سب کچھ چھوڑ مفت تعلیم دینے میں مسروف سوامی اور چنّی

0

غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی امميد سے انکت اور امیت کے والدین دہرادون آئے تھے۔ آج انکت انفوسس کمپنی میں انجینئر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور امیت انڈین میریٹایم سروس کے ساتھ ہیں۔

میناکشی پال کا بچپن بہت مشکل رہا۔ وہ دہرادون کے ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی ، ایک دن اچانک میناکشی کی ماں اسے چھوڑ دیتی ہے اور وہ اس دنیا میں اکیلی رہ جاتی ہے۔ آج وہ ایک، ایچ آر فرم میں کام کر رہی ہیں اور ایم بی اے کرنے کی منصوبہ بنا رہی ہے۔

ان دونوں کہانیوں میں شامل بچوں کے خواب پورے کرنے میں پركل یوتھ ڈیولپمنٹ سوسائٹی (پيوايڈيےس) کے سوامی اور چنني نے مدد فراہم کی۔

سوامی اور چنّی کی قربانی کی کہانی

سوامی کی کہانی بہت دلچسپ اور خلوص سے بھری ہوئی ہے۔ ان کا بچپن لاہور میں گزرا اور کالج کی تعلیم چنئی میں ہوئی۔ انہوں نے کیپٹل انوسٹمنٹ سے متعلق تعلیم حاصل کی اور اس میں ان کا دل مکمل طور پر لگ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے دوستوں کو سرمایہ کاری کے مشورہ دینے کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت اپنے گھر سے ہی شروع کر دی۔ جب سوامی21 سال کے تھے تو ان کی ملاقات چنّی سے ہوئی، جو اس وقت صرف 19 سال کی تھیں اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ اس کے بعد یہ دونوں اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے ممبئی چلے گئے۔

ممبئی نے سوامی اور چنّی کو ان امید سے زیادہ دیا۔انہوں نے یہاں خوب دولت کمائی لیکن شہر کی زندگی کا انھیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا، سوامی کو ذیابیطس ہو گیا۔ سوامی جب 60 سال کے ہوئے تو ڈاکٹروں نے ان سے کہا کہ اگر ان کی یہ معمول جاری رہا تو وہ زیادہ دنوں تک ذندہ نہیں رہ سکیں گے۔

ڈاکٹروں کی اس انتباہ کے بعد سوامی اور چنّی نے ممبئی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ہردوار کی طرف روانہ ہو گیے۔ حالانکہ انہیں ہری دوار میں وہ سکوں نہیں ملا جس کی انہیں تلاش تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کماؤن، كسولي، نینی تال کا رخ کیا لیکن ان مقامات پر بھی ان کی تلاش پوری نہیں ہو سکی۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ رشی کیش جائیں گے اور ایک بس میں سوار ہو گئے، لیکن بس نے انہیں دہرادون پہنچا دیا، یہاں انہوں نے ایک چھوٹا سا گھر لیا اور عام سی زندگی بسر کرنے لگے۔ یہاں سوامی کچھ نیا کام کرنا چاہتے تھے ۔اس لئے انہوں نے ارد گرد کے گاؤں میں رہنے والے بچوں کو انگریزی پڑھانا شروع کیا۔اب سوامی کی عمر 80 سال ہے۔

ماہر اقتصادیات سے استاد بننے تک کا سفر

سوامی گاؤں کے بچوں کو پڑھانے میں مصروف رہے،ایک دن ان کے مالی نے سوامی اور چنّی کو ایک زمین کا ٹکڑا دکھایا جو پركل میں تھا۔ پركل ایک سرسبز اور بہت ہی خوبصورت گاؤں ہے۔ چنّی کو گاؤں اور زمین پسند آئی اور انہوں نے یہ زمین لے لی۔ انگریزی سیکھنے والے بچوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہونے لگااور اسکول کے بعد بچے براہ راست ان کے پاس ہی آنے لگے. چنّی انہیں اپنے گھر پر کھانا كھلاتي اور بچے بڑے شوق سے انگریزی کا سبق پڑھتے۔ گاؤں کی عورتوں نے سوامی سے کچھ اور بچوں کو پڑھانے کی خواہش کی تو وہ فوری راضی ہو گئے۔اس کے بعد انہوں نے اپنی 29 بچوں پر مشتمل کلاس ایک تبیلے میں شروع کر دی۔ اس کے بعد بھی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور ایک دن تبیلا بھی پورا بھر گیا۔ بچوں کی مائیں انہیں لینے کے لئے آتی تھیں، ایک دن ایک خاتون نے چنني سے کہا کہ وہ انہیں بھی کچھ سکھائیں۔ اس کے بعد چنني نے وہاں کی خواتین کو لحاف بنانا کا فن سکھانا شروع کیا۔

سوامی کو گاؤں والوں نے اسکول قایم کرنے کے لئے بہت کم رقم کے عوض ایک ایکڑ زمین فراہم کی۔اسكول بنانے کے لئے ایسی جگہ سے بھی مدد ملی جہاں سے کی امید بھی نہیں تھی۔ اس طرح ایک ماہر اقتصادیات اب معلم بن چکا تھا۔ اسی دوران وہ یوگا کرتے رہے اور ان کی صحت میں روز بروز بہتری آنے لگی تھی۔

پركل یوتھ ڈیولپمنٹ سوسائٹی

غیر سرکاری تنظیم پركل یوتھ ڈیولپمنٹ سوسائٹی کی رجسٹریشن سال 2003 میں کی

کییی تھی ۔ اس سوسائٹی کے زریہ غریب نوجوانوں کی زندگی میں تبدیلی کا کام انجام دیا جا رہا ہے۔سوامی کہتے ہیں 'میں بچوں کو بہترین تعلیم دینا چاہتا ہوں جس کے بارے میں ان بچوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔' ان کے اسکول میں داخلے کے لئے لائن لگنے لگی، لیکن وہ صرف ان بچوں کو داخلہ دیتے ہیں جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتے اور غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنے کام کے لئے وقف اور مقصد کے تکیل کے یقین کے ساتھ سوامی نے اپنے دوستوں کی مدد سے ضروری فنڈ جمع کیا اور سال 2006 میں اسکول کی عمارت بننے کے ساتھ مستقل اساتذہ کی بھی تقرر کیا۔ تب سے اسکول آہستہ آہستہ اور مستحکم ہو رہا ہے۔فی الحال اسکول میں بچوں کے لئے طعام خانہ، كپيووٹر سینٹر، ای لیاب، سائنس لیاب، لکتب چانہ، کھیل کا میدان اور یوگا ہال بھی بنا ہوا ہے۔

تب سے اب تک

سوامی کہتے ہیں 'ہمارا مقصد بہتر تعلیم اور تحفظ کے ذریعے غریب ماحول سے آنے والے بچوں کی پرورش کرنا ہے.' مڈ ڈے میل تو اسکول کے آغاز سے ہی بچوں کو دیا جا رہا ہے، لیکن جولائی 2008 سے طالب علموں کو چار وقت کھانا دیا جانے لگا۔ اسکول کا مقصد بچوں کے تجسس اور ان کے سوالات کا بہتر طریقے سے جواب دینا ہے۔ یہاں تعلیم میں نئے تجربات پر زور دیا جاتا ہے۔ سوامی کے مطابق 'کرنا، تلاش اور پڑھنا ہی ہمارا راستہ ہے۔ ہر کلاس میں صرف 25 بچے ہیں اور ہر بچے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ 'چار بچوں سے ہوئی شروع ہوے اسکول کو کلاس 10 تک سی بی ایس سی کی منظوری مل گئی تھی اور سال 2013 میں 12 ویں تک منظوری بھی حاصل ہو گیی۔

پی وای ڈی ایس میں صرف تعلیم ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ یہاں گروکل کے قوانین پر بھی عمل کیا جاتا ہے جہاں زیادہ سے زیادہ تعلیمی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں بچوں کو تعلیم کے علاوہ رقص، ڈرامہ، یوگا وغیرہ سکھایا جاتا ہے تاکہ بچے حقیقی طور پر بہتر انسان بن سکیں۔ اس اسکول کو بنانے میں بہت سارے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں سے کچھ کے نام کیمپس میں لگے ایک درخت تحریر کیے گئے ہیں۔

اثرات

پی وای ڈی ایس کے 87 فارغ التحصیل نوجوان گریجویشن کی تکمیل کر چکے ہیں جن میں سے 23 بہترین كمپنيوں میں کام کر رہے ہیں اور 31 طلباء پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 21 نوجوان کام کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔12 ویں پاس کرنے والے طالب علموں کو سوسائٹی کی جانب سے اعلی تعلیم کے لئے تعلیم قرض بھی فراہم کیا جاتا ہے، جسے ملازمت ملنے کے بعد لوٹانا لازم ہوتا ہے۔ ملازمت کرنے والے کچھ نوجوان سوسائٹی کو عطیہ بھی دے رہے ہیں۔سوامی کے مطابق 'ہمارے یہاں استاد طالب علم تناسب بہت اچھا ہے اور ہر بچے کی شخصی نگہداشت کی جاتی ہے۔ اس سے ہمیں اچھے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہو رہا ہے کہ یہاں کے معاشرے کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں اپنے مستقبل کو لے کر اچھے خواب دیکھنے لگے ہیں۔ '

چیلنج

سوامی بتاتے ہیں کہ اس راستے پر چلنا آسان نہیں ہے۔ ضرورت مند بچوں کی شناخت اور داخلہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق 'ہمارا مقصد سب سے غریب بچوں کی مدد کرنا ہے۔ یہاں ہمارے سامنے بچے کی شناخت چیلنج ہوتی ہے۔ بچوں کا داخلہ کرانے کے لئے اکثر والدین جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے لئے ہم نے شخصی طور پر والدین سے بات کرنے کے علاوہ بچے کے خاندان کا سروے بھی کرواتے ہیں۔ '

اس کے بعد فنڈ حاصل کرنے کی بات آتی ہے، اس مسلہ سے ہر این جی او کو گزرنا پڑتا ہے۔ سوامی کا کہنا ہے کہ پی وای ڈی ایس کو کبھی بھی حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملی۔سوسائٹی صرف شخصی طور پر ملے عطیات سے ہی چل رہی ہے۔ سوسائٹی کے پاس فی الحال ساڑھے سات کروڑ روپے کی جائیداد ہے۔سوسائٹی کا سالانہ خرچ ڈھائی کروڑ روپے آتا ہے۔پی وای ڈی اے کیمپس میں لڑکیوں کے لئے ہاسٹل بنانے کے لئے فنڈ جمع کر رہی ہے۔ اس سے یہاں رہنے والی لڑکیوں کو بہتر سہولتیں مل سکے گی۔ ہم یہاں تمام بچوں کو مفت سہولیات دستیاب کرواتے ہیں۔ ہم بچوں سے کہتے ہیں کہ وہ صرف تعلیم پر توجہ دیں باقی سہولتوں کی فرااہمی ہم کریں گے۔

سوامی کہتے ہیں کہ گزشتہ 15 سالوں میں معاشرے نے ہماری بہت مدد کی ہے۔ معاشرے کے لوگ ہی ہمارے سب سے بڑے مددگار ہیں اور وہی ہمارے کام کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہم معاشرے کی امیدوں پر مزید کھرے اترتے ۔ '

سوامی کہتے ہیں 'ہم نے محسوس کیا تھا کہ اس علاقے میں رہنے والے بچوں کے مستقبل کو بیتر بنانے کے لئے مشورہ اور رہنمائی کی ضرورت تھی، تحفظ اور انہیں امید دینا بہت اہم ہے۔ ہمیں امید تھی کہ ہمارے سہارے غریب بچے چمک اٹھیں گے۔ اس طرح ان بچوں میں پڑھنے اور آگے بڑھنے کا اعتماد پیدا کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح یہ بچے مستقبل میں تبدیلی کے علم بردار بن سکیں گے۔ '

سوامیاور چنّی کے خواب

سوامی پی وای ڈی سی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ہر روز مصروف رہتے ہیں۔. چنّی ارد گرد کے دیہات کی 170 سے زیادہ خواتین کو لحاف بنانے کے ساتھ دیگر اشیاء بنانا سکھا رہی ہے۔اس نے پركل طاقت نسواں کو قایم کیا ہے جو یہاں کہ خواتین کی ایک سماجی تنظیم ہے۔ چنني مارکیٹ میں طلب کے حساب سے نئے نئے ڈیزائن خواتین کو بتاتی رہتی ہے۔ 13 ستمبر 2015 کو ان خواتین نے ہوٹل وائٹ ہاؤس میں ایک دکان کا آغاز بھی کیاہے۔

(یہ انمول کی لکھی کہانی کا اردو ترجمہ ہے)