’ڈوراسٹیپ اسکول ‘طلباء تک پہنچنے والا اسکول ، تعلیم کوہر دہلیز تک پہنچانے کی منفردکوشش

0

ایک پرانی کہاوت ہے۔ ’پیاسے کو کنوئیں کے پاس جاناپڑتاہے ،کنواں پیاسے کے پاس کبھی نہیں جاتا‘۔ لیکن اگرمعاملہ اس کے برعکس ہوجائے تو؟ کچھ ایسا ہی ہواہے۔ یقین نہیں آتا تو اس حقیقت کو ضرور پڑھئے۔

’حق تعلیم قانون ‘ بھلے ہی ملک بھر میں نافذ ہوگیا ہو، لیکن آج بھی لاکھوں بچے ایسے ہیں جو الگ الگ وجوہ سے اسکول نہیں جاتے۔ ایسے بچوں کی تعداد اب چھوٹے شہروں کی جگہ بڑے شہروں میں ایک بیماری کا روپ لے رہی ہے۔ جہاں بچے اپنے کنبے کے ساتھ سلم میں رہتے ہیں ، فٹ پاتھ پر سوتے ہیں یا پھر ایسی جگہوں پر رہنے کو مجبورہوتے ہیں جہاں کوئی تعمیراتی کام چل رہا ہوتاہے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ممبئی میں رہنے والی بیناشیٹی لشکری نے نے ’ڈوراسٹیپ اسکول‘ کی شروعات کی، تاکہ جوبچے پڑھنے کے لئے اسکول نہیں جاسکتے، ان تک اسکول خود پہنچے۔

یہی وجہ ہے کہ ۵۰ بچوں کے ساتھ شروع ہوا ان کایہ پروجیکٹ آج ایک لاکھ بچوں کے درمیان پہنچ گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ’ ڈوراسٹیپ اسکول‘ممبئی کے علاوہ تھانے اور پونے میں بھی کام کررہا ہے۔

بیناشیٹی لشکری نے’ ڈوراسٹیپ اسکول‘کی شروعات 1988میں اس وقت کی جب وہ ماسٹران سوشل ورک کے طور پر ایک طالبہ تھیں ۔ اس دوران انھوں نے دیکھا کہ کئی بچے اسکول جانے کی جگہ اپنے کنبے کا گذارہ کرنے کے لئے کام پرجانے کومجبور تھے۔ اتناہی نہیں انھوں نے دیکھا کہ جو بچے پڑھائی چھوڑ کرکام دھنداکررہے تھے ان کی عمر8سے10سال کے درمیان تھی۔ ایسی حالت میں ان کو اسکول لانا کافی مشکل کام تھا۔ تب انھوں نے سوچاکہ کیوں نہ ایسے بچوں کو انھیں کے پاس جاکر پڑھایاجائے۔ بینا نے اپنے اس کام کاآغاز ممبئی کے کف پریڈ علاقے کے باباصاحب امبیڈکرنگر سے کیا تھا۔

ڈیزائن کی ہوئی بس ہوتی ہے ۔ جس میں کلاس روم کاماحول تیار کیاگیا ہے۔ یہ بس صبح آٹھ بجے سے شام آٹھ تک پہلے سے طے شدہ الگ الگ مقامات پر روزجاتی ہے۔ ایک بس، ایک دن میں چارالگ الگ جگہوں پر جاتی ہے اور اس بس میں آکر بچے پڑھائی کرتے ہیں ۔ اس بس میں لگنے والی کلاس ڈھائی سے تین گھنٹے کی ہوتی ہے۔ جس کے بعد بچے اپنے کام یا گھر لوٹ جاتے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ ایک بس میں تقریباً 20سے25بچے ایک ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کرسکتے ہیں ۔ اس بس میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچوں کی عمر 6سال سے 18سال تک کے درمیان ہوتی ہے۔ جس کے بعد ان کو الگ الگ گروپ میں بیٹھا کر پڑھایاجاتاہے۔ اس بس میں آڈیوویژول کے ساتھ پانی و لائبریری کے علاوہ ری کریشن میٹریل بھی ہوتاہے تاکہ یہاں آنے والے بچوں کی صلاحیت نکھرسکے۔ ان بسوں میں بچوں کو ہندی اور ریاضی مضامین پڑھائے جاتے ہیں ۔ بینا نے یوراسٹوری کوبتایا:

’’بسوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچوں کونہ صرف پڑھنا لکھنا سکھایاجاتاہے بلکہ ان میں صاف ستھرائی کی عادت بھی ڈالی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ان کوسکھایاجاتاہے کہ گندی زبان کوچھوڑ کراچھی زبان میں بات چیت، کیسے اپنی بات کو سامنے والے سے منوایا جاسکتاہے۔ جو بچے یہاں پڑھائی میں اچھی کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہیں ان کو بعد میں یہ سرکاری یادوسرے اسکول میں داخل کراتے ہیں تاکہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بن سکیں ۔ ‘‘

ڈوراسٹیپ بچوں کے ساتھ ان کے والدین کی بھی کاؤنسلنگ کرتے ہیں ۔ ماں باپ کو بچوں کی پڑھائی کے تئیں ذہنیت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بینا کاکہنا ہے کہ:

’’ہمارے پاس ایسی پانچ بسیں ممبئی اور تین بسیں پونے میں ہیں ۔ ان بسوں کے علاوہ ہمارے سوسے زیادہ اسٹڈی سینٹر مختلف سلم بستیوں میں کام کررہے ہیں ۔ ‘‘

’اسکول آن وہیل‘ پروجیکٹ کے علاوہ’ ڈوراسٹیپ اسکول‘ نامی یہ ادارہ سوسے زائد اسٹڈی سینٹربھی چلاتاہے۔ جہاں ایک کلاس ڈھائی سے تین گھنٹے کی ہوتی ہے۔ بچوں کی کلاس دوشنبہ سے جمعہ تک چلتی ہے اور ایک ٹیچردن بھر میں دوکلاس لیتی ہے۔ ہرکلاس کا اپنانصاب ہوتاہے اور اسی کے مطابق سلم اورفٹ پاتھ میں رہنے والےبچوں کوپڑھانے کاکام کیا جاتاہے۔ یہاں آنے والے بچوں کوسائنس، ریاضی،کمپیوٹراور مختلف زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بس کی طرح اسٹڈی سینٹر میں بچے نہ صرف پڑھنا لکھنا سیکھتے ہیں بلکہ رقص، ڈراما اور گانابھی سیکھتے ہیں ۔ یہ اسٹڈی سینٹر ایسے بچوں کے لئے ہیں جوبچے برابراسکول جاتے ہیں ۔ یہ ان کو ایکسٹراکوچنگ دینے کاکام کرتے ہیں ۔ بینا کے مطابق ’’ اس کامقصد یہ ہے کہ یہ پہلی نسل ہوتی ہے جو تعلیم کے لئے آگے آتی ہے اور گھر میں اس کی پڑھائی میں کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوتا۔ ایسے میں گھر سے مدد نہ ملنے کے سبب کئی بارنہ چاہتے ہوئے بھی بچے کو اپنی پڑھائی درمیان میں چھوڑنا پڑتی ہے۔ اس لئے ایسانہ ہو اسی سوچ کے ساتھ ہم یہ اسٹڈی سینٹر چلاتے ہیں ۔ ‘‘

بینا کاکہنا ہے کہ بچوں کو ’اسکول آن وہیل‘ یا اسٹڈی سینٹر تک لانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ اس کے لئے اسٹڈی سینٹر میں پڑھانے والی ٹیچربچوں کے گھر جاتی ہیں اور ہربچے کو اپنے ساتھ لے کراسٹڈی سینٹر میں آتی ہیں ۔ حالاں کہ اس علاقے میں برسوں سے کام کرنے کے سبب کئی بچے خودہی پہنچ جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود بچوں کو اسٹڈی سینٹر یا بس تک لانابڑاچیلنج ہے۔ اس کے علاوہ کئی طرح کی ترغیبی سرگرمیاں بھی چلاتے ہیں تاکہ بچے اس سے ملتفت ہوکر پڑھنے کے لئے ان کے پاس آسکیں ۔ آج یہاں کے تعلیم یافتہ کئی بچے اپنی تنظیم چلارہے ہیں ، چارٹرڈاکاؤنٹنٹ بن چکے ہیں ۔ کھیلوں سے جڑچکے ہیں یا پھر مختلف بڑے اداروں میں اچھے عہدوں پر کام کررہے ہیں ۔

آج ’ ڈوراسٹیپ اسکول‘ ادارہ 100سے زائد مختلف سرکاری اسکولوں کے ساتھ مل کر بھی کام کررہا ہے۔ تاکہ بچوں کومعیاری تعلیم مل سکے۔ ’ ڈوراسٹیپ اسکول‘ کی ٹیم میں 500سے زیادہ لوگ ہیں ۔ فی الحال یہ ادارہ ممبئی، تھانے اور پونے میں کام کررہا ہے۔ اب ان کی کوشش ممبئی اور اس کے مضافات نوی ممبئی اورکلیان جیسے علاقوں میں کام کرنے کی ہے۔ ساتھ ہی جو ادارے دوسری ریاستوں یا علاقوں میں کام کررہے ہیں ان کو ٹریننگ دینے کاارادہ ہے تاکہ وہ اور بہتر طریقے سے اپنے کام کوانجام دے سکیں ۔

...................

قلمکار : ہریش

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

...................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں ۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں ۔

........

ملک کے بازاروں میں بڑھتی جا رہی ہے مقامی زبانوں کی اہمیت

مزدوری سے 9روپئے روزکماکر بڑی مشکل سے پڑھائی کرنے والی آرتی آج پڑھارہی ہیں سینکڑوں لڑکیوں کو مفت