حیدرآباد اورلکھنؤ کی بو باس میں بسی ہے غزل:پيناز مسانی

غزل ڈپلومیسی کا نرم, ملائم اور معتدل راستہ ہے

0

اردو غزل نے جہاں مشاعروں کی ثقافت اس مکل کو دی ہے، وہیں گائیکی کے نئے نئے پہلو بھی سامنے آتے رہے۔ نئی نئی آوازوں کا جادو فضا میں پھیلتا رہاہے۔ ایسی ہی ایک جادوئی آواز کو لوگ پيناز مسانی کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی اور نبے کی دہائی میں یہ آواز اپنی شہرت کی ایک خاص بلندی پر بنی رہی۔ آج بھی ان کے نام سے محفلوں میں جان آ جاتی ہے۔

پيناز اس بار جب حیدرآباد آئیں تو، سائبرآباد کے باب الداخلہ پر بنی ڈاسپللا ہوٹل میں ان سے ملاقات ہوئی۔ پيناز کافی عرصہ بعد حیدرآباد آئیں تھیں۔ جنوبی وسطی ثقافتی مرکز ناگپور کی جانب سے اسٹیٹ آرٹ گیلری میں منعقد پروگرام میں حصہ لینے کے لئے۔ اور یہ جگہ بھی ان کے لئے بالکل نئی تھی۔ بات نکلی تو حیدرآباد کے بدلتی شکل و صورت پر ان کی حیرت بھی سامنے آئی۔ کہنے لگیں،

'' بہت بدل گیا ہے حیدرآباد، مجھے تو پتہ نہیں کہ میں کہاں ہوں۔ شہر بہت ماڈرن ہو گیا ہے۔ بالکل ماڈرن ہو گیا ہے نہ!''

پيناز نے ایک ایسے دور میں غزل گائیکی میں داخلہ لیا تھا، جب جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس، انوپ جلوٹا جیسے مرد گلوکاروں کا بول بالا تھا۔ اگر ان کی پرانی تصاویر دیکھی جائیں تو وہ زیادہ تر مرد گلوکاروں کی بھیڑ میں تنہا دکھائی دیتی ہیں۔ اس بات کو وہ مانتی بھی ہیں۔ کہتی ہیں،

''آغاز میں مشکلات تو ہوئیں۔ بیگم اكھتر صاحبہ جن کی بدولت غزل نے گائیکی میں زندگی پائی تھی اور جنہوں نے کلاسیکی پلیٹ فارم پر غزل پیش کی تھی۔ وہ دور کچھ پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ جب میں نے شروع کر دیا، تو زیادہ تر مرد گلوکاروں کا دور دورہ تھا۔ تاہم میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ میں مرد یا ٰعورت ہوں۔ میں صرف ایک آرٹسٹ ہوں، اتنا یاد رکھتی تھی، لیکن میں دیکھتی تھی کہ اس دور میں غزل میں گلوکارہ کے مقابلے میں گلوکار کو زیادہ ترجیح دی جاتی تھی۔ اپنا راستہ بنانے میں کچھ مشکلات ضرور رہیں، لیکن جب راستہ بنا تو بنتا گیا اور 1981 سے اب تک لوگوں کی محبت برقرار ہے۔'' پيناز نے یوں بہت مختلف طرح کی غزلیں گائیں ہیں۔ ایک دور تھا جب دوردرشن پر ان کی آواز غزل کے چاہنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی۔ گزشتہ تین دہائیوں میں انہوں نے کچھ ایسی غزلیں بھی گائیں، جسےمنفرد انداز کہا جا سکتا ہے۔ بالخصوص ۔۔۔

یوں ان کی بزم میں خاموشيوں نے کام کیا
سبھی نے میری محبت کا احترام کیا 

سعید راہی کی اس غزل کے بارے میں پيناز کہتی ہیں کہ یہ ان کی گرو مدھرانی کی كمپوزنگ تھی۔ وہ بتاتی ہیں،

'' وہ میری گرو ہیں۔ میں نے ان کی بدولت بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے حوصلہ افزائی کرنے میں گرو، والدین اور میری بہن نازنین تمام کا تعاون حاصل رہا۔''

پيناز کا کہنا ہے کہ اسی اور نبے کی دہائی کا دور غزلوں کا تھا، ہر طرف لوگ غزلوں کے پروگرام کرتے تھے اور اسٹیج شوز بھی ہوتے تھے۔ لیکن وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ غزل ہر دور میں اپنے کو جیتی رہی ہے۔ اپنے اور غزل کے تعلقات کے بارے میں وہ کہتی ہیں،

''آرٹسٹ کبھی مطمعین ہی نہیں ہوتا۔ میں موسیقی سے محبت کرتی ہوں۔ میں نے چنچل مزاج کی غزلیں بھی گائی ہیں اور سنجیدہ بھی۔ میری یہ خواہش ہے کہ جب تک جیتی رہوں، گا سکوں۔ اس سے زیادہ کوئی فنکار اور کیا دعا مانگے گا۔ '

پيناز کا خیال ہے کہ آرٹسٹ کے لئے کوئی سیاست نہیں۔ وہ جہاں چاہے غزلوں کے شو کر سکتے ہیں۔ غزل ایک ایسی صنف ہے، جو تہذیب سےجڑی ہے۔ وہ کہتی ہیں،''میں نے ایسی ایسی جگہ غزل سنائی ہے، جہاں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہاں غزلیں سنی جا سکتی ہیں۔ مینمار (رنگون)میں میں نے غزل سنائی۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ گھانا میں وہاں کے صدر صرف چند منٹ کے لئے پروگرام میں آئے تھے۔ مجھے کہا گیا کہ گائکی کی شروعات میں وہ ایک سطر سن کر چلے جائیں گے، لیکن جب انہوں نے گانا سنا تو پورے ڈیڑھ گھنٹے تک ٹھہرے رہے۔ مجھے لگتا ہے کہ غزل ڈپلومیسی کانرم، نازک ملائم اور معتدل راستہ ہے۔ اس کی کوئی حدود نہیں ہیں۔ اس سے ہر وہ شخص محبت کرتا ہے، جو اسے سمجھتا ہے، بلکہ کئی بار اسے نہ سمجھنے والے بھی اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔

پيناز کہتی ہیں کہ غزل کبھی ختم نہیں ہوگی۔ چاہے وہ حیدرآبادی تہذیب ہو کہ لکھنوی ماحول کیونکہ غزل ان شہروں کی بو باس میں بسی ہے۔ شہروں کی فیبرک کا حصہ ہے۔ ہم ڈذان تو بدل سکتے ہیں، فیبرک تبدیل نہیں کر سکتے۔ پیناز مسانی نے 1981 میں اپنی گائیکی کی زندگی شروع تھی۔ 20 سے زیادہ البم انہوں نے غزل کو دیئے ہیں۔ کئی فلموں میں بھی گایا ہے۔ انہیں ہندوستان حکومت نے 2009 پدم شری سے نوازا تھا۔ انہیں شہزدی ء ترنم بھی کہا گیا۔ جرمنی، جنوبی افریقہ، نائجیریا۔ ویتنام سمیت کئی ممالک کا دورہ کیا۔

 گائیکی میں آئی سہل پسندی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آج لوگ عام سادہ چیزیں زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، 'لوگ آسان غزلیں سن کر لطف اٹھاتے ہیں۔ میر، غالب اور داغ کے زمانے اب نہیں رہے ہیں۔ وہ صوفی منش تھے اور ان کی عام باتیں تو لوگوں کو پسند آتی ہیں، لیکن مشكل باتیں اس لئے بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ آج ہم صوفی نہیں رہے۔ مادہ پرست ہو گئے ہیں، بھلا ایسے میں ان کی باتیں کہاں سمجھ میں آئیں گی۔ جی ہاں ۔۔ دل نادان تجھے ہوا کیا ہے ۔۔۔ جیسی کچھ غزلیں عام محفلوں میں سنی جاتی ہیں۔

 جب کچھ خاص محفلیں ہوتی ہیں، تو غزل کے تمام رنگ جگمگاتے ہیں اور لوگ بھی خوب لطف اٹھاتے ہیں۔ گلوبلائزیشن کے دور میں تہذیبیں بدل رہی ہیں، نوجوانوں کی تفریح کے ذرائع بدل رہے ہیں۔ اس سے زبان بھی بدل رہی ہے۔ ندا فاضلی گزر گئے ہیں، انہوں نے بدلتی زبان کو اپنی غزلوں میں پیش کیا اور لوگوں نے انہیں خوب پسند بھی کیا۔

کیا کبھی کچھ غزلیں گانے میں مشکل ہوتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں پيناز کہتی ہیں کہ کچھ غزلوں کو گائیکی کے فریم میں بٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے ایسی غزلوں کے شعر گلوکار کبھی کبھی درمیان میں تحت الفظ میں سنا دیتے ہیں،

جیسے ندا فاضلی نے کہا تھا،

منھ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون

آوازوں کے بازاروں میں خاموشی پہچانے کون

جانے کیا کیا بول رہا تھا سرحد محبت کتابیں خون

کل میری نیندوں میں چھپ کر جاگ رہا تھا جانے کون

پيناز کہتی ہیں کچھ پروگرام ایسے ہوتے ہیں، جہاں بڑے شاعروں کی غزلیں گانا نہیں سکتے۔ یہ ان شاعروں کے ساتھ انصاف نہیں ہو گا، کیونکہ جب غزل گائی جاتی ہے، تو اس کو بڑے احترام کے ساتھ سننا چاہئے، لیکن اگر لوگ بیچ بیچ میں اٹھ کر ادھر ادھر گھومنے لگیں، ناشتا کرنے چلے جائیں، یا پان کھانے چلے جائیں ایسے میں ان شاعروں کا احترام نہیں ہوگا۔ غزل ٹوٹے ہوئے دلوں کی آواز بھی ہے، لیکن وہ ایسی آواز ہے، جسے سن کر دل روتا نہیں بلکہ ایک مختلف قسم کی خوشی محسوس ہوتی ہے۔

..........................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج      (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔


کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... صوفی موسیقی کی ہمسفر سمیتابیلّور

موسیقی سے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش ... سورج نروان


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem