جسمانی معذوری‘ کامیابی و کامرانی کی را ہ میں رکاوٹ نہیں

وائی ایس اردو ٹیم

0

دیپا ملک کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دو گھنٹے گذارنے کے دوران مجھے انسانی اعضاء سے متعلق کئی حیرت انگیز معلومات حاصل ہوئیں ۔وہ ہاتھ جو وہیل چیر کو کنٹرول کرتے ہیں ‘ وہ بائیک کے گئیر پر بھی قابو کرسکتے ہیں اور ارجن ایوارڈ کو بھی تھامنے کی ان میں صلاحیت موجود ہے ۔ یہی ہاتھ جاولین تھرو مقابلہ میں نیزہ کو آسمان کی بلندیوں کی طرف اچھالتے ہیں ۔کمسن بیٹے اور بیٹیوں کے ہاتھ تھام کر ان کی لامحدود و مساوی سفر کے لئے رہنمائی بھی کرسکتے ہیں ۔ وہ پیر جو وہیل چیر پر بے جان رکھے جاتے ہیں وہ بغیر کسی خطا یا غلطی کئے معصومیت کے ساتھ جل پری کے انداز میں آپ سے کام نکالنا بھی جانتے ہیں ۔ پاسپورٹ کی خانہ پوری کیلئے آپ کو کئی بار اندر ‘ باہر کے چکر لگانے پر مجبور کرتے ہیں اور آپ کو اپنے خوابوں کے رسٹورنٹ بزنس کے کاونٹر کے پیچھے تھامے ہوئے رکھتے ہیں ۔ان تمام خوبیوں کا راز وہ پہیے ہیں جو ان پیروں کو اپنے سے باندھے رکھتے ہیں ۔وہ حقیقت میں وہیل چیر کے پہیہ نہیں بلکہ اشوک چکرا ہیں ۔ قسمت کے پہیے اور ہمیشہ کام کرنے کی علامت ہیں ۔دیپاملک ‘ جسمانی معذور ہے ۔ سینہ پر فالج کا اثر ہے ۔وہ معمول کی زندگی اور حالت کی آرزومند بھی نہیں ہے۔اس کو معلوم ہے کہ اب اس کی معمول کی زندگی واپس نہیں آسکتی ۔دیپا کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق ہونا ہی سب کچھ نہیں ہے ۔ نارمل ہونا دیپا کے لئے سب کچھ نہیں بلکہ اپنے آپ کے نامکمل ہونے کوقبول کرنا نارمل ہونا نہیں ہے ۔ زندگی میں مکمل اس کا اہم مقصد ہے۔

جسمانی معذوری سے وہ نا آشنا نہیں ہے بلکہ اپنے پر زور انداز میں وہ یہ ظاہر کررہی ہے کہ اس کے جذبہ کی یہ ایک طرح سے آزمائش ہے ۔ناکامی نے دیپا کیلئے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا لیکن وہ اس کو قبول کرنے کیلئے ہرگزتیار بھی نہیں تھی۔وہ ہیشہ اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتی تھی اور یہ اس کی عادت بن گئی تھی۔دنیا کو یہ ثابت کرکے دکھانا کہ اس کی طبی حالت اس سے اس کی زندگی چھین کر نہیں لے جا سکتی ۔

چھ سال کی شوخ و چنچل لڑکی کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک زخم یعنی ٹیو مر کی تشخیص ہوتی ہے ۔ اگرچہ ابتداء ہی میں اس کا پتہ چل گیا اور اس کو بڑھنے سے روک دیا گیا لیکن اس حالت نے دیپا کو مشکل حالات سے دوچار کردیا اور یہ اہم باتیں سکھا دیں کہ ان حالات میں کس طرح زندگی گذارنی چاہئے ۔دیپا کو ٹھیک ہونے میں تین سال کا وقت لگ گیا ۔

بدلتے حالات میں زندگی نے وہ سب کچھ مردانہ وار حاصل کرنے کا درس دیا جو اس کے لئے معنیٰ رکھتے ہیں ۔ دیپا نے بتا یا کہ اس کی طرح شوخ و چنچل لڑکی کے لئے جس کو ہر وقت گھومناپھرنا پسند ہے‘ درختوں پر چڑھنا‘ دوستوں کی بائیک چرانا اور شام تک سواری کرنا جو پسند کرتی ہے وہ خاکے بنانے اور پنٹنگ کرنے کیلئے کس طرح ایک کمرے میں بند ہوسکتی ہے۔

دیپا نے بتا یا کہ اگر کوئی شکر گذار ہونے کا ماہر ہے تو اس کو زندگی کے تمام مثبت پہلووں پر نظر رکھنی چاہئے ۔یہاں تک کہ جب وہ بیماری میں بستر پر تھی تب بھی اس نے اپنے بہتر مستقبل کیلئے ذہن کو تیار کرلیا تھا۔ دیپا کو یقین تھا کہ دوسری طرف زندگی اس کا انتظار کررہی ہے۔دوستوں کی بائیک ادھار لینا‘ خوب سواری کرنا ‘ پکڑے جانا اور ڈانٹ ڈپٹ سننا دیپا کے لئے معمول کا کام تھا ۔

جاپان کی جدید و عصری بائیک رکھنے والا ایک نوجوان آفیسر اس کی سواری سے متاثر ہوا ۔اس کے لئے حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک عورت اس طرح سواری کررہی ہے۔اس نے دیپا سے دریافت کیا کہ کیا وہ بائیک کے بارے میں جانتی ہے ؟ دیپا نے جواب میں اس سے چابیاں مانگیں اور کہا کہ وہ دکھائے گی کہ بائیک کس طرح چلتی ہے ۔نوجوان آفیسر نے نہ صرف چابیاں اس کے حوالے کیں بلکہ دوسرے دن اس نے دیپا سے شادی کرنے کی تجویز پیش کر ڈالی۔اس نے دیپا کے والد سے ملاقات کی اور دیپا سے شادی کی درخواست کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اور دیپا مل کر خوشی کے ساتھ اپنی بائیکس کی سواری کریں گے۔

دونوں نے انتہائی خوشگوار زندگی گزاری۔ ان کی پہلی خوشی ان کی بیٹی دیویکا تھی جو خاصی صحت مند اور موٹی تھی ۔لیکن دیپا کو ماضی کے تجربہ نے خوفزدہ کردیا ۔ اس نے بتا یا کہ ایک موٹر سیکل سوار نے اس کی بیٹی کو اس وقت ٹکر دے دی جب وہ صرف ایک سال کی تھی ۔اس کے دماغ میں زخم آیا اور وہ پھیل گیا جس کے نتیجہ میں اس کے جسم کے بائیں طرف فالج کا اثر ہوگیا ۔علاج کیلئے اسے پونے کے کمانڈ ہاسپٹل لایا گیا ۔اتفاق سے اس کو وہی وارڈ اور بستر ملا جس پر کئی برس پہلے دیپا کا علاج ہوا تھا ۔اب یہ باتیں گشت کرنے لگیں کہ دیپا نے اپنی بیماری اپنی بیٹی کو منتقل کردی ہے۔سماج کی نظروں میں جسمانی معذوریں کی کیا تصویر ہوتی ہے اس کا دیپا کو اچھی طرح اندازہ تھا ۔چھوٹی بچی ہونے کی حیثیت سے اسے سب کچھ سہنا پڑا تھا لیکن اب وہ اس کے زہر کو اچھی طرح محسوس کرسکتی ہے ۔اس نے بتا یا کہ اس کے والد کہتے تھے کہ اوپر والا کسی نہ کسی مصلحت کے تحت ہی چیالنجس کی تقسم کرتا ہے اور اس کیلئے اوپر والے نے تمہارا انتخاب کیا ہے ۔

انتہائی غربت میں دیپا اور اس کے شوہر نے اپنی بیٹی کی دیکھ بھال شروع کی ۔ٹھیک اسی طرح جس طرح اس کے ماں باپ نے اس کی دیکھ بھال کی تھی ۔ ان کے یہاں ایک اور لڑکی امبیکا کا جنم ہوا جو انتہائی خوبصورت تھی ۔لیکن اسے ایسا لگا کہ اوپر والا اسے آزمائش میں ڈالنے سے تھکا نہیں ہے ۔1999ء میں دیپا کے شوہر کو کارگل کے لئے طلب کیا گیا اور وہ فوری روانہ ہوگئے ۔وقت گذرتا گیا اور ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ان کی آدھی فیملی دیش کیلئے شہید ہوچکی تھی ۔

ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اوپر والے کے پاس دیپا کیلئے چیالنجس کا پیا کیج ہے۔ وہ ایک اور خطرناک صورتحال سے گذررہی تھی اور اس کے شوہر حالت جنگ میں تھے ۔ہر دن وہاں سے فوجیوں کے شہید ہونے کی اطلاعات مل رہی تھیں ۔ وہ بہت تھک چکی تھی اور اس کی حالت پاگلوں جیسی ہورہی تھی لیکن ان حالات سے گذرتے ہوئے خود پر قابو رکھنے کی اس کی ضد بھی تھی ۔شوہر کی قسمت میں کیا ہے اس کا دیپا کو کوئی انداز ہ نہیں تھا لیکن ان تمام حالات کے باوجود اس کے اندر موجود ماں کااس پر غلبہ تھا ۔ اس کو اپنے بچوں کیلئے زندہ رہنا تھا ۔

سرحد سے ہلاکتوں کی اطلاعات آرہی تھیں اور پورا ہاسپٹل ایک آئی سی یو وارڈ میں تبدیل ہوگیا تھا ۔زخمیوں کے مختلف قسم کے آپریشنس کئے جارہے تھے ۔کوئی ہاتھوں‘ کوئی پیروں اور کوئی آنکھوں سے محروم ہوگیا تھا۔ اس محرومی کے لئے ان کی کوئی خطا نہیں تھی اور نہ ہی انہیں کوئی بیماری تھی لیکن یہ ملک کیلئے شجاعت و بہادری تھی ۔ان حالات کے لئے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں تھی اور دیپا کے ذہن کو ایسی چیزوں کو دیکھنے کی تربیت دی گئی تھی ۔

بہرحال بیٹی کا آپریشن کیا گیا جس کے بعد کئی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں ۔ اس کا برین ٹیوب رسنے لگا۔تیسرے آپریشن کے بعد وہ 25دنوں تک کوما میں رہی لیکن یہ انجام نہیں بلکہ آغاز تھا ۔

آگلے آپریشن سے قبل اس کا غلط علاج کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ اب اس کو باقی تمام زندگی وہیل چیر پر گذارنی پڑے گی ۔نارمل چلنے پھرنے کا جشن منانے کیلئے اسے صرف سات دنوں کا وقت دیا گیا ۔وہ ناامید نہیں ہوئی ۔ان دنوں میں اپنے گھر کو اس نے ایسے ڈھانچہ میں تبدیل کردیا جو مکمل طور پر وہیل چیر دوست یعنی وہیل چیر کے لئے سازگار و مناسب تھا ۔

اس نے بین الاقوامی سطح پر ایسی کمیونٹیز سے رابطہ قائم کیا جو ایسے حالات کا شکار افراد کے لئے کوئی حل تلاش کرسکیں اورکوئی امید باندھ سکیں۔اسی دوران اس کے شوہر جنگ سے بخیر عافیت واپس آگئے۔لوگوں میں یہ قیاس آرائیاں گشت کررہی تھیں کہ وہ اسے چھوڑدے گا تو وہ سماج کی نظروں میں ایک نعش کی طرح ہوجائے گی ۔لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ اس میں بھر پور زندگی کی خواہش و تمنا تھی ۔اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے اس کے دو ہتھیار‘ اس کا مثبت رویہ اور اس کی بزلہ سنجی یعنی ہنسنے بولنے کی عادت تھی ۔ان حالات میں پر سکون رہنا آسان نہیں تھا ۔اس نے سوچا کل اگر وہ سیاستداں بن جائے تو وہ یہ وہیل چیر نہیں چھوڑسکتیں۔ٹرینوں کے طویل سفر کی اسے کوئی فکر نہیں ہوگی اور نہ فلموں کے سین چھوٹنے کا احساس ہوگا بلکہ ہمیشہ اپنے ڈائپرس میں بندھی ہوئی خوش ہونگی ۔

وہ ہمیشہ ایسے کام کرتی جس سے اس کو خوشی حاصل ہوتی۔ وہ ہمیشہ وہیل چیر پر ہوتی ۔اس کا احساس ہے کہ کوئی اسے وہیل چیر تک محدود کیوں سمجھتا ہے جبکہ وہ وہیل چیر پر خود کو آزاد سمجھتی ہے ۔اشوک چکر بھی ایک وہیل یعنی پہیہ ہے ۔ وہ ہر ایک سے یہ کہتی کہ میری طرح ہی تمہاری بھی امیدیں اور آرزویں ہیں پھر بھی بار بار وہ اس وقت نشانہ بن جاتی ہے جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے بچوں کو غذا دیتی ہوگی ۔اس کو ہمیشہ کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہوگی وغیرہ ۔لیکن اس کے اندر کوئی جذبہ ہے جو ان تمام باتوں کو غلط ثابت کرنے کیلئے جدوجہد کرتا ہے ۔اسی دوران اس کے شوہر کو دوبارہ طلب کرلیا گیا ۔لیکن ا س مرتبہ اسکوائڈرس کمانڈر کی بیوی کی حیثیت سے وہ ایسے 30خاندانوں کی دیکھ بھال کررہی تھی جن کے شوہر اچانک جاچکے تھے ۔

اسی دوران اس کے ذہن میں کیٹرنگ سرویس شروع کرنے کا خیال آیا جو اس سے قبل آرمی کوارٹرس میں دستیاب نہیں تھا ۔گھر کے اسٹاف اور اس کے کمرے کو پینٹ کرنے والے چند افراد کو لیکر اس نے اپنے فام ہاوز کے کارنر پر ’’گارڈن رسٹورنٹ ‘‘ قائم کی۔ یہ رسٹورنٹ ہوم ڈیلیوری سنٹر کے طور پر شروع کی گئی لیکن جلد ہی رسٹورنٹ کو کافی مقبولیت حاصل ہوگئی ۔ ہر دن رسٹورنٹ میں 250افراد کے کھانے کا انتظام کیا گیا جبکہ ہوم ڈیلیوری کے 100آرڈرکو بھی پورا کیا جارہا تھا ۔اس نے ملازم لڑکوں کی بھی کافی مدد کی اور انہیں اسکول بھیجا گیا جہاں انہوں نے دسویں جماعت کا امتحان دیا ۔بعض خواتین کو یہ تشویش تھی کہ وہ کس طرح اپنی فیملی کے کھانے کا انتظام کرئے گی۔ لیکن اس نے اپنے گھروالوں کے کھانے کا بھی انتظام کردیا ۔ اب یہ سب کا پسندیدہ مقام بن گیا تھا۔آرمی کے نوجوان آفیسرس اس کے میزبانوں سے بات چیت کرنا بھی پسند کرتے تھے۔

اس دوران مختلف لوگوں سے اس کی بات چیت ہوتی رہی ان میں سے ایک نوجوان نے اس سے کہا وہ دوبارہ بائیک چلا سکتی ہیں ۔اس نے دکھایاکہ کس طرح لوگ بیرونی ممالک میں ایسا کرتے ہیں ۔

دیپا نے نوجوان کو اس حقیقت سے واقف کروایا کہ اس کے جسم کا نچلہ حصہ کام نہیں کررہا ہے۔جسم کا مناسب توازن نہیں ہے اور نہ مناسب حس ہے۔ شش یعنی پھیپھڑے بھی مناسب طور پر کام نہیں کررہے ہیں ۔جسم کی حرارت پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔اس کی نبض بھی اتفاق سے کٹ گئی تھی ۔یہاں تک کہ مثانہ پر بھی کنٹرول نہیں تھا ۔یہ ایک کرشمہ ہی تھا کہ وہ رسٹورنٹ چلا رہی تھی ۔

اتنا سب کچھ جاننے کے بعد بھی وہ نوجوان اپنی ضد پر تھا اور اس نے سمجھایا کہ آپ جیسی جوش وجذبہ رکھنے والی خاتون کے لئے یہ ممکن ہے ۔دیپا نے فل ٹائم اس کی مشق شروع کردی ۔ اس کو سوئمنگ کی مشق دی گئی ۔ کسی نے ٹی وی پر اس کو دیکھ کر آئندہ ہونے والے ٹورنمنٹ کے لئے حکام کو اس سے مطلع کیا۔ مہاراشٹرا حکومت نے قومی سطح کے مقابلہ کیلئے دیپا کو مدعو کیا ۔36سال کی دیپا نے سوچا کہ ایک موقع نے اس کے دروازہ پر دستک دی ہے ۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ایسے موقع سے استفادہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔بس اس نے مقابلوں میں حصہ لیا اور میڈلس جیتے ۔

کوالالمپور 2006کے مقابلوں میں اس نے حصہ لیا اور سلور میڈل حاصل کیا ۔ ہندوستان کی جرسی پہنی ہوئی دیپا کواسپورٹس پرسن کا خطاب دیا گیا جو اس کے سی ایس آر کے لئے ایک برانڈ تھا ۔وجئے مالیا نے اسے اسپانسر شپ کی پیش کش کردی لیکن ہندوستان میں اس وقت کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسی روایتی بائیک تیار کرئے جو اس کی ضرورتوں کے مطابق ہو ۔ دوسرے ہی دن کوئی اور نہیں بلکہ روڈیز ٹیم نے اس سے بات کی اور پوچھا کہ کیا وہ بائیکر بننا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے بتا یا کہ نیشنل ٹیلی ویژن پر ان کے شو پر وہ بائیک چلائیں گی ۔ اس طرح جو کچھ وہ سوچ رہی تھی وہ سب کچھ ہورہا تھا ۔اس کا یہ پکا ایقان ہے کہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ اگر کچھ کرنا چاہیں تو کامیابی آپ کے قدموں میں ہوگی ۔54نیشنل گولڈ‘ 13انٹرنیشنل‘3ورلڈ چمپئن شپ ٹائٹلز ‘ ایک سلور میڈل اور ان سب میں کم از کم 5مرتبہ ٹاپ رہنے کا اعزاز اس کو حاصل ہوا تھا ۔کامن ویلتھ گیمس میں جسمانی طور پر صحت مند افراد کے ساتھ حصہ لینے سے وہ پیرا اسپورٹس کی سرکردہ کھلاڑی بن گئی تھی ۔ بائیکنگ اور اسپورٹس میں حصہ لینا وہیل چیر پر رہنے والے معذور اور مجبور افراد کے امیج کو توڑنے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔اس طرح وہ خود کو منواسکتے ہیں ۔ اگر وہ اپنی آواز دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں دیوانہ وارکچھ غیر معمولی کام کرنا پڑے گا۔

اس نے دریائے یمنا کو پار کیا اور لیمکا ورلڈ ایڈوینچر کے چار ریکارڈ بنائے ۔اس نے ہمالیائی ریس اور صحرائی طوفان کا بھی سامنا کیا ۔ ہمالین موٹراسپورٹس اسوسی ایشن اور فیڈریشن آف موٹر اسپورٹس کلبس آف انڈیا کے ساتھ دو انتہائی دشوار کن مقابلوں میں حصہ لیا جہاں اس نے منفی درجہ حرارت میں 18ہزار فٹ بلندی والے1700کلو میٹر راستوں پر آٹھ دنوں کے وقفہ میں بائیک چلائی۔لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک کمرے میں دم توڑ دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ دو مکمل پاسپورٹس کے ساتھ وہ دنیا کا سفر کررہی ہے۔ ایک دن جان ابراہم کے ساتھ بائیک چلارہی ہے تو ایک دن اس کے ہاتھ میں ارجن ایوارڈ ہے ۔ اسی ہفتہ کے اوائل میں آئندہ سال کے ریو میں مقابلہ کی تیاری کا فیصلہ ہوگا جہاں وہ اپنی شارٹ پٹ کی مہارت سے دنیا کو حیرت زدہ کردے گی ۔

پراس کی خوشیوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔@deepaathlete آپ

قلمکار: بنجال شاہ

مترجم: اکبر خاں