ایک اسٹارٹپ ایساجوبزرگوں کی زندگی بناتاہے آسان

0

بزرگ افرادکو مصروف رکھنے کی سمت میں کام کررہاہے سینئر ورلڈ ڈاٹ کام...

سینئر لوگوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہوں گے سینئر ورلڈ ڈاٹ کام کے ساتھ...

حال ہی میں کمپنی نے بزرگوں کو ذہن میں رکھ کر لانچ کیاہے اپنا پہلاموبائل فون ’ایزی فون‘ ...

آج ہر کوئی ہندوستان کو ابھرتی ہوئی طاقت کی شکل میں دیکھ رہاہے۔ دنیابھر کے ممالک ہندوستان سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان کو دنیا کا سب سے نوجوان ملک ماناجاتاہے۔ ہندوستان میں نوجوانوں کی آبادی دنیاکے باقی ممالک میں سب سے زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں آج تقریباً ہر انڈسٹری نوجوانوں کو دھیان میں رکھ کر ہی کام کررہی ہے۔ خواہ گارمنٹ صنعت ہو،موبائل کمپنیاں ہوں ،فوڈ انڈسٹری ہو،تفریحی صنعت ہویا اسکل ڈیولپمنٹ سیکٹر ہو،ہر جگہ نوجوانوں پر ہی توجہ دی جارہی ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں میں کئی اسٹارٹپ آئیں جن کا مرکز بھی نوجوان طاقت ہی رہی۔ یہ اسٹارٹپس کافی اچھاکام بھی کررہی ہیں ۔ لیکن ان سب کے درمیان 55سے زائد عمر کے لوگوں کو سب سے زیادہ نظر انداز کیاجارہاہے۔ بازار بھی اس طبقے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہاہے۔ ایسی صورت میں ’ سینئر ورلڈ ڈاٹ کام ‘ نامی ایک اسٹارٹپ سامنے آئی اور اس نے اس طبقے کو مدنظررکھ کر کام کرنا شروع کیا۔ لانچنگ کے محض ایک سال کے اندر ان کی کاوشوں کوبڑی پذیرائی مل رہی ہے۔

سینئر ورلڈ ڈاٹ کام کا آغاز 2014میں ہوااور کمپنی نے اکتوبر 2015میں ’ایزی فون‘ کے نام سے اپنا پہلا پروڈکٹ بازار میں پیش کیا۔ ’ایزی فون ‘ ایک ایساموبائل فون ہے جو خاص طور سے سینئر سٹیزنس کی ضرورتوں کا خیال رکھ کر ڈیزائن کیاگیاہے۔ اس فون کواستعمال کرنا بھی کافی آسان ہے۔

سینئر ورلڈ ڈاٹ کام کے بانی راہل گپتااور ایم پی دیپوہیں ۔ راہل گپتاپیشے سے سی اے ہیں ، جنھوں نے جی ای،ایئر ٹیل اور ایس آرایف فائنانس کے علاوہ کئی دیگر کمپنیوں میں تقریباً 25سال کام کیا۔ جب کہ ایم پی دیپو نے ٹیلی کام انڈسٹری کو کافی قریب سے دیکھاہے۔ اس شعبے میں انھیں تقریباً بیس سال کا تجربہ ہے۔ راہل اور دیپو کافی دنوں سے کچھ نیااوراپنا کام کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ اسی دوران راہل کے کنبے میں کسی بزرگ کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت راہل نے سوچاکہ کیوں نہ وہ سینئر سٹیزنس کے لئے کچھ ایساکام کریں جس سے وہ دن بھر مصروف رہیں اور ساتھ ہی ان کے فرصت کے لمحات صحیح کام میں گذریں ۔ ان کی تنہائی انھیں ستائے نہ۔ یہ بات انھوں نے اپنے دوست سے شیئر کی۔ دوست کو ان کا آئیدیاکافی پسند آیا۔ دونوں نے اس جہت میں کام کرنے کا منصوبہ بنایا۔ پھر 2014میں انھوں نے اپنے کام کی شروعات کی۔

راہل بتاتے ہیں کہ بزرگوں کو آج ہر کوئی بھول چکاہے۔ یہ ایک ایسامحروم طبقہ ہے جس پر کسی کا دھیان نہیں ہے۔ نہ بازارکا،نہ سماج کا اور کافی حد تک سرکارکا بھی نہیں ہے۔ کوئی بھی کمپنی اپنی مصنوعات اور خدمات اس طبقے کو ذہن میں رکھ کر نہیں بنارہی ہے جو کہ غلط ہے۔ ایک انسان جو اپنی جوانی میں اپنے تمام فرائض کی انجام دہی کے لئے خوب بھاگ دوڑ کرتاہے ،اپنے کنبے کو سنبھالتاہے،لیکن جب وہ دوڑ بھاگ کرنے کے لائق نہیں رہ جاتا تو وہ الگ تھلگ پڑجاتاہے۔ اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔ ایسے ہی لوگوں کومشغول رکھنے کے لئے ، ان کی مدد کرنے کے لئے اور ان کے اکیلے پن کو دورکرنے کے لئے سینئر ورلڈ کمپنی کام کررہی ہے۔

سینئر ورلڈ کمپنی اپنا موبائل لانچ کرنے کے بعد کئی دیگر مصنوعات بازار میں لانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ یہ مصنوعات ان لوگوں کے لئے کافی مفید ہونے کے ساتھ ان کی ضرورتوں کی تکمیل بھی کرے گی جن کی طرف اب تک کسی کی توجہ نہیں ہوئی۔

سینئر ورلڈ کمپنی کی ویب سائٹ پر ایک سیکشن ہابی کا بھی ہے۔ یہ سیکشن خاص طور سے ان لوگوں کے لئے ہے جو جوانی کے ایام میں اپنی مصروفیات کے سبب اپنے شوق پورے نہیں کرسکے۔ اس سیکشن میں جاکر وہ اپنے شہر میں منعقد ہونے والے کئی ایسے ورک شاپ اور کلاسز کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور ان میں شرکت کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ میں ایک سیکشن بلاگ کا بھی ہے ،جہاں مختلف سبق آموز کہانیاں موجود ہیں تاکہ انھیں پڑھ کر بزرگ متحرک ہوسکیں اور زندگی کو مثبت انداز میں گذارسکیں ۔ اس کے علاوہ وہ سماج کو بھی اپنی طرف سے کچھ دے سکیں ۔ آج کئی ایسے بزرگ ہیں جو معاشرے کے لئے بہت اچھاکام کررہے ہیں ۔ ان کے کام سماج کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ یہ لوگ ایسے ہی لوگوں کی کہانیاں یہاں پیش کرتے ہیں ۔

مستقبل میں سینئر ورلڈ ڈاٹ کام اپنے منصوبوں کی توسیع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ راہل بتاتے ہیں کہ ہماری تقریباً 12افرادپر مشتمل ٹیم مسلسل نئے اور تخلیقی کاموں کی صورت گری میں مصروف ہےتاکہ ہندوستان کا ہر بزرگ شخص خود کو اکیلا و خالی نہ سمجھے۔ راہل بتاتے ہیں کہ اس کام میں ہمیں نوجوانوں کا بھی بہت تعاون مل رہاہے۔

Website : www.seniorworld.com

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini