تعمیراتی پروجکٹس میں جوش کم لیکن کرایہ بڑھنے کی امید زیادہ

0

حیدرآباد میں مشرق مغرب میں زمین -اسمان کا فرق

حیدرآباد کے تجارتی اور آئی ٹی شہرکے طور پر ابھرنے سے حالات بہتر

میٹرو کی تعمیر کے بعد مشرقی علاقے کی صورت حال میں بہتری کا امکان

حیدرآباد کا رئیل اسٹیٹ کاروبارحالانکہ نئے منصوبوں کے معاملے میں حوصلہ افزا نہیں رہا ہے، لیکن سال 2016 میں رہائشی اور تجارتی دونوں قسم کے اثاثوں کے کرایہ میں 43 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تجارتی اور رہائشی دونوں صورتوں میں شہرکے مغربی علاقے نے بازی مار لی ہے، جہاں مشرقی شہر میں 59ننے پروجکٹس شروع ہوئے اس کے مقابلے میں مغربی شہر میں 3991 نئے منصوبوں کی شروعات ہوئی ہے۔

نائٹ فرینک کی طرف سے جاری انڈیا ریئل اسٹیٹ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے آخری نصف اور موجودہ سال کے ابتداء میں نئے پروجکٹس کے این سی آر اور بینگلورو کو چھوڑ دیں تو پورے ملک میں صورت حال خاص نہیں ہے، لیکن زیر التواء تجارتی منصوبوں کی اثاثوں کی فروخت اور ان کے آباد ہونے کے معاملے میں پونے اور حیدرآباد کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہے۔ حالانکہ یہ صورت حال رہائشی پروجکٹس کے معاملے میں بالکل حوصلہ افزا نہیں رہی ہے۔.

نائٹ فرینک کے حیدرآباد ڈائریکٹر واسودیو ایر اور بیگلور کے ڈائریکٹر ارپت مہروترا نے بتایا کہ تعمیرشدہ منصوبوں ملین 3.1 کو آباد کرنے کے معاملے میں حیدرآباد میں مربع فٹ جگہ کو اپنایا گیا ہے، جو اب تک کی اچھی حالت کہی جا سکتی ہے۔ اس کی اہم وجہ حیدرآباد کا تجارتی اور آئی ٹی شہرکے طور پر ابھرنا ہے۔

حیدرآباد میں رہائشی علاقوں کے بارے میں رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2015 کی صورت حال 2014 کی طرح ہی ہے۔ فروخت میں 1 فیصد اور نئی منصوبوں کے معاملے میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔ رہائشی قیمتوں میں 3.1 فیصد کا اوست اضافہ دیکھا گیاہے۔ مغربی زون یعنی كوكٹ پلی، مادھاپور، كونڈاپور، گچی باولی، رائےدرگم میں سرگرمیاں حوصلہ افزا رہی ہیں، لیکن مشرقی زون اپل، ملكاجگری اور ایل بی نگر میں حالت اس کے برعکس ہے۔ مائیکرو مارکیٹ میں بھی مغربی زون میں کافی آگے ہے۔

واسدیون کے مطابق، میٹرو تعمیر کے بعد مشرقی علاقے کی صورت حال میں بہتری کا امکان ہے۔ نئے اور بہترین اثاثوں میں کمی دیکھی گئی ہے، تو مکان مالکان کا دباؤ بنا ہوا ہے اور کرایوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد اور کل 43 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔

جہاں تک ملک کے بڑے شہروں میں کرائے کا حال ہے، دہلی کے این سی آر میں 67 فیصد، بیگلور میں 56 فیصد، چنئی میں 52 فیصد اور پونے میں 61 فیصد اضافے کا اندازا ہے۔

کل ہند سطح پر اگر رہائشی تعمیرات کی بات کی جائے تو حالات بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں، لیکن موجودہ سال کر پہلی سہ ماہی میں بہتری کی امید ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem