تین ناخواندہ خواتین نے بنائی کروڑوں کی کمپنی

آج 18 گاؤوں کی 8000 خواتین ہیں شیئر ہولڈرس

0

کڑی محنت کے ساتھ دل میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ اس بات کو صحیح ثابت کردکھایا ہے راجستھان کے دھولپور کی تین ناخواندہ خواتین نے ۔ ساہوکاروں کے سود چکانے کے لئے پریشان رہنے والی ان خواتین نے دودھ بیچ کر آج کروڑوں کا ٹرن اوور کرنے والی کمپنی بنالی ہے۔ ان کی کامیابی کی کہانیوں  سے سبق حاصل کرنے کے لئے مینیجمنٹ اسکول کے طلباء گاؤں آرہے ہیں۔


اس دلچسپ کہانی کی شروعات 11 سال قبل ہوئی تھی, جب دھولپور کے کریم پور گاؤں میں تین عورتیں، انیتا، ہری پیاری اور وجے شرما اپنی شادی کے بعد رہنے آئیں۔ تینوں کے شوہر کچھ کام دھندا نہیں کرتے تھے, جس کی وجہ سے گھر کی مالی حالت نہایت کمزور تھی۔ حالات نے تینوں کو سہیلی بنادیا ۔ انہوں نے اپنا گھر چلانے کے لئے خود ہی کچھ کرنے کی ٹھانی اور ساہوکار سے سود پر 6-6 ہزار روپئے لے کر بھینسیں خریدیں۔ انہیں گاؤں میں کسی نے بتایا تھا کہ تم اگر بھینس پالوگی تو دودھیا لوگ یعنی گاؤں میں دودھ کی خریداری کرنے والے بیوپاری گھر آکر دودھ خرید کر لے جائیں گے۔ لیکن ہوا اس کے بالکل الٹ ۔ یہ عورتیں قرض کے دلدل میں پھنسنے لگیں۔ دودھیا روز کسی نہ کسی بہانے دودھ لینے سے انکار کردیتا اور پھربلیک میل کرکے اونے پونے داموں پر ان سے دودھ خرید لیتا۔ کبھی کہتا کہ دودھ میں فیٹ بہت کم ہے تو کبھی کہتا دودھ میں پانی بہت ہے اس لئے ڈیری والوں نے پیسے نہیں دئے۔ حالات بگڑے تو مجبوراً تینوں سہیلیاں بھینسوں کا دودھ لے کر خود ہی ڈیری جانے لگیں۔ وہاں جاکر پتا چلا کہ دودھیا تو انہیں آدھے پیسے ہی دیتا تھا۔


بس، اسی دن سے یہ تینوں ہی دودھ لے کر ڈیری جانے لگیں۔اور دھیرے دھیرے ایک جیپ کرائے پر لے کر آس پاس کے گاؤوں سے بھی دودھ جمع کرکے دودھ کلکشن سینٹر پر جانے لگیں۔ان کی آمدنی میں اضافہ ہونے لگا۔ انیتا کہتی ہیں،

"تب ہم نے دن رات کام کرنا شروع کیا۔ صبح کے تین بچے سے دودھ جمع کرنا شروع کرتے تھے اور 1000 لیٹر دودھ جمع کرلیتے تھے۔ خواتین کو دودھ جمع کرنے والے مرد ایجنٹوں یعنی دودھیاؤں کے بجائے ہم اچھا دام دینے لگے تو سبھی ہم لوگوں کو دودھ فروخت کرنے لگے۔"

بس ،یہیں سے انہوں نے کامیابی کا پہلا ذائقہ چکھا۔ دودھ صحیح لیتے اور دیتے تھے۔ اور پیسوں کی ادائیگی وقت پر کرتھے تھے۔ دھیرے دھیرے ان کے پاس دودھ خریدنے کا آرڈر آنے لگے۔ تب انہوں نے اپنا کلکشن سینٹر کھول لیا۔ اب ہر جگہ خواتین ان سینٹر پر دودھ لاکرفروخت کرنے لگیں۔ ہری پیاری کہتی ہیں،

"جب دودھ زیادہ ہونے لگا تب ہم نے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں سے رابطہ کیا کہ کیسے اپنے کاروبار کو بڑھائیں۔ پھر ہم نے حکومت کی مدد سے ایک خود امدادی گروپ تیار کیا۔ ہماری محنت دیکھ کر کئی لوگ مدد کے لئے آگے آئے۔"

پیسے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے انہوں نے 'پردان ' نامی تنظیم کی مدد سے خواتین کا 'خود امدادی گروپ' بنایا اور قرض لیا۔ جس سے ایک اکتوبر 2013 کو ایک لاکھ کی لاگت سے اپنی سہیلی پروڈیوسر نام کی کمپنی بنالی۔مجلی فاؤنڈیشن کی تکنیکی معاونت سے کریم پور گاؤں میں دودھ کا ایک پلانٹ لگایا ۔ اس کے لئے نابارڈ سے چار لاکھ روپیوں کا قرض لیا گیا۔ اپنی کمپنی کے شیئر دیہی خواتین کو بیچنے شروع کئے۔ فی الحال کمپنی کی 8000 دیہی خواتین شیئر ہولڈرس ہیں۔ محض ڈھائی سال میں کمپنی دیڑھ کروڑ کی ہوگئی ہے۔ شیئر ہولڈر خواتین کمپنی کو دودھ فروخت کرتی ہیں۔ کمپنی کے بورڈ میں فی الحال کُل 11 خواتین ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 12 ہزار روپئے ہے۔ کمپنی کو ریاستی حکومت سے 5 لاکھ روپئے حوصلہ افزائی کے طور پر موصول ہوئے جنہیں قرض کی شکل میں دیگر خواتین کو دیکر انہیں دودھیاؤں کے چنگل سے آزاد کرکے کمپنی کو دودھ فروخت کرنے کی ترغیب دی گئی۔ وجے شرما نے بتایا کہ،"پہلے وہ لوگ گھر سے باہر نہیں نکل پاتے تھے۔ اب جے پور اور دہلی تک جاتے ہیں۔ کھُلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں اورخود کو روزگار بھی مل گیا ہے اور دوسروں کو بھی روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ آج کسی کے آگے پیسے کے لئے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑتے۔ آج ہمارا خاندان مثالی خاندان بن گیا ہے۔"


ایسے ملتا ہے خواتین کو منافع:

گاؤں میں دودھیا 22-20 روپئے فی لیٹر کے حساب سے خواتین سے دودھ خریدا کرتے تھے۔ جب کہ کمپنی 32-30 روپئے لیٹر سے خریدتی ہے جس سے دودھ فروخت کرنے والی ہر خاتون کو تقریباً 1500 روپئے فی ماہ کی آمدنی ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیئر کے حساب میں کمپنی کے منافع میں بھی انہیں حصہ ملتا ہے۔ کمپنی کو دودھ فروخت کرنے والی کُسُم دیوی کہتی ہیں،

"کمپنی سے وابستہ ہونے کے بعد ان کا دودھ کی فروخت کا کاروبار چار گنا بڑھ گیا ہے۔ کمپنی سے ایڈوانس بھی مل جاتا ہے اور انہوں نے اپنی بیٹی کا بارہویں جماعت میں داخلہ بھی کروایا ہے۔اسے وہ جے پور بھیج کر پڑھانا چاہتی ہیں۔اور یہ سب ہوپایا ہے اسی کمپی سے وابستہ ہونے کے بعد۔"

ایسے کام کرتی ہیں خواتین:

تقریباً 18 گاؤوں میں کمپنی کی شیئر ہولڈرس خواتین موجود ہیں۔ ہر گاؤوں میں شیئر ہولڈر خاتون کے گھر پر کلکشن سینٹر بنایا گیا ہے۔ جہاں خواتین خود دودھ فروخت کرجاتی ہیں۔ گاؤوں کو 3 علاقوں میں تقسیم کرکے الگ الگ گاڑیاں وہاں جاکر دودھ جمع کرکے کریم پور پلانٹ تک لاتی ہیں۔ پلانٹ پر 20 ہزار روپئے فی ماؒ کی تنخواہ والے اعلیٰ تعلیم یافتہ برج راج سنگھ کو چیف ایگزیکیوٹیو آفسر مقرر کیا گیا ہے۔ خواتین کی اس کمپنی میں کام کرنے والے برج راج سنگھ کہتے ہیں،

"ان تینوں خواتین کی وجہ سے مردوں کی نفسیات بھی بدلی ہے۔ پہلے اونچی ذات کے مرد اپنی خواتین کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے تھے لیکن اب وہ خود بھی انہیں لے کر یہاں آتے ہیں۔"

کہتے ہیں کہیں نہ کہیں سے شروعات تو ہوتی ہی ہے۔ تین سہیلیوں کی پریشانی نے ایسی شکل اختیار کی کہ اسی ایک واقعے نے انہیں ایک نئی زندگی دی ہے۔ نہ صرف انہیں بلکہ آس پاس کے 18 گاؤوں کی خواتین اس کمپنی کی شیئر ہولڈرس ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ جب گھر میں خواتین خوش ہیں ، خود کفیل ہیں تو پھر پورا خاندان خوش حال اور سُکھی ہے۔

تحریر: رِمپی کُماری۔۔۔ مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK


کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں                      اردو یور اسٹوری ڈاٹ کوم