۔ چند لوگ ہی اس کاروبار کو جاری رکھ سکے“۔

کوالٹی کے بارے میں وہ بتاتے ہیں، ”چپس کے لیے آلو ،مصالحے وغیرہ حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ بازار خراب مال بہت زیادہ ہے۔ اچھے مال کی پرکھ ہونا چاہیے۔ خراب آلو خریدلائے تو سارا مال بے کار ہوجائے گا۔ اسی طرح دن بھر بھٹی کے سامنے بیٹھنا بھی مشکل کام ہے۔ تیل کی کڑھائی میں چپس کو مناسب انداز میں پکانا پڑتاہے۔ اسے کم تلا گیا تو یہ کچے رہ جاتے ہیں اور زیادہ آگ لگائی گئی تو جل جاتے ہیں۔ اس کے بعد نمک وغیرہ ملانا ہوتا ہے۔ پیکنگ وغیرہ کے بعد یہ تیار ہوجاتے ہیں“۔

آئندہ کے لیے پر عزم ہیں۔ مستقبل ایک چپس کا برانڈ مارکٹ میں لانا چاہتے ہیں ۔ لالہ جی چپس کے نام سے وہ بہترین کوالٹی کے چپس مارکٹ میں لانا چاہتے ہیں۔

چپس کے تعلق سے انھوں نے بتایا کہ وہ کارخانہ میں تین طرح کے مصالحہ ، نمک اور ٹماٹر کے چپس ۔ اس بارے میں انھوںنے بتایا، ”نمک کی چپس لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ تمام چپس کے درمیان میں ہم نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ جڑیں اور اپنی بے روزگار دور کریں۔