ہر بچے کے ہاتھ میں ہو کتاب، 'پرتھم'ادارے کی کوشش

0

سن 2004 میں سجین سنگھ نے رکھی 'پرتھم' کی بنیادیں ۔۔۔

تمام ہندوستانی زبانوں میں بچوں کے لئے ہو کتابیں تاکہ ہر بچے کے ہاتھ میں ہو کتاب ۔۔۔

11 سالوں میں 'پرتھم' نے 18 زبانوں میں 14 ملین کتابیں شائع کیں ۔۔۔

'پرتھم' نے چلایا 'ڈونیٹ اے بک' مہم ۔۔۔

کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی کے لئے سب سے اہم ہتھیار تعلیم ہے۔ جس ملک کے بچے اور نوجوان تعلیم یافتہ ہیں اس ملک کا مستقبل کافی روشن ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو تمام لوگ مانتے ہیں. اس دنیا کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی سمت میں اقدام کر رہے ہیں۔ یہ کوششیں مختلف سطحوں پر کی جا رہی ہیں۔ حکومتیں اور غیر سرکاری رضاکارانہ تنظیمیں بچوں کو مفت تعلیم دے رہی ہیں۔ حکومتیں بچوں کو اسکول آنے پر مختلف سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ کئی تنظیمیں بچوں کے پاس جا کر ان پڑھا نے کا کام کر رہی ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔ ان تمام کا مقصد تعلیم کی توسیع کرنا ہے اور تعلیم کی سطح بہتر بنانا ہے۔ ہندوستان میں بھی کئی ایسے تنظیمیں ہیں جو حکومت کی مدد اور بہت کاوشوں سے اس کام کو انجام دے رہی ہیں۔ پرتھم کتب ایک ایسی ہی تنظیم ہے جو ہندوستان میں تعلیم کے فروغ میں مشغول ہے۔

سن 2004 میں سجین سنگھ نے 'پرتھم' کی بنیادیں رکھی۔ سجین نے دیکھا کہ بچوں کے پڑھنے کے لئے مواد تو کافی ہے، لیکن یہ مواد اکثر انگریزی اور ہندی زبان میں ہی دستیاب ہے۔ جبکہ ہندوستان کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو ان دونوں زبانوں میں سے تھوڑا سا دور ہے۔ سجین نے سوچا کیوں نہ وہ دیگر ہندوستانی زبانوں میں بچوں کے لئے کتابیں شائع کریں، تاکہ ہندوستان کے ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب ہو۔ انہوں نے اپنی کتابوں کی قیمتیں کافی کم رکھیں۔ گزشتہ 11 سالوں میں پرتھم نے 18 زبانوں میں 14 ملین کتابیں شائع کیں۔ جس میں انہوں نے 6 قبائلی زبانوں کو بھی شامل کیا۔ قیام کے آٹھ سال تک انہوں نے اپنی کتابوں کی قیمت نہیں بڑھائی۔ ان کی ایک اوسط کتاب 25 روپے میں مارکیٹ میں دستیاب تھی۔ اب یہ 35 روپے اوسط ہو گئی ہے۔ 2008 میں یہ بچوں کے لئے لائسنس یافتہ کتابیں شائع کرنے والے پبلیشر بن کر ابھرے۔

'پرتھم' بکس کا مقصد ہر بچے کے ہاتھ تک کتاب پہنچانا تھا۔ اس کے لئے انہوں نے بچوں کے اندر اندر پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے کے سے کوشش کی۔ کہانی کے مقابلے منعقد کرائے۔ اسکولوں کے ساتھ مل کر بہت سے دوسرے اقسام کے مقابلوں کا بھی انعقاد کیا۔ ان کا مواد اتنا بہترین تھا کہ کئی این جی او اور ادارے ان کے پاس آئے اور کتابیں دینے کی درخواست کی۔ اس ادارے بچوں کی تعلیم کے میدان میں کام کر رہی تھیں۔ لیکن مفت میں کتاب دے پانا پرتھم کے لئے بھی ممکن نہیں تھا۔ اب انہوں نے سوچا ایسا کیا طریقہ نکالا جائے جس سے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ہم اپنی کتاب فراہم کر سکیں۔ پھر پرتھم بکس نے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک پروگرام منعقد کیا جس کا نام ہے 'ڈونیٹ اے بک'۔ سجین بتاتی ہیں کہ ہندوستان میں تین سو ملین بچے ہیں اور پرتھم ہر سال ایک ملین کتابیں بنا رہا ہے۔ یہ بہت بڑا گیپ کس طرح بھرا جائے؟ یہ بڑا مسئلہ تھا۔ اس بات پر انہوں نے سوچا کہ صرف بہترین کتابیں بنانا ہی اس مسئلہ کا حل نہیں ہے، بلکہ ہمیں کچھ اور نئے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بچوں تک کتابیں پہنچانے کا مشن مکمل ہو سکے۔ ڈونیٹ اے بک مہم اسی کڑی میں ایک قدم تھا۔ اس کے تحت کوئی بھی شخص جو بچوں کی مدد کرنا چاہتا ہے وہ کچھ پیسے لے کر بچوں کی مدد کر سکتا ہے۔ ان پیسوں سے پرتھم اپنی کتابوں کو ان این جی او تک بھیجے گا۔ تاکہ وہ کتابیں بچوں تک پہنچ سکیں۔

جس این جی او کے ذریعے پرتھم کتابیں بھجواتا ہے، کتابیں دینے سے پہلے مذکورہ این جی او کی بھی مکمل معلومات رکھتا ہے اور اس بات کا یقین کرتا ہے کہ کتابیں صحیح بچوں کے ہاتھوں تک پہنچیں۔

'پرتھم' نے اپنے لئے کچھ مقصد بھی طے کئے ہیں۔ جیسے وہ چاہتے ہیں کہ پچاس ہزار کتابوں کو اس مہم کے تحت بچوں تک پہنچا سکیں۔ ہندوستان میں بہت سے اچھے این جی او ہیں جو دوردراز کے دیہی علاقوں میں بچوں کو تعلیم کو فروغ دینے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ کئی ایسی لائبریریاں بھی ہیں جو ٹرسٹ اور تنظیموں کی طرف سے دور دراز کےعلاقوں میں چلائی جا رہے ہیں، پرتھم ان تک اپنی کتابوں کو پہنچاتا ہے۔

قلمکار: اشوتوش کھنتوال

متجم: زلیخا نظیر