وہیل چیئر پر ’یوگا‘ سے معذورں کی زندگی سنوارنے کی کوشش ...

0

’گرو پاشا ‘ صرف یوگا کرنا ہی نہیں سکھاتے بلکہ چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے عقیدے کے مطابق عملی اور روحانی یوگا کے ذریعے طرح صحت مند رہ سکیں

یوگا خوداعتمادی بڑھاتا ہے اورچھپی ہوئی صلاحیتوں کو باہر نکالتا ہے


آپ نے لوگوں کو دو پیروں پر تھركتے ہوئے اکثر دیکھا ہو گا، لیکن کیا آپ یقین کریں گے کہ وہیل چیئر میں بھی اتنا ہی بہتر ہندوستانی کلاسیکی رقص اور یوگا کیا جا سکتا ہے؟ اِس مشکل کام کو آسان بنانے کا کریڈٹ جاتا ہے ’ سیّد صلاح الدين پاشا‘ کو۔ پاشا یوگا کے کافی شوقین ہیں ۔ اسی یوگا کی وجہ سے وہ چھ سال کی عمر میں اپنے ساتھ کے بچّوں کے مقابلے زیادہ چست اور پھرتیلے تھے ۔ اُن کو موسیقی کے سُر تال اور سنسکرت کے شلوكوں کی اچھی معلومات ہے ۔ اُن کا خیال ہے کہ اچھی چیزیں سیکھنے کے لئے کبھی بھی کوئی مذہب آڑے نہیں آتا ۔ پاشا کا کہنا ہے یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ دوسروں کو یوگا سكھائیں کیونکہ یہ مساوات، انصاف اورخود اعتمادی سے متعلق ہے۔

’گرو پاشا‘ محسوس کرتے ہیں کہ ایک خاص طبقے یا کمیونٹی کی روح، دل و دماغ اور جسم کوجوڑنےکی سخت ضرورت ہے اور یہ کمیونٹی ہے جسمانی طور پر کمزور لوگ ۔ گزشتہ 40 برسوں کے دوران انہوں نے یوگا کے فلسفہ پر کافی کام کیا ہے ۔ اِس کا فائدہ اُن لوگوں کو ملا ہے جو جسمانی طور پر کمزور ہیں ۔

’گرو پاشا‘ کے مطابق یوگا کوئی سنک یا خبط نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کا فلسفہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے پیروکاروں میں’ سوامی وویکانند، رام کرشن پرم ہنس‘ جیسے لوگ رہے ہیں ۔

گرو پاشا جب جسمانی طورسے کمزور لوگوں کو یوگا سکھاتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے طالب علموں کو’پنچ بھُوت‘ (The Five Elements) کے دوران توازن بنانے میں مدد ملے ۔ یہ ہماری کائنات کا ایک حصہ ہے۔ یہ صرف یوگا کی طرح ایک ورزش نہیں ہے بلکہ یہ موسیقی، رقص، منتر، کیفیت اور روحانیت کا مرکب ہے۔

’گرو پاشا ‘کے مطابق ’’میَں صرف یوگا کرنا ہی نہیں سکھاتا بلکہ چاہتا ہوں کہ لوگ اپنے عقیدے کے مطابق عملی اور روحانی یوگا کے ذریعےکس طرح صحت مند رہ سکیں ۔‘‘ اپنے ابتدائی دنوں میں’ گرو پاشا‘ پانی میں’ پدماسن، شوآسن‘ اور ’پرانایام‘ کی کافی مشق کیا کرتے تھے۔ کسی بھی انسان میں جسمانی نااہلیت پیدائش سے، کسی حادثے میں یا ذہنی معذوری سے ہو سکتی ہے ۔

یوگا صرف خوداعتمادی بڑھاتا ہے اورچھپی ہوئی صلاحیتوں کو باہر نکالتا ہے ۔ مثال کے طور پر وہیل چیئر میں ’گرو پاشا ‘کے شاگرد ’شيرش آسن‘ اور ’ميورآسن‘ جیسے مشکل’ آسن‘ اپنے رقص میں کرتے ہیں ۔ ’گرو پاشا‘ کے مطابق اس عمل میں وہ وہیل چیئر جسم کا ایک حصّہ ہوتی ہے ۔ یہ ’آسن‘ ان کی جسمانی اور ذہنی رکاوٹوں کو کھولتا ہے، جو یہ احساس دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جسمانی طور پر کمزور نہ سمجھیں۔ یہ انہیں آزادی دیتا ہے۔

’ ایبی لٹی ان لمیٹڈ فاؤنڈیشن‘ ایک فلاحی تنظیم ہے جسے’ گرو پاشا‘ نے قائم کیا تھا ۔ یوگا کی مشق ڈانس تھیراپی، موسیقی تھراپی، روایتی یوگا علاج، گروپ تھیراپی اور رنگوں کے ذریعے علاج کا مرکب ہے۔ ’گرو پاشا‘ کے مطابق جب آپ موسیقی پر یوگا کرتے ہیں تو اُس کی ایک تال بھی نہیں چھوڑنا چاہتے ۔ اس سے یکسوئی کی صلاحیت بڑھتی ہے ۔ یوگا کے ساتھ کسی تنظیم کو چلانے کی اپنی مخصوص مشکلات ہیں، خاص طور سے اس وقت جب کہ طالب علم جسمانی طور پر کمزور ہوں ۔’گرو پاشا ‘کے مطابق اُن کے ساتھ شامل ہونے والے ہر طالب علم کی جسمانی کمزوری یا معذوری مختلف ہوتی ہے ۔ اس لئے انہیں نہ صرف طالب علموں کے ساتھ بلکہ ان کے والدین یا سرپرستوں کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ صلاح مشورہ کرنا پڑتا ہے ۔ کئی بار کسی طالب علم کو نفسیاتی صدمے یا مایوسی سے نجات دلانے میں برسوں لگ جاتے ہیں ۔’گرو پاشا ‘سونامی جیسی قدرتی آفات سے متاثر بچّوں کا بھی علاج کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ بچّے اس حادثے کے بعد مکمل طورپرجیسے کہیں کھو چکے تھے۔ اِس کے لئے انہوں نے بچّوں کے دل سے خوف و دہشت کو دُور کرنے اور انہیں پُر سکون کرنے کے لئے ’دھیان‘ (تصوّف)کا سہارا لیا ۔ جس کا کافی مثبت اثر بھی ہوا۔ حالانکہ یہ سست رفتار،مگرمسلسل عمل ہے۔’ گرو پاشا‘ کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو کچھوے جیسی زندگی جيناہے تو اسے سست رفتار سےہی چلنا ہو گا لیکن اگر کوئی تیزی سے بڑھناچاہتا ہے تو اس کی زندگی اپنے آپ چھوٹی ہو جائے گی۔

ملک میں یوگا کی مقبولیت بڑھ رہی ہے ۔ جو آہستہ آہستہ’ گلیمرس‘ تجارتی شئے بن کربِک رہا ہے ۔ یہ اب پُر کشش کاروباراور نوٹنکی بن گیا ہے ، جہاں ہزاروں لوگ بیٹھتے ہیں اور کچھ آسن کرتے ہیں ۔’ گرو پاشا‘ اس بات سے ناراض ہیں ۔ اسی لئے تو وہ کہتے ہیں کہ یوگا کے ذریعے استاد اورشاگرد کی روایت کو سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ کسی گرو یااستاد کا نام نہیں لیتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کوئی کسی سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ یہ کرے یا وہ کرے ۔ کسی انسان کی کیامشکلات ہیں اس سے آپ کیسےواقف ہو سکتے ہیں ؟’گرو پاشا‘ کہتے ہیں کہ وہ میڈیکل یوگا اپنے دوستوں کے ساتھ کرتے ہیں اور یہ کام نہایت سنجیدگی سے کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی کی پیٹھ میں درد ہے تو وہ ’چكرآسن‘ کیسے کر سکتا ہے؟ اس صورت میں تو آپ کو ایسے’ آسن‘ کرنا چاہئے جو ریڑھ کی ہڈی کومتاثر نہ کریں۔


جو لوگ یوگا سیکھنے کے شوقین ہیں، انہیں کھلی جگہ پر ننگے پیراورسوُتی لباس میں آنا چاہئے اور ایسے لوگوں سے بچنا چاہئے جو صرف سنک یا خبط کے لئے یوگا کرتے ہیں، اور ہزاروں روپے محض کپڑے اور’نان ویج‘ خریدنے میں خرچ کر دیتے ہیں ۔ مسلم ہونے کے ناطے’ گرو پاشا‘ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قومی اتحاد کی ایک علامت کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ مقدس کعبہ کے گرد طواف کرنا، ویدک منتر، عیسائی بھجن اور ہر روحانی خطاب کا ایک ہی مطلب ہے --- ذہن، جسم اور روح کا اتحاد ۔ اُن کا اپنا خیال ہے کہ ہر ایک انسان کو یوگا کرنا چاہئے۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza