آنگن واڑی کارکنوں کے کام کو آسان بنانے کے لئے 'ایم سکھی' اور 'ایم صحت'

0

اتر پردیش میں آشا، اے این ایم اور آنگن واڑی کارکنوں کے کام کاج کو آسان بنانے اور ان کے کام پر نگرانی رکھنے کے لئے اکتوبر ماہ سے ایک موبائل ایپلیکیشن 'ایم سکھی' کو لانچ کیا جا رہا ہے۔ شروع میں اس ایپلیکیشن کو ریاست کے پانچ اضلاع میں استعمال میں لایا جائے گا۔ سماجی صحت کارکن (آشا)، اسسٹنٹ نرس اور ڈاکٹر (اے این ایم) اور آنگن واڑی کارکنوں کے اپنے اپنے عملی میدان میں کی جا رہی کوششوں کا اب ملٹی میڈیا کے ایپلیکیشن 'ایم-سکھی' اور 'ایم صحت' پروگرام کی مدد سے معائنہ کیا جائے گا۔ حکومت کے اقدامات کا بنیادی مقصد صحت کے کارکنوں کو ماں اورنوزائیدہ اور بچے کی صحت کو بہتر بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اس منصوبے کے لئے تکنیکی تعاون دینے والے كوالكام ادارے نے 'انٹرا ہیلتھ' کے ذریعے ریاست کی ایجنسی اسٹیٹ انوویشنس ان فیملی پلاننگ سروسز ایجنسی (سفسا) اور قومی صحت مشن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

'انٹرا ہیلتھ' کے کنٹری ہیڈ لبونی جانا بتاتے ہیں، ''گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں جھانسی ضلع کے بڈگام بلاک میں 'ایم-سکھی' ایک تجرباتی پروجیکٹ (پائلٹ پروجیکٹ) کے طور پر شروع کیا گیا۔اب ہم اگلے ماہ سے کنوج، بریلی، سیتاپور، مرزا پور اور فیض آباد اضلاع میں ایک وسیع منصوبے کے طور پر 'ایم صحت' کو بھی شروع کرنے جا رہے ہیں جس میں 'ایم-سکھی' کو بھی شامل کیا جائے گا۔''

كوالكام کے سینئر مینیجر انِربن مکھرجی بتاتے ہیں کہ تربیت کے دوران آشا اور اے این ایم کے کارکنوں کو پہلے ہی ایپلیکیشن سے لیس موبائل فون دیا جائے گا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کارکنوں کے تکمیل شدہ کام کی جانکاری ڈیش بورڈ کے ذریعے سینئر حکام تک پہنچے گی۔ اس کی مدد سے بلاک اور ضلع سطح پر نگرانی رکھی جا سکے گی۔ مکھرجی کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ آنگن واڑی ورکروں کو بھی 'ایم-سکھی' منصوبے کے ساتھ شامل کیا جائے گا.

حال ہی میں سونی پت، ہریانہ کے حسن پور گاؤں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے طور پر ہندوستان کے پہلے جدید آنگن واڑی مرکز کو شروع کیا گیا۔ مستقبل میں اس طرح کے 4000 مزید مراکز کھولے جانے کا منصوبہ ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے گزشتہ 40 سال میں حکومت کی جانب سے بچوں اور خواتین کے لئے کئے گئے کاموں کے نتائج اب بہتر طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

سونی پت میں ایک خانگی کان کنی کمپنی ویدانتا کی شراکت کے ساتھ 12 لاکھ روپے کی لاگت سے اس طرح کے ایک منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے اور یہ مرکزی حکومت کے 'نند گھر' منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اس کی منصوبہ بندی میں آنگن واڑی مراکز کو نند گھر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ جس میں روزانہ کسی بھی وقت 50 بچوں کو ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت ہوگی اور یہ تمام مراکز جدید اور تازہ ترین خصوصیات سے لیس ہوں گے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem