کشمیری نوجوان شاہد رشید فیشن ڈایزائننگ کورس کی فیس ادا کرنے کے لئے بن گئے مہندی ڈیزائنر 

0

مشہور کہاوت ہے کہ ’جہاں چاہ وہاں راہ‘۔ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ’پتھن‘ نامی گاؤں کے رہنے والے نوجوان شاہد رشید نے دسویں جماعت میں فیشن ڈیزائنر بننے کا خواب دیکھا۔ بارہویں جماعت کے بعد جب فیشن ڈیزائننگ کورس میں داخلہ لینے کی والدین سے اجازت طلب کی تو انہوں نے منع کردی۔ اگرچہ شاہد نے اپنے والدین کی خواہش کے عین مطابق سری نگر کے امرسنگھ کالج میں بی کام کورس میں داخلہ لے لیا لیکن کچھ وقت بعد انہوں نے اپنے گھروالوں کی اجازت طلب کیے بغیر فیشن ڈیزائننگ کورسز کے ’داخلہ امتحان‘ میں شرکت کی اور اس میں کامیابی حاصل کرکے ’بیچلرس ڈگری اِن فیشن ڈیزائننگ اینڈ فیشن جرنلزم‘ میں داخلہ لے لیا اور اس طرح دونوں کورسوں کو ایک ساتھ حاصل کرنے کا مشکل کام نھبانے کی جدوجہد میں جٹ گئے۔

دونوں کورسوں کو ایک ساتھ حاصل کرنا شاہد کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ اُن کے پاس فیشن ڈیزائننگ کورس کی فیس ادا کرنے کے لیے پیسے نہ تھے۔ لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور فیس ادا کرنے کے لیے شادی کی تقریبات میں دلہنوں کو مہندی لگانے، نوجوان لڑکوں کے بازوؤں پر ٹیٹو بنانے سے لیکر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے ملبوسات فروخت کیے۔

کہتے ہیں ’بی کام کے سلسلے میں وادی سے باہر ضروری کام کا بہانہ بناکر گھر والوں سے کسی طرح دہلی جانے کی اجازت حاصل کرلی۔ دہلی میں، میں نے پرل اکیڈیمی میں فیشن ڈیزائننگ کورس میں داخلہ کا امتحان دے دیا جس کے لئے مجھے چھ ہزار روپے بطور ابتدائی فیس ادا کرنا پڑی تھی۔ یہ امتحان ملکی سطح کا ہوتا ہے۔ وہاں مجھے میرٹ کی بنیاد پر فیس میں پچیس فیصد کی رعایت دی گئی لیکن مجھے 75 فیصد فیس خود ادا کرنی تھی۔‘

’یہ فیس جمع کرنے کے لیے میں نے مہندی ڈیزائنگ اور ٹیٹو بنانا شروع کیا۔ اس کے علاوہ میں سری نگر کے مشہور سنڈے مارکیٹ سے مختلف چیزیں خریدتا تھا اور اِن چیزوں کو اپنے حساب سے ماڈیفائی کرکے دس فیصد منافع جوڑ کر فروخت کرتا تھا۔ یہ چیزیں میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مدد سے فروخت کرتا تھا۔‘

شاہد کا کہنا ہے ’فیشن ڈیزائننگ کورس کی فیس تقریباً چار سے چھ لاکھ روپے تھی۔ میں نے فیملی سے بھی پیسے لئے مگر اُن سے میں نے نہیں بولا کہ میں فیشن ڈیزائننگ میں بیچلرس ڈگری کر رہا ہوں۔ لیکن بیچلرس ڈگری کے تیسرے سال میں انہیں معلوم ہوا کہ میں فیشن ڈیزائننگ میں کورس کررہا ہوں۔ میں نے لیپ ٹاپ، کیمرہ، بائیکل کے لئے پیسے لئے تھے۔ میں نے یہ سب چیزیں نہیں لیں بلکہ فیس ادا کرتا رہا۔ جب گھر والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا، ہم آپ کا مکمل تعاون کرتے۔‘

اکیس سالہ شاہد رشید جنہوں نے اب سری نگر کے کرافٹس ڈیولپمنٹ انسٹی چیوٹ میں ایم بی اے کورس میں داخلہ لیا ہے، کا کہنا ہے کہ مہندی ڈیزائننگ ہمیشہ اُن کی زندہ کا حصہ بنے رہے گی۔ کہتے ہیں ’مہندی ڈیزائننگ ہمیشہ میری زندہ کا حصہ بنا رہے گا۔ اگر میں خود نہیں لگاؤں گا لیکن میں لوگوں کو سکھاتا رہوں گا۔ میں اپنے آبائی ضلع پلوامہ میں فیشن اکیڈیمی کھولنے کا ارادہ رکھتا ہوں جہاں میں خواہشمند نوجوانوں کو فیشن ڈیزائننگ کی بنیادی چیزیں سکھانے کے علاوہ مہندی لگوانا بھی سکھاؤں گا۔ میں اس اکیڈیمی کو مختلف قومی اداروں سے منسلک کراؤں گا۔‘

شاہد کے مطابق وادی میں مہندی ڈیزائننگ کا دائرہ بہت وسیع ہے اور خاص طور پر لڑکیاں یہ کام اختیار کرکے اسے اپنا مستقل پیشہ بناسکتی ہیں۔ ’میں نے سرما میں ایک انسٹی چیوٹ میں مہندی ڈیزائننگ کورس شروع کیا جس میں تیس لڑکیوں نے داخلہ لیا تھا۔ انہیں ابھی داخلہ لیے چند مہینے بھی نہیں ہوئے ہیں کہ انہیں گاہکوں کی طرف سے زبردست رسپانس مل رہا ہے۔ کچھ روز قبل اِن لڑکیوں نے مجھ سے کہا کہ سر جب آپ نے ہم سے دو ہزار روپے بطور فیس طلب کیے تھے تو اُس وقت ہمیں یہ بہت بڑی رقم لگی تھی لیکن آج ہم ایک گاہک سے چار ہزار روپے طلب کرتے ہیں۔‘

تاہم شاہد کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشمیر میں مہندی ڈیزائننگ زیادہ تر لڑکیاں ہی کرتی ہیں لیکن ایک دائرے میں رہنے اور انٹرنیٹ کم استعمال کرنے کی وجہ سے وہ اس سے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں کرپاتی ہیں۔ کہتے ہیں ’جب میں نے فیشن ڈیزائنگ کورس شروع کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مجھے کوئی کام ہاتھ میں لینا ہوگا۔ میں نے مہندی ڈیزائننگ شروع کردی اور میں تین گھنٹوں کی سروس کے لئے دو ہزار روپے لیتا تھا۔ جو میں نے فیشن ڈیزائنگ کے دوران خاکے بنانے سیکھے تھے، اُن کو میں عملی طور پر مہندی لگاتے وقت دلہنوں کے ہاتھوں پر بناتا تھا۔ اس میں، میں نے اضافہ بھی کیا۔ میں موتیاں اور گلیٹر بھی ہاتھوں پر بناتا تھا اور اس کے علاوہ مہندی کے مختلف رنگ استعمال کرتا تھا۔‘

شاہد فی الوقت مہندی ڈیزائننگ کے ساتھ وابستہ ہونے کے علاوہ سٹی ایف ایم جے کے کے لئے بحیثیت ریڈیو جاکی بھی کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولوں میں آرٹ انسٹرکٹرکی حیثیت سے بھی کام کررہے ہیں۔ بحیثیت مہندی ڈیزائنر اپنی شہرت کے بارے میں بتاتے ہیں ’حال ہی میں یہاں (کشمیر) یورپ سے ایک سیاح خاتون آئی ہوئی تھیں جنہوں نے مجھے فون کرکے مہندی لگوانے کے لئے ٹیولپ گارڈن بلایا۔ جب میں نے اُن کے ہاتھوں پر مہندی لگائی تو وہ بے حد خوش ہوگئی اور انہوں نے مجھے یورپ بھی مدعو کیا۔‘

’میں مہندی ڈیزائننگ کی ہوم سروس بھی فراہم کرتا ہوں۔ تاہم ہوم سروس کے لئے میری کچھ شرطیں ہوتی ہیں جیسے پک اینڈ ڈراپ کی سہولیت ہونی چاہیے۔ میں ایک ہفتے میں دو سے پانچ آڈرس پورے کرتا ہوں۔ میرے زیادہ تر گاہکوں کا تعلق جنوبی کشمیر اور سری نگر سے ہے۔ میں نے لوگوں تک پہنچنے کے لئے کبھی بھی روایتی اشتہارات کا سہارا نہیں لیا۔ میرے زیادہ تر گاہک وہ لوگ ہیں جو مجھے بذریعہ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس کے ذریعے جانتے ہیں۔ فیس بک پر جو میرے دوست اور فالوورس ہیں، میں اُن کی بہت عزت اور احترام کرتا ہوں کیونکہ اُن ہی کی وجہ سے میرے گاہکوں کا دائرہ دن بہ دن وسیع ہوتا جارہا ہے۔‘

شاہد کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ بچپن سے ہی مہندی لگانے کا فن جانتے تھے لیکن وہ 2010  تک یہ جانتے ہی نہیں تھے کہ فیشن ڈیزائننگ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ 2010 میں ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک استعمال کرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ فیشن ڈیزائنگ باضابطہ طور پر ایک شعبہ ہے جس میں مختلف کورسز کیے جاتے ہیں۔

کہتے ہیں ’میں ایک گاؤں کا  پلا بڑھا ہوا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ فیشن ڈیزائننگ کیا چیز ہوتی ہے۔ اور اس میں بھی کورسز اور ڈگریاں کی جاتی ہیں۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ میں بچپن سے ہی پینٹنگ اور ڈرائنگ میں شوق رکھتا تھا۔ لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ مستقبل میں اس کے میری زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ سال دو ہزار دس میں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک اور ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر اپنا اکاؤنٹ کھولا اور فیشن ڈیزائنگ سے متعلق کئی پیجوں کو لائک کیا۔ اِن ہی پیجوں پر مختلف اداروں میں فیشن ڈیزائننگ کے کورسوں میں داخلے سے متعلق اشتہارات ظاہر ہوتے تھے۔ پھر میں نے فیشن ڈیزائننگ سے وابستہ مختلف لوگوں اور مختلف اداروں کے منتظمین کے ساتھ بذریعہ انٹرنیٹ پیغامات رابطہ کیا۔ میں نے اُن سے فیشن ڈیزائننگ کے مستقبل اور داخلہ کے لئے ضروری شرائط کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد میں نے دماغ بنالیا کہ مجھے بس یہی کرنا ہے۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آپ کے افراد خانہ بشمول والدین آپ کی فیشن ڈیزائننگ اور مہندی ڈیزائننگ مشغلوں سے مطمئن ہیں، تو شاہد کا خواب تھا ’میں زیادہ تر دن کے اوقات میں مہندی ڈیزائننگ کے لئے جاتا ہوں۔ کچھ روز قبل ایک گاہک نے مجھے قریب رات کے ساڑھے نو بجے فون کیا اور بتایا کہ انہوں نے نئی دہلی سے ایک مہندی ڈائزائنر کو مدعو کیا تھا جو نامعلوم وجوہات کی وجہ سے نہ آسکی۔ اب آپ ہم پر مہربانی کرو اور ہمارے گھر پر آجاؤ۔ انہوں نے میرے گھر گاڑی بھیجی، میں گیا اور قریب رات کے ایک بجے وہاں سے واپس لوٹ آیا۔ گھر پہنچ کر میں دھنگ رہ گیا کہ میرے گھر والے سوئے نہیں تھے بلکہ میرا انتظار کررہے تھے۔‘

شاہد کہنا ہے کہ اُن کا اب خواب ہے کہ جو کشمیر میں ہینڈی کرافٹس اشیا ء تیار ہوتی ہیں جیسے پیشمینہ شال، پیپر ماشی وغیرہ وغیرہ اُن کو دنیا صرف آرٹ کی نظر سے نہیں دیکھنی چاہیے بلکہ یہ فیشن ایکسری کے طور پر مشہور ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں ’حال ہی میں نیشنل انسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی میں ماسٹرس ڈگری کے لئے امتحان ہوا۔ چونکہ اُس کی فیس تھوڑی زیادہ تھی اور مجھے لگا کہ میں ادا نہیں کرپاؤں گا، تو میں نے وہاں داخلہ لینے کا اپنا ارادہ چھوڑ دیا۔ اور فیصلہ کرلیا کہ میں کشمیر میں ہی کچھ کروں گا۔ یہاں کرافٹس ڈیولپمنٹ انسٹی چیوٹ جو کہ کشمیری کرافٹس میں کورسز کراتا ہے، وہاں میں نے ایم بی اے کے لئے داخلہ امتحان میں شرکت کی اور پاس بھی کرلیا۔ میرا اب یہ خواب ہے کہ جو کشمیر میں چیزیں بنتی ہیں جیسے پیشمینہ شال، پیپر ماشی وغیرہ وغیرہ اُن کو دنیا صرف آرٹ کی نظر سے نہیں دیکھنی چاہیے بلکہ یہ فیشن ایکسری کے طور پر مشہور ہونی چاہیے۔ اگر اِن چیزوں کو فیشن ایکسری کے طور پر اپنایا جانے لگا تو کشمیری کرافٹس کو غیرمعمولی فروغ ملے گا۔‘

شاہد لمبے اور خوبصورت بالوں کے مالک ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کیا والدین انہیں زیادہ لمبے بال رکھنے پر نہیں ڈانٹے، تو اُن کا جواب تھا ’بالکل نہیں۔ ہاں مجھے گھر والے اس بات پر ڈانٹتے ہیں کہ میں لمبے بالوں کی وجہ سے کمزور ہوگیا ہوں۔ میں نے اُس وقت لمبے بال رکھنے شروع کردیے تھے جب میں دسویں جماعت میں تھا۔ اسکول میں میرے کچھ ہم جماعت ساتھی میری کاپی کرتے تھے لیکن انہیں ڈانٹ کھانی پڑتی تھی۔‘

بحیثیت فیشن ڈیزائنر شاہد نے کئی خطابات اور کامیابیاں اپنے نام کی ہیں۔ انہوں نے آئی آئی ایف ٹی میں ’بیسٹ ٹیکسٹائل ڈیزائنر آئکن ایوارڈ‘ اپنے نام کیا۔ جبکہ اس وقت وہ ’ایس آر بی اسٹائل سٹیٹمنٹ‘ کے نام سے اپنا برانڈ رکھتے ہیں۔ 

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج  پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قومی ایوارڈ یافتہ کشمیری پیپر ماشی کاریگر سید مقبول حسین میں اپنی خاندانی وراثت سے محبت کا انوکھا جذبہ

کشمیری نوجوان'گوگل اکیڈیمی ٹرینر ' یاسر ظہور نے بنائی ذاتی کمپنی 'گیمبگ انک'

Interacting with interesting people who have interesting story to share has always been his forte. He can be reached at zahoorakbar321@gmail.com

Related Stories