دنیا کو سبق سکھانے والا سب سے چھوٹا ہیڈ ماسٹر

0

مغربی بنگال کے بہت پسماندہ علاقے میں ایک بچے نے ایک ایسا تجربہ کیا، جس کی وجہ سے وہ آج دنیا بھر میں مشہورہو گیا ہے۔ حا لانکے وہ اب بچہ نہیں رہا، بڑا ہو گیا ہے، لیکن اس کے کامیاب تجربے کا ذکرہر کسی کی زبان پر ہے۔ اس مشکل اور انقلابی تجربے کا آغاز اس نے بچپن میں ہی کردیا تھا۔ اس کے ایک انقلابی خیال کی وجہ سے دنیا کے کئی مشہور تعلیم یآفتہ لوگ، مہیرینِ تعلیم اور پالیسی ساز اس کے پرستار بن گئے۔ اس نے جو کام بچپن میں کیا وہ کام لوگ تاعمر نہیں کر پاتے۔ تعلیم تو سبھی حاصل کرتے ہیں، لیکن دوسروں کو سکھانےاور تعلیم دینے کا خیال ہر بہت کم لوگوں کوآتا ہے۔ اس لڑکے بابر علی کی کوشش اور کامیابی نے دنیا کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ بابر مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے رہنے والے ہیں۔ آج ان کی عمر 22 سال ہے، زیرِ تعلیم ہیں، لیکن9 سال کی چھوٹی سی عمر میں جس خیال کو مقصدِ حیات بنایا اسے پورا کرنے کے مسمم ارادے کے کے ساتھ آگے بڑھے اور آج دنیا بھرکے لوگ انہیں جاننے لگے ہیں۔ ملک و بیرون ملک میں بہت سے لوگ ان کے خیالات سے متاثرہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پا رہے ہیں۔

بابر کے تجربے کی کہانی 2002 میں شروع ہوئی جب وہ 9 سال کا تھا۔ بابر کو اسکول جانے کے لئے 10 کلومیٹر کا سفرطے کرنا پڑتا۔ اس کے گاؤں بھابتا اترپارا میں کوئی اسکول نہیں تھا۔ بابر خوب پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا چاہتا تھا۔ والد محمد نصیرالدین نے اپنے بیٹے بابر کو مایوس ہونے نہیں دیا۔ زرعی مصنوعات کا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے نصیرالدین نے شروع سے ہی بابر کی حوصلہ افزائی کی۔ تعلیم کے لئے بابرکو جو کچھ بھی چاہئے تھا، وہ مہیا کرایا۔ بابر بھی خوب دل لگا کر پڑھتا گیا۔

ایک دن بابر نے دیکھا کہ اس کے گاؤں کے دوسرے بچے اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔ غربت کی وجہ سے ان کے ماں باپ بچوں کو دور دراز کے گاؤں اور شہر میں اسکول نہیں بھیج پا رہے تھے۔ یہ بچے دن بھر یا تو گھر سے باہر کے کام کرتے یا پھر کھیلتے رہتے۔ کچھ بچے تو گائے بھینسیں چراتے تھے اور کچھ فارم میں کام کرتے تھے۔ بابر کو احساس ہوا کہ اس کی اپنی بہن بھی اسکول نہیں جا پا رہی ہے۔ اس کی بہن کی طرح ہی بہت سے بچے اسکول سے محروم تھے۔ بابر کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے سوچا کیوں نہ وہ ان بچوں کو پڑھائے جواسکول نہیں جا پاتے ہیں۔ 9 سال کے بابر نے فیصلہ کیا کہ وہ جو بھی اپنے اسکول میں سیکھتا ہے، اسے اپنے گاؤں کے بچوں کو بھی سكھا ئے گا۔ پھر کیا تھا بابر اپنے گاؤں کے بچوں کا ٹیچر بن گیا۔

بابر نے اپنے مکان کے پیچھے آنگن میں جام کے ایک درخت کے نیچے اپنی کلاس شروع کی۔ اس کی بہن اور کچھ بچے بابر کی اس کلاس کے پہلے طالب علم بنے۔ جو کچھ بھی وہ اسکول میں سیکھ کر کرآتا، و ہی دوسرے بچوں کو سکھاتا۔ جو باتیں اس کے ٹیچر اس کو سمجھتے، وہ بھی وہی چیزیں اپنے گاؤں کے بچوں کو سمجھاتا۔ گاؤں کے بچوں کو پڑھائی میں مزہ آنے لگا۔ ننھے بابر کو بھی ماسٹری کرنے میں خوشی ملنے لگی۔

آہستہ آہستہ چھوٹے ماسٹر بابر کی کلاس کی خبر گاؤں بھر میں پھیل گئی۔ اور بھی دوسرے بچے اب کلاس میں آنے لگے۔

اپنی کلاس کے بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسی عمر میں بابر کو بہت محنت کرنی پڑی۔ کسی طرح اس نے بلیک بورڈ کا انتظام کیا۔

وہ اپنے اسکول سے استعمال کئے ہوئے چاكپيس کے ٹکڑے لاتا اور اپنی کلاس میں بچوں کو پڑھا نے کے لئے ان کا استعمال کرتا۔ اخبار اور ان صفحات کے ذریعہ بابر نے اپنی کلاس کے بچوں کو پڑھنا سکھایا۔ کام آسان نہیں تھا، لیکن بابر نے پوری محنت کی تھی۔

جب بابر کے لئے بچوں کو لکھںا نے کی ضرورت پڑی، اس وقت بھی اس نے اپنا تیزدماغ چلایا اور نئی منصوبہ بنآیا ۔ بابر ردی والے کی دوکان پر جاتا اور کتابوں کے خالی صفحات نکال کر لا لیتا۔ وہ انہی صفحات پر بچوں کو لكھواتا۔

اب بابر کے کلاس میں سب کچھ تھا - بلیک بورڈ، پڑھنے کے لئے اخبار کتابیں، لکھنے کے لئے کاغذ۔

بچے بھی خوب دل لگا کر پڑھنے لگے تھے۔ بچوں کی دلچسپی اتنی زیادہ بڑھ گئی تھی کہ وہ بیتابی سے بابر کے اسکول سے واپس کرنے کا انتظار کرتے۔ بابربھی اسکول سے آتے ہی بچوں کی کلاس میں جاتا اور ماسٹر بن کر انہیں پڑھاتا، لكھاتا۔

لیکن، ایک دن جب بابر کے والد نے دیکھا کہ بابر کی توجہ اب ماسٹری پر زیادہ ہو چلی ہے تو انہوں نے کلاس بند کرنے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے پر توجہ دینے کا مشورہ دیا، لیکن بابر نے اپنے والد کو یقین دلایا کہ اس ماسٹری کا اس کی تعلیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بابر کے فیصلے اورپکہ ارادہ دیکھ کر والد بھی بہت متاثر ہوئے۔

بابرکے ماسٹری کی چرچے اب پورے گاؤں میں ہونے لگے تھے۔ جب بابر کے ٹیچروں کو اس کلاس اور ماسٹری کا پتہ چلا تو انہوں نے بھی اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔ دلچسپ بات تو یہ تھی کہ بہت گاؤں کے لوگ اب اپنے بچوں کو بابرکی کلاس میں بھیجنے لگے تھے۔ ہرسال بابر کی کلاس میں بچوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی۔اس نے اپنی کلاس اور بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نئے نئے طریقے اپنايے۔ کلاس چلنے کے مقصد سے بچوں کے ماں باپ سے چاول لیتا اور ان کی فروخت سے بچوں کی کتابیں خریدی۔ چونکہ گاؤں کے لوگ اور کسان روپے دے نہیں سکتے تھے، بابر نے سوچا کہ کسان چاول دے سکتے ہیں اور اسے بیچ کر ہی وہ روپیوں کا انتظام کر لے گا۔ یہ ترکیب بھی خوب چلی۔

تھوڑے ہی وقت میں ننھے ہی لیکن اسردارماسٹر بابر کی ایک چھوٹی سی کلاس نے اسکول کی شکل اختیار کر لی تھی۔

بابر نے اس شام کے اسکول کا رسمی آغاز کی خواہش کی۔ گاؤں والوں اور اس کے والد نے اس میں اس کی خوب مدد کی۔ جب بابر چھٹی کلاس میں تھا تب گاؤں کے سرپنچ نے بابرکے کلاس کی مدد کے لئے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسرسے کتابیں دلوانے کی سفارش کی۔

آہستہ آہستہ بابر کو سرپنچ کی طرح ہی دوسرے مددگار ملتے گئے۔ گاؤں کی ایک خاتون جس بچے تولوماسی بلاتے تھے، خود آگے آکر اسکول کی گھنٹی بجانے لگی۔

والد نصیرالدین نے اسکول کا رسمی آغاز چھ سو روپے دیے۔

افتتاح کے لئے مائیک کرائےپر لیا گیا۔ اسکول کوسجایا گیا۔ سجانے میں ماں کی ساڑی بھی کام آئی۔ ربن بھی کٹ کیا گیا۔ ثقافتی پروگرام ہوئے۔ نغمے گائے گئے، رقص بھی ہوا۔ اسکول کا نام "آنند شکشا نکیتن" رکھا گیا۔

یعنی بابر اب صرف ایک ماسٹر، یا ٹیچر ہی نہیں تھا، وہ ایک اسکول کی ہیڈ ماسٹر بھی تھا۔

جب اخبارات میں بابر کے اسکول کی خبرشائع ہوئی تو اسے پڑھ کر مشہور ماہر اقتصادیات اور نوبل انعام سے نوازے گیے امرتے سین سے بابر کو 'شانتی نکیتن' بلوایا۔ بابر نے 'شانتی نکیتن' میں مغربی بنگال کے سابق وزیرِخزانہ، معروف ماہرین اقتصادیات اور دوسرے علماء کرام کے سامنے ایک گھنٹے تک تقریرکی۔ وہاں موجود ہر کوئی بابر کے خیالات سے بہت متاثر ہوا۔ اس وقت بابر صرف آٹھویں کا طالب علم تھا۔

بابر اور اس کے اسکول کی بحث اب ریاست کے دارالحکومت کولکتہ میں بھی ہونے لگی۔ بابر کولکتہ بھی جاتا اور آئی اے ایس، آئی پی ایس اور دوسرے حکام سے ملاقات کر کے اسکول کے لئے گرانٹ مانگتا۔

2008 میں جب بابر دسویں کلاس میں آیا، جب اسے بہت محنت کرنی پڑی۔ وہ صبح اٹھ جاتا اور پڑھائی کرتا۔ پھر اسکول جاتا، وہاں بھی ذہن لگا کرپڑھتا،لکھتا۔ پھر گھرآتا اور اپنے اسکول میں بچوں کو پڑھاتا۔ دن رات ایک کرنے کی وجہ سے ہی 2008 میں بابر نے فرسٹ کلاس میں دسویں کا امتحان پاس کر لیا۔

جس طرح بابر نے پوری محنت اور لگن سے اسکول چلایا اور آگے بڑھایا، گاؤں کے بچوں کو تعلیم دی، اسے دیکھ کر دنیا بھر میں بہت سے لوگ اور ادارے متاثر ہوئے۔

بی بی سی نے بابر کو "دنیا کے چھوٹے ہیڈ ماسٹر" قرار دیا۔ بابر کی کہانی دنیا بھر میں نشر کی گئی۔ انگریزی نیوز چینل سی این این آئی بی اين نے "ریئل ہیرو" کے عنوان سے بابر کو نوازا۔ بابر کا کام اور مقام دونوں بڑھتے گئے۔

لیکن، ایسا بھی نہیں ہے کہ بابر کو صرف احترام ہی احترام ملا اور ہر کسی نے اس کی مدد ہی کی ہو ۔ بابر کے مطابق، بہت سے لوگوں نے اسکے کام پر پانی پھیرنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگ اس ترقی اور کامیابی سے رشک تھے، اسکی شہرت سے پریشان تھے۔ ان لوگوں کا نام نہ بتانے کی شرط پر قائم رہتے ہوئے بابر نے کچھ صحافیوں کو بتایا کہ اسے بدنام کرنے کی بھی کوششیں ہوئی ہیں۔ کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر اس کے بارے میں افواہیں پھیلائی ہیں۔ کچھ غیرسماجی قوتوں نے جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی۔

بابر کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں، اس کا سفر، ان کوششیں جاری رہیں گی۔

بابر کا کہنا ہے کہ انھیں ویویکانند کے خیالات سے تحریک ملتی ہے۔ جب کبھی وہ کسی مسئلہ سے گھرتے ہیں یا پھر کوئی چیلنج سامنے آتا ہے وہ سوامی وویکانند کے خیالات اور ان کی بتائی باتوں کو یاد کرتا ہے اور ان سے سبق لیکرآگے بڑھتے ہیں-

سوامی وویکانند کی یہ بات "ایک خیال لو، اس خیال کو اپنی زندگی بنا لو- اس کے بارے میں سوچو اس کے خواب دیکھ سکتے ہیں، اس خیال کو جئیو۔ اپنے دماغ، اور اعصابوجسم کے ہر حصے کو اس کے خیال میں ڈوب جانے دو، اور باقی تمام خیالات کو کنارے رکھ دو۔ یہی کامیاب ہونے کا طریقہ ہے۔" بابر نے اپنےدل ودماغ میں بٹھالیا اور کامیابی حاصل کی۔

اہم بات یہ ہے کہ بابر کی تعلیم جاری ہے اور وہ آئی اے ایس افسر بننا چاہتا ہے۔ بابر کا سکول اب بہت بڑا ہو گیا ہے اور اس میں 500 سے زیادہ بچے ہیں۔ 22 سال کا بابر اب چاہتا ہے کہ ہندوستان کے دوسرے گاؤں میں پڑھے لکھے لوگ خاص طور پر بچے دوسروں کو پڑھائیں- تاکہ تمام خواندہ بنے اور ملک خوب ترقی کرے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem