نوکری پیشہ لوگوں کی زندگی میں بہتر خوراک دینے کی کوشش کا نام ہے ’فٹ گو‘

0

ہم میں سے زیادہ تر لوگ اسکول اور کالج کے دنوں میں جسمانی سرگرمی یا کھیل کے کچھ فارم میں شامل ہوتے تھے۔کئی لوگوں کے لئے یہ سنجیدہ مقابلہ ہوتا تھاتو کچھ لوگوں کے لئے یہ تفریح بھرا ۔ جب کبھی ہم اپنے کام میں مصروف ہوجاتے ہیں تو جسمانی سرگرمیاں ایک دم رک سی جاتی ہیں۔ اسی سٹیک حالت میں بٹس پلانی کے سابق طلباء انوپم گرگ ، انکت اگروال اور نریندر دھیرن ا یس نےبھی خود کو پایا ۔ اولا ، مائی واش اور پیکیج منی کے کارپوریٹ کے ماحول میں کام کرتے ہوئے ان تینوں کو احساس ہوا کہ یہ زیادہ تروقت دفتر میں کمپیوٹر کے سامنے کام کرتے ہیں۔ بے وقت کام اور زیادہ تر وقت غیر صحت مند کھاناکھاتے ہیں انہیں احساس ہوا کہ دیگر پیشہ ورلوگوں کی طرح ان کا بھی وزن بڑھ رہا ہے اوریہ بیماریوں کو کھلی دعوت ہے ۔ گذشتہ سال انوپم نے خوراک اسکیم پر عمل بھی کیا تاکہ وہ اپنے وزن کو قابو کرپائے۔ حالانکہ اس تجربے میں روز آنہ کچھ چیزیں خرید نی پڑتیں اور دن میں چھ بار کھاناپکانا پڑتا ۔یہ کوشش وقت کی بربادی اور تھکانے والی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اس خیال کے ساتھ آئے کہ جولوگ سخت متوازن غذا پروگرام پر عمل کرتے ہیں ان کے مسئلہ کو حل کرنا چاہئے ۔ اسی خیال نے ’فٹ گو‘ کو پیدا کیا ۔ Fitgo ایسے پیشہ ور لوگوں کی مدد کرتاہے جو طرز زندگی کے نقص سے دوچار ہیں ۔ ایسے لوگوں کی ضرورت کے مطابق ٹیلر میڈ میلس کو Fitgoصارفین کے گھروں تک ڈیلیور کرتاہے ۔

تھوڑی ریسرچ کے بعد انھوںنے پایا کہ بنگلورمیں دس میں سے چار لوگ موٹاپے کے شکار ہیں۔ تقریباً 70 فیصد زائد وزن والے ہیں ۔ ستائیس سال کے انوپم کے مطابق :

’’ بنگلور کی 26 فیصد سے زائد آبادی ذیابیطس سے متاثر ہے جب کہ چارمیں سے تین شہریوں کو دل کی بیماری کاخطرہ ہے اور اس کے لئے خراب طرززندگی اور خاص طور سے غیر صحت مند کھانا ذمہ دار ہے۔ ‘‘

تینوں نے علاقہ کے ڈاکٹروں اور ممتاز ماہرین غذا سے بات کی اور یہ جانا کہ ماہرین کے ذریعہ سفارش کردہ کھانے کی طلب اور فراہمی میں بڑا فرق ہے ۔ڈاکٹر اور مصدقہ غذا ماہرین کی مدد سے ٹیم نے مقوی پلان ریڈی ٹو کنزیوم فارمٹ میں تیار کیا۔انوپم کہتے ہیں کہ پلانڈ میل پیکچ کے پیچھے دلیل ہے کہ یہ غذا سائنس کا استعمال کرکے مختلف صحت ضرورتوں کے مطابق کنٹرول اور بیلنس کرتا ہے۔

مختلف پلان پر کام

انوپم کہتے ہیں کہ تناؤ مینجمنٹ آرام دہ کھانا مہیا کراتا ہے ۔جو برین سیلس کو خاموش کرتاہے اور کورٹی سیل اور انڈرینالائن کی سطحوں کو کم کرتاہے ۔ قوت مدافعت کو فروغ دینے والا پلان وٹامن سے بھرپور غذا مہیا کرتا ہے، جو جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کے امراض اور انفیکشن کے تئیں حساس بناتاہے۔ انوپم کے مطابق ،

’’ہم نے صارفین کی مختلف ضرورتوں کو میپ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے طرح طرح ایکو سسٹم شراکت دار جیسے جم خانہ ، فٹنس اسٹوڈیو ، ڈائیلیکٹا لوجی، ڈاکٹروں جو الگ الگ جگہوں پر کام کرتے ہیں اور پیشہ ور لوگ جو ہماری سروس لینے والے آخری گاہک تھے ۔ ‘‘

انوپم کہتے ہیں کہ ان ضرورتوں کے مطابق اسٹارٹ اپ نے دوطرح کے آفر پیش کئے ہیں ۔

2۔ بالواسطہ رکنیت کے لئے جنرل پلان دستیاب : اس پلان کی قیمت 299روپیہ یومیہ ہے اور یہ پلان سیلس کے ارتقاء ، وزن مینجمنٹ ، تناؤمینجمنٹ ، قوت مدافعت میں اضافہ اور کولیسٹرول کے لئے خریدی جاسکتی ہے۔

2۔ خصوصی صلاح کی بنیاد پر اسکیم : زیادہ سنگین مسائل جن میں قریب سے توجہ دینے اور زیادہ اپنے لئے معقول بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گاہک ماہر سے یا تو آن لائن یا پھر ذاتی طورپر مل کر ڈائٹ پلان بناسکتا ہے۔ وہ اپنی میڈیکل تاریخ اور موجودہ صحت حالات کو دیکھتے ہوئے پلان تیار کرسکتا ہے۔

ڈائٹ پلان اور غذا Fitgoکے باورچی خانے میں تجربے کار خانسامے تیار کرتے ہیں۔ ٹیم کے سامنے بڑا چیلنج اس وقت پیش آیا جب انھیں صاف ستھری اور بنارکاوٹ کی سپلائی چین قائم کرنی تھی۔ ٹیم کو کوالٹی چیک کابھی پوراخیال رکھنا تھا۔

مستقبل کا منصوبہ

انوپم کے مطابق گذشتہ تین مہینوں میں کمپنی کے پاس2000گاہک آئے ہیں اور کمپنی 5000ایگزیکٹیو کوکھانا پیش کررہی ہے ۔ سبھی سروس بنگلور میں فراہم کی جارہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے دہرانے والے صارفین کی تعداد 20فیصد ہے۔ بوٹ اسٹریپڈ کمپنی کاکہنا ہے کہ ان کا ریونیو کچھ لاکھ روپئےکا ہے۔

یوراسٹوری کا نظریہ

Fitgoکا آئیڈیا یقینی طورسے موجودہ صحت اور غذا تکنیک پلیٹ فارموں کو ساتھ لاتا ہے ۔ حالاں کہ ٹیم نے ہمارے ساتھ اعداد وشمار شیئر کئے جس سے پتا چلتا ہے کہ کمپنی ٹریکشن کررہی ہے۔وقت کے ساتھ ہی پتا چلے گا کہ کیا واقعی ٹیم زیادہ آرڈر کو سنبھال پاتی ہے یا نہیں۔ ایک اور چیز ، غذا اور صحت تکنیک پلیٹ فارموں میں دیکھا گیا ہے کہ ٹیئر ایک شہر جیسے بنگلور میں کھنچاؤ کی جتنی ضرورت نئے اسٹارٹ اپ کو ہوتی ہے اتنی اس کو مل جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیداہونے لگتا ہے جب اسٹارٹ اپ جغرافیائی توسیع کرنے لگتا ہے۔

قلمکار : سندھو کشیپ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Sindhu Kashyap

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

Related Stories