سماعت سے مہروم لوگوں کی آواز بنی ایک لڑکی

ھائی بہنوں کے ساتھ وقت بتاتےہوئے سمرتی ان کے جذبات، ضروریات اورتکلیفوں کو اب اچھی طرح سے سمجھنے لگی تھی۔ اسی درمیان اس کے دل میں ان لوگوں کی خدمت کرنے کی خواہش جاگی

0

ہندوستان میں سماعت سے محروم لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ہندوستان میں بہرےپن سے متاثرلوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سماعت سے محروم ہر پانچواں شخص ہندوستانی ہے، یعنی بیس فیصد بہرے ہندوستان میں ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ لوگ اگرسماعت سے محروم ہیں تو عام لوگوں کی طرح کام کاج نہیں کر سکتے۔ بہرے لوگ صرف سن نہیں سکتے ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انہیں معاشرے سے الگ کر دیا جائے یا پھرالگ نظریے سے دیکھا جائے۔ مگرشعور کی کمی اورتعلیم فقدان کی کی وجہ سے ہندوستانی سماج میں بہروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان میں موجود صلاحیتیں، حوصلہ اور توانائی دبی رہ جاتی ہے- اس کا صحیح استعمال نہیں ہو پاتا۔ بہت سے لوگ ہیں جو آج بھی سماعت سے محروم لوگوں کو کمتر نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہیں معذورسمجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بہرے کو مجبورمان لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سماعت سے محروم بہت سے لوگ کھل کر اپنی زندگی نہیں جی پا رہے ہیں۔ یہ لوگ کچھ لوگوں کی مایوس ذہنیت کے ساتھ ساتھ ذلت، حق تلفی اورامتیازی رویے کا شکار ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو انصاف دلانے، ان ان کی صلاحیتوں کو اجاگرکرنے، حوصلہ افزائی اورقوت کوسماج اور قوم کے لیے فائدابخش بنانے کے لئے ایک ادارہ جی جان لگا کر کام رہا ہے۔ اسی ادارے کا نام ہے – 'اتولیكالا'۔ اس ادارے کا قیام سمرتی ناگپال نام کی ایک لڑکی نے کیا ہے۔ 'اتوليكال' قائم کی ترغیب سے جوڈی کہانی دل کو چھونے والی ہے۔

سمرتی کے دونوں بڑے بھائی بہن سماعت سے محروم تھے۔ ان دونوں کی عمربھی سمرتی سے قریب دس سال بڑی تھی ان کے جذبات اورخیالات کو سمجھنے کے لئے سمرتی کو اشارے کی زبان سیکھنی پڑی۔ خون کا رشتہ تھا، اس کو مضبوط کرنے اور بخوبی نبھانے کے لئے سمرتی نے جلد ہی اشارے کی زبان سیکھ لی۔ اشارے کی زبان سیکھنے کے بعد سمرتی اپنے والدین اور دونوں بہرے بھا ئی بہن کے درمیان رابطے کا اہم زریعہ بن گئی۔ ورنا ماں باپ کے لئے دونوں بچوں کے جذبات، خیالات اورضروریات کو سمجھنا انتہائی مشکل تھا۔

بھائی بہنوں کے ساتھ وقت بتاتےہوئے سمرتی ان کے جذبات، ضروریات اورتکلیفوں کو اب اچھی طرح سے سمجھنے لگی تھی۔ اسی درمیان اس کے دل میں ان لوگوں کی خدمت کرنے کی خواہش جاگی۔ خواہش اتنی غالب تھی کہ وہ 16 سال کی عمر میں بہروں کے قومی یونین کی رضاکاربن گئی۔ اس طرح سمرتی نے اپنا وقت بہرے کی خدمت میں لگانا شروع کیا۔ خوشی کا جو احساس اس نے سماعت سے محروم لوگوں میں دیکھا اس کا جوش بڑھتا گیا۔ وہ مکمل طور پر ان کے لئے وقف ہوگئی۔

خدمت کے راستے پر چلتے ہوئے بھی اس نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔ 'بیچلر ان بزنس مینجمنٹ' کورس میں داخلہ لے لیا۔ اس دوران ایک ٹی وی چینل سے اس کو جو کام ملا اس نے سمرتی کے حوصلے اور بڑھا دئے۔ ٹی وی چینل کوگونگے بہروں کے لئے ایک نیوز بلیٹن کے لئے اشارہ زبان جاننے والے ماہر کی تلاش میں تھی۔ ان کی تلاش سمرتی پرآکر رکی۔

سمرتی نے تعلیم جاری رکھی اور دوردرشن میں بہرون کے لۓ نیوزبلیٹن کا کام کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران بھی سمرتی کو ان لوگوں کے میں بہت کچھ سیکھنے کے موقع ملا۔ وہ آہستہ آھستہ اس موضوع کی اکسپرٹ بن رہی تھی۔ وہ سمجھنے لگی تھی کہ بہرے لوگ کس طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں، ان کی ضروریات کیا ہیں، وہ کیا کیا حاصل کر سکتے ہے۔ سمرتی نے اب ٹھان لیا کہ انھیں خود مکتفی بنانے کے لئے انمیں پوشیدہ فنکرانہ صلاحیتوں کو اجاگر كریں گي۔

ایک بہرے آرٹسٹ سے ایک چھوٹی سی ملاقات نے ۔ سمرتی کو نیا راستہ دکھایا۔ گریجویشن کی تعلیم کے بعد ایک دن ان کی ملاقات ایک بہرے آرٹسٹ سے ہوئی۔ میموری یہ جان کر حیران اور پریشان ہوئی کہ آرٹسٹ ہونے کے باوجود اس بہرے شخص کو اپنے فن کو ظاہر کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا اور وہ معمولی کام کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ سمرتی نے فیصلہ کر لیا - بہرے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے - ان کے فن کو دنیا کے سامنے لانے اور انھیں عزت دلانے کے لئے مکمل طور پر وقف ہونےجائیں گی ۔

 سمرتی نے اپنے دوست آنندپورن کے ساتھ مل کر سماعت سے محروم لوگوں کی ترقی اور بہتر مستقبل کے لئے کام کرنے کے مقصد سے ایک ادارے کی شروعات کی۔ اس ادارے کو 'اتوليكلا' نام دیا گیا۔ نام کے مطابق ہی اس تنظیم نے بہرروں میں پوشیدہ فن کو پہچانا، اسے نکھارا اور اس کو مفید بناتے ہوئے کئی لوگوں کو خود مکتفی بنایا۔اتوليكلا ادارے کو شروع کئے زیادہ وقت نہیں ہوا ہے، لیکن نئے طریقوں اوربڑی محنت سے اس ادارے نے کئی بہرے فنکاروں کو نئی شناخت دی ، عزت اور خود داری سے جینا سکھایا ہے۔

سمرتی اور آنندپورن یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بہرے فنکاروں کی حق تلفی ہوتی ہے، انہیں معاشرے میں مواقع نہیں ملتے، کوئی ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ انہی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئی سمرتی نے بہرے فنکاروں کو اپنے فن اور صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک خوبصورت پلیٹ فارم دیا۔ عام لوگوں اور دوسرے فنکاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے نئی نئی باتیں سیکھنے اوران کی صلاحیت کو بہتر بنانے کا موقع دیا۔ ان کو تعلیم سے مزین کیا۔ عام لوگوں میں ان کے بارے میں شعور بیدار کیا۔ اب کئی سارے بہرے آرٹسٹ 'اتوليكلا' کے ذریعے نے اپنی صلاحیت اور فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان فنکاروں کی طرف سے بنائے گئے نمونے اور دوسرے اشیاء آن لائن فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ اس سے جو کمائی حاصل ہو رہی ہے وہ براہ راست متعلقہ بہرے آرٹسٹ کے اکاؤنٹ میں جا رہی ہے۔

اب سمرتی اور آنندپورن بڑے فخر کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کافی حد تک عام لوگوں اور بہروں کے درمیان فاصلے کو کام کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن اب بھی ان کا مقصد مکمل نہیں ہوا ہے۔اس دوران سمرتی کو ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ملی جب حکومت ہند نے یوم جمہوریہ پریڈ کی دوردرشن پرنشریات میں گونگے بہروں کے لئے خاص انتظام کیا۔ حکومت نے سمرتی کے ذریعہ بہروں کو اشارے زبان سے یوم جمہوریہ پریڈ سے استفادہ کروایا۔

ان دنوں سمرتی اور آنندپورن ملک کے کچھ بڑے فنکاروں سے بہروں کے لئے ایک گیت بھی لکھا رہے ہیں۔ اس نغمے کو اشارے کی زبان میں بھی پیش کیا جائے گا۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ کام ابھی بہت باقی ہے اوراب تو بس ایک معنوں میں شروعات ہی ہوئی ہے۔ - زیادہ سے زیادہ بہروں تک پہنچناان کا مقصد ہے ، انہیں اپنی صلاحیت اور فن کا مظاہرہ کرنے کا موا قع فراہم کرنے ہیں- خود مکتفی بنانے میں ان کی مدد کرنا ہے۔ امید کہ یہ کام جاری رہیں گے-

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem