محض 1200 روپے سے تجارت شروع کرنے والے اروند بلونی بنے 400 کروڑ روپے کی کاروباری سلطنت کے مالک

کامیابی کی کہانیاں لوگوں کو ترغیب دیتی ہیں۔ ان کہانیاں لوگوں میں منفی حالات کو سازگار بنانے کے لئے جدوجہد کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کامیابی کا راستہ دکھاتی ہیں۔ کامیابی کی کہانیوں سے لوگوں کو بہت سارے سبق ملتے ہیں۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ محنت اور جدوجہد کے بغیر کامیابی نہیں ملتي ہندوستان میں کامیابی کی ایسی بہت سی حیرت انگیز اور منفرد کہانیاں ہیں، جو زمانے تک لوگوں کو تحریک دیتی رہیں گی۔ ایسی ہی ایک بے مثال اور غضب کی کہانی ہے دھیرو بھائی امبانی کی۔ دھیرو بھائی امبانی ایسی بڑی شخصیت ہیں، جن ہزاروں لوگوں نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے اور کمال کا کام کیا۔ دھیرو بھائی نے آپ کی زندگی میں بہت ساری مشکلات، مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کیا اور اپنی محنت، جدوجہد اور کامیابی حاصل کرنے کے مضبوط جذبے سے دنیا بھر کے لوگوں کو ترغیب دینے والی کہانی کے ہیرو بنے۔ دھیرو بھائی نے جب کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا تھا تو انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ صفر سے ان کا سفر شروع ہوا تھا۔ لیکن جدوجہد کے بل پر انہوں نے ایک بہت بڑی کاروباری سلطنت کھڑی کی۔ دھیرو بھائی کی غیر معمولی کامیابی کے پیچھے بھجيا بیچ کر کاروباری بننے والے ایک عام انسان سے دنیا بھر میں مشہور ہونے والے انتہائی کامیاب کاروباری بننے کی نایاب کہانی ہے۔ دھيروبھائی امبانی کی اسی کہانی نے اتراکھنڈ کے ایک عام نوجوان کو بھی بڑے بڑے خواب دیکھنے اور انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کاحوصلہ ملا۔ اس نوجوان نے اپنی خاندانی روایت کو توڑ کر کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا اور دلیری سے کام کرتے ہوئے ساری پریشانیوں کو دور کیا اور پھر بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ہہ نوجوان اب 400 کروڑ روپے کے کاروباری سلطنت کا مالک ہے اور ان کا نام ہے اروند بلونی۔ اروند بلونی ٹی ڈی ایس گروپ کےمالک ہیں اور انہوں نے محنت اور جدوجہد کے دم پر کامیابی کی نئی کہانی لکھی ہے۔ ان کی زندگی میں بہت سارے دلچسپ پہلو ہیں۔ بہت ساری ایسے واقعات ہیں جو جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اروند بلونی نے کئی سارے ایسے کام کئے ہیں جوکہ ان کے گھر والوں اور باپ دادا نے بھی نہیں کئے تھے۔ زیادہ تر گھر والوں اور باپ دادا نے پنڈتائی کی تھی، کچھ نے سرکاری ملازمت کی۔ اروند بلونی اپنے خاندان میں مارشل آرٹ سیکھنے والے پہلے شخص تھے۔ پہلی بار انہوں نے ہی اپنے خاندان میں کاروبار بھی کیا۔ بڑا آدمی بننے کا عزم لے اپنے گھر سے نکلے چندی گڑھ میں محض 1200 روپے سے اپنا کاروبار شروع کیا اور پھر اسے بڑھاتے- بڑھاتے 400 کروڑ روپے کا بنا دیا۔ اس شاندار کاروباری سفر میں اروند کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے کئی سارے دشمن ہو گئے۔ دشمنوں نے ان کے خلاف سازشیں کیں، دھمکیاں دیں، چوری کی۔ لیکن، اروند نے ان سب کو ہرانے کا فن سیکھ رکھا تھا، جو انہیں کامیاب کاروباری بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔ اپنی خود کی بڑا کاروباری سلطنت قائم کرنے والے اروند بلونی اپنی کہانی کو بہت موثر مانتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی اب تک کی کہانی کی وجہ سے کچھ لوگوں کے لئے ہی سہی وہ دھیرو بھائی جیسا ضرور بنیں گے۔ اسی طرح سے، غضب کا اعتماد رکھنے والے کاروباری اروند بلونی کی دلچسپ کہانی اتراکھنڈ کے رشیکیش سے شروع ہوتی ہے، جہاں ان کے والد سرکاری نوکری کرتے تھے۔

0

اروند بلونی کی پیدائش ایک متوسط طبقے کے برہمن خاندان میں ہوئی۔ والد شیو دت بلونی اتر پردیش حکومت کے تعمیر کے سیکشن میں اسٹور انچارج تھے۔ ماں گھریلو خاتون تھیں۔ اروند کا خاندان بہت بڑا تھا، ان کے کئی سارے رشتہ دار تھے۔ اکثر گھر میں رشتہ داروں کا جمگھٹا رہتا۔ ۔ اروند کا خاندان بنیادی طور اتراکھنڈ ریاست کے ٹہری- گڑھوال ضلع کے چاچكڑا گاؤں کا رہنے والا تھا۔ والد کی پوسٹنگ کی وجہ سے خاندان کو رشیکیش آکر بسنا پڑا تھا۔ اروند کا بچپن یہیں پر گزرا۔ اروند فطرت کی گود میں پلے بڑے ہوئے، پہاڑوں کے درمیان سے اپنا راستہ بنا کر وادیوں میں پہنچی دریائے گنگا، آس پاس کے چھوٹے بڑے خوبصورت پہاڑ، چھوٹے بڑے آشرم اور ان میں سادھو سنتو کے جمگھٹے کے ماحول نے ان کے دماغ دماغ پر بہت گہرہ اثر چھوڑا۔ قدرتی حسن سے بھرے رشیکیش شہر سے اروند کو بہت پیار ہے۔

اروند پر ان کے والد کی بھی گہری چھاپ تھی۔ اروند بتاتے ہیں، "والد بہت ہی متحرک انسان تھے۔ وہ اچھے لیڈر تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ انسان کو دینے والی حالت میں ہونا چاہئے نہ کہ لینے والی صورت حال میں۔ انسان کی مٹھی دوسروں کے ہاتھ کے اوپر ہونی چاہئے نہ کہ نیچے۔ "

اروند کی اسکول کی تعلیم بھرت مندر انٹر کالج سے ہوئی۔ وہ اسکول میں عام طالب علم تھے۔ عام بچوں کی طرح ہی ان کا پڑھنا لکھنا ہوتا تھا۔ کوئی خاص ہنر بھی نہیں تھا۔ لیکن، اس طالب علم کی زندگی میں بڑی تبدیلیاں گیارہویں اور بارہویں کی تعلیم کے دوران آئے۔ گیارہویں میں آتے ہی اروند کچھ شرارتی بن گئے۔ معصومیت اور بھولاپن اچانک غائب ہو گیا۔ اور اسی دوران کالج کے دنوں میں ایک واقعہ نے اروند کی سوچ اور ان کے نقطہ نظر کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اروند کی زندگی بدل گئی۔

ہوا یوں تھا کہ کسی بات کو لے کر کالج میں لڑائی جھگڑا ہو گیا اور اسی لڑائی جھگڑے میں ایک بدماش نے اروند کو تھپڑ مار دیا۔ اس تھپڑ کی وجہ سے اروند کو بہت برا لگا، وہ اپنے آپ کو بہت شرمندہ محسوس کرنے لگے۔ ان کے لئے یہ تھپڑ توہین والی بات تھی۔ چونکہ پیٹنے والا بدمعاش طاقتور تھا، اروند جوابی کاروائی بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان کی طاقت کم تھی، اس وجہ سے وہ چپ تھے۔ لیکن، ان کے دماغ میں بدلے کی آگ دھدھك رہی تھی۔ بدلے کا احساس اتنا طاقتور تھا کہ اس نے اروند کی نیند و چین چھین لیا۔ اروند نے ٹھان لیا کہ وہ توہین کا بدلہ لیں گے اور بدمعاش کو سبق سکھائیں گے۔

اروند نے خود کو مضبوط بنانے کے لئے مارشل آرٹ سیکھنا شروع کر دیا۔ بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے اروند نے جوڈو اور کراٹے سیکھے۔ چھ ماہ تک دماغ لگا کر اروند نے مارشل آرٹ سیکھا اور خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنا لیا۔ چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد جب انہیں لگا کہ وہ اب کسی کو بھی پٹخنی دے سکتے ہیں، انہوں نے اس بدمعاش کو للکارا۔ اروند نے اس بار بدمعاش کی جم کر دھنائی کی اور اپنی توہین کا بدلہ لے لیا۔ انہیں لگا کہ دوستوں میں جو ان کی ساخت کو بٹہ لگا تھا وہ اب دھل گیا ہے۔ اروند کہتے ہیں، "اس واقعہ نے میری سوچ بدل دی تھی۔ مارشل آرٹ سیکھنا میرے لئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوا۔ مارشل آرٹ نے مجھے بہت طاقت دی۔ اگر میں مارشل آرٹ نہیں سیکھتا اور بدمعاش کو سبق نہیں سکھاتا تو شاید میں کمزور ہی رہ جاتا۔ مارشل آرٹ نے میری خود اعتمادی میں اضافہ کر مجھ میں ہار نہ ماننے کاجذبہ پیدا کیا۔"

اس کے بعد ایک اور بڑا واقعہ ہوا، جس نے اروند کی زندگی کو نئی سمت دی۔ کالج کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کسی بات کو لے کر اروند کی گھر والوں سے ان بن ہو گئی۔ اس ان بن کی وجہ سے اروند کے دل کو گہرا دھکا پہنچا۔ وہ اتنا ہل گئے کہ انہوں نے گھر خاندان چھوڑ کر کہی دور چلے جانے کا بڑا فیصلہ لیا۔ دکھی دل سے اروند رشی کیش سے روانہ ہوئے۔ وہ چندی گڑھ جانے والی سرکاری بس پر سوار ہوئے۔ اروند نے بتایا، "رشی کیش سے چندی گڑھ کا وہ سفر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ سفر کے دوران میرے آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے اس سفر میں ہی ٹھان لیا تھا کہ میں کچھ بڑا کام کروں گا، بہت بڑا آدمی بنوں گا۔ "

اروند نے اس سفر میں فیصلہ لیا تھا کہ وہ دوبارہ بس میں نہیں بیٹھیں گے۔ اور جب اپنے گاؤں واپس جائیں گے تب اپنی گاڑی میں ہی جائیں گے۔ دکھ بھرے دل، لیکن بلند حوصلوں کے ساتھ چندی گڑھ پہنچے اروند نے نوکری کی تلاش شروع كی۔ وہ کام حاصل کرنے کو اتنا بے تاب تھے کہ رینبیکسی کمپنی میں اٹینڈر کا کام کرنے کو بھی تیار ہو گئے۔ چندی گڑھ میں جب اروند کو یہ پتہ چلا کہ ادویات بنانے والی مشہور کمپنی رینبیکسی میں اٹینڈر کی ضرورت ہے تو وہ اس لائن میں جاکر کھڑے ہو گئے جہاں دور دور سے آکر لوگ نوکری کی امید میں کھڑے تھے۔ لائن میں کھڑے زیادہ تر لوگ مزدور تھے یا ان پڑھ ۔ دیر تک قطار میں کھڑے رہنے کے بعد جب انٹرویو کے لئے اروند کا نمبر آیا تو منیجر دنگ رہ گیا۔ حلیہ، رنگ ڈھنگ اور بول چال کی زبان کو دیکھ کر منیجر کو لگا کہ اروند کمپنی میں جھاڑو-پوچھا لگانے، صاف صفائی کرنے کا کام نہیں کر سکتے۔ انہیں لگا کہ کوئی بڑی مجبوری کی وجہ سے وہ اٹینڈر کی نوکری حاصل کرنے آ گئے ہیں۔ منیجر نے اروند کو کی نوکری دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اروند نے بھروسہ دلانے کی کوشش کی کہ وہ جھاڑو- پوچھا لگانے کا بھی کام کریں گے، لیکن مینیجر کو یقین ہی نہیں ہوا۔

جب سیدھے نوکری ملنے کی امید نہ رہی تو اروند نے اس کام کے لئے سفارش سے کام لیا۔ جب سفارش کرنے والے نے منیجر کو فون کر اروند کو نوکری پر رکھنے کو کہا تب جاکر منیجر راضی ہوا تھا۔ منیجر نے اروند سے اپنے سرٹیفکیٹ لاکر دینے اور ملازمت پر لگ جانے کو کہا۔ خوشی کے ساتھ اروند سرٹیفکیٹ لانے وہاں سے چلے آئے۔ لیکن، اسی درمیان ایک اور بڑا واقعہ ہوا اور اسی واقعہ نے اروند کو کاروبار کرنے کا راستہ دکھایا۔

ان دنوں چندی گڑھ میں جاب کنسلٹنسی کمپنیاں خوب کھلی ہوئی تھیں۔ مختلف کمپنیوں میں لوگوں کو نوکری دلواكر یہ کمپنیاں ان سے کمیشن لیتی تھیں۔ ایک دن اروند نے دیکھا کہ کچھ بے روزگار اسی طرح کی ایک کمپنی کے دفتر کے سامنے ہنگامہ کر رہے ہیں۔ اروند سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے ہنگامے کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں انہیں پتہ چلا کہ اس کمپنی نے بے روزگاروں کو نوکری دلانے کا بھروسہ دے کر ان سے بڑی رقم اینٹھ لی تھی۔ لیکن، کمپنی بے روزگاروں کو نوکری نہیں دلوا پائی اور ناراض لوگ اپنی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کرنے لگے تھے۔ ہنگامہ کر رہے بیں۔ بےروزگاروں کی آنکھوں میں غصہ اور غم کو دیکھ کر اروند کا دل دہل گیا۔ وہ خود بھی بے روزگار تھے اور حالات کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ اسی وقت اروند نے بڑا فیصلہ لیا۔ فیصلہ تھا - بے روزگاروں کو نوکری دلانے میں مدد کرنے کے لئےاپنی جاب کنسلٹنسی کمپنی کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ملازمت نہ کرکے لوگوں کوکام دلانے کا کاروبار کرنے کا فیصلہ بڑا اور بہادرانہ تھا، اس لئے بھی کہ اروند کے خاندان اور بزرگوں میں کسی نے بھی کاروبار نہیں کیا تھا۔ اروند کے والد نوکری کرتے تھے اور ان کے دادا نجومی تھے۔ بزرگوں نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا تھا، لیكن بے روزگاروں کی حالت زار کا اروند پر کچھ اس طرح اثر ہوا کہ انہوں نے بے روزگاروں کو نوکری پر لگانے کو ہی اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لیا۔ اروند کہتے ہیں، "ان دنوں کنسلٹنسی کمپنیاں ملازمت پر لگانے سے پہلے ہی بڑی رقم وصول لیتی تھیں۔ یہ رقم بہت زیادہ ہوتی تھی۔ میں نے دیکھا تھا کہ قرض لے کر کئی بے روزگار یہ رقم جٹاتے تھے۔ ملازمت نہ دلانے پر جب بے روزگار یہ رقم واپس مانگتے تھے، تب کمپنی کے مالک انہیں بہت ستاتے تھے۔ بے روزگاروں کی مجبوری اور ان کی بری حالت دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ تبھی میں نے سوچا کہ میں آپ کی اپنی کمپنی کھول کر بے روزگاروں کی مدد کروں گا۔ میں نے سوچا کہ میں کم روپے لے کر ہی انہیں نوکری پر لگاونگا۔ "

اروند کا ارادہ نیک تھا، حوصلے بلند تھے اور دماغ جوش سے بھرا ہوا تھا، لیکن انہیں آگے آنے والے چیلنجز کا احساس نہیں تھا۔ چیلنجز اور مصیبتیں باہیں پھیلائے ان کا استقبال کرنے کے لئے تیار کھڑی تھیں۔

کام کاج شروع کرنے کے لئے اروند کے پاس روپیوں کی قلت تھی۔ ان کے پاس اس وقت صرف 1200 روپے ہی تھے۔ لیکن، ارادہ اتنا تگڑا تھا کہ انہوں نے اس رقم کے ساتھ ہی کام کاج شروع کیا۔ جتنا کچھ ان کے پاس تھا سب کچھ کمپنی میں لگا دیا۔ دن رات ایک کئے۔ خوب پسینہ بہایا۔

بہت ساری پریشانیوں کو پار لگانے کے بعد جب کام کاج شروع ہوا تو نئی پریشانیاں سامنے آئیں۔ اروند نے جہاں اپنی کنسلٹنسی کمپنی کا دفتر کھولا تھا وہیں دوسری اور بھی کمپنیوں کے دفتر تھے۔ ان کمپنیوں کے مالکان نے جب دیکھا کہ اروند کے پاس کئی سارے بے روزگار جٹ رہے ہیں اور ان کی مقبولیت کافی بڑھ رہی ہے، تب انہوں نے اپنی حرکتوں سے اروند کو پریشان کرنا شروع کیا۔ ایک کمپنی کے مالک نے اروند کی توہین کرنے کے مقصد سے کہا - "ارے تم تو گڑھوالی ہو۔ یہاں یہ کام کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں تو کسی ہوٹل میں ویٹر کا کام کرنا چاہئے یا پھر فوج میں بھرتی ہونا چاہئے۔'

ان دنوں چندی گڑھ کے کئی ہوٹلوں میں گڑھوال کے لوگ ہوٹلوں اور ریستوراں میں چھوٹے موٹے کام کیا کرتے تھے۔ گڑھوالی فوج میں بھی تھے۔ اسی حقیقت کو بنیاد بنا کر اس کمپنی کے مالک نے اروند کی توہین کرنے اور حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس طرح کی ذلت آمیز باتوں کا بھی اروند پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ بلا روک ٹوک اپنے مقصد کو کامیاب بنانے میں لگے رہے۔

جب اروند نے دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرنی شروع کی تب کچھ کمپنیوں کے مالکان نے انہیں اپنا بوریا بستر سمیٹ کر چندی گڑھ سے باہر چلے جانے کی دھمکی بھی دی۔ اروند کو یہ کہتے ہوئے دھمکی دی کہ - "تم بیرونی ہو اور اگر یہاں کاروبار کرنا بند نہیں کیا تو تمہارا بہت برا حال کر دیں گے اور تم کہیں کے نہیں رہو گے۔' نیست و نابود کر دینے کی دھمکیوں کا بھی اروند پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ اپنے کام میں ایماندار تھے، ان کے ارادے بلند تھے، پوری لگن اور محنت سے بے روزگاروں کی مدد کر رہے تھے، ان کے لئے ڈرنے کی کوئی بات نہیں تھی۔ مارشل آرٹ سیکھنے کا فائدہ انہیں چندی گڑھ میں کاروبار کے دوران بھی ملا۔ مارشل آرٹ نے اروند کو جسمانی اور ذہنی طور پر اتنا مضبوط کر دیا تھا کہ وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔ بدمعاشوں کی دھمکیوں کو وہ ہوا میں اڑا دیتے تھے۔ ان کی طاقت، ان جذبے اور جوش کے سامنے سارے دشمن ہار ماننے کو مجبور ہو جاتے تھے۔

اروند کے دشمنوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ بھی صاف تھی۔ وہ دوسری ریاست سے آئے تھے، چندی گڑھ کے لوگوں کے لئے بیرونی تھے، ان کے کاروبار کرنے کا طریقہ مختلف تھا، بے روزگاروں کے ثقہ تھے، اور ان کے بڑھتے ہوئے کاروبار کی وجہ سے دوسروں کا کاروبار گھٹ رہا تھا۔

یہی باتیں حریفوں کی آنکھوں میں کھل رہی تھیں۔ ایک کاروباری تو اتنا پریشان اور ناراض ہوا کہ اس نے اروند کی کمپنی کے ایک ملازم کو اپنا مخبر بنا لیا۔ اتنا ہی نہیں اروند کی ساخت اور مقبولیت کو مکمل طور پر برباد کرنے کے مقصد سے اس کاروباری نے اپنے مخبر کے ذریعہ اروند کے دفتر سے بے روزگاروں کے سارے سرٹیفکیٹ اور دوسرے دستاویز چوری کر لئے۔

اروند کو جب اس چوری کا پتہ چلا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ سرٹیفکیٹ کے غائب ہونے کا سیدھا مطلب تھا ان کی ساخت کو دھکا لگنا۔ اتنا ہی نہیں سرٹیفکیٹ نہ ملنے کی حالت میں بے روزگاروں کا مستقبل اندھیرے سے بھر جانے کا خوف تھا۔ بحران کی اس گھڑی میں اروند نے سوجھ بوجھ سے کام لیا۔ وہ براہ راست پولیس تھانے گئے اور ایس ایچ او سے صاف صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ سرٹیفکیٹ نہ ملنے کی حالت میں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ایک لحاظ سے یہ دھمکی تھی۔ اروند کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔ آنکھیں لال تھیں۔ انہوں نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر سے کہہ دیا - اگر سرٹیفکیٹ نہیں ملے تو میں مر جاؤں گا یا پھر مار دوں گا۔

یہ باتیں سن کر ایس ایچ او بھی گھبرا گئے۔ انہوں نے اروند کو بھروسہ دیا کہ سرٹیفکیٹ واپس مل جائیں گے۔ اس بھروسے کے بعد اروند جب اپنے دفتر واپس آئے تب انہوں نے دیکھا کہ سارے سرٹیفکیٹ اپنی جگہ پر واپس تھے۔ اس واقعہ کی یاد کرتے ہوئے اروند نے کہا، "میں اپنے آپ کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ جب میں پولیس اسٹیشن سے واپس دفتر واپس آ رہا تھا، میرے آنکھ میں آنسو تھے۔ میں اگر افسر کو دھمکی نہیں دیتا تو شاید مجھے سرٹیفکیٹ نہیں ملتے اور میرا کام بند ہو جاتا۔ "

اروند نے ایسی ہی دلیری کئی جگہ دکھائی اور اپنی ترقی میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا۔ دھیرو بھائی امبانی کی کمپنی ریلائنس کے ایک دفتر میں اسی طرح کی دلیری نے اروند کو بڑا کاروباری بنا دیا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ ان دنوں پنجاب میں ریلائنس نے ٹیلی سیکٹر میں بھی اپنا کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ جیسے ہی اس بات کا پتہ اروند کو چلا انہیں لگا کہ ریلائنس کا کام مل جانے سے انہیں بہت فائدہ ہو گا اور ان کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ اروند کو ریلائنس سے کافی امیدیں تھیں۔ انہیں لگتا تھا کہ وہ ریلائنس کے لئے صحیح لوگ دلوا سکتے ہیں اور ریلائنس سے کام ملنے پر وہ جلد ہی بڑے کاروباری بن جائیں گے۔ اعتماد اور توقعات سے بھرے ذہن کے ساتھ اروند اپنی کاروباری تجویز لے کر ریلائنس کے مقامی دفتر پہنچے۔ لیکن، ان کی تجویز کو نامنظور کر دیا گیا۔ اروند کو دھکا لگا۔ لیکن، انہوں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ان کی پیشکش کو نامنظور کئے جانے کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ انہیں پتہ چلا کہ ان کی کمپنی نئی اور چھوٹی ہے اور اس نے پہلے بڑی کمپنیوں کے ساتھ کام نہیں کیا ہے، اسی وجہ سے ان کی تجویز مسترد کرد ی گئی ہے۔ جیسے ہی اروند کو ان کی کاروباری تجویز کو نامنظور کئے جانے کی وجہ پتہ چلی وہ گیٹ-فلانگتے ہوئے ریلائنس کے مقامی انچارج کے چیمبر میں گھس گئے۔ اروند نے ریلائنس کے اس افسر کو یہ بات یاد دلائی کہ ریلائنس کے بانی دھیرو بھائی امبانی بھی کبھی چھوٹے کاروباری ہی تھے اور اگر انہیں اس وقت بڑے لوگوں نے بڑا کام نہیں دیا ہوتا تو ریلائنس آج اتنی بڑی کمپنی نہیں ہوتی۔ اروند نے ریلائنس کے اس افسر کو یہ بھی بتایا کہ ان کی کمپنی بھلے ہی چھوٹی ہے، لیکن وہ بڑے کام کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ پورے جوشیلے انداز میں اینگری ینگ مین کی طرح اپنی باتیں ریلائنس کے اس افسر کے سامنے رکھنے کے بعد اروند اپنے دفتر لوٹ آئے۔ اس کے کچھ دنوں بعد ریلائنس کے دفتر سے اروند کو یہ اطلاع ملی کہ ان کی کاروباری پیشکش کو قبول کر لیا گیا ہے۔ ایک بار پھر اروند کی دلیری کام کر گئی۔ ان کا انداز ریلائنس کو بھی پسند آیا۔ ریلائنس کا کام ملنا اروند کے لئے بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے اور بھی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ اروند بلونی کہتے ہیں، "شروع سے ہی دھيروبھائی امبانی میرا رول ماڈل ہیں۔ ان کی کہانی سے مجھے بہت حوصلہ افزائی ملی۔ "

اروند بلونی نے جاب کنسلٹنسی سے شروع کیے اپنے کاروبار کو الگ الگ شعبوں میں بھی پھیلایا۔ خوردہ کاروبار، ریئل اسٹیٹ، ہاسپٹالٹی اور تعلیم جیسے شعبوں میں بھی کام شروع کیا اور خوب شہرت اور دولت کمائی۔ ان کی کمپنیاں ٹی ڈی ایس گروپ کے تحت کاروبار کرتی ہیں۔

اروند نے اپنے دادا اور دادی کے نام پر ہی اپنی کمپنیوں کا نام دینے کی ہے۔ اروند کے دادا تارا دت اور دادی سرسوتی کے نام سے ہی ٹی ڈی ایس گروپ یعنی تارا دت - سرسوتی گروپ کو قائم کیا گیا۔ جب دادا دادی کی بات شروع ہوئی تب اروند نے ایک قصہ بھی سنایا۔ اروند نے بتایا، "میرے دادا تارا دت بہت بڑے نجومی تھے۔ انہوں نے ہی میرا نام رکھا تھا۔ نام رکھائی کے بعد تقریب میں دادا نے کہا تھا - مجھے اپنے اس پوتے کا نام رکھتے ہوئے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے۔ یہ لڑکا آگے چل کر نہ صرف اپنے ماں باپ اور خاندان کا نام روشن کرے گا بلکہ پورے گاؤں کا نام اپنے کام سے روشن کرے گا۔ میرا پوتا بڑا ہو کر بہت بڑا آدمی بنےگا۔ "

یہ قصہ سناتے وقت اروند بہت جذباتی ہو گئے تھے۔ وہ اپنے دادا اور دادی سے اتنا متاثر تھے کہ انہوں نے انہی کے نام سے کمپنی بنا کر کاروبار کیا اور خوب نام کمایا۔ محض 1200 روپے سے کاروبار شروع کرنے والے اروند اب 400 کروڑ روپے کے ٹی ڈی ایس گروپ کے مالک ہیں۔ ٹی ڈی ایس گروپ الگ الگ شعبوں کی بڑی بڑی کمپنیوں میں مین- پاورفراہم کرتا ہے۔ یہ گروپ ملازمین کی بھرتی میں بھی بڑی بڑی کمپنیوں کی مدد کرتا ہے۔ کمپنیوں میں ملازمین سے منسلک ضرورتوں کو پورا کرنے میں ٹی ڈی ایس گروپ نے مہارت حاصل کر لی ہے۔ ٹی ڈی ایس گروپ بڑی تیزی سے ہوٹل کے کاروبار میں بھی ترقی کر رہا ہے۔ تعلیم کے ذریعہ معاشرتی خدمت کے کام کو ٹی ڈی ایس گروپ بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ ٹی ڈی ایس گروپ کا کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ ملک کی ہر ریاست میں ٹی ڈی ایس گروپ کی موثر اور بااثر موجودگی ہے۔ قریب پچیس ہزار ملازم ملک کے مختلف حصوں میں ٹی ڈی ایس گروپ کے لئے کام کر رہے ہیں اور لوگوں کو خدمات دیتے ہوئے کاروبار کو مسلسل بڑھانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اعتماد بھری آواز میں اروند کہتے ہیں، "ٹی ڈی ایس گروپ جلد ہی 400 کروڑ سے 1000 کروڑ روپے کا گروپ بن جائے گا۔"

اروند کے اس بھروسے کی بنیاد ان کی ٹیم ہے۔ اروند نے کہا، "میری ٹیم بہت ہی شاندار ہے۔ ٹیم میں اچھے، ایماندار، محنتی، سرشار اور باصلاحیت لوگ ہیں۔ میں جو خواب دیکھتا ہوں، اسے حقیقت میں تبدیل کرنے میں میری ٹیم پوری قوت لگا دیتی ہے۔ میری کمال کی ٹیم، ونڈرس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ "

یہ فطری بھی ہے کہ جو پروفائل ریلائنس، ایئر ٹیل، ڈش ٹی وی، گودریج، ویڈیوکان، وپرو، ٹاٹا، ہیرو گروپ، آدتیہ برلا گروپ، فلپس، جیسی کئی بڑی اور نامور کمپنیوں کو اچھا، قابل، باصلاحیت اور محنتی ملازم دلانے میں مدد کرتا ہے وہ اپنی ٹیم کو شاندار بنائے گا ہی۔

اروند بلونی کی زندگی میں بہت سارے پہلو ہیں، جوکہ انتہائی دلچسپ ہیں۔ اروند نے اپنے اس عزم کو بھی پورا کیا جو انہوں نے رشی کیش سے چندی گڑھ آتے وقت سرکاری بس میں لیا تھا۔ چندی گڑھ کو مرکز بنا کر کاروبار کرنے والے اروند نے جب خوب دولت کما لی تب وہ اپنے گاؤں واپس آئے۔ اپنی گاڑی میں۔ کار بھی ایسی ویسی نہیں بلکہ؛ مرسڈيذ کار سے وہ اپنے گاؤں گئے۔ گاؤں میں پہلی بار ایسا ہوا تھا جب مرسڈيذ کار آئی تھی۔ دادا کی وہ پیشن گوئی بھی سچ ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا پوتا بڑا آدمی بنے گا اور گھر خاندان کے ساتھ ساتھ گاؤں کا نام بھی روشن کرے گا۔ بڑی بات یہ بھی ہے کہ اروند نے رشی کیش سے چندی گڑھ کی اس بس کے سفر کے بعد پھر کبھی بھی بس میں سفر نہیں کیا۔

اروند نے اپنے خاندان سے دو سال تک یہ بات چھپائے رکھی کہ وہ کاروبار کر رہے ہیں۔ اروند کو لگتا تھا کہ گھر خاندان والے یہ بات سن کر گھبرا جائیں گے کہ وہ کاروبار کر رہے ہیں۔ اروند کے خاندان میں کسی نے بھی کاروبار نہیں کیا تھا اور تمام یہ مانتے تھے کہ کاروبار بہت خطرات سے بھرا ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو نقصان اتنا زیادہ ہو جاتا ہے آدمی اس سےباہر ہی نہیں نکل پاتا اور اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ اروند کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ ان کے خاندان کے لوگ ان کی حوصلہ شکنی کریں گے اور کاروبار کرنے سے روکیں گے۔ کاروبار میں اپنے پاؤں جمانے کے بعد ہی اروند نے اپنے گھر والوں کو یہ بتایا کہ انہوں نے کاروبار کو ہی اپنی زندگی کا سب کچھ بنا لیا ہے۔

اروند نے آپ کی زندگی میں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ لیکن، ان کی خوبی اس بات میں بھی رہی ہے کہ وہ دوسروں کی پریشانی کو بھی اپنا بنا کر اسے حل کر دیتے ہیں۔ اروند کا ایک واقفکار شخص ایک کمپنی کے لئے کولکتہ میں ٹی وی سیٹ بناتا تھا۔ کولکتہ میں سیاسی وجوہات کی بنا پر حالات کچھ اس طرح بنے کہ سارے کارخانوں میں مزدوروں نے ہڑتال کر دی۔ فیکٹریوں میں کام کاج ٹھپ پڑ گیا۔ اروند کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ مدد کے لئے خود آگے آئے۔ جب فیکٹری کے مالک نے اروند کو دیکھا تو انہیں یقین نہیں ہوا کہ ایک نوجوان شخص فیکٹری میں کام کاج دوبارہ شروع کروا سکتا ہے۔ فیکٹری مالک کی ساری امیدیں ختم ہو چکی تھیں۔ اروند نے فیکٹری کے مالک کو انہیں یہ کام سونپنے کو کہا۔ چونکہ فیکٹری مالک کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا انہوں نے اروند کو فیکٹری میں دوبارہ ٹی وی بنانے کا کام شروع کروانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اروند کے ایک اعلان پر بہت سے لوگ ان کے ساتھ کولکتہ چلنے کو رازی ہو گئے۔ جتنے ملازمین کی ضرورت تھی اس سے کہیں زیادہ ملازم جمع ہو گئے تھے۔ تمام اروند کے ساتھ چلنے کی ضد کرنے لگے تھے۔ لوگوں کو نہ چلنے کے لئے منانے میں اروند کو کافی وقت لگا تھا۔ اروند جب ان مزدوروں کے ساتھ کولکتہ پہنچے تو انہوں نے پایا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔ فیکٹری میں کام شروع کرنے کا مطلب تھا جان خطرے میں ڈالنا۔ اروند کے ساتھ آئے مزدور بھی جان گئے کہ کام شروع کرنے کا مطلب مصیبت مول لینا تھا۔ لیکن، اروند نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے سارے مزدوروں کو اكٹھا کیا اور ان میں جوش بھرنے کے مقصد سے تقریر کی۔ تقریر اتنی شاندار تھی کہ تمام مزدوروں میں نیا جوش پیدا ہوا اور وہ پوری طاقت کے ساتھ نڈر ہوکر کام کرنے کو راضی ہو گئے۔ اروند کی جرات سامنے کولکتہ میں مزدور یونینوں کے بڑے بڑے لیڈر بھی پست ہو گئے۔ مقامی مزدور لیڈر اتنا تلملا گئے کہ انہوں نے اروند کو 'پنجاب سے آیا دہشت گرد' کہنا شروع کر دیا۔ ہر بار کی طرح ہی اروند نے اپنے دشمنوں کی باتوں کو نظر انداز کیا اور صرف اپنے کام اور مقصد پر مکمل توجہ دی۔ اروند کہتے ہیں، "جب کوئی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ کام ناممکن ہے تب میرا حوصلہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ میں ناممکن کہے جانے والے کام کو چیلنج کے طور پر لیتا ہوں اور ناممکن کو ممکن نہ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھتا ہوں۔'

اروند بلونی مضبوط دلوالے انسان تو ہیں ہی ان میں قیادت کی خصوصیات بھی ہیں۔ وہ ایک اچھے مقرر بھی ہیں اور لوگوں کو اچھے اور بڑے کام کرنے کے لئے حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ اروند ایک ایسے کاروباری ہیں جو ہمت اور جواں مردی سے جیت کو آسان بنا لیتے ہیں۔

اروند بلونی ڈاکٹر عبدالکلام کی اس بات سے بھی بے حد متاثر ہیں کہ 'خواب وہ نہیں ہوتے جو سوتے وقت نظر آتے ہوں، بلکہ خواب تو وہ ہوتے ہیں جو انسان کو سونے نہ دے۔ سوتے وقت دیکھا جانے والا خواب تو ہمیں یاد بھی نہیں رہتا۔ پر جو خواب جاگی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں، وہ نہ صرف ہمیں یاد رہتے ہیں، بلکہ وہ ہمیں سونے ہی نہیں دیتے۔ 'بڑے بڑے خواب دیکھنے اور انہیں احساس کرنے کے لئے جی جان لگا دینا اب اروند بلونی کی عادت بن گئی ہے۔

دھيرو بھائی امبانی کی کامیابی کی کہانی سے سبق حاصل کر عام سے انسان سے کروڑوں روپے کا کاروبار کرنے والے کامیاب کاروباری بنے اروند بلونی یہ کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہے کہ "دھيرو بھائی سے تحریک حاصل کر بہت سے لوگ کامیاب ہو گئے ہیں، اگر میں کچھ لوگوں کے لئے دھيروبھائی جیسا بن جاؤں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔ "

اروند اپنی بڑی بڑی اور نایاب کامیابیوں کا کریڈٹ اپنے خاندان کو دینے سے نہیں چوکتے۔ وہ کہتے ہیں، "میری بیوی انجلی میری تحریک و ترغیب کا سبب ہیں۔ وہ ہی مجھے آگے بڑھتے رہنے کے لئے مسلسل حوصلہ افزائی کرتی رہتی ہیں۔ جب کبھی مجھے بزنس میں پرابلم آتی ہے، انجلی مجھے موٹيویٹ کرتی ہیں۔ وہ میری بہت بڑی طاقت ہیں۔ "

اروند اور انجلی کے دو چھوٹے اور پیارے بچے ہیں۔ بڑا بیٹا آرین 10 سال کا ہے اور بیٹی ادتی 5 سال کی ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے اروند کو خوشی تو ملتی ہی ہے، ساتھ ہی ان کا حوصلہ اور اعتماد بھی بڑھتا ہے۔

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories