خاتون ایجنٹوں کے ذریعے 'وصولی' کروانے والی 26 سالہ لڑکی ایک مثال بن گئی

0


قرٖضہ جات کی وصولی کا کام ہمیشہ سے ہی غنڈہ گردی کے ذریعے کیاجانے والا کام مانا جاتا ہے اور سماج میں اس کام کو انجام دینے والے لوگوں کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ لیکن اندور کی رہنے والی 26 سالہ منجو بھاٹیہ نے عام لوگوں میں رائج اس تصور کو نہ صرف تبدیل کیا ہے بلکہ موجودہ وقت میں قرضوں کی وصولی کرنے والی ملک کی بڑی ایجنسی 'وصولی' کی جوائنٹ مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ مانتی ہیں کہ ہر خاتون کو اپنی زندگی کو اہمیت دیتے ہوئے مردوں سے آگے رہ کر کام کرنا چاہئے۔

اندور کے ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والی منجو نے 2003 میں انٹر کا امتحان دینے کے بعد ہی ایک مقامی دوا بنانے والی کمپنی 'تولیکا انٹرنیشنل' میں رسیپشنسٹ کی ملازمت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ "انٹر کی پڑھائی کرنے کے دوران ہی میں زندگی میں کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں شروع سے ہی صرف کسی کی بیٹی یا بیوی بن کر رہنا نہیں چاہتی تھی۔"

منجو نے رسپشنسٹ کی نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا گریجویشن بھی مکمل کیا اور اپنے کام کے تئیں لگن اور محنت کی وجہ سے جلد ہی وہ کمپنی کے دیگر کاموں میں بھی ہاتھ بٹانے لگیں۔ کمپنی کے مالک پراگ شاہ، جو ان کے خاندانی دوستوں میں شامل تھے، نے انہیں کمپنی کے اکاؤنٹس اور مال کی خرید و فروخت کی دیکھ بھال کا کام ان کے سپرد کردیا۔

اسی اثناء میں منجو کے سامنے ایک آفر آیا جس نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔ پراگ شاہ کی دواؤں کی کمپنی کے علاوہ بینکوں کے لئے قرضوں کی وصولی کا کام کرنے والی ایک چھوٹی سی کمپنی "وصولی" بھی تھی جس کے پاس صرف ایک گاہک "اسٹیٹ بنک آف انڈیا" تھا۔

"ایک دن پراگ شاہ نے مجھے وصولی کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کو کہا۔ کمپنی کےکاموں کے بعد بھی میرے پاس کافی وقت تھا اور میں بھی کچھ نیا کرنا چاہتی تھی۔ اس لئے میں نے بغیر کچھ سوچے ہامی بھرلی۔ "

وصولی کے ساتھ اپنے پہلے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے منجو کہتی ہیں کہ اسٹیٹ بنک آف انڈیا ہر مہینے انہیں قرض کی قسطیں ادا نہ کرنے والے لوگوں کی فہرست سونپ دیتا تھا ۔ اس فہرست میں ریاست کے ایک مشہور سیاستداں کا نام بھی شامل تھا۔ "پراگ نے اس سیاستداں سے وصولی کا ذمہ مجھے سونپا۔ میں نے بغیر قرض کا ذکر کئے ان سیاستداں سے ملاقات کا وقت حاصل کرلیا۔"

منجو مزید کہتی ہیں کہ ملازمت کے دوران حاصل کردہ تجربے کی بنیاد پر انہیں اندازہ تھا کہ اکثر لوگ قسطیں ادا کرنے کی آخری تاریخ بھول جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے کچھ قسطیں جمع نہیں کر پاتے اور بنک ایسی صورتِ حال میں ان لوگوں کو 'نا ادا کنندہ' یعنی نان پرفارمنگ اسیٹ مان لیتے ہیں اور وصولی کا کام 'وصولی ایجنٹ' کو سونپ دیتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی قصہ ان سیاستداں صاحب کا بھی تھا۔ منجو نے جب ان سے مل کر قرض کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اگلے ہی دن بنک کا بقیہ پیسہ ادا کردیا اور یہیں سے منجو کی زندگی نے ایک یو۔ٹرن لیا۔

منجو بتاتی ہیں کہ اس وصولی کے بعد انہیں لگا کہ زیادہ تر لوگ حاصل کئے گئے قرض کی ادائیگی کی نیت تو رکھتے ہیں لیکن بنک اور گاہکوں کے درمیان روابط کے فقدان کی وجہ سے کئی مرتبہ ڈیفالٹ کی نوبت آجاتی ہے۔ اب منجو "وصولی" کو سنبھالنے کے لئے نفسیاتی طور پر تیار ہوچکی تھیں اور انہوں نے آگے چل کر جو کچھ کیا اس نے اس بدنام کام کو ایک نیا موڑ دے دیا۔

"میں دیکھتی تھی کہ ہمارے سماج میں خواتین کو کافی عزت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔ اسی لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ خواتین کو وصولی ایجنٹ کے طور پر اپنے ساتھ کام پر لگایا جائے۔ اس کے دو فوائد ہونے تھے۔ ایک تو کوئی ہمیں غنڈہ اور بدمعاش کہہ کر نہیں بلاسکتا تھا اور دوسرے یہ کہ کوئی خاتون اگر وصولی کے لئے جاتی ہے تو ڈفالٹر مہاشے کو تھوڑی بہت شرم تو ضرور محسوس ہوسکتی ہے۔"

منجو بتاتی ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں کچھ اپنی جیسی امنگوں بھری اور نڈر لڑکیاں ملیں تو انہوں نے "وصولی" کے کام کو آگے بڑھایا۔ ابتدائی دنوں میں صرف شخصی قرضوں کے معاملے نمٹائے جاتے تھے۔ اس نوعیت کے کئی ڈفالتروں سے انہوں نے کافی رقم وصول کی اور جلد ہی انہیں لوگوں کے "زرعی" قرضوں کی وصولی کا کام بھی انہیں سونپ دیا گیا۔ زرعی قرضوں کی وصولی میں انہیں ڈفالٹروں کے ذریعے قرض لے کر خریدی گئی گاڑیوں کو ضبط کرکے لانا ہوتا تھا جو اپنے آپ میں ایک پیچیدہ کام تھا۔

"پہلے تو ہم لوگ قرضداروں کو ٹوٹی ہوئی قسطوں کے بارے میں بتاتے۔ کچھ لوگ تو ہم لوگوں کی باتوں کو سمجھتے اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بقیہ رقم یک مشت یا با القساط جمع کروادیتے۔ کسی جگہ منفی ردِعمل ملنے کے بعد ہماری پوری خواتین وصولی ٹیم رات میں دس بچے کے بعد باہر نکلتا اور ان کی گاڑیوں پر قبضہ کرکے انہیں یارڈ میں لے آتا۔"

اس قبضے کے کام کو بھی منجو نے منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا۔ مستقبل کے چیلینجس کے مدِ نظر ان کی ٹیم اپنے ساتھ پولس کو بھی لے جاتی۔ ساتھ ہی وہ اس پورے آپریشن کی ویڈیو گرافی بھی کرواتیں تاکہ کوئی بعد میں کسی طرح کا الزام لگائے تو اس کا جواب دیا جاسکے۔ ایک سال میں 1000 سے زیادہ گاڑیوں کو قبضے میں لینے کے بعد انہوں نے اپنے کام کو مزید آگے بڑھایا۔

منجو آگے بتاتی ہیں کہ اس کے بعد ان کی کمپنی نے پورا دھیان گھروں کی تعمیر کےلئے حاصل کئے گئے قرضوں اور کارپوریٹ ڈفالٹروں پر مرکوز کرتے ہوئے جے پور، رائے پور اور ممبئی میں اپنے دفاتر کھولے۔ 2007 میں "وصولی" نے اپنا صدر دفتر ممبئی شفٹ کیا کیونکہ سبھی اہم بنکوں کے افسرانِ مجاز یہیں بیٹھتے تھے۔

ممبئی آنے کے بعد کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے منجو جذباتی ہو اُٹھتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں،" ابتداء میں ہمیں ایک بنک کے ڈی جی ایم نے پرکھنے کے لئے صرف 2 کھاتہ برداروں سے وصولی کی ذمہ داری دی اور آج کی تاریخ میں ہم اسی بنک کے دو لاکھ سے زیادہ معاملات کو نمٹارہے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں ہماری 26 شاخیں ہیں جن میں 250 خواتین ایجنٹس کے طور پر بر سرِ کار ہیں۔"

منجو مزید کہتی ہیں کہ سرِدست ان کی کمپنی میں کام کرنے والوں میں صرف دو مرد ملازمین ہیں، جن میں ایک تو خود پراگ شاہ ہیں اور دوسرے ان کے والد۔ ان دونوں کو الگ کردیں تو تمام ملازمین خواتین ہیں۔ "وصولی" میں شاخ کے مینیجر کے عہدے پر اس خاتوں کا تقرر کیاجاتا ہے جس نے ماضی میں اندور یا ممبئی کے دفتر میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔ "وصولی" کو بنک کا پیسہ ڈفالٹر سے واپس ملنےکےبعد کمیشن ملتا ہے۔ 2012-2011 میں کمپنی نے تقریباً 500 کروڑ روپئوں کے معاملات نمٹائے جن میں کمیشن کے طور پر انہیں 10 کروڑ روپئے موصول ہوئے۔

مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتاتے ہوئے منجو کہتی ہیں کہ جلد ہی "وصولی" کو ری کوری ایجنسی سے بدل کر "جائیداد باز سازی" کمپنی بنانےکا ارادہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ قانون میں ڈاکٹریٹ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔

آخر میں منجو کہتی ہیں،"وصولی کا کام بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک بچے سے بھی اس کی کوئی چیز چھیننے کی کوشش کریں تو وہ بھی مزاحمت کرے گا۔ یہاں تو آپ کو ڈفالٹروں کی گاڑیوں کے علاوہ کئی لوگوں کے مکان ، دکان پر بھی قبضہ کرکے ان سے چھیننا پڑتا ہے۔ لیکن کسی بھی کام میں کِی گئی ایماندارانہ کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور یہی کوشش انسان کو کامیابی عطا کرتی ہے۔"




تحریر: نشانت گوئل
مترجم: خان حسنین عاقبؔ