ٹیوشن سے کمائے 3 لاکھ سے شروع کئے 'فٹ وركس' نے دی 500 خواتین کو ٹریننگ

0

دہلی کے گریٹر کیلاش میں رکھی فٹنس سینٹر کی بنیادیں

خواتین میں صحت کے تئیں شعور بیدار کر رہی ہیں اشیما گپتا

اب تک پانچ سو خواتین کو دے چکی ہیں ٹریننگ

مشہور قول ہے کہ صحت ہزار نعمت ہے۔ اگر آپ کے پاس دولت ہے تو آپ امیر ہیں لیکن، بنا صحت کے امیری بعنی ہے۔ آج ہم ملاوٹ اور آلودگی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں ایسی صورت میں پیسہ کمانا تو آسان ہے، لیکن صحت بچانا بہت مشکل۔ آج انسان کی توجہ پیسہ کمانے میں اتنا زیادہ ہے کہ وہ اپنے جسم کو نظر انداز کرتا جا رہا ہے۔ آفس کا کام انسان کی ترجیح ہیں، لیکن وہ اپنے جسم سے متعلق خدشات کو ترجیح نہیں دے پا رہا ہے۔ بہت سے معاملات میں یہ اس کی مجبوری بنتی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ کاہلی کی وجہ سے بھی جسم کے تئی لاپروہ بنتے جا رہے ہیں۔

آجکل زیادہ تر لوگ خانگی نوکریوں میں ہیں۔ جہاں کام کرنے کا شیڈول درست نہیں ہوتا۔ کئی بار نائٹ شفٹ بھی کرنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی کام کرنے کے اوقات بھی درست نہیں ہوتے۔ اس قسم کے ورک کلچر کا براہ راست منفی اثر صحت پر پڑتا ہے۔ انسان مزید تھکن محسوس کرنے لگتا ہے اور موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس کی طبیعت بھی بگڑنے لگتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ آپ چاہے کتنے ہی مصروف ہوں اپنی صحت کا خیال ضرور رکھیں۔ کچھ وقت اپنے لئے ضرور نکالیں اور اپنی صحت پر توجہ دیں۔

بڑھتی ہوئی آلودگی اور ملاوٹ کے ماحول میں ضروری ہے کہ لوگوں کو صحت کے تئیں شعور بیدار کیا جائے اور انہیں فٹ رہنے کے لئے ضروری مشورے دئے جائیں۔ دہلی کی ایک نوجوان خاتون اشیما گپتا اسی کام میں مصروف ہیں ۔ اشیما گزشتہ تین سالوں سے گریٹر کیلاش میں خواتین کے لئے ہیلتھ سٹوڈیو 'فٹ وركس' چلا رہی ہیں۔ ان کے پاس آنے والوں میں نو سال کی لڑکیاں بھی شامل ہیں اور 54-55 سال کی خواتین بھی۔ اشیما کا یہ سفر تین سال پہلے دو خواتین کی فٹنس ٹریننگ سے شروع ہوا تھا اور آج ان کا فٹنس سٹوڈیو 'فٹ وركس' تقریبا سو خواتین کو ٹریننگ دے رہا ہے۔

اشیما کی عمر صرف 25 سال ہے اور انہوں نے اپنے سٹوڈیو کا آغاز آج سے تین سال پہلے کیا تھا، جب وہ بائیس سال کی تھیں۔ پہلے دن سے ہی اشیما کو فٹ رہنا کافی پسند تھا۔ انہوں نے رقص کی تعلیم 5 سال کی عمر سے ہی حاصل کرنی شروع کی تھی۔ انہوں نے كتھک، بھرت ناٹیم اور دیگر اقسام کے رقص بھی سیکھے۔ فٹنس ایک ایسی چیز تھی جس نے اشیما کو ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کیا۔

اسکول کے بعد جب انہوں نے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا تو انہوں نے کئی اکیڈمیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیا، وہاں سے انہوں نے فٹنس ٹریننگ حاصل کی اور صحت کی نئی نئی تکنیک کو قریب سے سمجھا۔ انجینئرنگ کے بعد ان کے خاندان اور دوستوں نے ان کی کافی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صحت کے شعبے میں ہی کچھ کام کریں۔

اشیما بھی ایسا ہی کچھ چاہتی تھی۔ اس دوران انہیں کئی بہترین کمپنیوں سے کام کی پیشکش ملی، لیکن انہوں نے کہیں بھی جانا قبول نہیں کیا اور صحت کے شعبے میں کام کرنے کا من بنا لیا۔ اشیما بتاتی ہیں کہ وہ بہت پہلے سے ٹيوشنس دے رہی تھیں جس کی وجہ سے ان کے پاس اچھی خاصی رقم جمع ہو گئی تھی۔ اور پھر اکتوبر 2012 میں انہوں نے خود اپنے ہی پیسوں سے گریٹر کیلاش میں ایک ہیلتھ اسٹوڈیو کھول دیا۔ اس پورے کام میں ان کے تقریبا 3 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور انہوں نے خواتین کو تربیت دینی شروع کی۔ شروع شروع میں ان کے پاس صرف دو خواتین آتی تھیں، لیکن وہ اپنے کام میں لگی رہیں تقریبا ایک سال انہیں فٹنس اسٹوڈیو چلانے میں کافی دقتیں آئیں۔ اس طرح ان فٹنس اسٹوڈیو میں صرف دو عورتیں ہی آتی تھیں ایسے میں اسٹوڈیو کا خرچ چلانا، تمام طرح کے بل ادا کرنا، اسٹوڈیو کا کرایہ دینا وغیرہ کٹھن تھا، لیکن اشیما نے ہمت نہیں ہاری، وہ خود ہی فٹنس اسٹوڈیو کی مارکیٹنگ بھی کرتیں اور عورتوں کو فٹنس کے لئے آگاہ بھی کرتیں۔ وہ اکیلی تھیں اس لئے کئی گھنٹوں تک اکیلے ہی ٹریننگ دیتی تھیں پھر آہستہ آہستہ ان کے پاس زیادہ خواتین آنے لگیں اور ایک وقت تو یہ صورت حال ہو گئی کہ خواتین زیادہ اور اسٹوڈیو چھوٹا پڑ گیا۔ پھر اشیما نے گریٹر کیلاش میں ہی ایک بڑی جگہ کرائے پر لی اور وہاں سے فٹنس اسٹوڈیو آپریٹ کرنا شروع کیا۔

آج ان کے پاس تقریبا سو باقاعدہ کلائنٹس ہیں۔ وہ اب تک 500 سے زیادہ خواتین کو تربیت دے چکی ہیں۔ ۔اشیما کے علاوہ اب اس اسٹوڈیو میں چار دیگر فٹنس ٹرینر بھی ہیں۔ 'فٹ وركس' میں ایروبکس، یوگا، کک باکسنگ اور دیگر فٹنس افعال کروائے جاتے ہیں اور شعور بیداریئ صحت بھی کیا جاتا ہے۔

اشیما بتاتی ہیں کہ ابھی ان کا مرکز صرف خواتین کے لئے ہے، لیکن مستقبل میں وہ مرد اور عورت دونوں کے لئے ایک سینٹر کھولنا چاہتی ہیں جہاں ہر طرح کی فٹنس ٹریننگ ہو جیسے ویٹ ٹرنگ، ایروبكس، یوگا، ہر طرح کی صحت ایکسرسائز وغیرہ۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem