رُک جانا نہیں تو کہیں ہار کے....  عبدالحکیم کی کامیابی کا راز!

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کوورنہ طاعت کےلئے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں

0

یہ گورنمنٹ جونیر کالج، چنچل گوڑہ، حیدرآباد کے میرے ساتھی عبدالحکیم (45 سال) کی کہانی ہے، جو نیا پل ، حیدرآباد کے پاس فُٹ ویئر کے ہول سیل بزنس کی معروف  شخصیت ہے، جس کی پوری عملی زندگی وقت کی قدر، سخت محنت، نیک نیتی، تجارت میں بے ایمانی سے گریز اور مذہب کے بھید بھاؤ سے احتراز سے مُزین ہے۔

انٹرمیڈیٹ کے ساتھ ہمارے راستے الگ ہوگئے۔ وہ تجارتی شعبے میں اپنی منزل ڈھونڈنے میں مشغول ہوگیا۔ کبھی کبھار ہماری مختصر ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ 2005ءمیں جب میں نے اُس کے موبائل فون پر پہلی بار کال کیا تو کالر ٹیون کے طور پر مجھے مشہور فلمی گیت ”رُک جانا نہیں تو‘ کہیں ہار کے .... کانٹوں پہ چل کے ملیں گے سائے بہار کے“ سنائی دیا۔ اس پورے گیت میں شاعر نے زندگی کے مشکل حالات میں حوصلہ قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا پیام دیا ہے۔ بالخصوص تب سے عبدالحکیم کی عملی زندگی تجسس کے ساتھ میرے مشاہدے میں رہی ہے۔

عبدالحکیم کے والد عبدالکریم، ملازم سرکار (محکمہ پولیس ، حیدرآباد، آندھرا پردیش) کی حیثیت سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے تھے ۔  انھوں نے اپنے تمام آٹھ بیٹوں کو تجارت کا پیشہ اختیار کرنے کی نہ صرف ترغیب دی، بلکہ دامے دِرمے سخنے مدد بھی کی۔ عبدالحکیم کے چھ بڑے بھائیوں نے یکے بعد دیگر مختلف نوعیت کی تجارت شروع کی ۔

’سپریم فٹ ویئر‘ کی شروعات

عبدالحکیم کو 1978ءمیں کم سِنی سے اپنے بھائیوں کی دُکانات پر وقت گزارنے کا موقع ملا۔ وہیں سے وہ اسکول کالج جاتا، وہیں پر واپس ہوتا، وہیں پڑھائی کرتا، اور اپنے بھائیوں کے کام میں ہاتھ بھی بٹاتا۔ اس طرح مختلف طرز کی تجارت کے ماحول میں 13 برس حکیم نے پوری دلچسپی اور دل جمعی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے بھائیوں کے کاروبار کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کیا۔ اسے دیکھتے ہوئے حکیم کو والد نے خود اپنا ذاتی بزنس شروع کرنے کی ترغیب دی اور ابتدائی سرمایہ کے طور پر کچھ قابل واپسی رقم حوالے کی۔ یوں 1991ءمیں عبدالحکیم نے ’سپریم فٹ ویئر‘ کے نام سے ذاتی تجارت کا آغاز کیا۔

محنت ِ شاقہ ، صبر، استقلال

سپریم فٹ ویئر ، نیا پل ، حیدرآباد ، تلنگانہ
سپریم فٹ ویئر ، نیا پل ، حیدرآباد ، تلنگانہ

کوئی بھی بزنس کی شروعات کے بعد اسے کامیابی سے آگے بڑھانا اور اپنے شعبے کا بلند مقام حاصل کرنا ہو تو اس کیلئے محنت ِ شاقہ، صبر، اور استقلال ناگزیر ہوتے ہیں۔ عبدالحکیم نے ان اوصاف کے ساتھ اپنے تایا عبدالوہاب صاحب کے سکھائے ڈسپلن کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ ایک ہی سال میں حکیم کی تجارتی زندگی میں اہم موڑ آیا جب والد نے ابتدائی سرمایہ کی واپسی اور پدرانہ حق کی وصولی کے طور پر ماہانہ کچھ رقم مقرر کردی۔ اس اقدام نے حکیم کی تجارتی زندگی کو نئی جہت عطا کردی۔ اب 22 سالہ حکیم کی عملی راہ واضح ہوچکی تھی۔ انھوں نے ٹھان لیا کہ فٹ ویئر کے ہول سیل بزنس میں بہت دور تک جانا ہے۔

عبدالحکیم کی سوچ شروع سے ہی منفرد رہی ہے۔ انھوں نے ہمیشہ ایسے ایٹمز کے بزنس کو ترجیح دی جو آس پاس کی بڑی مارکیٹ میں شاذونادر موجود ہوتے ہیں۔ اور اگر دستیاب ہوتے بھی ہیں تو اُن کی تجارت کے معاملے میں اخلاقیات پر مبنی انوکھا طریقہ¿ کار اختیار کیا۔

انھوں نے دہلی اور جالندھر کا رُخ کیا جو فٹ ویئر ایٹمز کا گڑھ ہیں۔ نیا بزنس اور سرمایہ کی قلت ہو تو نامی گرامی کارخانوں سے اُدھار نقد مال کا حصول بڑا مشکل ہوتا ہے۔ ٹھیٹ حیدرآبادی عبدالحکیم نے اس معاملے میں بھی اپنے اخلاق اور منفرد تجارتی حکمت عملی کے ذریعے بڑے کاروباری اداروں جیسے دہلی کے ’پون پلاسٹکس‘ اور جالندھر کے ’سہگل انڈسٹریز‘ کے مالکین کے دل جیتے۔ دہلی کے ہی مہیندر گرگ جی کے ساتھ اُن کے عمدہ تال میل کی تو مثال دی جاسکتی ہے!

عبدالحکیم نے 1994ءکا ایک واقعہ سنایا ، جب وہ جالندھر کی نامور فیکٹری ’سہگل انڈسٹریز‘ سے مال خریدنے پہنچے۔ فٹ ویئر میں اس فیکٹری کے کئی مشہور برانڈز ہیں۔ اس کمپنی تک عام تاجر کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اس فیکٹری کے مالک سدھیر سہگل نے ابتدائی طور پر حیدرآبادی نوجوان کو اپنا مال دینے سے صاف انکار کردیا۔ مایوس ہونا ، حوصلہ چھوڑ دینا عبدالحکیم کا کبھی شیوہ نہ رہا۔ وہ جالندھر میں ڈٹ گئے اور لگ بھگ ایک ہفتے تک روزانہ سہگل انڈسٹریز سے رجوع ہوتے رہے۔ آخرکار سدھیر سہگل نے پوچھا کہ تجھے کون سا مال چاہئے۔ حکیم نے نامور فیکٹری کے منجھے ہوئے بزنسمین کو حیرت و استعجاب میں مبتلا کرتے ہوئے وہ مال خریدنے میں دلچسپی دکھائی جو وہاں پُرانا سمجھ کر اُس کی نئی کھیپ بند کردی گئی تھی۔ حکیم کو خود پر بھروسہ تھا اور یہ اندازہ بھی تھا کہ حیدرآباد کی مارکیٹ میں یہ مال بھی بہ آسانی فروخت ہوگا۔ سدھیر جی نے تعجب سے دریافت کیا کہ تجھے مشہور برانڈز کی بجائے یہ پُرانا مال کیوں چاہئے؟ ’ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات‘ کے مترادف حکیم نے جواب دیا: ”میں چالو گاڑی پر سواری نہیں کرتا، بلکہ بند گاڑی کو چالو بنا کر استفادہ کرتا ہوں۔“

عبدالحکیم نے حیدرآباد میں وہ مال چند گھنٹوں میں فروخت کردیا اور تب سے سہگل انڈ سٹریز کے ساتھ اُن کا ناطہ جڑ گیا۔ اس کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اندرون دو سال اُن کا ٹھوس سرمایہ لگ بھگ 25 لاکھ روپئے ہوگیا۔

فیملی سے جُڑے رہنا اور سخاوت

عبدالحکیم نے خودغرضی اور محض انفرادی ترقی کو کبھی اپنے پاس پھٹکنے نہ دیا۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے بھائیوں، بہنوں، دیگر رشتے داروں کی دامے درمے سخنے مدد کی۔ حتیٰ کہ اپنے اسٹاف کے دکھ ، درد کو پوری طرح اپنا دکھ، درد سمجھتے ہوئے دور کردیا۔ ابھی حال کی بات ہے ، اُن کے دیرینہ ملازم بھاسکر را¶ سڑک حادثے کے نتیجے میں زندگی اور موت کی لڑائی سے دوچار ہوئے اور اُن کا گھر چلنے کے لالے پڑگئے۔ عبدالحکیم نے نہ صرف اُن کے علاج و معالجہ کی ذمہ داری اُٹھائی بلکہ اُن کی بیٹی کی شادی بھی کرا دی، اور یہ سب خرچ بھاسکر راؤ پر قرض نہیں!

لائف پارٹنر اور ایک بھانجہ کا رول

عام کہاوت ہے کہ ” ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے“۔ عبدالحکیم 1998ءمیں اپنی شادی سے قبل تک اپنے بزنس میں خاصا نام کما چکے تھے۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ انھیں ایسی شریک ِ حیات ملی جو اپنے شوہر کے رنگ میں تیزی سے ڈھل گئی۔ جب آدمی کو لائف پارٹنر سے بھی بھرپور حوصلہ ملے تو پھر اُس کی عملی زندگی میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی یقینی ہوجاتی ہے۔ یہی کچھ عبدالحکیم کا معاملہ ہے اور وہ اپنی گرہست شریک ِ حیات و اولاد (دو بیٹیاں، ایک بیٹا) کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کی خوبیوں کے لئے ساس محترمہ کی دی گئی تربیت کے معترف ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی بیٹی کی بہتر اِزدواجی زندگی کے لئے ماں کی تربیت کا اہم رول ہوتا ہے۔

عبدالحکیم کا ماننا ہے کہ بزنس میں مسلسل ترقی کے زینے طے کرنے میں بلاشبہ اُن کی محنت، ایمانداری سے کاروبار، اور ضرورت مندوں کی دعاؤں کے حصول کا بڑا دخل ہے، لیکن اس پورے سفر میں وہ اپنے بھانجہ احمد عبدالغفار عرف پرویز ، ایم بی اے - حال مقیم دبئی کو بھی کریڈٹ دیتے ہیں۔ پرویز اپنے ماموں حکیم سے ایک سال جونیر ہیں۔ چنانچہ بچپن سے وہ دوستوں کی طرح رہے ہیں۔ ’سپریم فٹ ویئر‘ کی شروعات کے بعد ماموں کو دوست نما بھانجہ سے مفید تجارتی مشورے ملنے لگے، اور یہ سلسلہ کبھی نہیں رُکا۔

دوست نما بھانجہ احمد عبدالغفار (پرویز) کے ساتھ۔
دوست نما بھانجہ احمد عبدالغفار (پرویز) کے ساتھ۔

اِسٹاف پر بھروسہ

کہتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ عبدالحکیم کو نیک نیتی کے مطابق ’سپریم فٹ ویئر‘ کیلئے اسٹاف ملا، جس پر وہ کامل بھروسہ کرتے ہیں۔ اسٹاف کی ہر مشکل میں مدد کرنا اُن کا عہد ہے۔ چنانچہ سارا اسٹاف اُن کا گرویدہ ہے۔ اس کا راست نتیجہ بزنس میں ترقی کی شکل میں سامنے ہے۔ عبدالحکیم کا کہنا ہے :

عبدالحکیم اپنے اسٹاف کے ساتھ۔
عبدالحکیم اپنے اسٹاف کے ساتھ۔

” میرے اسٹاف میں بالخصوص میرے فیملی ممبر کی طرح بھرپور ساتھ دینے والا واحد شخص محمد الطاف احمد ہے جس کے تعاون سے میں ہمیشہ مطمئن رہا اور وہ میرے بھروسے کے لائق ہے۔ ساتھ ہی ساتھ میرا بایاں ہاتھ کہلوانے والے بھاسکر راؤ جی اور دیگر اسٹاف ممبرز بھی میری طاقت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں میری ترقی محض انفرادی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ان سب کی کاوشوں سے یہ ترقی ممکن ہوئی۔ اور میں سارے اسٹاف کا شکرگزار ہوں۔ خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کے اچھے اور بُرے وقت میں مجھے ان کا ساتھی بنایا ہے۔ ہم سب آپس میں ایسے ہیں جیسے کہ علامہ اقبال نے کہا

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز 

نہ کوئی بندہ رہا ، نہ کوئی بندہ نواز

عبدالحکیم اور اُن کے دستِ راست محمد الطاف احمد۔
عبدالحکیم اور اُن کے دستِ راست محمد الطاف احمد۔

جس شخص کا کوئی دوست نہیں ، وہ غریب ہے!

عبدالحکیم کا یہ بھی ماننا ہے کہ جس شخص کا کوئی دوست نہیں، وہ غریب ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :

” میں میرے تمام دوستوں کا احسان مند ہوں کہ مجھے اُن سے کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ میرے دوست بھی میری طاقت ہیں، ہم سب میں یکجہتی ہے، بے لوث دوستی ہے، تعلیمی قابلیت یا دولت میں تفاوت پر مبنی تقابل نہیں ہے۔ میرے قریبی دوستوں کی تعداد محدود ہے، آٹھ یا دس۔ اس سے زیادہ دوست ہونا میرے خیال میں حقیقی معنوں میں دوست نہیں۔ احمد فرازکے بہ قول

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز 

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

اُردو شاعری سے شغف

عبدالحکیم کا ذریعہ تعلیم اردو رہا اور کم عمری سے انھیں شاعری سے دلچسپی رہی ہے۔ میں نے اُن کی عملی زندگی کے نچوڑ کی بابت دریافت کیا تو انھوں نے حسب ذیل شعر کو اپنی زندگی کا احساس قرار دیا

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں

................................................................

یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ بھی دیکھئے اور لائک کیجئے:        facebook

یہ بھی پڑھئے :

ممبئی میں خواتین کے لئے مدرسہ چلا رہی ہے ایک دلت خاتون

آپ کو خوبرو بنانے والی کمپنی .... Beawel کو انڈیا کی Zomato++ بننا مقصود

................................................................

A humble person, 45, who wished during teenage to become a Cricketer, then did my Science graduation to become an Engineer like my father, and then tried to be an Indian Administrative Officer (IAS). But, perhaps, I was destined to be a professional Journalist as I could consciously acquire the relevant knowledge by completing my Bachelor of Communication and Journalism (BCJ) from Osmania University, and practicing journalism for the last two decades courtesy my mother tongue, Urdu Language. A satisfied person by the grace of almighty Allah. منکسرالمزاج شخص (۴۵ سال) جس نے کم عمری میں یہی تمنا کی کہ کرکٹر بن جائے، پھر سائنس گرائجویشن کرتے ہوئے سوچا کہ والد کی طرح انجینئر بنوں، اور پھر ان؛ین اڈمنسٹریٹیو آفیسر (آئی اے ایس) بننے کی سعی بھی کی۔ لیکن شاید، قدرت نے پیشہ ور صحافی بنانا بہتر سمجھا۔ چنانچہ میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بیچلر آف کمیونکیشن اینڈ جرنلز (بی سی جے) کی تکمیل کے ذریعے متعلقہ ضروری علم حاصل کرپایا اور مادری زبان اُردو کی مرہون منت دو دہوں سے عملی زندگی میں ہوں۔ اللہ تبارک وتعالی کا فضل ہے کہ مطمئن شخص ہوں۔

Related Stories