فنکارانہ ماحول کو پروان چڑھا رہا ہے سپریا لاہوٹی کا گیلری کیفے

حیدرآباد کے بنجارہ ہلز کے روڑ نمبر 10 پر کافی کی چسکیوں کے ساتھ لیا جا سکتا ہے فنپاروں کا لطف

0



آپ کسی کیفے میں بیٹھے ہوں اور آپ کے دل میں خیال آئے کہ جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں، وہ بہت اچھی ہے، ایسی کوئی کرسی آپ کے گھر کے دیوان خانے میں بھی ہونی چاہئے ۔۔۔۔ اور اگر کرسی، ٹیبل اور ٹیبل کے آس پاس رکھی چیزوں پر بھی آپ کا دل آ جائے تو ۔۔ جی بالکل وہ ساری چیزیں آپ اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ یہ خصوصیت دی گیلری کیفے میں دستیاب ہے۔

حیدرآباد میں اپنی منفرد فنکارانہ مشغولیات کی شناخت کے ساتھ 'دی گیلری کیفے' نےاپنے قیام کا ایک سال مکمل کر لیا ہے اور ڈھیر ساری كاميابی بھی بٹور لی ہے۔ آرٹ کی حوصلہ افزائی کے لئے مشہور شہر کے لاهوٹی خاندان کی بیٹی سپریا لاهوٹی نے کلاکرتی آرٹ گیلری کے دامن میں  گگیلری کیفے کی پہلی سالگرہ منا رہی ہیں۔ اس موقع پر خصوصی بات چیت میں سپریا نے کہا کہ کیفے نے پیشہ ورانہ اور فنکارانہ دونوں نظریوں سے توقعات سے کہیں بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں،

 ''ایک سال کے دوران ہم نے کئی نئے نئے تجربے کئے اور جو کچھ ہم نے سوچا تھا، اس کے سے کہیںذیادہ کامیابی ملی ہے۔''

دی گیلری کیفے کا آغاز گزشتہ سال فروری میں ہواتھا۔ سپریا نے کلاکرتی آرٹ گیلری کے ساتھ كیفے کی شروعات مغربی ثقافت کے کچھ اچھے تجربات کو حیدرآباد میں پیش کرنے کے مقصد سے کی تھی۔ ان کے مطابق، پینٹنگ، رقص، گلوکاری، ادب سے متعلق بہت سے پروگرام گیلری کیفے میں پیش کئے۔ اس کے علاوہ فن کی حوصلہ افزائی کا ماحول کو بھی بنایا گیا۔ ایک طرف جہاں ملک کی نامی گرامی شخصیات یہاں آئیں، وہیں نوجوان نسل کی نئی صلاحیتوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ رقص میں جہاں رواتی رقص پیش کئے گئے، وہیں عصر حاضر کے اصناف پر کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔

سپریا لاہوٹی
سپریا لاہوٹی

سپریا بتاتی ہیں کہ فنکاروں کے ساتھ فن کے چاہنے والوں کے تعلقات میں نئے طول و عرض شامل کرنے کا کام کیا گیا۔ چھوٹی جگہ ہونے کی وجہ سے آرٹسٹ اور ناظرین کے درمیان زیادہ دوری نہیں ہوتا۔ بڑے اسٹیج کا کلچر نہ ہونے کی وجہ سے ناظرین اور آرٹسٹ کافی نزدیک آ جاتے ہیں۔

ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے سپریا نے بتایا کہ ایک فنکار حلیم نے كچي پوڈی رقص پیش کیا۔ بعد میں انہوں نے بتاياك یہاں ان کے لئے فن کا مظاہرہ کرنا آسان نہیں تھا، چونکہ شائقین بالکل ان کے سامنے تھے۔ یہ ان کے لئے بہت منفرد تجربہ تھا۔

در اصل فنی اشیاء کی نمائش اور فن کے ساتھ منسلک سرگرمیوں کے لئے قائم کلاکرتی آرٹ گیلری نے اپنی خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک کافی ہاؤس ایک سال پہلے شروع کیا تھا۔ جہاں بیٹھ کر كافی کی چسكيوں اور ناشتے کے ذائقہ کے ساتھ ساتھ فنی مسائل پر بحث کی جا سکتی ہے اور پھر گیلری میں کوئی شئے پسند آنے پر اسے خریدا بھی جا سکتا ہے۔

ماں ریکھا لاہوٹی اور  دادی نرملا لاہوٹی کے ساتھ
ماں ریکھا لاہوٹی اور  دادی نرملا لاہوٹی کے ساتھ

حیدرآباد شہر میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیفے ہے۔ جسے نوجوان کاروباری سپریا لاهوٹی نے شروع کیا ہے۔ ریکھا لاهوٹی اور پرشانت لاهوٹی کی بیٹی سپریا نے فنکارانہ سرگرمیوں کو ایک منفرد پلیٹ فارم کے لئے بنجارہ ہلز روڈ نمبر 10 پر واقع آرٹ گیلری کےاحاطے میں خالی جگہ کا مناسب استعمال اپنی اس نئے منصوبےکے لئے کیا۔

سپریہ بتاتی ہیں،

''کلاکرتی آرٹ گیلری نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ وقت میں نہ صرف گیلری،کا قیام کیا بلکہ گیلری کے احاطے کو فنکارانہ ماحول فراہم کرنے میں انوكھاپن بنائے رکھا ہے۔ اسی احاطے میں کیفے کی دیواریں گیلری کا حصہ ہونے کا ہی احساس دلاتی ہیں، تصاویر اور مجسمہ کے مختلف نمونوں کی نمائش جاری ہے۔''
فنکاروں کے ساتھ سپریا
فنکاروں کے ساتھ سپریا

سپریا بتاتی ہیں کہ گیلری میں بہت لوگ آتے ہیں، لیکن انہیں گیلری کے اندر فنی اشیاء کے علاوہ توجہ مرکوز کرنے والی ایسی کوئی چیز یہاں نہیں تھی جو انہیں دیر تک روکے رکھ سکے۔ اس کیفے نے اس کمی کو پورا کیا ہے۔

بہت جلد یہاں ایک لايبررري بھی قائم کی جائے گی، جہاں آرٹ کی مختلف شعبوں سے متعلق کتابیں اور ای لائبرری سہولت دستیاب ہوں گی۔

سپریا بتاتی ہیں،

''میں نے اس کیفے کو ایک نمائش گاہ اور بحث و مباحثے کے مرکز کے طور پر تیار کرنے کی سوچ کے ساتھ بہت سے فنکاروں سے ملاقات کی۔ بالخصوص لکشمن ایلے، راجیشور راؤ، سچن جلتارے، چپا سدھاکر، سرینواس ریڈی، ماسورام روی کانت، سنیل لاہور، پرينكا ایلے، افزاء تمكنت، اور دیگر فنکاروں کی تجاویز کے مطابق اس کو تیار کیا۔ مستقبل میں بھی اس بات کا پورا خیال رکھا جائے گا کہ اس میں فنکارانہ صلاحیتیں مکمل طور پر بنی رہے۔ ہر روز مختلف طرح کے پروگرام ہوتے ہیں۔ کسی دن لیکچر، کسی دن موسیقی پروگرام، کسی دن کوئی اور پروگرام رکھا جاتا ہے۔ اس میں آرٹسٹ خود اپنی طرف سے پروگرام رکھ سکتے ہیں۔''

گیلری احاطے میں جو پرانا درخت ہے، اس `بلینسگ ٹری 'اور پاس والی دیوار کو` چیریٹی وال' کا روپ دیا گیا ہے۔ اس درخت اور دیوار پر لوگ اپنی تصویر اور دیگر فنون کے نمونے لٹکا سکتے ہیں اور اسے خریداروں تک پہنچاكر اور اس سے ہونے والی آمدنی کو عطیے کی رقم کے طور پر کسی ادارے کو دیا جا سکےگا۔

قابل ذکر ہے کہ سپریا نے لندن سے بزنیس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ اعلی تعلیم کے لئے لندن جانے سے قبل ایک دو سال کچھ نیا تجربہ کریں۔ انہوں نے اس تجربے کے لئے وراثت میں ملی فنکارانہ صلاحیتوں سے خوب تجربہ کیا ہے۔ گیلری کیفے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے مالک اور زمین کو چھوڑ سب کچھ فروخت کیلئے رکھا گیا ہے، جسے ناظرین خرید کر اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

سپریا چاہتی ہیں کہ مستقبل میں آرٹ، ادب اور ثقافت کے ساتھ مل کر ان کا کیفے نئی منزلوں کی طرف آگے بڑھے اور اس کے لئے وہ اپنی لگن اور محنت جاری رکھیں گی۔

................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

حیدرآبادی چٹانوں کے زریعہ شعور بیدار کرتی آونی راؤ کی انسٹالیشنس

حیدرآباد اورلکھنؤ کی بو باس میں بسی ہے غزل:پيناز مسانی

اپنا تو پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... آرٹ کو عام لوگوں تک پہنچاتا ایک جوڑا


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories