'بوند بوند' خوشی سے بھریں گے گاؤں والوں کے گھر

0

'قطرے۔قطرے' سے بنتا ہے سمندر! شاید بوند انجینئرنگ اینڈ ڈیولپمنٹ پراویٹ لمیٹڈکا یہی بنیادی اصول ہے۔ رستم سین گپتا کی طرف سے قائم 'بوند' ایک سماجی ادارہ ہے جو راجستھان، اتر پردیش، دہلی ان سی آر اور دوسری شمالی ہندوستانی ریاستوں میں متبادل توانائی کو فروغ دینے کے کام میں لگا ہوا ہے۔

سن 2010 سے ہی 'بوند' ادارہ ہندوستان کے دور درازعلاقوں میں جا کرغریبوں کو بجلی، پینے کا پانی، کیڑے مار دواؤں اور حفظان صحت کی خدمات مہیا کررہا ہے اور ساتھ ہی دیہی مصنوعات تیار کرنے اور شمسی لیمپ، گھریلو شمسی آلات، واٹر فلٹر، اور شمسی چولہوں کی تقسیم کا نظام تیار کرنے کا کام کر رہا ہے۔ رستم سین گپتاکہتے ہیں:ہم ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں اور مشکل جغرافیائی علاقوں میں جا کر صرف توانائی پہنچانے کا کام ہی نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اپنے ذرائع کو بہت سارے سماجی مسائل حل کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ہماری بنیادی توجہ مختلف سماجی گروپوں، اور جغرافیائی اکائیوں کو ان کے لئے مناسب اور ان پریشانیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے خاص طور پر پیداواری شمسی حل فراہم کرانا ہے۔

رستم سین گپتاایک سماجی کاروباری ہیں، لیکن ساتھ ہی بیس آف پرامڈ (Base of Pyramid) یا BoPکے ماہر بھی ہیں۔ وہ پائیدار (sustainable) سماجی کاروباری اداروں پر تحقیق کرتے ہیں اور اپنے نتائج کو فوری طور پر فیلڈ پر ہی عملی جامع پہناتے ہیں۔ وہ BoP کیلئے مصنوعات اور خدمات کے ڈیزائنگ اور ڈیٹا کے تجزیہ کے ماہر کے طور پر کام کرتے ہیں اور کئی یونیورسٹیوں اور اداروں میں مارکیٹ اندراج اور نئی ابھرتی ہوئی مارکٹ اکنامکس پر مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔INSEAD سے MBA کرنے کے علاوہ انہوں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی، ارون سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ایم ایس کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ وہ تین براعظموں میں رہتے ہوئے بینکنگ کی صنعت میں بھی کام کر چکے ہیں اور سنگاپور میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ، سوئٹزرلینڈ میں Syngenta اور امریکہ میں ڈلائٹ کنسلٹنگ کو اپنی خدمات فراہم کر چکے ہیں۔

رستم سین گپتا مزید کہتے ہیں کہ ‘بوند’ کا مقصد ملک کے دوردراز اور پسماندہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو سہولتوں'راحتوں اور اقتصادی ترقی کے وہی مواقع مہیا کرانا ہے، جو دنیا کے دوسرے ممالک کے لوگوں کو میسرہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ تقسیم کا بہتر نظام’ اعلی درجے کی مالی اسکیموں اور مضبوط مابعد فروخت خدمات کے ذریعہ ان طبقات کوپیداوار میں اضافہ کرنے والا مال اور خدمات مہیا کرکے یہ کیا جا سکتا ہے۔

چنانچہ 'اناؤ' اترپردیش کے پیرا نامی گاؤں میں 5000 روپے ماہانہ آمدنی والے 25 غریب کسان خاندان اپنے گھروں کی بجلی کیلئے پیشگی ادائیگی کارڈوں کا استعمال کر رہے ہیں، جیسے سیل فون ریچارج کروایا جاتا ہے۔ یہ حل ملک کے سب سے غریب خاندانوں کیلئے دریافت کیا گیا ہے جو بجلی کیلئے ضروری پینل لگوانے کا یا اپنے لئے مختلف شمسی گھریلو روشنی آلات لگوانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایسے خاندانوں کو بجلی فراہم کرنے کیلئے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وہ اپیکو گرڈ سسٹم سے بجلی حاصل کرتے ہیں ان 25 خاندانوں کو’بوند’ کے ذریعہ بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ‘بوند ‘علاقے میں وہ واحد ادارہ ہے جو گاؤں کے غریبوں کو ان کے لئے سہولت بخش شمسی توانائی کے آلات بنا کر فروخت کرتا ہے۔مسٹر گپتا کا کہنا ہے کہ پیرا گاؤں میں’بوند ‘کی طرف سے ایک KW صلاحیت کا حامل شمسی توانائی اپیکوگرڈ سسٹم ( solar powered pico grid system)) قائم کیا گیا ہے۔

800 واٹ کا اپیکو گرڈ سسٹم 25 خاندانوں کو بجلی مہیا کرتا ہے۔ہر خاندان کے پاس ایک فعال توانائی میٹر یا کنٹرولر لگا ہوا ہے، جس سے گاہک پیشگی ادائیگی pre-paid یا مابعد ادائیگی (postpaid) اختیارات (نظام) کا انتخاب کرتا ہے۔ اگر صارفین نے پیشگی ادائیگی کا انتخاب کیا ہے تو اسے 'واٹیج' ('wattage') حاصل کرنے کیلئے ایک ریچارج کارڈ خریدنا پڑتا ہے۔’صارفین کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا مائیکرو گرڈ سسٹم ایک ایسا منصوبہ ہے، جس کے تحت صارفین کو دو لیمپ، ایک موبائل چارجر یا ڈی سی فین چلانے کے قابل بجلی فراہم ہوتی ہے۔ ہر صارف کے گھر میں ایک میٹر ( کنٹرول سرکٹ میں) نصب کیا جاتا ہے۔صارفین پیشگی ادائیگی کر کے اپنی ضرورت کے مطابق واٹیج خرید کرمیٹر کو چالو کروا سکتا ہے، "رستم جی نے یہ بات بتائی۔

انہوں نے کہا کہ گاہک ارد گرد واقع 'بوند' کے چارج اسٹیشن پر جاکر پیشگی ادائیگی کارڈ خرید سکتا ہے۔ اس سے وہ اپنی ضرورت کے مطابق بجلی کی خریداری کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی بجلی فراہمی نظام کے استعمال کے مقررہ گھنٹوں پر کنٹرول بھی رکھ سکتے ہیں۔ ہر ریچارج کارڈ پر ایک خفیہ کوڈ ہوتاہے جو صارفین کی طرف سے مطلوبہ واٹیج کا حساب کھتا ہے ۔( مئی 2014 ) تک ’بوند’ ایسے 11 اپیکو گرڈ نصب کر چکا ہے، جو راجستھان اور اتر پردیش کے 275 خاندانوں کے زندگیوں کو مثبت طور پر متاثر کر رہے ہیں۔' ایسا نظام مٹی کے تیل پر دیہاتیوں کا انحصار کم کرتاہے اور انہیں صاف ستھری اور سستی بجلی مہیا کراتا ہے. ‘بوند’ اپنی خدمات کو مزیدوسعت دینا چاہتا ہے اور اس کا مقصد اس سال کے آخر تک ایسے مزید 50 گرڈ نصب کرناہے۔

اس کے علاوہ ‘بوند’نے اپیکو گرڈ کی ایک ماقبل متعین لوڈ ماڈل بھی تیار کیا ہے۔گزشتہ ماڈل اور اس میں فرق یہ ہے کہ یہ ماڈل بھی انہی تقسیم لائنوں کا استعمال کرتا ہے، لیکن صارفین ہر ماہ مطلوبہ توانائی کے لئے ایک مخصوص رقم جمع کرتے ہیں۔اس نظام میں خاندانوں کو ایک دوسرا میٹر دیا جاتا ہے، جو بچے ہوئے دنوں کی تعداد کی عکاسی کرتا ہے، جس کے بعد ان کا کنکشن کٹ جاتا ہے۔’بوند’ صارفین کے بوجھ کی ضروریات کے مطابق ان کے اور ان کی واجبات کو گروپوں میں تقسیم کرتا ہے۔’بوند’ مقررہ ادائیگی انتظام والا ایک اپیکوگرڈ سسٹم بھی لے کر آیا ہے، جس میں صارفین کو مرکزی چارجنگ سٹیشن پر پورٹیبل بیٹریاں چارج کروانی پڑتی ہیں’ جنہیں گھر لے جاکر وہ اپنے لیمپ وغیرہ تبدیل کر سکتے ہیں۔اس نظام میں وہ ہرماہ 50 سے 100 روپے تک ادا کرتے ہیں۔رستم کے مطابق، ہندوستان میں ایسے بے پناہ تجارتی امکانات موجود ہیں کیونکہ 200 ملین (20 کروڑ) لوگ آج بھی ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں بجلی نہیں پہنچ پائی ہے یا اگر پہنچی بھی ہے تو اس کی فراہمی ناقس اورنامکمل ہے۔ ایک انٹرپرائز کے طور پر اسے شروع کرنا انتہائی فائدہ مند ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کے ذریعہ بجلی سے محروم دیہی علاقوں کو روشن بھی کیا جا سکتا ہے۔ گاؤں میں بھی ایسے کئی خاندان ہیں جن کی روزانہ آمدنی 200 سے 400 روپے تک ہے لیکن جہاں بجلی نہیں ہے، بجلی کنکشن ٹھیک نہیں ہیں یا توانائی کی دستیابی کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔

اس طرح بجلی کا نظام سماج پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کی مثال 27 سالہ اجئے کمار ہیں جو خود بھی دودھ کے کاروباری ہیں اور اناؤ (اترپردیش) کے حسن گنج بلاک کے دیہی علاقوں میں دودھ فروخت کرنے والی کمیونٹی کیلئے دودھ کا ذخیرہ بھی کرتے ہیں، بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ دودھ کے معیار کو برقرار نہیں رکھ پاتے تھے اور اس کی مناسب قیمت بھی انہیں نہیں مل پاتی تھی۔

بلاک میں واقع الیکٹرانک دودھ چیکنگ مرکز (electronic milk testing center) میں ’بوند’نے 225 واٹ کا سولر سسٹم نصب کیا،جو ایملسفائرٹیسٹر، پیمائش چربی آلات اور کمپیوٹر (emulsifier, tester, fat measurement device and a computer) چلانے کے قابل ہے۔ اب اجے کمار خوشی سے پھولا نہیں سماتا کیونکہ اب وہ دودھ کے معیار کو برقرار رکھتا ہے اور اس کی آمدنی میں 30 سے 40فیصد تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ’ ’بوند’گھریلو استعمال کیلئے 40 واٹ کے تین بلب اور موبائل چارجنگ پوائنٹ چلا سکنے کے قابل مبنی بر شمسی توانائی نظام ((solar powered home lighting system) بھی نصب کرتا ہے۔

"رستم سین گپتا کا کہنا ہے کہ وہ سروے کرکے مسلسل دیہی خاندانوں کی توانائی ضروریات کی معلومات لیتے رہتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ شمسی سامان خریدنے کیلئے وہ کتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بجلی کی کمی یا عدم دستیابی سے پریشان ہوتے ہیں اور جہاں مل جائے، اسے خریدنا چاہتے ہیں، انہیں راضی کرنا آسان ہوتا ہے ۔لیکن ان آلات کو نصب کرنے کیلئے بینک سے یا کسی دوسرے مالیاتی ادارہ سے قرض حاصل کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔

‘بوند ‘نے اب تک 7500 شمسی توانائی کے نظام فروخت کر دئے ہیں۔اوراس پہل سے کم وقت میں ہی راجستھان اور اتر پردیش کے 50,000سے زیادہ دیہی باشندوں کی زندگی پر گہرا مثبت اثرمرتب ہوا ہے۔ ان علاقوں میں بچے شام کو جلد سو جاتے تھے کیونکہ وہ ایندھن کی بچت کرنا چاہتے تھے ۔لیکن اب وہ دیر تک پڑھائی کرتے ہیں اور ان کے والدین بھی شام کے وقت زیادہ گھنٹے کام کر پاتے ہیں۔ شمسی توانائی کے آلات لگوانے کی وجہ سے ہی دکاندار دیر تک دکان کھلی رکھ سکتے ہیں اور اس طرح 30 فی صد زیادہ خریدوفروخت ہوتی ہے۔

کسی بھی دوسرے انٹرپرائز کی طرح ‘بوند’بھی اپنے پروگراموں اور منصوبوں کی توسیع کرنا چاہتا ہے۔سن 2015 کے آخر تک ہم 10 اضلاع کو تیزی کے ساتھ ترقی دینا چاہتے ہیں۔سن 2015 کے آخر تک ہم مختلف علاقوں میں 1500 کے وی تک کی صلاحیت کے حامل پراجکٹ کو عملی جامع پہنائیں گے، جس سے 100,000افراد اور چھوٹی صنعتیں مثبت طور پر متاثر ہوں گے۔رستم سین گپتا جو "ڈراموں ‘ اداکاری اور ہدایت کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ انکا شمار سیاحوں میں بھی ہوتا ہے اور 35 سے زیادہ ممالک کی وہ سیر کر چکے ہیں۔ رستم کو یقین ہے کہ ترقی اور سماجی اثرات کیلئے ترقیاتی ماڈل کا پائیدار (sustainable) ہونا انتہائی ضروری ہے اور جب بھی وہ ہندوستانی یونیورسٹیوں میں سماجی ذمہ داری اور آب وہوا کی تبدیلی پر اپنے لیکچرس یا بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسیوں کے ساتھ پرمذاکرے منعقد کرتے ہیں تو اپنے شاگردوں اور سامعین کو پائیداری(sustainability) کا پیغام دیتے رہتے ہیں۔