مدرسہ کے طالب علم کوثر معبودی آج ایک کامیاب پبلشر

0

دہلی کے کتاب میلے میں ملے 35 لاکھ کے آرڈر

قرآن کے بڑے پبلشر ششی سچدیوا سے الگ ہوکر شروع کیا کاروبار

اسلامی تعلیمات پر مبنی آسان زبان میں کتابیں شائع کرنے کی لگن

دنیا بھر میں پھیلا ہے کروبار

کہتے ہیں کہ خدا نے ہر جاندار کو صلاحیتں بخشی ہیں، لیکن ہزاروں لوگ اپنی ان داخلی صلاحیتوں کو دیکھے جانے سمجھے بغیر ہی اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ یہ بات بھی اتنی ہی حق ہے کہ آدمی کو مشکل گھڑی میں اپنی صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ اسے کٹھن حالات میں ہی آزمانے کی ہمت کر پاتا ہے۔ جب میری ملاقت کوثر معبودی سے ہوئی تو اس خیال کو اور بھی تقیوت ملی کے انسان مشکلوں سے گھبرائے بغیر اپنی صلاحیتوں کو آزمانا شروع کرے تو کامیابی اس کے قدم چومنے کے لئے راہ میں منتظر کھڑی مل سکتی ہے۔ کوثر معبودی نے اپنی زندگی ایک طباعت خانے میں پروف ریڑر کے طور پر شروع کی تھی اور آج وہ خود ایک بڑے پبلشر اور کامیاب کتب فروش ہیں۔

اردو کتاب میلے میں کوثر معبودی کی کامیابی کی کہانیاں گشت کرتی ہوئیں جب میرے کانوں میں پڑی تو ان سے ملنے سے اپنے آپ کو روک نہیں پایا۔

اردو ادب میں اتر پردیش کے ضلع گونڈ کا بڑا مقام ہے، خصوصاً اصغر گونڈوی جیسے شاعر اس مٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی مٹی میں کوثر معبودی کی پیدائش ایک خاندانی لیکن مقامی سطح کے کتب فروش کے گھر میں ہوئی- انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کی اپنی زنگی بھی اسی کاروبار کا حصہ بن جائےگی اوروہ اسی کاروبار کے ذریعہ دنیا کے چھ ممالک تک اپنا کاروبارپھیلائیں گے۔ اپنے ابتدائی دنوں کے بارے میں معبودی بتاتے ہیں،

'' ابتدائی تعلیم کے لئے کئی مقمات کی خاک چھانی۔ اعظم گڑھ ، مئوناتھ بھنجن، بلرام پور اور پھر دہلی ...یہاں پر کتب خانہ اشاعت الاسلام کا ایک اشتہار دیکھا- انہیں قرآن کی تصیح کے لئے ایک شخص کی ضرورت تھی، 1990 میں، میں وہاں ملازم ہو گیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں پہلی تنخواہ 750 روپے تھی۔ بعد میں مجھے سیلس مینجر بنا دیا گیا۔ کتب خانہ اشاعت الاسلام کے مالک ششی سچدیوا کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا ہوا تھا۔ وہ قرآن کے بہت بڑے پبلشر ہیں، کئی ممالک میں گھومتے تھے۔ قرآن کے کاروبار کو انہوں نے کروڑوں تک پہنچا دیا تھا۔ وہ باہر رہتے تھے تو ساری زمہ داری میری تھی۔''

کوثر معبودی نے 18 سال ششی سچدیوا کے ساتھ کام کیا۔ اس دوران انہوں نے فضیلت کا امتحان بھی کامیاب کر لیا تھا۔ انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ نوکری چھوڑیں گے۔ لیکن ایک دن ایسا بھی ایا کہ جب انہیں نوکری چھوڑنے کا فیصلا کرنا پڑا۔ اس وقعہ کے بارے میں وہ بتاتے ہیں،

''کاروبار کی زمہ داری سنبھالتے ہوئے گھر کی زمہ داریوں کو دیکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ ایک دن بیگم کی طبیت خراب تھی اور ان کے معلجے کے لئے تین دن چھٹی لینی پڑی۔ ششی صاحب ان دنوں دہلی میں نہیں تھے۔ جب تین دن بعد ان سے ملاقات ہوئی تو ان سے کچھ باتوں پر ایسی بحث ہوئی کہ بنا کچھ سونچے نوکری چھوڑ نے کا فیصلا کر لیا۔ حالانکہ بعد میں انہوںے سمجھانے کی کوشش بھی کی، لیکن دل واپس جانے پر راضی نہیں ہوا۔''

اچھی خاصی نوکری چھوڑنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کے نتائج کافی تکلیف دہ بھی ہو سکتے تھے۔ دوسری جگہ اسی طرح کی اچھی ملازمت آسانی سے نہیں ملتی۔ کوثر معبودی کے لئے بھی آگے کا راستہ آسان نہیں تھا۔ کچھ دوستون نے تو ملازمت پر واپس جانے کا مشورہ بھی دیا، لیکن جو ڈگر چھوڑ آئے تھے، اب ادھر کا رخ کرنا دل کو دل کو گوارو نہ تھا۔ ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کوثر بتاتے ہیں، ''وہ کافی بھیانک دور تھا۔ جیب پوری طرح خالی تھی۔ فاقے کی نوبت تھی۔ ایسے ہی حالات میں، میں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ لیا۔ کاروبار میں جان پہچان تھی اور تجربہ بھی تھا، لیکن لوگ اس طرح سے تعاون کے لئے سامنے آئیں گے سوچا نہ تھا۔ دس ہزار ڈالر کا کتابوں کا ایک آرڈر ملا، لیکن آرڈرملنا کافی نہیں تھا، آرڈر پورا کرنے کو لئے اور روپیہ چاہیے تھا۔ ممبئی کے نجیب بقالی صاحب نے 6 لاکھ روپے میرے کاروبار میں لگائے۔ خوش قسمتی سے جب آرڈر کامیابی سے تکمیل کو پہنچا تو ان کو بھی ایک لاکھ کا فائدہ ہوا۔''

آج کوثر معبودی خصوصاً قرآن اور اسلامی کتب کی اشاعت میں تعارف کے محتاج نہیں ہیں- وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے تاج کمپنی کے کمزور پڑنے کے بعد قرآن کی چھپائی میں نئے تجربوں کا جو خلاء پیدا ہوا تھا انہوں نے اسے پر کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے کہا، ''آج ہمارے پاس بشمول افریقہ، تنزانیا، آسٹریلیا، امریکہ، یوکے، کناڈا۔۔۔ کئی ممالک کے آرڈر ہیں۔ دہلی کے میلے میں بھی دو بڑے خریدداروں کے آرڈر ملے ہیں۔''

کوثر معبودی چاہتے ہیں کے زندگی کو سمجھنے کے لئے اسلامی تعلیمات پر مبنی آسان زبان میں کتابیں شائع کی جائیں۔ اس کے لئے وہ کسی ایک زبان تک محدود نہیں رہے، بلکہ اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبانوں میں اب تک 350 سے زائد کتابیں شائع کر چکے ہیں۔ لوگ ان کی کتابوں کو پسند بھی کر رہے ہیں۔ اس کامیابی کا راز کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ''کتب فروشی ہمارا خاندانی کاروبار تھا، لیکن اس میں معلومات کی کمی تھی۔ ملازمت کرنے کے دوران میں نے بین الاقوامی بازار کے بارے میں خوب معلومات حاصل کی تھی اور تعلیمات کے شعبے کے بارے میں ضرورتوں کا احساس تھا کہ کونسی کتابوں کی طلب ذیادہ ہے۔''

ملک میں قرآن کی طباعت و اشاعت کے بارے میں کوثر معبودی کا ماننا ہے کہ ہر سال 1 عرب روپے سے ذائد کی سیل ہوتی ہے۔ ہندوستان میں ہر سال 1 کروڑ قرآن چھپتا ہے اور دوسرے ممالک میں اسکی ڈمانڈ ہے۔اردو کتابوں کے معاملے میں بھی ہندوستان پہلے مقام پر ہے۔''


کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج

 (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

مولانا جہانگیرعالم قاسمی کاادارہ...جدوجہد کااستعارہ

پانچ روپئے روزانہ اُجرت پانے والی جیوتی آئی ٹی سیکٹر میں پھیلارہی ہے روشنی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories