مدرسے کے طلباء کے لئے دہلی آئی آئی ٹی طلباء نے بنائی نئی 'رِحل کم بیاگ'

0

دہلی آركےپورم کے مدرسے کے طالباء کو میز کم بیگ 'ای میز۔۔۔کا تحفہ

ورنداون کے ایک بیوہ آشرم میں بنائی جائیں گی یہ میز

اچھی سوچ سے دنیا سنورتی ہے۔ مثبت سوچ نے دنیا میں بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ ظاہر ہے بہتر سوچ کو کو عملی جامع پہنانے کا مقصد ہوتا ہے دوسرے کی زندگی کو بہتر بنانا۔ دہلی آئی آئی ٹی انجینئرنگ کرنے والے طالباء نے ایک منفرد سوچ حقیقت میں کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ مدرسے میں پڑھنے والے طلباء کی زندگی کو کچھ بہتر بنانے اور ان کی زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کا کام کیا ہے۔ آئی آئی ٹی کے طالباء نے مدرسے کے بچوں کے لئے ایک میز دی ہے، در اصل یہ نئی طرح کی رِحل ہے۔ جسے موڑ کر ایک بیگ میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

دہلی آئی آئی ٹی کیمپس کے پاس موجود آركےپورم کے سیکٹر 4 میں جامعہ محمدیہ مدرسہ ہے جس میں سوا سو سے زائدہ بچے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ آئی آئی ٹی کی ٹیم نے ابتدائی طور پر اسی مدرسے کے 30 طلباء کو یہ میز کم بیگ 'ای-میز' دی ہے جو نیلے ، نارنگی، سبز وغیرہ رنگوں کی ہیں۔ ان میزوں پر پڑھنے والے بچوں کی خوشی ان کے چہروں پر آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ مدرسے میں کام کرنے والے عبد الشریف نے بتایا کہ 'اس میز کی وجہ سے پڑھنے کے لئے بیٹھنے میں بچوں کو کافی سہولت ہو رہی ہے۔ ان کے رنگ بھی طلباء کو اچھے لگ رہے ہیں۔'

ایک طالب علم نے بتایا،' ہم اس میز کو موڑ کر بیگ بھی بنا سکتے ہیں اور اس میں اپنی کتابیں اور سامان رکھ سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں بالکل بھی وزن نہیں ہے۔ '

'ای-میز' کو بنانے والے آئی آئی ٹی کے طلباء کی ٹیم کے سربراہ واسو ٹیكريوال نے بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان کے ساتھ گزشتہ سال دہلی کے کئی سرکاری اسکولوں اور مدرسوں میں گئے تھے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ بچوں کو زمین پر بیٹھ کر ہی پڑھایا جاتا ہے۔ اس سے ان کی کمر اور گردن میں تو درد ہوتا ہی ہے ان کی آنکھوں کی روشنی پر بھی اس کا برعکس اثر پڑتا ہے۔ 'اس مسئلہ کے حل کے لئے ہماری ٹیم نے کافی تحقیق کی۔ ہم اس کا انتہائی سستا حل نکالنا چاہتے تھے۔ ان کے بستوں کے وزن کو اور ہلکا بنانا چاہتے تھے۔ اس لئے ہم نے کئی طرح کے ڈیزائن اور مٹیريل کا استعمال کرکے مختلف تجربے کئے۔ آخر میں ہماری ٹیم نے کارڈ بورڈ سے بنائے گئے 'ای-میز' کو فائنل کیا۔'

آئی آئی ٹی دہلی سے کیمیکل انجینئرنگ سے ایم ٹیک کر رہے واسو نے بتایا کہ کچھ عرسہ پہلے ہم نے آركےپورم کے جامعہ محمدیہ مدرسے میں 30 بچوں کو یہ میز پڑھنے کے لئے دی۔ اسے پاکر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا،'دو ہفتے بعد جب ہم بچوں کی رائے جاننے کے لئے پھر سے مدرسے گئے، وہاں بچوں سے ای-میز کے بارے میں سن کر ہم بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ ہماری توقع سے بھی زیادہ بچوں کو سکون پہنچا رہی تھی۔ اب طالباء بغیر پیٹھ اور گردن کی فکر کے دیر تک پڑھنے لگے تھے۔ 'واسو کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی باقی بچوں کو بھی فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ماحولیات کے تئیں شعور بیدار کریں گے

واسو کے مطابق ہم جلد ہی رسائكل کاغذ سے بنی کاپی بھی اس مدرسے کے بچوں کو دیں گے۔ اس کے پیچھے ہمارا مقصد طالب علموں کو ماحولیات کے تئیں شعور بیدار کرنا ہے۔ ہم انہیں بتائیں گے کی کاغذ کو دوبارہ استعمال کرنےسے کتنے درخت بچائے جا سکتے ہیں، جس سے ہمارا ماحول صاف ستھرا رہ سکتا ہے۔

ورنداون کے بیوہ آشرم میں بنے گی 'ای-میز'

واسو کے مطابق تقریبا ایک ماہ پہلے آئی آئی ٹی کے طالب علم دکش ارورہ کی ایک ٹیم نے ورنداون کے بیوہ آشرم 'میتری گھر' میں رہنے والی خواتین کو ای-میز بنانے کی تربیت دی۔ اس ٹیم نے دو دنوں میں 50 سے زائد خواتین کو تربیت دی۔ جلد ہی ورنداون میں بنے ای-میز ہمیں ملنے لگیں گے، جس سے ان خواتین کی بھی کچھ آمدنی ہو پائے گی۔