دونوں ٹانگوں سے معذور ڈاکٹر...مس وہیل چیئر

0

سال 2014 میں ممبئی میں منعقد مس وہیل چیئر مقابلہ کی فاتح انتہائی جندہ دل اور بہادر شخصیت 29 سالہ دانتوں کی ڈاکٹر راج لكشمی ایس۔ جے۔ کہتی ہیں، '' میں اپنے آپ کو انتہائی خوش قسمت مانتی ہوں کہ میں ایک ہی زندگی میں دو زندگیاں بسر کر پا رہی ہوں - ایک عام شخص کی اور دوسری ایک معذور کی۔''

راج لكشمی کے مطابق اگر ان کا سامنا اس معذوری سے نہیں ہوا ہوتا تو وہ کبھی بھی ایک معذور شخص کی زندگی میں آنے والی مصیبتوں اور ان کے مسائل کو سمجھ کے نہیں پاتی۔

وہ ایک عام شخص کی زندگی جی رہی تھیں کہ سال 2007 میں ہوئے ایک کار حادثے نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔ چینئی کے راستے میں ان کی گاڑی ایک حادثے میں تباہ ہو گئی، جس کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا پہنچا اور ان کے دونوں پیر مفلوج ہو گئے۔ بنگلور کی رہنے والی ڈاکٹر راج لكشمی ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ''بی ڈی اے کے امتحان میں ٹاپ کرنے اور طلائی تمغہ جيتنے حاصل کرنے کے بعد میں نے اپنے پروفیسروں کے مشور ے مطابق نیشنل کانفرنس کے لئے کچھ کاغذ جمع کروانے جا رہی تھی اور اسی دوران میری گاڑی تباہ ہو گئی۔''

حالانکہ انہوں نے اس معذوری کو اپنے راستے کا روڑا نہیں بننے دیا، لیکن اس حادثے کے چھ ماہ بعد تک بھی وہ اپنے آپ بیٹھنے کے قابل بھی نہیں تھیں اور وہ وہیل چیئر کو استعمال کرنے محض خیال سے ہی اس قدر چڑھ جاتی تھیں کہ اس دوران انہوں نے اس پر بیٹھنے سے ہی انکار کر دیا۔ راج لكشمی کہتی ہیں، '' کچھ عرسہ بعد مجھے احساس ہوا کہ اگر میں اسی طرح وہیل چیئر کو منع کرتی رہوں گی تو ایک ہی جگہ پر بت بن كر رہ جاؤں گی اور یہ ایک ایسی صورت حال ہوتی، جسے میں کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اور آج وہی وہیل چیئر میری سب سے اچھی دوست ہے۔''

اس حادثے نے انہیں جھکجھور کر رکھ دیا، لیکن وہ کہتی ہیں، '' اگر يہ حادثہ نہیں ہوتا تو یقینی طور پر میں اتنی کامیاب اور مضبوط ارادوں کے ساتھ جینے کا تصور بھی نہیں کرتی۔

ان کا پورا خاندان ان کی حمایت میں کھڑا تھا، لیکن انہیں اس بات کا اب بھی دکھ ہے کہ ان کے ارد گرد کے بہت سے لوگوں نے ان کی مدد کرنے کی جگہ ان سے منہ موڑ لیا۔ وہ آتے اور صرف یہیں کہتے 'اييو، تمہارا حادثہ میں یہ حال ہو گیا،' اور رسم نبھا کر چلتے بنتے۔ اس حادثے کے بعد بھی انہوں نے اپنا حوصلہ کھونے نہیں دیا۔ اور ایم ڈی کے امتحان میں 73 فیصد نشانات کے ساتھ کرناٹک کی ٹاپر بننے میں کامیاب رہیں۔

راج لكشمی کہتی ہیں، ''میں اس طرح کی باتوں سے بہت چڑھ جاتی تھی کہ کسی بھی معذور شخص کو آپ ہمدردی دکھائیں۔ اسے ہمدردی درکار نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف آپ کی حمایت چاہتا ہے۔ جو اس کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اگر آپ ایسے میں ان کی حمایت نہیں کرسکتے تو کم از کم حوصلہ شکنی تو مت کیجئے۔ ''

آگے کی راہ ان کے لئے آسان نہیں تھی۔ ہندوستان کے آئین میں تعلیمی اداروں میں معذور افراد کے لیے 3 فیصد ریزرویشن کا انتظام ہے، لیکن کوئی اس پر عمل نہیں کرتا۔ سال 2010 میں انہیں ایک تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرنے کے لئے ایک طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی۔ وہ ایک سرکاری کالج میں ڈینٹل عہددار کے طور پر کام کرنا چاہتی تھی، لیکن انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور اس کے بعد دو سال پہلے انہوں نے اپنا ایک ڈینٹل کلینک شروع کیا۔

ایک ڈاکٹر کے طور پر

راج لكشمی بہت چھوٹی عمر سے ہی ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ چونکہ انہوں نے بچپن سے ہی اپنے والدین کو گھر کی عمارت میں چلنے والے کلینک میں کام کرتے ہوئے دیکھا تھا اس لئے۔ راج لكشمی خود بھی ان جیسا ہی کرنا چاہتی تھیں۔ '' مقامی لوگ میرے والد کو 'دیوارو' کہتے تھے جس کا مطلب کنڑا میں خدا ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کی زندگی بچاتے تھے۔''

جب وہ دسویں کلاس میں پڑھ رہی تھیں تبھی ان کے والد کی حادثاتی موت ہو گئی۔ ایک ڈاکٹر بننے کے علاوہ وہ ایک کامیاب ماڈل بننے کے خواب بھی دیکھتی تھیں۔ اس کے لئے انہوں نے ایک بار اپنی تعلیم سے وقفہ لے کر فیشن ڈیزائننگ کرنے کی بھی ٹھانی۔ اور ایسے میں جب ان کے سامنے خوبصورتی کے مقابلہ میں حصہ لینے کا موقع آیا تو انہوں نے بغیر سوچے اس میں حصہ لینے کے لئے حامی بھر دی۔ اس مقابلے میں حصہ لینے کے لئے۔ راج لكشمی نے وہیل چیئر بیٹھے بیٹھے ہی خود کو جم سے لے کر بالوں کی دیکھ بھال اور ڈایٹنگ وغیرہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

مقابلہ

مس وہیل چیئر اس داںتو کی ڈاکٹر کے لئے ایک بہت دلچسپ تجربہ ثابت ہوئی۔ شروع میں شامل ہوئے 250 شرکاء سے یہ فائنل تک پہنچ کر ختاب جیتنے میں کامیاب رہیں۔

ان سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نے ججوں اور سامعین سب مسحور کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں دوبارہ زندگی جینے کا موقع ملے تو وہ کس کی زندگی چنےگی؟ راج لكشمی نے فوری طور پر جواب دیا، '' میری اپنی زندگی۔''

راج لكشمی کے دل میں معذوروں کی فلاح و بہبود کے کئے کچھ کر گزرنے کا جزبہ ہے۔ بعد میں انہیں مس وہیل چیئر مقابلہ کے انعقاد کی ذمہ داربھی دی گئی ہے۔

وہ اس حقیقت کو جانتی ہیں کہ ان کی اس معذوری کا کوئی موثر علاج نہیں ہے اور انہیں اپنی باقی بچی ہوئی زندگی دونوں مفلوج پاؤں کے ساتھ ہی گزارنی ہے۔ راج لكشمی کہتی ہیں، ''موجودہ وسائل میرا علاج کرنے میں ناکام ہیں۔ اسٹیم سیل کی تحقیق پر ابھی کام چل رہا ہے، جس میں وقت لگے گا۔ میں تو یہی کہوں گی کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ''

اس حادثے کے بعد فزیوتھراپی کئی سیشن کے بعد آخر کارراج لكشمی اب آزاد ہیں۔ وہ خود اپںی گاڑی چلاتی ہیں، ان قوۃ ارادی کافی مضبوط ۔ وہ وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود سفر کرنا ان کو پسند ہے اور خوب گھوما کرتی ہیں۔ یہ نوجوان ڈاکٹر ملک کے بیشتر حصوں کے علاوہ بہت سے دیگر ممالک کے سفرکا بھی لطف اٹھا چکی ہیں، لیکن آخر میں وہ ہندوستان کو ہی سب سے خوبصورت ملک تصور کرتی ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem