10 سال کی عمر میں شادی، 20 تک چار بچے، 30 سال میں 2 لاکھ خواتین کا بھروسہ ...پھول باسن

تنظیم سے جڑی ہیں 2لاکھ خواتین بغیر سرکاری امداد کے جمع کئے 25 کروڑ روپےسال 2001 سے چلا رہی ہیں 'صفائی مہم'شراب بندی اور بچپن کی شادی کے خلاف محاز

0

اس قبائلی عورت نے ایک ایسا دور بھی دیکھا جب کھانے کے لالے تھے، ایک ایک دانے کے لئے محتاج ہونا پڑتا تھا، پھر دور بدلا، حالات بدلے، آج وہی خاتون لاکھوں لوگوں کے لئے امید کی کرن ہے۔ ان کے روزگار کا انتظام کرا رہی ہیں۔ وہ خاتون جس کی شادی 10 سال کی عمر میں کر دی گئی تھی وہ آج بچپن کی شادی کے خلاف سماج سے لڑ رہی ہے۔ جو سماج کبھی اس کی غربت کا مزاق اڑاتا تھا، آج وہی اس کے ساتھ نہ صرف کھڑا ہے بلکہ اس کی ایک آواز پر مر مٹنے کو تیار رہتا ہے۔ چھتیس گڑھ کے راج ناندگاؤں ضلع کے سكلدیهان گاؤں کی رہنے والی پھولباسن یادو صرف راج ناندگائوں ضلع میں ہی نہیں، بلکہ پورے چھتیس گڑھ میں خواتین کو بااختیار بنانے کی رول ماڈل کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

اقتصادی طور پر کمزور ہونے کے باوجود پھولباسن نے بڑی مشکل سے 7 ویں تک تعلیم حاصل کی۔ 10 سال کی عمر میں ان کی شادی پڑوس کے ایک گاؤں میں رہنے والے چندولال یادو سے ہوئی اور 13 سال کی عمر میں وہ سسرال آ گئیں۔ ان کے شوہر چندولال کے پاس نہ تو زمین تھی نہ ہی کوئی روزگار۔ چرواہا تھے، تو آمدنی کوئی زیادہ نہیں تھی۔ ایسے برے وقت میں انہیں دو جون کی روٹی بھی مشکل سے میسر ہوتی تھی۔ کئی دن بھوکے رہنا پھولباسن کے خاندان کی عادت میں شمار ہو گیا تھا۔ تب پیٹ میں دانا نہیں ہوتا اور جسم ڈھکنے کے لئے ساڑی اور پیروں میں موزے ہونا تو دور کی بات تھی۔ اسی طرح وہ 20 سال کی عمر تک 4 بچوں کی ماں بن گئیں۔

غریب کا کوئی نہیں ہوتا، یہ بات پھولباسن سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ لوگ مدد کرنے کی جگہ اس کی غربت کا مزاق اڑاتے، تنگدستی میں گزر رہی زندگی میں بچے زمین پر بھوکے ہی روتے بلكھتے رہتے۔ تب پھولباسن نے کچھ ایسا کر گزرنے کا ارادہ کیا کہ آج وہ دوسروں کے لئے مثال بن گئیں۔ انہوں نے دن رات، موسموں اور مصیبتوں کی پرواہ کئے بغیر سال 2001 میں 'ماں بمبلےشوری سیلف ہیلپ گروپ' تشکیل دیا۔ اس کے لئے انہوں نے 11 خواتین کا ایک گروپ بنایا اور آغاز 2 مٹھی چاول اور 2 روپے سے کیا۔ اس دوران گاؤں والوں نے ان کی اس مہم کی مخالفت کی اور تو اور ان کے شوہر تک نے ساتھ نہیں دیا۔ شوہر کی مخالفت کی وجہ سے کئی بار رات رات بھر پھولباسن کو گھر سے باہر رہنے پر مجبور ہونا پڑا، لیکن جن کے پاس ہمت اور جرائت ہو وہ مخالف ہواؤں اپنا چراغ جلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ تبھی تو آج راج ناندگائوں ضلع کے تقریبا ہرگاؤں میں پھولباسن کے بنائی خواتین کی تنظیم کی شاخیں قائم ہو گئیں ہیں۔ یہ تنظیم خواتین کوخودمختار بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کا کام بھی کرتا ہے۔

مطالعہ، فلاح بہبود اور صفائی کی سوچ کے ساتھ پھولباسن نے خواتین کو اچار، پاپڑ اور دیگر چیزیں بنانے کی نہ صرف تربیت دیتی ہیں بلکہ بملےشوری برانڈ کے نام سے تیار اچار چھتیس گڑھ کے تین سو سے زیادہ جگہوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔ پھولباسن نے ضلع کی خواتین کوخود کفیل بنا نے کے لئے انہیں سائیکل چلانا سکھایا۔ اس کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ خواتین میں اعتماد بڑھے گا اور وہ سماجی برائیوں سے لڑنا سيكھیں گی۔ ان کی یہ سوچ درست ثابت ہوئی جب دیہی خواتین نے لوگوں میں شراب کی لت دیکھی تو شراب بندی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ آج بھی ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین ایک دن کا روزہ رکھتی ہیں، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ شراب بندی کے خلاف ہیں اور گاؤں گاؤں میں پروگرام منعقد کیا جاتا ہے، جس میں صرف خواتین ہی حصہ لیتی ہیں۔ یہ پھولباسن کی ہی مہم کا اثر ہے کہ ان کی تحریک کے بعد 650 سے زاید گاؤں میں شراب کی بھٹیاں بند ہو گئیں۔ قریب چھ سو گاؤں ایسے ہیں جہاں اب بچوں کی شادی نہیں ہوتے۔

آج پھولباسن کے گروپ سے 2 لاکھ سے زاید خواتین جڑ چکی ہیں اور اس تنظیم نے بغیر سرکاری امداد کے 25 کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع کر لی ہے۔ جس کا استعمال یہ سماجی کاموں کے لئے کرتی ہیں۔ یہ غریب لڑکیوں کی شادی کرتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم کے لئے تمام اقدامات کرتی ہیں، ساتھ ہی خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے یہ تنظیم معمولی سود پر کھیتی باڑی، پولٹری، بکری پالن اور روزگار کے لئے انہیں قرض بھی دیتا ہے ۔

پھولباسن ہیں حکومت کی امداد لئے بغیر سال 2001 سے صفائی مہم چلا رہی ہیں۔ جلد ہی چھتیس گڑھ کے راج ناندگائوں ضلع کا چوکی بلاک ایسا پہلا علاقہ ہوگا جہاں پر ہر گھر میں بیت الخلاء ہوگا گے۔ اس لئے ماں بمبلے شوری جن ہتكاری کمیٹی خاص مہم چلا کر لوگوں کو بیدار کر رہی ہیں۔ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے کے ارد گرد کے دوسرے بلاک سے آئی تقریبا 200 خواتین یہاں پر لیبر عطیہ کر رہی ہیں۔ تاکہ ہر گھر میں بیت الخلاء بنایا جا سکے۔

پھولباسن کی انہی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سال 2012 میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ جس کے بعد پھولباسن کا خیال ہے کہ ان کے اوپر معاشرے کے تئیں ذمہ داری پہلے کے مقابلے زیادہ بڑھ گئی ہے

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem