چہار دیواری سے نکل کر بنی کامیاب خاتون تاجر... ششی ناہٹا کا دلچسپ سفر

0

ایک کامیاب بزنس وومین ، فیشن اور لائف اسٹائل نمایشوں کی آرگنائزر، 500 سے زاید ڈزائنروں، کاروباریوں اور نئے نئے پوشاک اور فیشن سے جڑی اشیاء کی تلاش کرنے والی ہزاروں خواتین کا پسندیدہ نام ششی ناہٹا، آج حیدرآباد ہی نہیں، بلکہ بنگلور اور چنئی میں بھی اپنی شہرت رکھتی ہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کامیابی کے پیچھے ایک لمبی جدو جہد کا سلسلہ ہے۔ کو جانتا تھا کہ شادی کے آٹھ سال تک ایک راجستھانی خاندان میں گھریلو زندگی گزارنے والی ششی ایک دن چہار دواری سے باہر نکل کر وہ کام کریں گی، جس سے نوصرف معاشی کامیابی ملے گی بلکہ ڈزائنر اور فیشن نمائشیں منعقد کرنے والی کامیاب خاتون کے طور پر ان کا تعارف ہوگا۔

اپنی اس مصروف ترین زندگی کے بارے میں ششی ناہٹا بتاتی ہیں، '' نمائش کا سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم بڑے بڑے ڈیزائنرز کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں۔ جو گاہک آتے ہیں انہیں بھی اچھی سے اچھی چیز ملے۔ کسی بھی نمائش میں ایک سے دو ہی دن کا موقع ہوتا ہے۔ ہر ایكذبیٹر چاہتا ہے کہ وہ اپنی اچھی سے اچھی چیز پیش کرے۔ اگر اچھی چیز نہ لائیں تو پھر جتنا خرچ كر چکے ہیں وہ بھی نہیں نکلے گا اور اچھی چیزوں پر خرچ کے ساتھ آمدنی بھی ہوگی۔ نمائشوں میں آنے والے ایكذبیٹرس میں آپس میں ایک كامپٹیشن ہوتا ہے۔ ان کے اس مقابلے کا فائدہ بھی گاہكو کو پہنچ جاتا ہے۔''

کئی لوگ یہ سوچتے ہیں کہہ نمائشوں میں چیزیں مہنگی ملتی ہیں، لیکن ششی کی رائے کچھ الگ ہے۔ وہ بتاتی ہیں، '' ہماری ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ نمائشوں میں کافی مختلف، فریش، لیٹیسٹ اور اچھی چیزیں ملتی ہیں۔ بہت ساری جگہوں سے لوگ آتے ہیں۔ احمد آباد، سورت، ممبئی، چنئی، کولکتہ، چنئی، دہلی اور بینگلور، جےپور ہر جگہ سے لوگ آتے ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ ساری چیزیں دو دن میں ہی فروخت کرنی ہیں، كامپٹیشن بھی ہے تو پھر چیزیں بھی اچھی لانی ہوگی۔ آج تک 500 سے 600 لوگ میرے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔''

اپنے آپ کو ایک کامیاب خوش نصيب آرگناذر ماننے والی ششی جلدی جلدی اور اچھی اچھی نمائشیں منعقد کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہاں صرف نمائشیں مناقد کرنا ہی ضروری نہیں ہے، بلکہ جو لوگ اپنی چیزیں لے کر آتے ہیں، انہیں اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ مواد معیاری اور پرکشش لائیں اور ساتھ ہی قیمتیں بھی زیادہ نہ رکھیں۔ ایكسچنج کی سہولت بھی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کو اپنا پرانا مال سیل کرنا ہے اس لئے آپ نے اسٹال لگائی ہو، بلکہ چیزوں میں نیاپن ضرور ہو۔ تاکہ گاہک ہر بار نمائش میں آنے کے لئے اپنے آپ کو مجبور کریں۔

ششی نے اپنی زندگی کی شروعات ڈانس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے کی تھی۔ دس سال پہلے ڈانس اسٹوڈیو شروع کیا تھا۔ بشمول سروج خان کئی بڑی ہستیوں کا بلایا تھا۔ وہ بتاتی ہیں، ''حیدرآباد میں سب سے پہلے میں نے اس طرح کا انسٹی ٹیوٹ شروع کیا تھا، سروج خان جیسی ہستی کو اپنے ورکشاپ میں بلایا۔ اس کام میں میا نقس یہ تھا کہ میں خود كوريو گرافر نہیں تھی۔ جو لوگ میرے ساتھ کام کرتے تھے، وہ فائدہ اٹھانے لگے۔ اس فیلڈ میں اسی کو پوچھا جاتا ہے، جس کو کوریوگرافی آتی ہے۔ تاہم ڈانس کے بارے میں پڑھا بہت تھا، نئی نئی معلومات حاصل کرتی تھی، ماہر لوگوں کو اپنی ورکشاپ میں بلاتی تھی۔ بعد میں میرے پاس سیکھنے والے لوگ ذاتی ٹیوشن پر جانے لگے۔ جتنا خرچ میں اسٹوڈیو پر کرتی تھی، اتنا نکل نہیں رہا تھا اور میں معيار کم کرکے اپنا فائدہ حاصل نہیں کر سکتی تھی، اس لیے ڈانس اسڈوڈيو کو کو بند کر کے میں نے شکل ایلیٹ نمائش کا آغاز کیا اور اس میں توقع سے زیادہ كاميابی ہاتھ لگی۔''

ششی کے مطابق پیسہ بعد میں آتا ہے، لیکن نام تو چاہئے۔ نام کے لئے محنت کرنی پڑے گی اور انہوں نے کی۔ محنت اور معيار کے ساتھ کبھی بھی مفاہمت نہیں کی۔ وہ بتاتی ہیں، ''نمائشیں میری طبیعت سے میل کھاتی تھی اور یہی میرے لئے مثبت ثابت ہوا۔ پہلے سے میں ایونٹ انڈسٹری میں مہرک تھی اور لوگ جانتے پہچانتے تھے، یہی وجه رہی کہ جب نمائش شروع کیں تو لوگوں نے حوصلہ افزائی کی۔ میں نے كاميابی حاصل کرنے کے لئے کام کو مختلف نويت میں تقسیم کیا۔ میں فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی نمائش کرتی ہوں اور فنکشن ہالوں میں بھی۔ یہی وجه ہے کہ زمین سے جڑے رہنے میں مشکل نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ ہیں جو فائیو اسٹار میں کام شروع کرتے ہیں تو فنکشن ہال بھول جاتے ہیں اور اپنے آپ کو اونچے معيار کا ماننے لگتے ہیں۔ میرے دماغ میں ایسی کوئی بات جگہ نہیں پا سکی۔ میں نے کئی بار ایسے لوگوں کو اپنی نمائشوں میں مفت جگہ دی جو ضرورت مند تھے اور کاروبار میں ان کےابھر کر سامنے آئے کے امکانات تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے یہاں پہنچی ہوں تو عورت ہونے کے ناطے دوسری عورتوں کے لئے کچھ کر پاؤں تو ضرور کروں۔''

انہوں نے اپنی نچائشوں کے ساتھ چنئی بینگلور، ویزاک جیسے شہروں میں بھی جانا شروع کیا ہے۔ 30 اسٹال ایسے ہیں جو ان کی ہر نمائش میں آتے ہیں، ان کی چیزیں بکتی ہیں۔ میری کامیابی میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ اپنے ابتدائی دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں،

'' میں 11 ویں جماعت تک پڑھی ہوں۔ پہلے بہار میں رہتی تھی، وہاں میں ہندی میڈيم سے پانچویں جماعت تک پڑھی تھی، میں نے جب بینگلور میں داخلا لیا تو یہ کہتے ہوئے دو سال پیچھے کر دیا کہ میں انگریزی میں کمزور ہوں۔ یہ 1985 کی بات ہے، حالانکہ کہا گیا کہ اچھا پرفارم کروں گی تو ڈبل پروموشن دیا جائے گا، لیکن جب میں نے اچھا رینک حاصل کیا تو پرنسپل کا تبادلہ ہو گیا اور مجھے ڈبل پروموشن نہیں ملا۔ یہی وجه ہے کہ 19 سال کی عمر میں میں 11 ویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔ اس کا فائدہ بھی مجھے ہوا میں تقریبا تمام جماعتوں میں اسکول ٹیم کی کیپٹن رہی۔ اس کے بعد شادی کر دی گئی۔ شادی کے بعد آٹھ سال تک راجستھانی بہو کی طرح گھر کے کاموں میں ہی مصروف رہی۔ لیکن بعد میں میں نے شوہر کی حوصلہ افزائی سے اپنا اسٹوڈیو اور پھر اکرتی ایلیٹ ایكزبشن شروع کی، جو آج کافی مقبول برینڈ بن گیا۔''

کامیابی انہیں اسانی سے نہیں ملی۔ اس کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ ششی کی آنکھوں میں جدوجہد کے ان دنوں کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔

'' 200 روپے کے لئے بھی ٹریننگ دینے کے لئے جاتی تھی۔ اسکولوں کو جاکر بچوں کے اسپیشل کلاس لیتی تھی۔ جب نمائشیں شروع کی تو لوگوں نے کئی سارے روڑے اٹکائے۔ تین دن بعد میرا ایكزبشن ہے نوٹيس آتی کہ آپ اس نام سے نہیں کر سکتے۔ نماشے کرنے سے روکا گیا، نمائش میں حصہ لینے والوں سے کہا جاتا کہ میرے پاس جو آئے گا انہیں ان کی نمائش میں نہیں بلایا جائےگا۔ بہت سے لوگ ڈیٹس كینسل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کام میں مجھے ایكزبٹرس نے بھی اچھا سپورٹ کیا۔''

ششی کے مطابق اسٹال کسی کو دی اور آخری وقت میں وہ نہیں آیا، تو وہ اسٹال خالی تو نہیں چھوڑ سکتے، اس کا برا اثر نمائش میں پڑتا ہے۔ اس لئے اس جگہ کو پرکرنا کافی چیلنجنگ ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں،'' تاہم مجھے حیدرآباد بہت اچھا لگتا ہے، لیکن میں دوسرے شہروں میں بھی جانے لگی ہوں۔ میری بیٹی اور بیٹا بھی مدد کرتے ہیں۔ میرے شوہر کا مکمل تعاون مجھے حاصل ہے۔''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories