دوالیہ کے بعد بھی کھڑی کی 250 کروڑ کی کمپنی

اگر آپ کسی صبح حیدرآباد کی ہائی ٹیک سٹی گھومنے نکلیں تو آپ کو سائیکل چلاتے ہوئے کئی لوگ مل جائیں گے۔ ان میں سے ایک ڈھائی سو کروڑ روپے کی ٹائیر 4 ڈیٹا سینٹر کمپنی سی ٹی آرایل ایس ڈیٹا سینٹر لمیٹڈ کے بانی اور صدر سریدھر پنپی ریڈی بھی ہو سکتے ہیں۔ 42 سال کے دبلے پتلے جسم والے سریدھر کافی شرمیلی طبیت کے ہیں۔ وہ اپنے ماضی کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں ظاہر کرنا چاہتے۔ تاہم ان کے ارد گرد کے لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس کاروباری دنیا کا 20 سالوں کا تجربہ ہے اور گزشتہ سات سالوں کے دوران وہ کئی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے تین کمپنیاں قائم کی۔ 'کلاؤڈ فار سی' ایسا تیسرا اسٹارٹپ تھا جسے ڈھائی سال پہلے قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نےعالمی پرائیویٹ ایکوئٹی کھلاڑیوں کے ذریعہ 400 کروڑ روپے جٹائے۔ اس کے بعد اب ان کو امید ہے کہ اس دہائی کے آخر تک کمپنی 500 ملین ڈالر کا کاروبار کرے گی۔ ان ڈیٹا سینٹر کے کاروبار کو عالمی ٹیلی کام کمپنیوں کی طرح گوگل، ایمیزون ایڈبیوایس اور فیس بک اور دوسری کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ ہے، لیکن جیسے ہی سریدھر نے ٹائیر 4 ڈیٹا سینٹر کا قیام کیا اور اس میں بینکنگ اور انٹرپرائز کی مدد لی انہوں نے کاروبار کا کھیل ہی بدل کر رکھ دیا۔ ممبئی میں واقع ان کے ایک ڈیٹا سینٹر میں گھستے ہی کسی قلعہ کا احساس ہوتا ہے- اس ڈیٹا سینٹر میں جہاں کھائی جیسی جگہ دیکھنے کو مل جائے گی، وہیں بڑی سی دیواروں کا بھی دیدار ہو جائے گا۔ آٹّمیٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے 57 بینکوں کے مشکل اطلاقات پر کام کرے ہوئے لوگ نظر آئیں گے اور وہ بھی بغیر رکے اور کم توانائی کی کھپت کے ساتھ۔ سی ٹی آرایل ایس اس وقت ملک اور دنیا میں 2 ہزار سے زیادہ گاہکوں کو اپنی خدمات دے رہا ہے۔ 'یور سٹوری'كے ساتھ ان کے انٹرویو کے اقتباسات یہاں پیش ہیں۔

0


یور اسٹوری: آپ کے کاروبار کی بات کرنے سے پہلے بتائیں کہ جب آپ کاروباری بننے کے لیے میدان میں قدم رکھا تو کن مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑآ حالات کا سامنا تھا؟

سریدھر: میرے سامنے کئی مشکل لمحات آئے۔ سال 2001 میں جب میں انٹرنیٹ سروس پروواڈر کے طور پر کام کر رہا تھا تو اس وقت مجھے کافی نقصان جھیلنا پڑا۔ تب پائنير لیب نام کی یہ کمپنی تین سال کی عمر تھی۔ اس وقت ہماری توجہ کارپوریٹ کو اپنے ساتھ جوڑ کر مواصلاتی خصوصیات کی سطح میں اضافہ کرنا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ڈاٹ کام بحران شروع ہی ہوا تھا اور پیسہ آنا تقریبا بند ہو گیا تھا۔ باوجود اس کے میں نے کافی لوگوں کو کے روپے ادا کئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ مجھ پر یقین رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے مالی مشکلات کے دوران خود کو سنبھالے رکھا اور مشکل کاروباری فیصلے لئے۔ میرے سامنے دوسری بار مالی پریشانی سال 2008 اور 2009 کے دوران آئی۔ جب اقتصادی پریشانیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں پرائیویٹ ایکوٹی فنڈ میری کمپنی سی ٹی آرایل ایس کو چھوڑ کر جانے لگے۔ تاہم اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں پیسہ بنا سکتا ہوں کیونکہ اس وقت بینکوں نے اپنی اپلیکیشن کو بیرونی ڈیٹا سینٹر کے پاس لے جانا شروع کیا تھا۔ وہ اب اپنے ڈیٹا سینٹر پر اور سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ یہ ان کے لئے کافی مہنگا پڑتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سی ٹی آرایل ایس گزشتہ چھ سالوں کے دوران اپنی ترقی بنانے میں کامیاب ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ جو پرائیویٹ ایکوئٹی فنڈ اس وقت چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ سال 2013 میں واپس لوٹ آئے۔

یور اسٹوری: آپ کے کام کا انداز دوسروں سے مختلف ہے کیونکہ آپ اس وقت تک سرمایہ کاری کرتے ہیں جب تک کہ بورڈ آپ سے ناراض نہ ہو جائے، لیکن طویل وقت کے دوران آپ کے فیصلے کی اہمیت پتہ چل جاتی ہے۔ کیا لوگ اس لئے آپ کو کھلے خیالات والا مانتے ہیں؟

سریدھر: جی ہاں، اس معاملے میں تقدیر والا ہوں۔ میں پیسے کی فکر نہیں کرتا اور عام طور پر ایسی باتوں سے مجھے فکر نہیں ہوتی۔ سال 2001 میں جب پہلی بار مجھے مالی بہران کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت مجھے تھوڑی تشویش ضرور ہوئی تھی، لیکن اگر آپ کو اپنے آپ پر اعتماد ہو تو لوگ بھی آپ پربھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ میں نے تحقیق اور ترقی پر مسلسل پیسہ لگایا اور اب تک میں اپنے فیصلے خود لیتا آیا ہوں۔ میرے انتظام کا طریقہ کافی مشکل ہے۔ اگر مجھے کسی کام پر یقین ہوتا ہے تو میں اس کے لیے الگ سے ایک ٹیم بنا دیتا ہوں۔ اگر میں ان سے اس می کودنے کو کہتا ہوں تو وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو ایسے لوگ چاہئیں جو آپ کے خیالات سے مکمل طور متفق ہوں۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ آپ کو ایسے ملازم چاہئے جو آپ کی باتوں میں صرف ہاں پر ہاں ملايے۔ درسرا یہ ضروری ہے کہ کاروباری اور ملازم کے درمیان یکساں خیال ہونے چاہئے۔ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں یہ بات سال 2006 کی ہے جب سی ٹی آرایل ایس قائم نہیں ہوئی تھی۔ تب میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ٹائیر 4 ڈیٹا سینٹر کے بارے میں بات کی تھی۔ اس وقت تكنيكی ٹیم نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے اور وہ ڈیٹا سینٹر کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے خلاف تھے۔ وہ مشکل اطلاقات نگرانی کو لے کر فکر مند تھے ان کا خیال تھا کہ اس سے آگے چلکر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ باوجود اس کے میں نے اس طرف قدم رکھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس میں ہی مستقبل ہے۔ اس طرح سال 2008 میں میں نے سی ٹی آرایل ایس قائم کی اور اس کے نتائج خود ہی سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح سال 2014 میں جب میں نے تیسرے ابتدائیہ -اسٹارٹپ- 'کلاؤڈ 4 سی' کی شروعات کی تھی تو میری سیلز ٹیم نے کہا کہ کلاؤڈ کے میدان میں وصولی کافی مشکل کام ہے اور کوئی بھی کسٹمر اس کا حصہ نہیں بننا چاہے گا۔ تب میں نے ایسے لوگوں کو رکھا جو میرے خیالات سے متفق تھے اور آج میں سرمایہ کاری کو متحرک کرتے ہوئے اپنا کاروبار پھیلا رہا ہوں۔

یور اسٹوری: آپ نے 250 کروڑ روپے کا ڈیٹا سینٹر کا کاروبار کھڑا کیا اور ساتھ ہی مضبوطی کے ساتھ آئی ایس پی کاروبار کھڑا کیا اور رہنما کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب 'کلاؤڈ 4 سی'کا یہ کاروبار کس طرح مختلف ہے؟

سریدھر: آئی ایس پی کاروبار فی الحال سست ہے، لیکن كٹھك اپلیکیشن کے لئے ڈیٹا سینٹر اور 'کلاؤڈ 4 سی' سے منسلک وصولی کی خدمات تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور مستقبل میں یہ بڑے کاروباری گھرانے کا روپ لے سکتی ہیں۔ جب آپ ہمارے ڈیٹا سینٹر میں گھوم رہے تھے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے ماڈل بالکل الگ ہیں اور میں اسے دو یا تین طریقوں سے تیار دیکھنا چاہتا ہوں۔ آج ہم ان مشکل اپلیکیشن کو سنبھال رہے ہیں۔ ہمارے بزنس ماڈل کے مطابق ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر کارپوریٹ ڈیٹا سینٹر کو ہینڈل کرنے کے لئے ہم فیس وصول کرتے ہیں۔ ہمارے ڈیٹا سینٹر کی شکل بھی تقریبا-تقریبا آئی ٹی سروس کاروبار کی طرح ہے۔ وہ ہمارے ساتھ کام کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ڈیٹا سینٹر میں پہلے سے ہی مشکل اپلی کیشن لوڈ ہوتی ہیں۔ جو کارپوریٹ کے لئے معقول حد تک ضروری ہوتی ہیں۔ ایسے میں کوئی کیوں لائسنس لے گا جب اس کے پاس ایسا ماڈل ہے جس میں وہ اتنا ہی ادا کر سکتے ہیں جتنا وہ استعمال کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح 'کلاؤڈ 4 سی' کریٹکل ڈیٹا سے منسلک چار کاپیاں دیتا ہے اور وہ بھی کافی کم دام اور حفاظت کے معیار کو ذہن میں رکھتے ہوئے۔ ہم ایک ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی کمپنی بھی ہیں۔ 'کلاؤڈ 4 سی' مستقبل میں ڈیٹا کی وصولی اور سیکورٹی کمپنی بن سکتی ہے۔ ہم ایک ایسا پلیٹ فارم بن رہے ہیں جہاں پر کارپوریٹ کو ان کے مطابق خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

یور اسٹوری: کس طرح آئی ٹی کاروبار ملک کو تبدیل کر رہا ہے؟

سریدھر: آئی ٹی میں پرانے طریقے کی خدمات ختم ہو گئے ہیں۔ اب اس علاقے میں نظام انٹگریشن اور ہارڈ ویئر کے انٹگریشن نہیں کیا جاتا۔ پرانے دنوں نے ERP کے پیکج کو انجام دینے کے لئے 65 لوگوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ ان میں سے 15 افراد سائٹ میں کام کرتے تھے۔ کوئی کاروبار طویل وقت تک ایسے ماڈل پر کام نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں ایسے خود کار پلیٹ فارم کے ساتھ کسی پروجیکٹ کو پورا کرنے کے لئے آئی ٹی سے متعلق کچھ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح پوری بیلنس شیٹ گڑبڑ ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کے لئے لوگوں کے ساتھ لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ آٹومیشن کی وجہ پروڈکٹ کمپنیوں نے اپنے لائسنس ماڈل کو بدلا ہے اور وہ اب نئے آمدنی کی تلاش میں ہیں۔ اس کے بارے میں جب آپ سوچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں ان کی بیلنس شیٹ میں لائسنس کی قیمت کم ہو گی۔ یہ ایک انتہائی خود کار دنیا بننے جا رہی ہے۔ باوجود اس کے آئی ٹی کمپنیاں بھی اپنا کام کرتے رہیں گی کیونکہ وہ مینجمنٹ کے کام جانتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ ریونيو کے دوسرے ماڈل کی طرف کام کرنا شروع کریں گے۔

یور اسٹوری: کاروباریوں کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟

سریدھر: میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ملک میں کاروباریوں کو خاندان کی حمایت حاصل ہے۔ کیونکہ کئی بار دباؤ کے وقت کاروباریوں کو خاندان کے بھروسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کئی سال پہلے میرے والد نے مجھے کاروباری بنانے کے لیے اپنا گھر گروی رکھ دیا تھا۔ میں کسان خاندان سے آتا ہوں اور میرے والد ڈرلنگ کے کاروبار سے منسلک تھے۔ دوسری طرف ملک میں موجود بینک طلباء کو ایجوکیشن لون دینے میں كولیٹرل ماڈل پر کام کرتے ہیں۔ اس ماڈل کی وجہ سے انوویشن اور کچھ نیا سوچنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسا ايكوسسٹم تیار ہونا چاہئے جہاں پر یونیورسٹی ایسی ریسرچ کو فروغ دیں جس کا استعمال کاروباری طور پر بھی استعمال ہو سکے۔ ہمارے پاس خاندان کے بھروسے کے علاوہ ایسا کوئی نظام نہیں ہے جو ہمیں طاقت دے سکے۔ آج یونیورسٹیوں اور کارپوریٹ کے درمیان کافی کم وابستگی ہے۔ جبکہ ہم لاکھوں بچوں کے اندر چھپے امکانات کو باہر نکال کر ان کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کے ساتھ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کا ملک ہے اور اس میں اتنی طاقت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اور کاروبار کے معاملے میں دنیا کی قیادت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ملک میں وہ سب کچھ ہے جو اس مقام تک پہنچنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ کاروباری اپنی جانب سے خدمات اور ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہاں پر میں ایک مسئلہ دیکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ سرمایہ کاری جٹاتے ہیں وہ مضبوط تنظیم کی تعمیر میں کم توجہ دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے کاروبار اگلے 5 سالوں تک نہیں ٹک پائیں گے۔

یور اسٹوری: آپ اسٹارٹپ کو کیا مشورہ دے رہے ہیں؟

سریدھر: دوسری کمپنیوں کو مشورہ دینے کے لئے میرے پاس وقت کی کمی ہے۔ میں اپنی کمپنی میں موجود ٹیلنٹ کو بہترطور پر توجہ دیتا ہوں۔ اگر کوئی شخص کسی اسٹارتٹپ کو مشورہ دینے کا کام کرتا ہے تو اس کے پاس اس کام کے لیے کافی وقت ہونا چاہئے۔ میرا صاف خیال ہے کہ تجارت کافی مشکل کام ہے۔ آپ کو اپنی زندگی کے ساتھ رفتار ملا کر چلنا ہوتا ہے اور اس میں زیادہ گھبرانا نہیں چاہئے۔ اگر آپ جیسا چاہ رہے ہیں اور ایسا ہو نہیں رہا ہے تو آپ کو اپنی کوشش چھوڑنا نہیں چاہئے اور پرانی چیزوں کو بھول کر آگے بڑھنا چاہئے۔ تاہم مختلف لوگوں کے ساتھ کام کرنے سے مختلف تجربے ملتے ہیں، لیکن آخر میں آپ کا اعتماد ہی کام آتا ہے جو آپ کو مسائل سے باہر نکالنے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس لئے آپ پر اعتماد ہونا چاہئے، مستقبل میں داؤ لگانے کے لئے تیار رہنا چاہئے، آپ کے خاندان کی طاقت کو پہچاننا چاہئے اور آپ کی ٹیم کے لئے مضبوط بننا چاہئے۔

یور اسٹوری: آپ نے کیا سیکھا جب آپ 1 کروڑ روپے سے 300 کروڑ روپے تک پہنچ گئے؟

سریدھر: سب سے پہلے اپنے آپ کو پیسے سے الگ کر لیں اور آپ کی مصنوعات پر توجہ دیں۔ اگر آپ کی مصنوعات اور خدمات اچھی ہیں تو، کسٹمر آپ کو پیسے دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ میں نے ضرورت کے مطابق ہر چیز کا حل تلاش کیا اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے کام کیا۔ اس طرح جو بھی پیسہ میں نے کمایا وہ مسائل کے تلاش کرنےسے کمایا۔ میں نے جس بھی چیز کو کھڑا کرنے کے بارے میں سوچا اس طرف میں نے توجہ سے کام کیا۔ میرا خیال ہے کہ کام اور زندگی میں توازن بنا کر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ میں نے کافی وقت اپنے ملازمین اور خاندان کے درمیان وقت گزارنا ضروری ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تمام کاروباریوں کو تنظیم کو کھڑا کرنے پر توجہ دینا چاہئے۔ اس سے لوگ اور ملک عظیم بنتے ہیں۔ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جو اپنے یہاں تنظیم کو تیار کرنے پر زور دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ملک کاروبار کے میدان میں سب سے آگے ہے۔

تحریر - وشال کرشنا

ترجمہ -ایف ایم سلیم

Related Stories