مظہر حسین ... حیدرآباد کے پرانے شہر سے اقوام متحدہ تک رسائی

ڈاکٹر مظہرحسین نے فسادات پرقابوپانے کے لیے حکمت عملی تیار کی۔ جس کے تحت فسادمتاثرہ علاقوں میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بالخصوص ہندو مسلمانوں پر مشتمل افراد کی امن کمیٹیاں بنائی گئی ۔ امن کمیٹیوں کے ارکان کسی بھی محلہ میں امن کی برقراری اور ناخوشگوارواقعات پرقابوپانے کے لیے لوگوں میں شعوربیدار کرتے۔ مظہرحسین او ر ان کے دوستوں کی کوششیں رنگ لائی اور کئی علاقوں میں امن کی فضا برقراررہی۔

0

750 سماجی تنظیموں کو متحدکرنے والی ’’کوا ‘‘تنظیم... دنیا بھر میں پھیلے امن کا پیغام 

'کووا' تنظیم کا جال پورے ملک میں پھیل ہوا ہے۔ یہ تنظیم 750چھوٹی بڑی تنظیموں کی سربرستی کرتی ہے۔ جو زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ موجودہ دور میں ایک تناو ر درخت کی حیثیت رکھنے والی کووا تنظیم پچھلے پچیس سال سے سماجی خدمات انجام دے رہی ہے۔ کوا تنظیم کی شروعات کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ یوں تو سماجی تنظیم کے طورپر کووا کا رجسٹریشن 1995میں ہوا تھالیکن کوا کے بانی ڈاکٹر سید مظہر حسین نے 1991 میں ہی سماجی خدمات کا آغازکردیاتھا۔

دائیں سے دوسری مظہر حسین
دائیں سے دوسری مظہر حسین
مظہر حسین کہتے ہیں،’’ہم نے 1991میں حیدرآباد کے پرانے شہر میں ہوئے فسادات کے بعد اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر فساد متاثر ین کی امداد کے لیے مہم چلائی ۔اور اس مہم کے دوران مختلف علاقوں کا دورہ کرکے غریب اوربے سہارا لوگوں کی نشاندہی کی گئی۔ بعدمیں انہیں امدادپہنچائی گئی۔ شروعات میں سو سے بھی کم افراد فساد متاثر ین کی مدد کے لیے چلائی جانے والی اس مہم کا حصہ بنے ۔ اورمختصرسے عرصہ میں اس مہم کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں لوگ جڑتے گئے۔‘‘

ڈاکٹر مظہرحسین نے فسادات پرقابوپانے کے لیے حکمت عملی تیار کی۔ جس کے تحت فسادمتاثرہ علاقوں میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بالخصوص ہندو مسلمانوں پر مشتمل افراد کی امن کمیٹیاں بنائی گئی ۔ امن کمیٹیوں کے ارکان کسی بھی محلہ میں امن کی برقراری اور ناخوشگوارواقعات پرقابوپانے کے لیے لوگوں میں شعوربیدار کرتے۔ مظہرحسین او ر ان کے دوستوں کی کوششیں رنگ لائی اور کئی علاقوں میں امن کی فضا برقراررہی۔

1995ء میں مظہر حسین نے کوا یعنیCONFEDRATION OF VOLUNTARY ASSOCIATIONS قائم کیا۔ مظہر حسین نے یور اسٹوری کو بتایا،’’ میں نے کوا کے تحت کئی سماجی تنظیموں کو متحد کرنے کی کوشش کی ۔ اور آج ملک کی مختلف ریاستوں میں کام کرنے والی چھوٹی بڑی تنظیمیں کووا کا حصہ ہیں٘۔ کووا نے نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں جن میں جموں وکشمیر،مغربی بنگال، اترپردیش،گجرات کے علاوہ سارک ممالک میں فرقہ وارانہ فسادات پر قابوپانے کے لیے جدوجہد کی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک اور بیرون ملک کے کئی ادارے کوا کے ساتھ جڑتے گئے‘‘

سارک ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتربنانے کے لیے بھی کوا کی جانب سے کئی پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ مظہرحسین نے کہا، ’’ہم نے 2004اور2010میں کو ا کے زیراہتمام فلیگس فارپیس مہم کے تحت ہند و پاک کے درمیان کھیلے گئے کرکٹ میاچوں میں امن کا پیغام دینے کے لیے جھنڈے لہرائے ۔اسطرح ہم نے 2009میں دہشت گردی کے خلاف ہند۔پاک کے مختلف علاقوں میں مشترکہ دستخطی مہم چلائی۔ ‘‘

اس وقت کووا تنظیم سارک، G-20کے علاوہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ مظہرحسین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے انہیں 2012میں ساوتھ ایشیاء اسٹار پیس ایوارڈ سے نوازا۔جبکہ 2013میں نیوریارک میں منعقدہ ایک تقریب میں تنظیم کووا کویواین والیٹری ایوارڈ دیاگیا۔ مظہرحسین کہتے ہیں،’’ کووا تنظیم نہ صرف امن کی برقراری کے لیے جدوجہد کررہی ہے بلکہ شہریوں کوان کے حقوق سے واقف کرانے کے لیے بھی خصوصی مہم چلارہی ہے۔ اس لیے تنظیم کی جانب سے حیدرآباد سمیت تلنگانہ کے دیگراضلاع میں عوام میں حکومت سے فراہم ہونے والی سہولتوں اور فلاحی اسکیموں سے عوام واقف کرانے کے لیے شعوربیداری پروگرام چلائیں جارہے ہیں۔‘‘اس کے علاوہ کوا نے وقت کے ساتھ ساتھ قوانین اور حکومت کی پالیسوں میں ضروری ترمیم کے لیے بھی سرگرم ہے۔