امریکہ میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی ... سُروں کی سفیر: ترپتی مکھرجی

0

ہر سال امریکہ سے ہندوستان کے دورے پر آنا پڑتا ہے

انہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا

امریکہ میں پنڈت جسراج موسیقی انسٹی ٹیوٹ کی بانی ڈائریکٹر ہیں۔

امریکی اور کینیڈین شہروں میں آج 1000 سے زیادہ طالب علم کلاسیکی موسیقی سیکھ رہے ہیں

میواتی گھرانے کی وہ آرٹسٹ جو گزشتہ دو دہائیوں سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے ورثہ کو پھیلا رہی ہے۔ ملک سے باہر بالخصوص امریکہ میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی استاد کے طور پر حال ہی میں انہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ترپتی امریکہ میں پنڈت جسراج موسیقی انسٹی ٹیوٹ کی بانی ڈائریکٹر ہیں۔

ترپتی مکھرجی حالانکہ پنڈت جسراج کی سینئر شاگرد کے طور پر احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں اور ان کے پریوار کا حصہ سمجھی جاتی ہیں، لیکن اس سے مختلف بھی ان کی اپنی ایک شناخت ہے، خاموش خدمتگار کے طور پر، بہت کم بولتی ہیں، لیکن جب موسیقی کے اسٹیج پر موجود ہوتی ہیں تو لگتا ہے کہ ساری توانائی اپنے اس فن کو دے رہی ہیں، جس کےتئیں وہ وقف ہیں۔

اپنی مٹی اور اپنے ملک سے دور امریکہ میں کلاسیکی موسیقی کی جوت جلانے کی ان کی کامیاب کوشش آج جگ ظاہر ہے، لیکن امریکی ثقافت میں یہ کام بہت آسان نہیں رہا ہوگا۔ اس معاملے میں ترتپت کہتی ہیں، ''موسیقی کی اپنی زبان ہے، چاہے وہ مغربی موسیقی ہو کہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی، جی ہاں! اس کو سیکھنے کے طور طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، شروع میں کچھ مشكلیں ضرور رہیں، لیکن پنڈت جسراج کے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں تھی۔ ''

آج امریکہ اور كینڑا کے تقریبا 10 مراکز میں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ ترپتی ان کے بارے میں بتاتی ہیں، ''امریکہ میں ہندوستانی، اپنے ادب و تہذیب کے تئیں زیادہ چوکنا ہیں۔ بلکہ وہ جب موسیقی سیکھنے کے لئے آتے ہیں، تو استاد اور شاگرد کی ہندوستانی روایت کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ زمین پر بیٹھ کر، ہندوستانی بولتے ہیں، سنسکرت سیکھتے ہیں، بڑوں کا احترام کرتے ہیں۔ وہ صرف موسیقی نہیں سیکھتے، بلکہ ثقافت بھی سیکھتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہتی ہوں کہ ہم جہاں کہیں بھی رہتے ہیں، ہمارے لئے وہ ہندوستان ہے، بلکہ جب مقامی لوگ بھی شاستریہ موسیقی سیکھنے کے لئے آتے ہیں تو وہ بھی ان سب چیزوں کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں۔ ''

نیویارک، نیو جرسی، پٹسبرگ، ٹورنٹو، ، اٹلانٹا سمیت مختلف امریکی اور کینیڈین شہروں میں آج 1000 سے زیادہ طالب علم کلاسیکی موسیقی سیکھ رہے ہیں۔ کیا وہ سب بعد میں اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنا پاتے ہیں؟

''نہیں! ۔۔ ترپتی کےاس جواب کے پیچھے کئی ساری وضاحتیں ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے موسیقی کو پیشہ بنانے میں ہمیشہ ایک عدم استحکام کی حالت بنی رہتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے سامنے ایک سوال ہمیشہ رہتا ہے کہ کامیاب نہ ہو پائیں تو کیا کریں گے؟ موسیقی کو زندگی کا اہم مقصد بنانے کے لئے ہمت، حوصلہ افزائی اور کمٹمنٹ کے ساتھ ساتھ قربانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، پوری طرح وقف ہو جانا پڑتا ہے۔ لیکن کلاسیکی موسیقی کو براہ راست پیشہ نہ بنا کر اسے دوسری ترجیح کے طور پر اپنانے والوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ ایک طرح سے یہ اپنے پیشے کی اکتاہٹ کو دور کرتی ہے۔ موسیقی ان کے لئے خوشی کا باعث بن سکتی ہے، جو زندگی میں کچھ اور کام کرتے ہیں، لیکن اپنی بوریت کو دور کرنے کے لئے اسے اپناتے ہیں۔ ان کے لئے یہ فن دوسری ترجیح کے طور پر بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ترپتی مکھرجی کو کلاسیکی موسیقی میں ان کی خدمات کے لئے این آر آئی آف دی ورلڈ ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ہندوستان سے امریکہ کے سفر کے بارے میں پوچھے جانے پر وہ بتاتی ہیں کہ 1995 میں جب امریکہ میں پنڈت جسراج موسیقی انسٹی ٹیوٹ کو سنبھالنے کی بات آئی تو پہلا نام ترپتی کا تھا۔ ان پر جو یقین تھا، اس پر وہ کھری بھی اتریں۔ آج موسیقی ہی ان کا ورثہ ہے اور موسیقی ان کا مستقبل۔ عام طور پر لوگ امریکی موسیقی دوروں پر جاتے ہیں، لیکن ترپتی کو ہر سال امریکہ سے ہندوستان کے دورے پر آنا پڑتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کولکتہ میں پیدا ہونے والی ترپتی مکھرجی نے 4 سال کی عمر سے گانا شروع کیا تھا۔ بھارتی كار چودھوری اور سنیل داس سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کےبعد وہ استاد بڑے غلام علی خان کے شاگرد پرسن بنرجی کی شاگرد بن گئی اور سپرا بوس سے انہوں نے ٹھمری، غزل اور بھجن بھی سیکھے 1976 میں پنڈت جسراج سے ملاقات کے بعد وہ میواتی گھرانے کی رکن بن گئیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem