گاؤں- جنگلوں سے سلیکن ویلی کا سفر: ورون چندرن کی کہانی

جنگلوں کے قریب واقع ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ایک نوجوان کے پاس علاؤالدیں کا چراغ نہیں تھااور نہ علیبابا کی طرح چالیس چوروں کا خزانہ اسکے ہاتھ لگا تھا، لیکن اس نے اپنے چھوٹے سےگاؤں سے نکل کر سنگاپور میں اپنی ایک کمپنی بنائی اور کروڑوں روپے کا مالک بنا۔ سننے میں یہ بات کسی جادوئی کہانی کا حصہ ضرورلگتی ہے، لیکن یہ بات حقیت ہے۔ اس نوجوان کے لئے یہ راستہ آسان نہیں تھا.زندگی میں دکھوں سے گزرہوا، جسمانی اور ذہنی عذاب سہا،غربت کے تھپیڑے کھائے اور ذلت بھی سہی، لیکن محنت، اور صلاحیت کو حالات کا شکار ہونے نہیں دیا. سنعتکاری کو اپنی طاقت بنائی اور کامیابی کی نئی اور حیرت انگیز کہانی لکھی ہے۔

0

 یہ کہانی ہے 'کارپوریٹ 360' کے بانی اورسی ای او ورون چندرن کی۔ ورون چندرن کی کمپنی آج دنیا بھر میں کاروبار کررہی ہے اور اس کا ٹرنوور بھی کروڑوں میں ہیں۔ بچپن میں 25 روپے کی اسکول فیس جمع نہ کر پانے کی وجہ سے کلاس کے باہر کھڑے کر دیے گئے چندرن آج کروڑوں روپے کے مالک ہیں اور غریبوں کو روزگار دلانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ورون چندرن کی کہانی انتہائی دلچسپ تو ہے ہی، لیکن ترغیب دینے والی بھی ہے ۔

ورون چندرن کی پیدائش کیرالا کےکولم ضلع میں جنگلات علاقے کے قریب آباد چھوٹے سے گاؤں پاڈم میں ہوا۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ غریب اور کسان مزدورتھے۔ ورون کے والد بھی کسان مزدور تھے۔ وہ دھان کے کھیت میں کام کرتے اور جنگل میں لکڑیاں کاٹتے۔ ورون کی والدہ گھر پر ہی چھوٹی سی دکان بھی چلاتي۔ بڑی مشکل سے ورون کے خاندان کا گزر بسر ہو پاتا۔ کھیت اور جنگل ہی خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ تھا۔

بچپن سے ہی ورون نے بھی کھیت میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ کھیت میں اپنے والد کی مدد کرتے۔ چھوٹی سی عمر میں ہی جان گئے تھے کہ کسان کو کن کن تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر میں آرام و آسائش کا کوئی سامان نہیں تھا، گھرچلانے کے لئے صرف ضروری بنیادی سامان ہی تھے۔

ورون کے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ انہوں نے پانچویں تک تعلیم حاصل کی تھی، لیکن وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا خوب تعلیم حاصل کرے۔ والدین کا خواب تھا کہ ورون اعلی تعلیم حاصل کر کے کام پر لگ جائے اور اسے روزی روٹی کے لئے ان کی طرح دن رات محنت نہ کرنی پڑے۔ ماں باپ نے شروع سے ہی ورون کوانگریزی اسکول میں پڑھنا چاہا۔ اس کے لئے ورون کا داخلہ گاؤں کے قریب پاتھناپورم شہرکے سینٹ اسٹیفینس اسکول میں کرایا۔ اسکول میں داخلہ تو ہو گیا، پرمشکلات کم نہیں ہوئیں۔ گھرمیں بجلی اکثر غائب رہتی اور ورون کو خديل کی روشنی میں پڑھنا پڑتا۔ رات کو وہ زمین پر ہی سویا کرتا۔ اتنا ہی نہیں گھرچلانے کے لئے والدین کو قرض بھی لینا پڑا۔ قرض ادا کرنے کے لئے گھر کے سامان فروخت کرنے کی بھی نوبت آ گئی۔ گھر میں ہمیشہ روپے کی قلت رہتی اور ورون اپنے اسکول کی فیس وقت پر جمع نہیں کر پاتے۔ وقت پر فیس جمع نہ کر پانے کی وجہ سے ورون کو پنشمںٹ کے طور پر کلاس کے باہر کھڑا کر دیا جاتا۔ ورون کو بہت شرمندگی ہوتی۔

آگے چل کر جب ورون کا داخلہ بورڈگ اسکول میں کیا گیا تب حالات اور بھی خراب ہوئے۔ بورڈگ اسکول میں وارڈن بار بار ورون کی توہین کرتے اور انہیں احساس دلاتے کہ وہ غریب ہیں۔ ورون کے لئے سب سے برا وقت وہ ہوتا جب کچھ ساتھی انہیں سانولا ہونے کی وجہ سے انہیں کالا کوا کہہ کر بلاتے۔بچپن میں ورون نے بہت توہین سہی۔ غربت کی مار جھیلی۔ دکھ درد سہے۔ انہی حالات میں ورون نے کے مسائل اور ذلت سےاپنی توجہ ہٹانے کے لئے فٹ بال کو ذریعہ بنایا۔چونکہ فطرت میں ہی محنت اور لگن تھی، انہوں نے اسکول میں کھیل کود میں خوب دلچسپی دکھائی۔

ان دنوں ورون کو فٹ بال کا شوق تھا۔ اسی وجہ سے زندگی میں کامیابی کے لئے ورون نے فٹ بال کا سہارا لینے کی ٹھان لی۔ ہمیشہ فٹ بال گراؤنڈ پر اچھا مظاہرہ کیا۔ اپنی صلاحیت اور محنت کے بل پر کئی تمغے اور ایوارڈ جیتے۔ ورون جلد ہی اپنی اسکول کی فٹ بال ٹیم کے کپتان بن گئے۔ انہوں نے موثر قیادت سے اسکول انٹر اسکول کو ٹورنامنٹ کا فاتح بنایا۔ بہت ہی کم وقت میں ٹیچر بھی جان گئے تھے کہ ورون ایک ذہین بچہ ہے اور کھیل کے میدان میں اس کا مستقبل روشن ہے۔ فٹ بال کے میدان میں ورون کی کامیابی کے بعد سے لوگوں کا نظریہ اور رویے تبدیلی آ گئی۔ لوگوں کو ایک غریب خاندان سے آئے سیاہ بچے میں چیمپئن نظر آنے لگا۔

میدان میں ورون کی کامیابی کی وجہ ایک مثال تھی۔ ورون نے بچپن سے ہی مشہور کھلاڑی ائی ایم وجين سے ترغیب حاصل کی تھی۔ وجين ورون کے ہیرو تھے ۔ وجين ان دنوں کیرل میں انتہائی مقبول تھے۔ وجين کوملک کا سب سے بہترین فٹ بال کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔ ورون خواب دیکھنے لگے کہ آگے چل کر وہ بھی وجين کی طرح ہی بنیں گے۔ وجين اس وجہ سے بھی ورون کے رول ماڈل تھے، کیونکہ وجين کی پیدائش ایک غریب خاندان میں ہوئی تھی۔ وجين بچپن میں اسٹیڈیم میں سوڈا فروخت تھے۔ جوتے نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے کئی دنوں تک ننگے پاؤں ہی فٹ بال کھیلا تھا۔

ورون نے وجين سےترغیب حاصل کرنے کے لئے اپنے کمرے میں ان کی تصویربھی لگا لی تھی اور ہر میچ والے دن وہ اچھی کارکردگی کے لئے ان ہی دعا مانگتے تھے۔ دسویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد ورون کو کیرالا حکومت سے فٹ بال کھیلنے کے لئے اسکالر شپ ملی۔ یہ اسکالر شپ ترویندرم کے ایک کالج میں کھیل کے لئے تھی۔ کالج کے پہلے سال میں ہی ورون نے ریاست کیرالا کی انڈر16 فٹ بال ٹیم کی نمائندگی کی۔ ٹورنامنٹ کھیلنے ورون کو اتر پردیش جانا پڑا۔ اتر پردیش جانے کے لئے ورون کو ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ٹرین کا سفر کرنا پڑا۔ یہ سفر بہت یادگار تھا کیونکہ ورون کے لئے ٹرین سے یہ پہلا سفر تھا۔ آگے چل کر ورون کیرالا یونیورسٹی کی فٹ بال ٹیم کے کپتان بنے اور یہیں سے ان کی زندگی میں تیزی سے تبدیلی شروع ہوئی۔

ریاست کیرالا اور یونیورسٹی کی ٹیموں کے لئے کھیلتے ہوئے ورون کو کئی نئی جگہوں پرجانے اور نئے نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ نئے تجربہ حاصل ہوئے۔ جنگل کے پاس والے گاؤں سے کافی آگے بڑھ کر شہروں میں لوگوں کے رہن سہن، تہذیب کو جاننے کا موقع ملا۔ ورون نے نئے دوست بنائے اور دوسری زبانیں بھی سيكھي۔ انہوں نے اپنی زندگی کو سدھارنا، سوارنا شروع کیا۔

لیکن... اسی دوران ایک بڑا واقعہ ہوا جس نے ورون کی زندگی کا رخ پھر سے موڑدیا۔ ایک دن میدان میں فٹ بال کی مشق کے دوران ورون ایک حادثے کا شکار ہوئے۔ ان کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ علاج اور آرام کے لئے انہیں اپنے گاؤں لوٹنا پڑا۔ چوٹ کی وجہ سے فٹ بال کھیلنا بند ہوا اور کالج کی پڑھائی چھوٹ گئی۔ وہ پھر سے مشکلات سے گھر گئے۔ گھر کی مالی حالت اب مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی تھی۔ گھرچلانے کے لئے کام کرنا ضروری تھا۔ مشکلات سے ابھر کر سامنے آئے کے لئے ورون کا بھی کام کرنا ضروری ہو گیا۔ لیکن، سوال تھا کہ کیا کام کیا جائے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں ماں نے ورون کی مدد کی۔ ماں نے اپنا زیوراور تین ہزار روپے ورون کو دیئے اور کام ڈھونڈنے یا پھرکوئی اور کاروبار کرنے کا کی مشورہ دیا۔ماں کی کی دی ہوئی اس امانت کے ساتھ ورون بنگلور چلے آئے۔ بنگلور میں ورون کے ہی گاؤں کے ایک ٹھیکیدار رہتے تھے۔ اسی ٹھیکیدار نے اپنے مزدوروں کے ساتھ ورون کے رہنے کا انتظام کیا۔

انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے ورون کو بنگلور میں کام حاصل کرنے میں دقتیں پیش آنے لگی۔ دیہی علاقے سے ہونا اور انگریزی نہ جاننا، بڑی رکاوٹ بنی۔ ورون کو احساس ہو گیا کہ کام حاصل کرنے کے لئے انگریزی سیکھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ پہلے ڈکشنری خریدی۔ پھر لائبریری جانا شروع کیا۔ انگریزی کتابیں پڑھنا اور لفظ سمجھ میں نہ آنے پر ڈکشنری کی مدد لینا شروع کیا۔ سڈنی شیلڈن اور جیفری آرچر کے ناول بھی پڑھے۔ انگریزی پر گرفت مضبوط کرنے اور اچھے سے بولنا سیکھنے کے لئے ورون کے انگریزی کے نیوز چینل دیکھنا شروع کیا۔

ورون نے انٹرنیٹ کے ذریعہ ملازمت کی تلاش بھی جاری رکھی۔ اور ایک دن، ورون کی کوشش اور محنت رنگ لائی۔انہیں ایک کال سینٹر میں نوکری مل گئی۔ کال سینٹر میں کام کرتے ہوئے بھی ورون نے تعلیم جاری رکھی۔ اسی درمیان ان حیدرآباد کی کمپنی 'اینٹیٹی ڈیٹا' سے ملازمت کی پیشکشیں ہوئی۔ اس کمپنی میں ورون کو بطور بزنس ڈیولپمنٹ ایگزیکٹیو نوکری ملی۔ اس کمپنی میں ورون نے خوب محنت کی۔کمپنی کے لوگ ورون کی محنت اور کام کاج کے طریقے سے بہت خوش اور مطمئن ہوکرانہیں امریکہ بھیجنے کا فیصلہ لیا گیا۔آگے چل کر ورون نے سیاپ اور پھر سنگاپور میں ووریكل کمپنی میں ملازمت حاصل کی۔

امریکہ کی سلیکن ویلی میں کام کرتے ہوئے ورون کے ذہن میں نئے نئے خیالات آنے لگے۔ ان میں ایک نوکری پیشہ شخص سے کاروباری بنانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ورون نے کئی بڑی شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کیا تھا۔ اس سے انہیں یہ پتہ چلا کہ بہت سے غریب اور معمولی لوگوں نے بھی پہلے انٹرپرائز شروع کرنے کا خواب دیکھا اور خواب کو شرمندہ تعبیرکرنے کے لئے محنت کی تھی وہ بھی عام انسان سے بڑے کاروباری بنے تھے۔ ورون نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں کی راہ پر چلا جائے اور اپنے خود کی تجارت شروع (انٹرپرائز) کی جائے-

ورون کو لگتا تھا کہ کامیاب بننے کے لئے انہیں کچھ ایسا کرنا ہوگا جس سے لوگوں کے مسائل حل ہو سکیں اور ان کی زندگی آسان بنے۔سنگاپور میں کام کے دوران ورون نے اپنے اس خواب کو سچ کرنے کے لئے محنت کرنی شروع کی۔اپنا کام آسان کرنے کے مقصد سے ایک سافٹ ویئر ٹول کی کوڈنگ شروع کی۔ ورون کے ساتھیوں کو بھی یہ کام بہت ہی کارگر اورسودمند لگا۔ سب اس کوڈنگ سے متاثر ہوئے۔ اورانہوں نے اپنا خود کا وینچر شروع کرنے کا فیصلہ کیا اس طرح ان کا پہلا وینچر کارپوریٹ 360) 360c) شروع ہوا۔

ورون نے کمپنیوں کی مدد کے لئے نئے نئے مصنوعات تیار کرنے شروع کئے۔ ان پروڈکٹ کی وجہ سے کمپنیوں کو یہ پتہ چلنے لگا کہ ان کی بنائی ہوئی چیزیں کسٹمر کب کتنا اور کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ اور مارکیٹ میں ان کی کی کیا جگہ ہے؟

ورون نے آگے بڑھتے ہوئے 'ٹیک سیلز کلاؤڈ' نامی پروڈکٹ تیار کیا۔یہ ایک ایسا سیلز اور مارکیٹنگ ٹول ہے، جس میں بڑے ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ کر ان کے استعمال کرتا ہے جس کمپنیوں کی سیلز اور مارکیٹنگ ٹیم آسانی سے اپنے ٹارگیٹ کا انتخاب سکتی ہیں۔ورون نے شروع میں کچھ سالوں تک پروڈکٹ کا کچھ کمپنیوں کے ساتھ تجربہ کیا اور انہیں دکھایا کہ یہ کمپنیوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اپنے گراہکوں کو مطمئن کرنے کے بعد ورون نے انہیں اپنے پروڈکٹ فروخت کرنے شروع کئے اور اپنی خدمات پیش کرنی شروع کیں۔

ورون نے سال 2012 میں سنگاپور میں اپنے مکان سے ہی اپنا انٹرپرائز شروع کیا۔ انٹرپرائز رجسٹریشن بھی سنگاپور میں ہی ہوا۔ رجسٹریشن کے کچھ منٹ بعد کمپنی کی ویب سائٹ بھی بن گئی۔کمپنی کے نام 'کارپوریٹ 360' کے پیچھے بھی ایک خاص وهج ہے۔ کمپنیوں کی 360 ڈگری مارکیٹنگ کی پروفائل کا ذمہ لینے کے مقصد سے ہی ورون نے کمپنی کا نام 'کارپوریٹ 360' رکھا۔ان کی کمپنی کو پہلا آرڈر برطانیہ کے ایک گاہک سے ملا تھا۔ یہ 500 ڈالر کا آرڈر تھا یہ۔ یعنی ورون کی کمپنی چل پڑی تھی۔کمپنی کچھ یوں آگے بڑھی کہ پہلے ہی سال میں اس نے ڈھائی لاکھ ڈالر کی آمدنی کی۔وہ کمپنی کو مسلسل توسیع دیتے چلے گئے۔ دنیا کے مختلف شہروں کے علاوہ کیرا لامیں بھی کنٹراکٹررکھے- کمپنی کا 'آپریشنز سینٹر' اپنے گاؤں کے پاس پاتھناپرم میں قائم کیا، جہاں مقامی لوگوں کو بھی روزگار مل گیا۔

آج بڑی بڑی قومی کمپنیاں ورون کی گاہک ہیں۔ کارپوریٹ 360 تقریبا 10 ملین ڈالر کی کمپنی بن چکی ہے- سال 2017 تک ایک کروڑ ڈالر کی کمپنی بنانے کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے نئے ٹارگٹ کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے-

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem